(۱۷) وَكَانَ مِنْ دُعَآئِهٖ عَلَیْهِ السَّلَامُ اِذَا ذُكِرَ الشَّیْطٰنُ فَاسْتَعَاذَ مِنْهُ وَمِنْ عَدَاوَتِهٖ وَكَیْدِهٖ۔ دُعا (۱۷) جب شیطان کا ذکر آتا تو اُس سے اور اُس کے مکر و عداوت سے بچنے کیلئے یہ دُعا پڑھتے:
وہ محرکاتِ شر جو انسان پر ہر طرف سے ہجوم کئے ہوئے ہیں، ان میں وہ خطرات و وساوس بھی شامل ہیں جو انسان کے دل میں پیدا ہوتے اور اُسے متاثر کرتے ہیں۔ فلاسفہ کے نزدیک یہ خیالاتِ فاسدہ قوت واہمہ کے تسلط کا نتیجہ ہیں جو انسانی حسیات کو متاثر کرتی اور عقل کے تقاضوں سے متصادم رہتی ہے۔ اور بعض لوگوں کا خیال یہ ہے کہ جسم سے الگ ہونے والی روحوں میں جو اچھی روحیں ہوتی ہیں وہ نیکو کارانہ زندگی کا راستہ ہموار کرتی اور حق و صداقت کی راہ کا سالک بناتی ہیں اور جو بُری ہوتی ہیں وہ برائیوں کی طرف لے چلتی ہیں اور گناہوں پر اُبھارتی ہیں۔ ان اچھی روحوں کو وہ جنّات سے اور بُری روحوں کو شیاطین سے تعبیر کرتے ہیں اور خیالاتِ فاسدہ کو انہی ارواح خبیثہ کی تحریک کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔
مگر اسلامی نقطۂ نظر یہ ہے کہ بُرے افکار و تخیلات چاہے وہ کسی عمل بد کے محرک ہوں یا صرف خیالات تک محدود ہوں ایک ناری مخلوق کی وسوسہ انگیزی سے پیدا ہوتے ہیں، جو حسد و خود پسندی کی وجہ سے مردودِ بارگاہ قرار پائی اور ایک معینہ عرصہ تک ضلالت و معصیت کی طرف دعوت دیتی رہے گی، اُسے شیطان کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اور اچھے خیالات و جذبات خواہ وہ کسی عمل خیر کا پیش خیمہ ہوں یا صرف خیالات تک محدود ہوں، فیضانِ الٰہی کا کرشمہ ہیں جسے القاء و الہام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ چنانچہ پیغمبر اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: فِیْ الْقَلْبِ لَمَّتَانِ، لَمَّةٌ مِّنَ الْمَلَكِ اِيْعَادٌ بِالْخَيْرِ وَتَصْدِيْقٌ بِالْحَقِّ، وَلَمَّةٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ اِيْعَادٌ بِالشَّرِّ وَتَكْذِيْبٌ بِالْحَقِّ۔
انسان کے دل میں دو طرح کے خیالات و افکار وارد ہوتے ہیں۔ ایک مَلَک کی جانب سے اور وہ دل میں نیکی کا ارادہ اور حق کی تصدیق کا جذبہ پیدا کرتے ہیں اور دوسرے شیطان کی طرف سے اور وہ گناہ و شر اور حق کی تکذیب پر آمادہ کرتے ہیں۔۱
اور انسان کا دل ان دونوں قسم کے خیالات کی آماجگاہ ہے اور دونوں کی یکساں صلاحیت رکھتا ہے۔ البتہ کبھی بداعمالیوں میں حد سے بڑھ جانے کی وجہ سے توفیق سلب کر لی جاتی ہے اور نورِ ہدایت سے محروم ہو کر تاریکیوں میں بھٹکتا رہتا ہے۔ اور کبھی خوش اطواریوں کے نتیجہ میں توفیقات بڑھ جاتے ہیں اور شیطان کی فریب کاریوں کے بندھن ڈھیلے پڑ جاتے ہیں۔ ان اچھی اور بُری تحریکات کے اثرات اس کے اقوال و اعمال اور حرکات و سکنات سے ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ جہاں تک ان اچھے اور بُرے کاموں کا تعلق ہے وہ اسی کے حُسنِ اختیار و سُوءِ اختیار کا نتیجہ ہیں۔ نہ توفیق بہ جبر اسے نیکی کی طرف لاتی ہے اور نہ وسوسہ بہ جبر اُسے بُرائی کی جانب لاتا ہے کہ اُسے مجبور و معذور قرار دے لیا جائے۔ کیونکہ انسانی افعال و اعمال کی نوعیت یہ ہے کہ وہ ایک طبعی ترتیب سے وابستہ ہیں۔ اس طرح کہ پہلے کسی چیز میں لذت و منفعت کا تصور پیدا ہوتا ہے۔ اس تصور کا نام ”داعی“ ہے جس کے نتیجہ میں انسان اس کے حصول کی طرف مائل ہوتا ہے۔ اس میلان کا نام ”ارادہ“ ہے۔ پھر قدرت و اختیار کے زیر اثر اعضاء میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور وہ فعل ظہور میں آتا ہے جس سے اس شے کا حصول وابستہ ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جب کسی چیز میں لذت و منفعت کا تصور ہو گا تو اس کی طرف میلان کا ہونا ایک لازمی و طبعی امر ہے اور اگر کوئی مانع نہ ہو تو ارادہ و قدرت کے اجتماع سے فعل کا ظہور بھی ضروری ہے۔ لہٰذا ان میں سے کسی ایک میں بھی شیطان کا عمل دخل نہیں مانا جا سکتا۔
اب صرف یہ ایک صورت رہ جاتی ہے کہ جس چیز میں لذت و منفعت کا تصور پیدا ہوا ہے وہ شیطان کے بہکانے کا نتیجہ ہو۔ چنانچہ یہی وہ محل ہے جہاں وہ اپنے فریبوں اور حیلوں سے کام لیتا ہے اور زہر ہلاہل کو شہد و شکر کہہ کر پیش کرتا ہے اور اس کے بعد کے مراحل اس کے ارادہ و اختیار سے وابستہ ہیں۔ اس لئے اُسے معذور نہیں قرار دیا جا سکتا کہ یہ کہہ کر چھوٹ جائے کہ شیطان کے بہکانے میں آ گیا۔ کیونکہ ایک طرف عقل کا چراغ روشن ہے اور دوسری طرف آسمانی تعلیم ہدایت کیلئے موجود ہے۔ اب وہ ان دونوں کے سدّ راہ ہونے کے باوجود برائی کی طرف قدم اٹھاتا اور حصولِ لذت کی دُھن میں عواقب و نتائج سے آنکھیں بند کر لیتا ہے تو اس ہلاکت آفرینی کی ذمہ داری اسی پر عائد ہو گی۔ چنانچہ قرآن مجید میں شیطان کی زبانی وارد ہوا ہے: وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ اِلَّآ اَنْ دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِيْ مجھے تم پر کوئی تسلّط نہ تھا سوا اس کے کہ میں نے تمہیں پکارا تو تم نے میری آواز پر لبیک کہی۔۲
ان شیطانی تحریصات و ترغیبات کا سلسلہ اس طرح شروع ہوتا ہے کہ پہلے وہ انسان کے دل میں فاسد خیالات کیلئے راہ پیدا کرتا ہے اور جب انسان کا دل و دماغ ان فاسد خیالات کو بغیر روک ٹوک کے قبول کر لیتا ہے تو اس کے تحت الشعور میں لذت اندوزی کی خواہش بیدار ہوتی ہے۔ مگر اخلاقی قوانین، شرعی احکام اور ماحول کے تاثرات اسے گناہ کی جرأت نہیں ہونے دیتے۔ اس موقع پر وہ انسان کی خواہش پرست طبیعت کو گناہِ صغیرہ کی طرف مائل کرتا ہے۔ اس طرح کہ ایک طرف اس گناہ کی اہمیت کو کم کر کے دکھاتا ہے اور دوسری طرف اس کی ہمت و جرأت بڑھاتا ہے اور جب گناہ کی خواہش اسے گناہِ صغیرہ کی منزل میں لا کھڑا کرتی ہے تو پھر وہ گناہِ کبیرہ کی دعوت دیتا ہے اور جب وہ اس کے ارتکاب سے ہچکچاتا اور پاداشِ عمل سے ڈرتا ہے تو یہ ڈھارس دیتا ہے کہ توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے جب چاہو توبہ کر سکتے ہو۔ اور جب وہ توبہ کے سہارے پر گناہ کر لیتا ہے تو پھر دوبارہ یہ کہہ کر اکساتا ہے کہ جہاں ایک دفعہ گناہ کیا ہے وہاں ایک دفعہ اور سہی اور دونوں سے ایک دفعہ توبہ ہو جائے گی۔ اور جب دوسری دفعہ ارتکابِ گناہ کے بعد توبہ کا قصد کرتا ہے تو یہ کہتا ہے کہ ابھی زندگی بہت باقی ہے ایک آدھ مرتبہ اور سہی پھر توبہ کر لینا۔ یہاں تک کہ گناہ کی عادت اس حد تک پختہ ہو جاتی ہے کہ گناہ سے دست بردار ہونا مشکل ہو جاتا ہے اور بھولے سے بھی توبہ کا خیال نہیں آتا۔ اور جس طرح وہ ناسور جس کا شروع شروع میں علاج نہ کیا جائے اپنے زہریلے اثرات تمام جسم میں پھیلا دیتا ہے، اسی طرح گناہ کے مسموم اثرات رگ و پے میں سرایت کر جاتے ہیں اور گناہ کا احساس تک باقی نہیں رہتا اور وہ بے جھجک گناہوں میں پھاندتا، گمراہیوں میں بھٹکتا اور اپنی سرمستیوں میں کھویا رہتا ہے۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: وَزَيَّنَ لَہُمُ الشَّيْطٰنُ اَعْمَالَہُمْ فَصَدَّہُمْ عَنِ السَّبِيْلِ فَہُمْ لَا يَہْتَدُوْنَ شیطان نے ان کیلئے ان کے کاموں کو سج دیا، چنانچہ وہ سیدھے راستہ سے بے راہ ہو گئے۔۳
یوں ہی کسی عمل خیر سے روکنا چاہتا ہے تو پہلے سہل انگاری کی طرف لاتا ہے، پھر غفلت کی راہ پر ڈال دیتا ہے۔ چنانچہ صبح کے وقت جب فطرت کی مسرت آمیز تر و تازگی ہر چیز میں دوڑتی ہے اور فضا تکبیر کی صداؤں سے گونج اٹھتی ہے تو وہ بستر پر کروٹیں بدلنے والے کو تھپکیاں دے کر سلاتا ہے کہ ابھی وقت بہت ہے کچھ دیر اور آرام کر لو۔ یہاں تک کہ جب وقت تنگ رہ جاتا ہے تو وہ کسمساتا اور آنکھیں مَلتا ہوا اٹھتا ہے اور بمشکل صبح کا دوگانہ ادا کر پاتا ہے اور رفتہ رفتہ یہ ہوتا ہے کہ وقت گزر جاتا ہے اور اُسے بستر سے اٹھنا دوبھر ہو جاتا ہے۔ اور جب سورج نکلنے کے بعد بستر سے اٹھتا ہے تو نماز قضا کر کے پڑھتا ہے۔ پھر اس میں بھی سستی ہونے لگتی ہے اور ظہر کی نماز کے ساتھ نمازِ صبح قضا کر کے پڑھی جاتی ہے۔ اور جب ظہر و عصر کی نماز بھی قریب غروب پڑھی جاتی ہے تو صبح کی نماز کو کل پر ٹال دیا جاتا ہے یہاں تک کہ صبح کی نماز کی یہ صورت ہو جاتی ہے کہ کبھی قضاپڑھ لی اور کبھی چھوڑ دی۔ اب اس سہل انگاری کا اثر دوسری نمازوں پر بھی پڑنا شروع ہوا۔ اس طرح کہ دوست و احباب کی باتوں میں لگے رہے اور وقت کھو دیا۔ کچھ طبیعت میں اضمحلال محسوس کیا اور نماز چھوڑ دی۔ رفتہ رفتہ ناغوں میں اضافہ ہونے لگا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ صرف عید و بقر عید کی نماز رہ گئی اور باقی ختم، اور وہ بھی اس لئے کہ ذرا عیدگاہ کی چہل پہل دیکھ لیں اور اعزّہ و احباب سے ملاقات ہو جائے۔
