ولادت مبارک

سن 36 ہجری 15 جمادی الاول کو جمعرات کے دن یا دوسرے قول کے مطابق 5 جمادی الثانی سن 38ھ، امیر المومنین علی علیہ السلام کی شہادت سے دو سال قبل ہوئی۔

اور تیسرے قول کے مطابق سن 38ھ کو ولادت ہوئی، پس سن 38ھ میں ولادت کی صورت میں اپنے چچا امام حسن علیہ السلام کے ساتھ آپ علیہ السلام نے دس سال اور اپنے والد امام حسین علیہ السلام کے ساتھ بائیں سال زندگی گزاری۔

آپ علیہ السلام کے اسم مبارک علی کو انتخاب کرنے کے بعد، آپ علیہ السلام کو ارکان امامت عطا کیا جو کہ علم، ادب اور حکمتِ انبیاء اور اولیاء کی صفات سے مزین فرمایا اور زین العابدین اور سید الساجدین جیسے القاب سے نوازا۔

والدہ ماجدہ

آپ کی والدہ ماجدہ کا نام شہر بانو بنت یزد جرد بن برویز بن ہرمز بن انوشیروان بادشاہ فارس، یا ایک قول کے مطابق شاہ زنان ہے جیسا کہ شیخ الجلیل حر عاملی رح نے فرمایا ہے:

آپ کی والدہ بلند اور صاحب فضل ہے،

شاه زنان بنت یزد جرد

وہ شہریار کا بیٹا، کسری کا بیٹا ہے،

صاحب فضل و کرم (ماں باپ دونوں کی طرف سے عالی نسب) ہے، کسری سے ڈرنے والا نہیں ہے۔

امامت

آپ علیہ السلام سن 61ھ میں جب سید الشھداء ابا عبد اللہ شھید ہوئے تو کائنات کے حجت اور مسلمانوں کے امام بنے اور اس وقت آپ علیہ السلام کی عمر مبارک 24 سال تھی اور 25محرم الحرام سن 95ھ کو 57 سال کی عمر میں زہر سے شہید ہوئے۔

اخلاقی کمالات

جناب شیخ مفیدؒ نے اور دیگر نے روایت کی ہے کہ ایک دفعہ امام زین العابدین علی بن حسین علیہما السلام کے سامنے ایک شخص کھڑا ہوا اور آپ علیہ السلام پر سب و شتم کیا، آپ علیہ السلام سنتے رہے اور خاموش رہے۔ جب وہ چلا گیا تو اپنے اصحاب سے پوچھا کہ تم لوگوں نے سن لیا اس شخص نے کیا کہا؟ اور میں چاہتا ہوں کہ تم لوگ میرے ساتھ چلو تاکہ میرا جواب سن سکو اس کے بارے میں، اصحاب نے کہا: ہم وہی کرنا چاہتے ہیں اور جس طرح اس نے کہا ہے اسی طرح ہم بھی کہیں گے، راوی کہتا ہے آپ علیہ السلام نے نعلین ہاتھ میں اٹھایا اور اچلتے ہوئے فرما رہے تھے ۔ §(الکاظمین الغیظ والعافين عن الناس والله يحب المحسنین)¦ (سوره آل عمران ۱۳۴) اور غصہ کو پی جانے والے اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں اور یقینا اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔

اصحاب کہتے ہیں کہ ہمیں پتہ چلا کہ آپ علیہ السلام اس کو کچھ کہنے والے ہیں۔ ہم اس کے گھر پہنچ گئے تو آپؑ نے فرمایا کہ اسے کہو کہ یہ علی بن حسین علیہما السلام ہیں، وہ خوف کی حالت میں باہر آیا اور اپنی برائی کی وجہ سے یہ گمان کر رہا تھا کہ یقینا یہ امام اس سے اس کی بد تمیزی کا بدلہ لیں گے جب وہ سامنے آیا تو امام زین العابدین علیہ السلام نے فرمایا: اے بھائی تم نے میرے سامنے کھڑے ہو کر جو کہا، اگر جو تم نے میرے بارے میں کہا ہے اگر میں ایسا ہی ہوں تو اللہ سے طلب مغفرت کرتا ہوں اور اگر ایسا نہیں ہے تو اللہ تمہیں معاف کرے (جب اس نے امام علیہ السلام کا یہ اخلاق کریمہ دیکھا) تو وہ شخص امام علیہ السلام کے قریب آیا اور آپ کی پیشانی مبارک کا بوسہ لیا اور کہا: میں نے جو کچھ کہا تھا وہ آپ میں نہیں ہے اور میں ان باتوں کا زیادہ مستحق ہوں۔

