(۱۵) وَكَانَ مِنْ دُعَآئِهٖ عَلَیْهِ السَّلَامُ اِذَا مَرِضَ اَوْ نَزَلَ بِهٖ كَرْبٌ اَوْ بَلِیَّةٌ۔ دعا (۱۵) جب کسی بیماری یا کرب و اذیت میں مبتلا ہوتے تو یہ دُعا پڑھتے:
غریبی، امیری، دکھ، آرام اور بیماری و صحت وہ لوازمِ حیات ہیں جن سے زندگی کے لمحات کبھی خالی نہیں رہتے۔ کبھی نکبت و افلاس ہے تو کبھی ثروت و اقبال، کبھی رنج و الم ہے تو کبھی عیش و آرام، کبھی مرض کی جانکاہی ہے تو کبھی صحت کی کیف افزائی۔ اگرچہ یہ دو مختلف کیفیتیں اور الگ الگ حالتیں ہیں جن کے تاثرات بھی جدا جدا ہیں، اس طرح کہ صحت و رفاہیت سے شکریہ کے اور بیماری و کلفت سے شکوہ و شکایت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں، مگر جس کے آب و گل میں رضائے الٰہی کا عنصر شامل ہو وہ ہر حالت میں یکسان شکرگزار رہتا ہے اور کسی وقت اپنی زبان کو شکوہ و شکایت سے آلودہ نہیں ہونے دیتا۔ چنانچہ جب بستر بیماری پر بے قراری کی کروٹیں بے چین کرتی اور کرب و اذیت کی ٹیسیں سکون و قرار چھین لیتی ہیں تو اس کی زبان پر صبر و شکر اور حمد و ثنا ہی کا ترانہ گونجتا ہے، کیونکہ اسے یہ یقین ہوتا ہے کہ صحت ہو یا مرض دونوں شکر و ستائش کے قابل ہیں۔
بے شک صحت ایک گراں مایہ دولت ہے جس کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ اسے ہی ہو سکتا ہے جو اسے ہاتھ سے کھو چکا ہو، لیکن اتنا تو ہر شخص سمجھتا ہے کہ یہ صحت ہی کے خوشگوار احساس کا نتیجہ ہے کہ انسان چاق چوبند اور آمادۂ عمل نظر آتا ہے اور جوش، جرأت، حوصلہ، احساسِ خودداری اور ولولہ سب اسی کا کرشمہ ہیں۔ اسی سے کسب معیشت اور عبادت و اطاعت کی سرگرمی وابستہ ہے اور اسی کی بدولت دنیا کی لذتوں سے حظ اندوز ہوا جاتا ہے۔ مگر مرض بھی اپنے نتائج و اثرات کے لحاظ سے فائدوں سے خالی نہیں ہے۔ چنانچہ حضرتؑ نے اس کے چند فوائد کی طرف اس دُعا میں اشارہ کیا ہے:
پہلا فائدہ
یہ ہے کہ مرض گناہوں سے تطہیر اور گناہوں کی گرانباری سے سبکدوشی کا باعث ہوتا ہے۔ چنانچہ امیرالمومنین علیہ السلام کا ارشاد ہے: اِنَّ الْمَرَضَ یَحُطُّ السَّیِّئَاتِ، وَیَحُتُّهَا حَتَّ الْاَوْرَاقِ۔ مرض گناہوں کو دور کرتا ہے اور اس طرح جھاڑ دیتا ہے جس طرح پتّے جھڑتے ہیں۔۱
دوسرا فائدہ
یہ ہے کہ انسان حالتِ مرض میں اپنے گناہوں پر نادم ہوتا، توبہ و انابت کرتا اور اللہ تعالی سے لَو لگاتا ہے۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِہٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَاىِٕمًا جب انسان دُکھیا ہوتا ہے تو اپنے پہلو پر لیٹا ہو یا بیٹھا ہو یا کھڑا ہو ہمیں پکارتا ہے۔۲
تیسرا فائدہ
یہ ہے کہ اس سے صحت و عافیت کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ ہوتا ہے اور بھولی بسری نعمت کی یاد تازہ ہوتی ہے۔ ورنہ اس نعمتِ تندرستی کو نعمت ہی تصور نہ کیا جاتا۔ چنانچہ حدیث میں وارد ہوا ہے کہ: نِعْمَتَانِ مَجْهُوْلَتَانِ الْاَمْنُ وَالْعَافِيَةُ۔ دو نعمتیں ایسی ہیں جنہیں نعمت ہی نہیں سمجھا گیا، ایک امن اور دوسرے عافیت۔۳ اور چونکہ نعمت کی فراموشی و ناقدری ایک گناہ ہے اور بیماری اس نعمت کی طرف متوجہ کرتی اور کفرانِ نعمت سے بچا کر شکرگزاری کا جذبہ پیدا کرتی ہے اس لئے یہ بھی نعمت کی یاددہانی کی وجہ سے نعمت میں محسوب ہو گی۔
چوتھا فائدہ
