(۱۴) وَكَانَ مِنْ دُعَآئِهٖ عَلَیْهِ السَّلَامُ اِذَا اعْتُدِیَ عَلَیْهِ اَوْ رَاٰى مِنَ الظَّالِمِینَ مَا لَا یُحِبُّ۔ دُعا (۱۴) جب آپؑ پر کوئی زیادتی ہوتی یا ظالموں سے کوئی ناگوار بات دیکھتے تو یہ دُعا پڑھتے:
ہر مذہب و ملت اس پر متفق ہے کہ ظلم و جور انسانی سیرت کے دامن پر ایک بدنما دھبہ ہے اور ظالم اپنی خو خصلت کے لحاظ سے انسانی صف میں کھڑا کئے جانے کے بجائے حیوانی صف میں کھڑا کئے جانے کے زیادہ لائق ہے۔ اور اس سے زیادہ بہیمانہ خصلت کا اور کیا مظاہرہ ہو گا کہ انسان طاقت کے بل بوتے پر عاجزوں اور ناتوانوں کو ستائے اور دولت و اقتدار کے نشہ میں کمزور و شکستہ حال لوگوں کو اپنے مظالم کا نشانہ بنائے۔ حضرت علی ابن الحسین علیہ السلام نے اپنی زندگی کی آخری گھڑیوں میں اپنے فرزند حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کو وصیّت کرتے ہوئے فرمایا: يَا بُنَیَّ! اِيَّاكَ وَظُلْمَ مَنْ لَّا يَجِدُ عَلَيْكَ نَاصِرًا اِلَّا اللّٰهَ۔
اے فرزند! اس عاجز و بے کس پر ظلم کرنے سے ڈرو جو تمہارے مقابلہ میں اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں رکھتا۔ ۱
ظلم ایسا سنگین جرم ہے جو عفو و درگزر کے قابل ہے ہی نہیں۔ کیونکہ خداوند عالم ان گناہوں کو تو بخش دے سکتا ہے جو خود اس کی ذات سے متعلق ہوں، لیکن وہ گناہ جن کا تعلق حقوق العباد سے ہے وہ اس وقت تک بخشے نہیں جا سکتے جب تک صاحبِ حق خود نہ بخشے۔ چنانچہ امیرالمومنین علیہ السلام کا ارشاد ہے: وَاَمَّا الظُّلْمُ الَّذِیْ لَا یُتْرَكُ فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا۔ الْقِصَاصُ هُنَاكَ شَدِیْدٌ۔
اور وہ گناہ کہ جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا وہ بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کرنا ہے جس کا آخرت میں سخت بدلہ لیا جائے گا۔۲
ظلم کے برے نتائج دنیا میں بھی ظاہر ہوتے ہیں اس طرح کہ ظالم کبھی پھلتا پھولتا اور کامیاب و کامران نہیں ہوتا۔ جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے: اِنَّہٗ لَا يُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ ظالم کبھی فلاح و کامرانی حاصل نہیں کرتا۳۔ اور پیغمبر اکرمؐ کا ارشاد ہے: بِالظُّلْمِ تَزُوْلُ النِّعَمُ۔ ظلم کے نتیجہ میں نعمتیں چھن جاتی ہیں۴۔
اور آخرت میں بھی موردِ عتاب و گرفتارِ عذاب ہو گا۔ چنانچہ ارشادِ باری ہے: اِنَّمَا السَّبِيْلُ عَلَي الَّذِيْنَ يَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَيَبْغُوْنَ فِي الْاَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ اُولٰىِٕكَ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ گرفت اُن لوگوں کی ہو گی جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق شر و فساد کرتے پھرتے ہیں۔ ان ہی لوگوں کیلئے دردناک عذاب ہے ۵۔ اور ان سختیوں سے کہیں زیادہ سختیوں سے دوچار ہو گا جو دنیا میں اس نے مظلوم و بے کس افراد پر روا رکھی تھیں۔ چنانچہ حضرت امیر المومنین علیہ السلام کا ارشاد ہے: یَوْمُ الْمَظْلُوْمِ عَلَى الظَّالِمِ اَشَدُّ مِنْ یَوْمِ الظَّالِمِ عَلَى الْمَظْلُوْمِ۔ مظلوم کے ظالم پر قابو پانے کا دن اس دن سے کہیں زیادہ سخت ہو گا جس میں ظالم مظلوم کے خلاف اپنی طاقت دکھاتا ہے ۶۔