§ان الله يوما يخسر فيه المبطلون:¦ یقینا اللہ کے لیے ایک دن ہے جس میں باطل لوگ خسارے میں ہونگے (خسارہ اٹھائیں گے)۔

امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے: امام علیہ السلام فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ایک فضول گو شخص تھا جو لوگوں کو ہنساتا تھا، ایک دن اس نے کہا کہ تم لوگ دیکھو میں اس شخص یعنی (امام زین العابدین علیہ السلام) کو ہنساتا ہوں، آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: امام سجاد علیہ السلام اپنے اصحاب کے ساتھ گزر رہے تھے، آپ علیہ السلام آگے آگے تھے اور آپ علیہ السلام کے چاہنے والے آپ کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ وہ شخص وہاں آیا اور آپ علیہ السلام کی چادر کو پھینک دیا اور آگے بڑھا، امام علیہ السلام اس کی طرف متوجہ نہیں ہوئے، آپ علیہ السلام کے اصحاب نے اس کا پیچھا کیا اور امام علیہ السلام کی چادر کو اٹھا لیا گیا اور اس مضحکہ خیز شخص کو امام علیہ السلام کے سامنے حاضر کیا، امام علیہ السلام نے پوچھا یہ کون ہے؟ عرض کیا: یہ ایک بد گو شخص ہے جس کی باتوں پر اہل مدینہ ہنستے ہیں آپ علیہ السلام نے فرمایا: اس سے کہو: §ان الله يوما يخسر فيه المبطلون:¦ یقینا اللہ کے لیے ایک دن ہے جس میں باطل لوگ خسارے میں ہوں گے (خسارہ اٹھائیں گے)۔

سفر اور اپنے آپ کو لوگوں سے مخفی رکھنا

امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے: امام زین العابدین علیہ السلام جب سفر کرتے تھے تو اپنے رفیق کو اپنے بارے میں کچھ نہیں بتاتے تھے اور اپنے ساتھیوں کی خدمت کرنے کو شرط قرار دیتے تھے، ایک دفعہ ایک گروہ کے ساتھ سفر کر رہے تھے، ایک جاننے والے شخص نے آپ علیہ السلام کو دیکھا، تو ان لوگوں سے پوچھا: تم لوگ جانتے ہو یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا نہیں جانتے ہیں۔ اس نے کہا: یہ علی بن حسین علیہما السلام ہے۔ پس وہ لوگ شرمندہ ہوئے اور آپ علیہ السلام کے ہاتھوں اور پاؤں کے بوسے لینے لگے، یا بن رسول اللہ کیا آپ ہمیں جہنم کی آگ میں ڈالنا چاہتے ہیں؟ اگر خدانخواستہ ہمارے ہاتھ سے یا زبان سے کوئی غلط حرکت یا بات سرزرد ہوتی تو یقینا ہم تا قیام قیامت ہلاک ہو جاتے، آپ علیہ السلام کو کس چیز نے یہ کام کرنے پر مجبور کیا؟

آپ علیہ السلام نے فرمایا: میں نے ایک گروہ کے ساتھ سفر کیا تھا جو مجھے پہچانتے تھے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے واسطے سے مجھے وہ کچھ عطا کیا جس کا میں مستحق نہیں تھا، پس میں ڈرتا ہوں کہ لوگ اس طرح عطا نہ کریں جس کا میں مستحق نہیں ہوں اس وجہ سے میں اپنے آپ کو گمنام رکھنا زیادہ پسند کرتا ہوں۔