یہ ہے کہ جب مرض کی وجہ سے انسان کے عمل کی رفتار سُست ہو جاتی ہے یا عمل کے قابل ہی نہیں رہتا تو وہ جن اعمال کو صحت کی حالت میں بجا لایا کرتا تھا وہ اس کے نامۂ اعمال میں برابر درج ہوتے رہتے ہیں۔ چنانچہ حدیث نبویؐ ہے کہ: يَقُوْلُ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ لِلْمَلَكِ الْمُوَكَّلِ بِالْمُؤْمِنِ: اِذَا مَرِضَ اكْتُبْ لَهٗ مَا كُنْتَ تَكْتُبُ لَهٗ فِیْ صِحَّتِهٖ، فَاِنِّیْۤ اَنَا الَّذِیْ صَيَّرْتُهٗ فِیْ حِبَالِیْ۔ جب مومن بیمار ہوتا ہے تو خداوند تعالیٰ اس فرشتہ کو جو اس پر مقرر ہوتا ہے حکم دیتا ہے کہ مرض میں بھی اس کے وہ اعمال جنہیں وہ بجا لایا کرتا تھا لکھتے رہو، کیونکہ اُسے مرض کے شکنجہ میں اسیر کرنے والا میں ہی ہوں۔۴
پانچواں فائدہ
یہ ہے کہ جب انسان مرض میں مبتلا ہوتا ہے تو دفعیہ کیلئے صدقہ و خیرات کرتا ہے اور یہ بھی ایک کارگر علاج ہے۔ جیسا کہ امیر المومنین علیہ السلام کا ارشاد ہے: اَلصَّدَقَةُ دَوَآءٌ مُّنْجِحٌ ”صدقہ ایک کامیاب دوا ہے“۵۔ اور اس صدقہ اور داد و دہش سے طبیعت کا رُخ بخل و حرص اور زر اندوزی کی خواہش سے جود و سخا کی طرف مڑ جاتا ہے اور نفسانی روگ انحطاط پذیر ہو جاتا ہے۔
چھٹا فائدہ
یہ ہے کہ مرض دنیا کی بے ثباتی و ناپائیداری اور موت کی یاد دلاتا ہے۔ کیونکہ صحتِ جسمانی کا فقدان موت کا پیش خیمہ ہے اور موت کا تصور انسان کو اللہ سے لَو لگانے اور اس کی طرف رجوع ہونے پر آمادہ کر دیتا ہے، بلکہ دنیا کی ہر اُفتاد اور ہر کلفت اللہ کی طرف جھکاتی اور اُسے پکارنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَيْہِ تَجْئَرُوْنَ ”جب تمہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو تم اس کے سامنے گڑگڑاتے ہو“۔۶
ساتواں فائدہ
یہ ہے کہ اکثر گناہوں کا سرچشمہ قوتِ غضبیہ و شہوانیہ ہوتی ہے اور بیماری سے جہاں اور قوائے بدنی میں کمزوری آ جاتی ہے وہاں ان دونوں پر بھی اثر انداز ہوتی ہے جس کے نتیجہ میں انسان بہت سے گناہوں کے ارتکاب سے بچ جاتا ہے۔
آٹھواں فائدہ
یہ ہے کہ اگر بے صبری و بے قراری کا اظہار نہ کرے اور صبر و ضبط سے کام لے تو اس مشقت و زحمت کشی کے نتیجہ میں اجر و ثواب کا بھی مستحق ہو گا۔
نواں فائدہ
یہ ہے کہ اگر کسی گناہ کے ارتکاب کی عادت جڑ پکڑ چکی ہو تو طولِ مرض سے اس عادت کے چھوٹ جانے کا بھی امکان پیدا ہو جاتا ہے، اور ہو سکتا ہے کہ ہمیشہ کیلئے اس سے چھٹکارا حاصل ہو جائے۔
دسواں فائدہ
یہ ہے کہ بعض چھوٹے موٹے امراض اس نوعیت کے ہوتے ہیں کہ وہ کسی بڑے مرض کیلئے روک بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ہو سکتا ہے کہ موجودہ مرض بھی کسی دوسرے مرض کی روک تھام کر دے۔ چنانچہ اطباء کا یہ متفق علیہ نظریہ ہے کہ زکام ومل بخار وغیرہ سے بدنِ انسانی کو مختلف فائدے پہنچتے ہیں اور بعض زہریلے مادے خارج ہو جاتے ہیں جو دوسرے امراض کیلئے حفظِ ما تقدم کا کام دے جاتے ہیں۔
مذکورہ بالا فوائد کے باوجود پھر انسان صحت کو مرض پر ترجیح دیتا اور تندرستی کا خواہاں ہوتا ہے اور کسی طرح مرض کو گوارا نہیں کرتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحت و عافیت حُب طبعی کا کرشمہ ہے اور مرض حُبّ عقلی کا تقاضا ہے۔ اور حُب طبعی حُب عقلی سے زیادہ انسانی احساسات کو متاثر کرتی اور اس کے بشری جذبات سے سازگار رہتی ہے۔ اس لئے وہ مرض کے فائدہ بخش نتائج کے باوجود صحت و سلامتی ہی کا خواہش مند رہتا ہے۔ مگر جس میں حُبّ عقلی کے تقاضے حُب طبعی کے تقاضوں پر غالب ہوں وہ اپنی ہر مادی طلب و خواہش کو بھی رضائے الٰہی سے وابستہ کر دیتا ہے اور اس رضائے الٰہی کے علاوہ اس کا کوئی اور مقصد نہیں ہوتا۔ اور یہی وہ مقام ہے جہاں حضرتؑ کی زندگی کے اطوار عام انسانی زندگی کے اطوار سے بلند تر نظر آتے ہیں۔
ریاض السالکین، ج ۳ ص ۸۴
سورۂ یونس، آیت ۱۲
روضۃ الواعظین، ج ۲ ص ۴۷۲
الکافی، ج۳ ص ۱۱۳
نہج البلاغہ، حکمت ۷
سورۂ نحل، آیت ۵۳