تحمل کن ای ناتوان از قوی
که روزی تواناتر از وی شوی
اس کے مقابلہ میں مظلوم اپنی مظلومیت و ستم زدگی کا صلہ دنیا میں بھی پاتا ہے اور آخرت میں بھی پائے گا۔ دنیا میں اس طرح کہ لوگ ظالم سے نفرت کرتے ہوئے اُسے دل و جان سے چاہنے لگتے ہیں اور ان کی ہمدردیاں اسے حاصل ہو جاتی ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی مظلومیت کی بنا پر اس کی فریاد کو سنتا اور اس کی دعا کو قبول کرتا ہے۔ چنانچہ امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے: اِتَّقُوا الظُّلْمَ، فَاِنَّ دَعْوَةَ الْمَظْلُوْمِ تَصْعَدُ اِلَى السَّمَآءِ۔ ظلم سے ڈرو، کیونکہ مظلوم کی پکار سب سے پہلے آسمان کی طرف سے بلند ہوتی ہے۔۷
بترس از آه مظلومان که هنگام دعا کردن
حجابت از بر حق بهر استقبال می آید
اور آخرت میں اسے بلند سے بلند درجات حاصل ہوں گی اور وہاں پر مظلومیت کے متاعِ گراں بہا کی قدر و قیمت کا اندازہ ہو گا۔ چنانچہ ربیع الابرار زمخشری میں ہے کہ جب حجاج نے ایک بے گناہ شخص کو سولی پر لٹکایا تو عامر ابن بہدلہ تڑپ اٹھا اور اللہ سے مخاطب ہو کر کہا يَا رَبِّ اِنَّ حِلْمَكَ عَنِ الظّٰلِمِيْنَ قَدْ اَضَرَّ بِالْمَظْلُوْمِيْنَ ”پروردگار! یہ ظالموں کو ڈھیل دینے ہی کا نتیجہ ہے کہ مظلوم اس طرح تختہ دار پر کھینچے جا رہے ہیں“۔ کہنے کو تو یہ کہہ دیا مگر اسی رات خواب دیکھا کہ قیامت کا میدان ہے اور ہر شخص اپنی فکر میں لگا ہوا ہے، لیکن وہ مظلوم حساب و کتاب سے فارغ ہو کر جنت کے طبقۂ اعلیٰ میں پہنچ چکا ہے۔ ابھی یہ سوچ ہی رہا تھا کہ غیب سے آواز سنی کہ: حِلْمِیْ عَنِ الظّٰلِمِيْنَ اَحَلَّ الْمَظْلُوْمِيْنَ فِیْۤ اَعْلٰى عِلِّيِّيْنَ۔ ظالموں کو ڈھیل دینے اور میرے حلم اختیار کرنے ہی نے مظلوموں کو اس بلند ترین درجہ پر پہنچایا ہے۔۸
ہر مظلوم کی آخری امیدگاہ اللہ کی بارگاہ ہوتی ہے جہاں وہ گڑگڑاتا اور ظالم کے پنجوں سے چھوٹنے کی التجا کرتا ہے۔ اس موقع پر دُعا کا انداز کیا ہونا چاہیے؟ اس کیلئے حضرتؑ کی یہ دُعا ایک بہترین نمونہ و مثال ہے جس میں صبر و رضا اور توکّل علی اللہ کی تعلیم اور ثوابِ آخرت اور نصرتِ الٰہی پر یقین کے ساتھ مظلوم کی نفسیاتی کیفیّت کی ترجمانی بھی ہے۔ کیونکہ یہ اس مظلوم و ستم رسیدہ کی دعا ہے جس کی پوری زندگی مظلومیت و ستم زدگی کی ایک مسلسل داستان تھی، جو ظلم سہتے رہے مگر ظلم کا جواب ظلم سے دینا گوارا نہ کیا، جور و ستم کا تختۂ مشق بنے رہے مگر صبر و ضبط کا دامن ہاتھ سے نہ دیا، اور کرب و اضطراب کے شعلوں میں پھنکتے رہے مگر زبان کو شکوہ و شکایت سے آلودہ نہ ہونے دیا۔ اگر زبان پر حرفِ شکایت آتا ہے تو یہ کہ اَللّٰهُمَّ لَاۤ اَشْكُوْ اِلٰۤى اَحَدٍ سِوَاكَ ”اے اللہ! میں تیرے سوا کسی سے گلہ نہیں کرتا“۔ اور اللہ تعالیٰ سے شکایت آئین صبر و تحمل کے منافی نہیں ہے، بلکہ عبودیت و نیازمندی کا ایک مظاہرہ ہے۔ اور خاصانِ خدا کا یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ اللہ سے اپنا دکھ درد بیان کرتے اور اپنی بے تابی اور بے قراری کا اظہار کرتے تھے۔ چنانچہ قرآن مجید میں حضرت یعقوب علیہ السلام کی زبانی ارشاد ہے: اِنَّمَآ اَشْكُوْا بَثِّيْ وَحُزْنِيْٓ اِلَى اللہِ میں صرف اللہ تعالیٰ سے اپنے غم و اندوہ کا شکوہ کرتا ہوں ۹۔ اور حضرت ایوب علیہ السلام کے متعلق ارشاد ہے: وَاَيُّوْبَ اِذْ نَادٰي رَبَّہٗٓ اَنِّىْ مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَاَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِيْنَ ”اور ایوبؑ کو دیکھو جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا تھا کہ میں دُکھیا ہوں اور تو سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے“ ۱۰۔
اگرچہ مظلومیت کا تقاضا یہ ہے کہ مظلوم اپنی ستم زدگی و بے چارگی کی داستان دہرائے اور دوسروں کی ہمدردیوں کا سہارا ڈھونڈے، مگر یہاں صبر و ضبط دوسروں کے سامنے زبان کھولنے سے مانع ہے۔ اس لئے اسی کے سامنے گڑگڑاتے ہیں جو اُن شکووں کا سننے والا ہے اور اُسی سے ظلم و جور کے شکنجوں کو توڑنے کی التجا کرتے ہیں جو انہیں توڑ کر نکال لے جا سکتا ہے۔ پھر عموماً ستائے جانے کے بعد انتقامی جذبات مشتعل ہو جایا کرتے ہیں اور دشمن کی تباہی و بربادی کی خواہش زبان پر آئے بغیر نہیں رہا کرتی۔ مگر اس دعا میں ایک جملہ بھی ایسا نہیں ہے جس سے کینہ توزی و بدخواہی کے جذبات کا اظہار ہوتا ہو، بلکہ ظالم کے بارے میں کچھ چاہتے ہیں تو یہ کہ وہ ظلم سے کنارا کش ہو جائے اور میرے دل صد پارہ پر ظلم کے آشیانے تعمیر نہ کرے۔ رہی ظلم کی پاداش تو اسے اللہ تعالیٰ کے حوالے کر دیتے ہیں کہ وہ جو چاہے کرے۔ خواہ دنیا میں انتقام لے یا آخرت میں۔ البتہ اپنے لئے یہ چاہتے ہیں کہ وہ اُن ظلموں کے جھیلنے کے صلہ میں اپنی خوشنودی و رضامندی عطا فرمائے۔ چاہے جور و ستم کے تیر دل کی ایک ایک رگ کو توڑ دیں اور ظلم و استبداد کے تمام ترکش خالی ہو جائیں، مگر اللہ تعالیٰ کی ناراضی سے دوچار ہونا نہ پڑے۔ کیونکہ دنیا کی ہر تلخی و ناگواری کو برداشت کیا جا سکتا ہے مگر اس کی ناراضی کے نتیجہ میں جس یاس و قنوطیت سے دوچار ہونا پڑے گا وہ نا قابل برداشت ہے۔
الکافی، ج ۲، ص ۳۳۱
نہج البلاغہ، خطبہ نمبر ۱۷۴
سورۂ انعام، آیت ۲۱
عیون الحکم، ص ۱۸۶
سورۂ شوریٰ، آیت ۴۲
نہج البلاغہ، حکمت ۲۴۱
الکافی، ج۲، ص ۵۰۹
ریاض السالکین، ج ۳، ص ۷۰
سورۂ یوسف، آیت ۸۶
سورۂ انبیاء، آیت ۸۳