مخفی طور پر صدقہ دینا

روایت کی گئی ہے کہ امام زین العابدین علیہ السلام رات کے اندھیرے میں دوش مبارک پر ایک تھیلی لے کر نکلتے تھے جس میں دینار اور درھم ہوتے تھے اور بسا اوقات دوش مبارک پر کھانے کی چیزیں اور لکڑی وغیرہ اٹھاتے تھے اور محتاجوں کے دروازوں تک پہنچانتے تھے اس دوران اپنے چہرہ مبارک کو چھپا کر رکھتے تھے تاکہ فقراء کو معلوم نہ ہو کہ وہ خدمت کرنے والا شخص وقت کے امام زین العابدین علیہ السلام ہیں۔ جب آپ علیہ السلام کو غسل دینے کے لیے رکھا گیا تو دیکھا گیا کہ آپ علیہ السلام کی پشت مبارک پر گٹھے پڑ گئے تھے، جس طرح اونٹ کے پشت پر پڑتے ہیں اور یہ فقراء اور مساکین کے گھروں تک سامان اٹھا کر لے جانے کی وجہ سے پڑے تھے۔

امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ: امام علی بن الحسین علیہما السلام مدینہ منورہ میں سو خاندانوں کی کفالت کرتے تھے، اور آپ فقراء اور مساکین اور یتیموں کو اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتے تھے اور جن کے اہل و عیال ہوتے ان کے لیے خود کھانا پہنچاتے تھے اور آپ علیہ السلام جب تک اپنے گھر والوں کے کھانے کے برابر صدقہ نہیں دیتے تھے کھانا تناول نہیں فرماتے تھے۔

آپ علیہ السلام کی عبادت

جناب فاطمہ بنت علی بن ابی طالب ایک دفعہ جناب جابر بن عبد اللہ انصاری کے پاس آئیں اور کہا اے صحابی رسول اللہ (ص) ہمارے کچھ حقوق تمھارے اوپر ہیں اور ان حقوق میں سے ایک حق یہ ہے کہ ہم میں سے کوئی اپنے آپ کو مشقت میں ڈال کر ہلاکت تک پہنچنے کا خطرہ ہو تو اسے اللہ کا واسطہ دے کر بچانا اور اس کو بقا کی طرف لے آنا ہے۔ علی بن حسین علیہما السلام اپنے باپ کا وارث ہے، عبادت خدا میں اتنا غرق ہے کہ اس کے پاؤں پر ورم ہیں اور عبادت میں مشقت اٹھاتے ہیں، ہاتھ اور بازو نحیف ہو چکے ہیں چہرہ زرد ہو چکا ہے اور اپنے نفس کو عبادت میں کھو دیتا ہے ۔

پس جناب جابرؓ آپ کے گھر کے دروازے پر تشریف لاتے ہیں اور اجازت طلب کرتے ہیں جب جابرؓ گھر میں داخل ہوتے ہیں تو آپ علیہ السلام کو محراب عبادت میں مصروف عبادت پایا، امام علی زین العابدین علیہ السلام جابرؓ کی طرف متوجہ ہوئے اور آہستہ سے اس کی احوال پرسی کی اور فرمایا یہاں بیٹھ جاؤ اور اپنے پہلو میں بٹھایا۔

پھر جناب جابر نے سامنے آکر عرض کیا، یابن رسول اللہ آپ جانتے ہوئے کہ جنت آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے چاہنے والوں کی لیے خلق ہوئی ہے اور جھنم آپ علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے دشمنوں اور بغض رکھنے والوں کے خلق ہوئی ہے پھر یہ عبادت میں اپنے نفس پر سختی اور مشقت کیسی۔ امام علیہ السلام نے فرمایا:

اے صحابی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا نہیں جانتے ہو میرے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنی عبادت کرتے تھے کہ ان کے پاؤں میں ورم پڑ جاتے تھے اور پنڈلیاں سوجھ جایا کرتیں۔ کسی کے پوچھنے پر فرمایا: افلا اکون عبدا شکورا ۔ کیا میں اللہ کے شکر گزار بندوں میں نا ہو جاؤں۔ جب جابر نے نے دیکھا کہ آپؑ پر کوئی بات اثر ہونے والی نہیں، تو عرض کیا: یابن رسول اللہ اپنی جان کی بقا کا خیال رکھیں کیونکہ آپ علیہ السلام اس خاندان کے چشم و چراغ ہیں جن کے صدقے میں بلائیں دور ہوتی ہیں اور سختیاں کشف ہوتی ہیں اور لوگ اس خاندان سے متمسک ہوتے ہیں۔