اسی طرح جب مالی عبادات سے روکنا چاہتا ہے تو یہ فریب دیتا ہے کہ فی الحال خمس و زکوٰۃ وغیرہ کو اپنے ذمہ کر لو جب فلاں مدّ کا روپیہ آئے گا تو ادا کر دینا اور اس وقت ادا کرنے سے کاروبار پر بُرا اثر پڑے گا اور اسلام یہ نہیں چاہتا کہ تم اپنی اقتصادی حالت کو خراب ہونے دو۔ اگرچہ فقراء و مساکین موجود ہیں مگر ان کا انحصار ہم ہی پر تو نہیں ہے، انہیں کہیں اور سے مل جائے گا۔ اور پھر ان محتاجوں اور فقیروں کو دینے سے خود بھی تو محتاج ہونے کا اندیشہ ہے، لہٰذا ان میں سے اگر ایک محتاج کم ہو گا تو اس کی جگہ دوسرا آ جائے گا۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: اَلشَّيْطٰنُ يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَاْمُرُكُمْ بِالْفَحْشَآءِ شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور بُرے کاموں کا حکم دیتا ہے ۴۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ حالات کے سازگار ہونے کا منتظر رہتا ہے اور وہ کبھی سازگار ہوتے ہی نہیں کہ وہ صدقاتِ واجبہ اور مالی عبادات سے عہدہ برآ ہو سکے۔ بہرحال شیطان کی پُر فریب و عشرت انگیز دعوت کے مقابلہ میں گناہ کی آلودگیوں سے حفاظت کرنا مشکل ہے اور اس کے حیل و وساوس سے ایک عام انسان بچ کر نہیں رہ سکتا۔ مگر وہ نفوس قدسیہ جو جوہرِ عصمت سے آراستہ اور ملکوتی صفات کے حامل ہوتے ہیں وہ کسی مرحلہ پر اُس کے فریب میں نہیں آتے اور نہ اس کا کوئی حربہ اُن پر چل سکتا ہے۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْہِمْ سُلْطٰنٌ میرے خاص بندوں پر تجھے غلبہ و تسلّط حاصل نہیں ۵۔ اور شیطان نے بھی اِلَّا عِبَادَكَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِيْنَ ”مگر تیرے مخلص بندے‘‘۔ کہہ کر ان کے مقابلہ میں اپنے عجز کا اظہار کیا ہے۔ مگر پھر بھی انہیں قدرت نے شیطان سے پناہ مانگنے کی تلقین کی ہے۔ چنانچہ نبی اکرمؐ کو حکم دیا:\n فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو۔۷
یہ ”استعاذہ“ دعا ہی کی ایک قسم ہے اور جس طرح بعض اُمور دعا سے وابستہ ہیں اسی طرح شیطانی حربوں سے حفاظت کا ایک ذریعہ استعاذہ بھی ہے اور انبیاء و آئمہ علیہ السلام کے استعاذہ کا مقصد دوسروں کو تعلیم دینا بھی ہوتا ہے کہ جب وہ اس کے فریب سے مامون اور اس کے تسلّط سے آزاد ہونے کے باوجود پناہ مانگتے ہیں تو جو اس کی زد پر ہیں اور بآسانی اس کے قابو میں آ جاتے ہیں، وہ کس طرح استعاذہ سے مستغنی ہو سکتے ہیں۔
اس دعا میں استعاذہ کے علاوہ اس کے وسوسوں کو مضمحل کرنے کیلئے دو چیزوں کی تعلیم بھی دی گئی ہے، ایک محبتِ الٰہی اور دوسرے بندگی و عبادت۔ کیونکہ جب دل اللہ تعالیٰ کی محبت میں سرشار ہو گا تو اس کے دشمن کی فریب کاریاں بہکا نہ سکیں گی۔ اور جب عبادت میں انہماک ہو گا تو نفس میں عجز و تذلل کی کیفیت پیدا ہو گی اور یہ کیفیت شیطانی وساوس سے سدّ راہ ہو جاتی ہے۔
شرح اصول الکافی، ج ۱ ص ۲۶۴۔
تفسیر المراغی، ج ۲۹ ص ۹۴
سورۂ ابراہیم، آیت ۲۲
سورۂ بقرہ، آیت ۲۶۸
سورۂ حجر، آیت ۴۲
سورۂ حجر، آیت ۴۰
سورۂ نحل، آیت ۹۸