آپ علیہ السلام نے فرمایا: اے جابرؓ میں اپنے باپ دادا کی سیرت پر چلتے ہوئے زندگی گزارنا چاہتا ہوں یہاں تک ان سے ملاقات ہو جائے۔ پس جناب جابرؓ نے وہاں سے لوگوں کی طرف رخ کر کے عرض کیا: اولاد انبیاء علیہم السلام میں سے علی بن حسین علیہ السلام کی طرح کسی کو نہیں دیکھا گیا، سوائے جناب یوسف علیہ السلام کے اور ذریت علی بن حسین علیہ السلام ذریت یوسف علیہ السلام سے افضل ہے۔

خوف خدا

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت ہے کہ: جب امام علی زین العابدین علیہ السلام نماز کے لیے کھڑے ہوتے اس وقت آپ علیہ السلام رنگ تغیر ہوتا تھا، اور جب سجدہ میں جاتے تھے اس وقت تک سر نہیں اٹھاتے تھے جب تک پسینے نہ آجاتے۔

دن اور رات میں ہزار رکعات نماز پڑھنا

امام باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ: امام علی زین العابدین علیہ السلام دن رات میں ایک ہزار رکعت نماز پڑھتے تھے اور جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو آپ علیہ السلام کا رنگ بدل جاتا تھا۔ اور آپ نماز کے لیے اس طرح کھڑے ہوتے جیسے ایک ادنیٰ غلام مالک کے سامنے ہوتا ہے۔ اور آپ علیہ السلام کے اعضاء جوارح خوف خدا سے کانپنے لگے جاتے اور آپ اس طرح نماز پڑھتے تھے کہ یہ نماز زندگی کی آخری نماز ہو۔

سید الساجدین و جمال العابدین

امام باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ: میرے والد علی بن حسین زین العابدین علیہ السلام کو جب بھی کوئی نعمت ملتی تھی تو فوراً سجدہ شکر بجا لاتےاور آیات قرآنی میں سے کسی میں سجدہ ہوتا تو اس میں سجدہ کرتے اور کسی بلا سے یا دشمنوں کی چالاکیوں سے اللہ نجات دلاتا تو فوراً سجدہ کرتے اور جب بھی واجب نماز فارغ ہوتے تو سجدہ کرتے اور آپ جب بھی دو افراد کے درمیان صلح کراتے سجادہ بجا لاتے۔ آپ علیہ السلام کے تمام اعضاء سجدہ پر سجدہ کے نشان تھے اسی وجہ سے آپ کو سجاد کہا جاتا ہے۔

عرفہ کے میدان میں

امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ: امام زین العابدینؑ نے دیکھا کہ چند افراد دوسرے افراد سے دست سوال دراز کر رہے ہیں تو آپ علیہ السلام نے فرمایا: وائے ہو تم پر تم لوگ آج کے اس عظیم دن میں بھی لوگوں سے مانگتے ہو۔ بلاشبہ یہ ایسا دن ہے کہ حاملہ خاتون کے بطن میں موجود بچے بھی امید رکھتے ہیں کہ وہ سعادت مند ہو جائیں ۔

دعا، گریہ اور اصلاح

امام زین العابدین علیہ السلام میدان کربلا میں یوم عاشورا موجود تھے اور اللہ تعالی نے ذریت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاطر آپ علیہ السلام کو مرض شدید میں مبتلا کیا، یہاں تک کہ آپ علیہ السلام کے لیے اٹھنا بیٹھنا بھی دشوار ہوتا تھا، اس وجہ سے آپ علیہ السلام اپنے بابا امام حسین علیہ السلام کا دفاع نہیں کر سکے اور امام حسین علیہ السلام کی راہ میں شہید نہ ہو سکے۔ واقعہ کربلا کے بعد امام علیہ السلام نے بنی امیہ کے غیلظ چہرے سے پردہ ہٹانا شروع کیا، جس کے لیے آپ نے گریہ و بکا اور دعا و مناجات کو وسیلہ بنا لیا اور صحیفہ سجادیہ کی دسویوں دعاؤں اور مناجات پر مشتمل آپ کی کتاب ہے۔ آپ نے اپنی دعاؤں کے ذریعے امت اسلامی کو ایمان، تقویٰ اور فضیلت کی طرف بلایا اور امت کو راہ حق کی طرف چلنے کی طرف دعوت دی۔

گریہ و زاری مظلوم کا اسلحہ ہے یقیناً امام علیہ السلام کا رونا طاغوت کے خلاف ایک تحریک تھی اور آپ علیہ السلام اپنے مظلوم بابا امام حسین علیہ السلام پر شدید گریہ کرتے تھے تاکہ لوگ حقائق کو سمجھ سکیں۔ آپ لوگوں کے سامنے اپنے مظلوم بابا کو یاد کر کے روتے اور ان لوگوں کو یاد دلاتے کہ آپؑ کے بابا مظلوم علیہ السلام کو پیاسا شھید کیا گیا۔

امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: آپؑ بیس سال اپنے مظلوم بابا پر روتے رہے اور جب بھی کھانا سامنے آتا تھا آپ علیہ السلام روتے، یہاں تک کہ ایک مرتبہ ایک غلام نے کہا یا بن رسول اللہ آپ کا غم کب ختم ہوگا؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: وائے ہو تم پر۔ یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے تھے، ان میں سے ایک غائب ہوا تو اتنا رویئے کہ آنکھیں سفید ہو گئی، غم کی وجہ سے سر کے بال سفید ہوگئے اور غم کی وجہ سے کمر جھک گئی۔ جبکہ ان کا بیٹا دنیا میں زندہ تھا اور میں نے اپنے بابا کو دیکھا اپنے بھائی اور چچا کو دیکھا اور سترہ گھر والوں کو دیکھا کہ میرے سامنے کس طرح قتل کئے گئے پھر کس طرح میرا غم ختم ہوگا؟

معاشرے کی تربیت

امام زین العابدین علیہ السلام غلاموں اور کنیزوں کو خریدتے تھے پھر ان کو اسلامی طور طریقے سے تربیت دیتے اور بہترین انداز میں ثقافت اسلامی اور معارف دینی اور احکام کی تعلیم دیتے تھے اور ساتھ میں رسول اللہ (ص) کے اخلاق اور تفسیر قرآن کا بھی علم عطا کرتے پھر انہیں راہ خدا میں آزاد کرتے اور چنانچہ وہ لوگ اس زمانے میں اس معاشرے کے ہی فرد شمار ہوتے پس لوگ معارف اور اسلامی معارف کی خاطر آزاد کردہ غلاموں اور کنیزوں کی طرف رجوع کرتے تھے۔

معجزات اور کرامات

ھشام بن عبد الملک حج کے دوران حجر اسود کا بوسہ لینے کے لیے آیا تو لوگوں کی رش کی وجہ سے وہاں تک نہیں پہنچ سکا، پھر اس کے لیے وہاں ایک منبر لگا دیا گیا وہ اس پر بیٹھا رہا اور اہل شام اس کے ارد گرد طواف کرنے لگے۔ اسی دوران امام زین العابدین علیہ السلام نے بھی آکر خانہ کعبہ کا طواف کیا، آپ کے دوش مبارک پر گلابی چادر تھی اور چہرہ مبارک بہت روشن تھا، آپ علیہ السلام سے بہترین خوشبو آ رہی تھی اور پیشانی مبارک پر سجدہ کے نشانات چمک رہے تھے۔ جب آپ علیہ السلام نے حجر اسود کی طرف جانے کا ارادہ کیا اور حجر اسود کے قریب پہنچ گئے تو لوگوں نے آپ علیہ السلام کی ہیبت کی وجہ سے راستہ بنا لیا یہاں تک کہ آپ علیہ السلام نے آسانی کے ساتھ حجر اسود کا بوسہ لیا، وہاں موجود ایک شامی نے ھشام سے پوچھا یہ کون ہے؟ ھشام نے جان بوجھ کر کہا میں نہیں جانتا۔

تاکہ اہل شام امام علیہ السلام کی طرف متوجہ نہ ہو جائے۔ اس وقت وہاں شاعر اہل بیت فرزدق موجود تھے اس نے کہا: میں انھیں جانتا ہوں، شامی نے کہا: کون ہے؟ اے ابا فراس۔

اس وقت فی البدیہہ فرزدق نے یہ اشعار کہے :

اے کہاں ہے کرم و سخا کے سوال کرنے والے، اگر اس بات کا جواب کا طلبگار ہے تو آجاؤ میں جواب دیتا ہوں یہ وہ ہے جس کے قدموں کے نشان کو بھی بطحاء کی زمین پہچانتی ہے، اس کو تو بیت اللہ اور حرم خدا اور اطراف حرم خدا پہچانتا ہے، یہ اللہ کے بندوں میں سے بہترین بندے کا فرزند ہے، یہ نقی و تقی، طاھر و علم ہے، یہ وہ ہے جس کے والد احمد مختار ہیں، جس پر جب سے حکم ابھی جاری ہوا اس دن سے صلواۃ و درود بھیجتا ہے، اگر رکن یمانی کو پتہ چلے کہ کون اس کی طرف بڑھ رہا ہے، تو وہ خود اس کے قدموں پر گر جاتی، یہ علی ہے جس کا باپ رسول اللہ ہے، جس کے نور ہدایت سے امتیں ہدایت پاتی ہیں، یہ وہ ہے جس کا چچا جعفر طیار ہے، اور مقتول حمزہ شیر رسول اللہ بھی اس کا چچا ہے، یہ سیده زنان فاطمه سلام اللہ علیھا کا بیٹا ہے اور وصی رسول اللہ کا بیٹا ہے، جس کی تلوار اللہ کی طرف سے عذاب ہے۔

جب یہ قصیدہ عالیہ سنا تو ھشام غضبناک ہوا اور فرزدق کو انعام دینے سے منع کیا اور کہا کیا ہمارے بارے میں بھی ایسا کہا ہے؟ فرزدق نے کہا: اے ھشام اس کے نانا اور دادا کی طرح تم بھی لاؤ اس کے باپ اور اس کی ماں کی طرح تم بھی لاؤ، تو میں تمھارے بارے میں بھی قصیدہ کہوں گا۔ یہ بات سن کر ہشام نے جناب فرزدق کو عفان نامی قریے میں نظر بند کیا جو کہ مکہ اور مدینہ کے درمیاں واقع ہے۔

جب یہ خبر امام زین العابدین علیہ السلام تک پہنچی تو آپ نے بارہ ہزار درھم اسے ہدیہ کیا اور یہ پیغام بھیجا کہ اگر اس سے زیادہ ہوتا تو ہم تمہیں بخش دیتے۔

فرزدق نے اس ہدیہ کو واپس کیا اور کہا کہ اے فرزند رسول (ص) میں نے اللہ اور اس کے رسول کے خاطر غصہ کر کے کہا ہے، انعام لینے کے لئے نہیں۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: اسے لے لو مجھے میرے حق کی قسم تم اسے قبول کرو کیونکہ اللہ تمھاری منزلت اور تمھاری نیت جانتا ہے پس اس ہدیہ کو قبول کرو۔

امام زین العابدین علیہ السلام کی شہادت

آپ علیہ السلام کی شہادت 25 محرم الحرام سن 94 ہجری کو ولید بن عبد الملک ملعون کے زہر دینے کی وجہ سے ہوئی اور آپ علیہ السلام کو جنت البقیع میں دفن کیا گیا جہاں آج بھی آپ علیہ السلام کی قبر مبارک کے نشان باقی ہیں۔

اور احتمال قوی یہ ہے کہ جیسا کہ شیخ عباس قمی نے دیا ہے کہ ھشام نے عبدالملک کو آپ کے قتل پر مامور کیا ہوگا کیونکہ اس کی لوگوں کے سامنے توہین ہوئی تھی۔

وصیت

کفایۃ الاثر میں عفان بن خالد سے نقل کیا ہے کہ جب آپؑ مریض ہوئے اور جس مرض میں اس دنیا سے رخصت ہوئے، آپ علیہ السلام نے اپنے اولاد کو جمع کیا جن میں محمد، حسن، عبداللہ، زید اور حسین شامل تھے اور اپنے بیٹے محمد بن علی کو اپنا وصی بنایا اور آپ ہی نے ان کا لقب باقر رکھا تھا آپؑ نے اپنی تمام اولاد کو ان کے حوالے کیا اور کچھ وعظ اور نصیحت بھی کی اور فرمایا:

اے بیٹا عقل روح کے کیلئے قائد کی حیثیت رکھتی ہے اور علم عقل کے لیے، یہاں تک کہ فرمایا: جان لو کہ وقت تمھاری عمر کو ساتھ لے جاتا ہے اور تم کسی نعمت کو پا نہیں سکتے سوائے جدائی کے، پس طولانی خواہشات سے بچو کیونکہ کتنی خواہشات ہوتی ہے کہ ان تک پہنچنا نا ممکن ہوتا ہے اور کتنا مال جمع کیا جاتا ہے جو وہ کھا نہیں سکتا۔

اور اسی طرح زھیری نے بھی روایت نقل کی ہے کہ: آپؑ نے فرمایا: جب آپ کو روٹی اور ھندباء پیش کیا گیا، تو آپؑ نے مجھے فرمایا کھا لو، میں نے عرض کیا: یا ابن رسول اللہ یہ میں نے کھا لیا ہے ، فرمایا : یہ ھندباء ہے اور کتنا بہترین ہے کوئی بھی ھندباء کا پتا ایسا نہیں ہے جس میں جنت کے پانی کا کوئی قطرہ نہ پڑا ہو۔ §فیہ شفاء من كل داء۔¦ پھر اس کھانے کو اٹھایا گیا اور تیل لایا گیا۔ اے عبداللہ یہ دھن طبعی تیل ہے یہ باقی تیل سے اس طرح افضل ہے جس طرح اسلام باقی ادیان سے۔

پھر امام محمد باقر علیہ السلام داخل ہوئے آپ نے اپنے بیٹے کے ساتھ رازدانہ گفتگو فرمائی اور جو میں نے سنا وہ یہ تھا کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: تم پر حسن خلق ضروری ہے۔ میں نے کہا یابن رسول اللہ اگر کوئی امر الہٰی میں سے کوئی ایک امر ہو جو ضروری اور مجھے اس میں شک ہو جائے یا کوئی

اختلاف واقع ہو جائے تو کیا کروں؟ کون آپؑ کا خلیفہ ہوگا؟ فرمایا: اے ابا عبد اللہ میرے اس بیٹے کی طرف رجوع کرنا یہ کہ کر محمد باقر علیہ السلام کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: یہ میرا وارث اور میرے علم کا وارث ہے، اور علم کا خزانہ ہے اور علوم کو کشف کرنے والا ہے، میں نے کہا: یابن رسول اللہ باقر العلوم کا کیا معنی ہے؟ فرمایا : عنقریب ہمارے شیعہ اس کی طرف آئیں گے تو میرا فرزند علوم کو ان کے درمیاں کھول کر بیان کرے گا۔

راوی کہتا ہے کہ: پھر محمد باقر علیہ السلام کو کسی کام کے لیے بازار بھیجا، جب آپ علیہ السلام کے فرزند محمد واپس تشریف لائے تو میں نے کہا: اے فرزند رسولؐ کیا بڑے بیٹے کے لیے وصیت نہیں کی جاتی؟ فرمایا: اے ابا عبداللہ امامت کے لیے کسی بڑے چھوٹے کا فرق نہیں ہے۔ یہ ہم تک رسول اللہ کی طرف سے اسی طرح پہنچا ہے اور اسی طرح ہم نے لوح محفوظ اور صحیفہ میں لکھا ہوا پایا ہے۔

امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپ علیہ السلام نے فرمایا: جب میرے والد علی بن حسین علیہما السلام کی وفات ہوئی تو آپ علیہ السلام نے مجھے اپنے سینے سے لگایا اور فرمایا بیٹا میں تھیں اسی چیز کی وصیت کرتا ہوں جس کی وصیت میرے بابا نے اپنی وفات کے قریب مجھ سے کی تھی اور وہ وصیت یاد کی جو آپ علیہ السلام کو آپ علیہ السلام کے والد محترم نے کی تھی۔ فرمایا: اے بیٹا اس پر ظلم کرنے سے بچو جس کے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار نہ ہو۔

امام علی رضا علیہ السلام سے روایت ہے کہ آپؑ نے فرمایا: حمد و ثناء ہے اس اللہ کے لیے جس نے اپنا وعدہ پورا کیا، جو ہمارے ساتھ کیا تھا اور ہمیں اس زمین کا وارث بنایا اور جنت میں جہاں چاہیں جگہ بنا سکتے ہیں پس عمل کرنے والوں کا اجر کتنا اچھا ہے۔ §ولا حول و لا قوة الا بالله العلى العظيم، والحمد للہ رب العالمین۔¦

حوالہ جات

الارشاد

امالی الصدوق

عیون اخبار الرضا علیہ السلام

علل الشرائع

وسائل الشیعۃ

الخصال

المناقب

مستدرک الوسائل

دلائل الامامۃ

کفایۃ الاثر

تفسیر القمی