(۲۷) وَكَانَ مِنْ دُعَآئِهٖ عَلَیْهِ السَّلَامُ لِاَهْلِ الثُّغُوْرِ۔ سرحدوں کی نگہبانی کرنے والوں کیلئے حضرتؑ کی دعا:

اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
1
بار الٰہا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
1
وَحَصِّنْ ثُغُوْرَ الْمُسْلِمِیْنَ بِعِزَّتِكَ
2
اور اپنے غلبہ و اقتدار سے مسلمانوں کی سرحدوں کو محفوظ رکھ
2
وَاَیِّدْ حُمَاتَهَا بِقُوَّتِكَ
3
اور اپنی قوت و توانائی سے ان کی حفاظت کرنے والوں کو تقویت دے
3
وَاَسْبِغْ عَطَایَاهُمْ مِنْ جِدَتِكَ۔
4
اور اپنے خزانۂ بے پایاں سے انہیں مالا مال کر دے۔
4
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
5
اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
5
وَكَثِّرْ عِدَّتَهُمْ
6
اور ان کی تعداد بڑھا دے
6
وَاشْحَذْ اَسْلِحَتَهُمْ
7
ان کے ہتھیاروں کو تیز کر دے
7
وَاحْرُسْ حَوْزَتَهُمْ
8
ان کے حدود و اطراف کی حفاظت کر
8
وَامْنَعْ حَوْمَتَهُمْ
9
اور ان کے مرکزی مقامات کی نگہداشت کر
9
وَاَلِّفْ جَمْعَهُمْ
10
ان کی جمعیت میں انس و یکجہتی پیدا کر
10
وَدَبِّرْ اَمْرَهُمْ
11
ان کے امور کی درستی فرما
11
وَوَاتِرْ بَیْنَ مِیَرِهِمْ
12
رسد رسانی کے ذرائع مسلسل قائم رکھ
12
وَتَوَحَّدْ بِكِفَایَةِ مُؤَنِهِمْ
13
ان کی مشکلات کے حل کرنے کا خود ذمہ لے
13
وَاعْضُدْهُمْ بِالنَّصْرِ
14
ان کے بازو قوی کر
14
وَاَعِنْهُمْ بِالصَّبْرِ
15
صبر کے ذریعہ ان کی اعانت فرما
15
وَالْطُفْ لَهُمْ فِی الْمَكْرِ۔
16
اور دشمن سے چھپی تدبیروں میں انہیں باریک نگاہی عطا کر۔
16
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
17
اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
17
وَعَرِّفْهُمْ مَا یَجْهَلُوْنَ
18
اور جس شے کو وہ نہیں پہچانتے وہ انہیں پہچنوا دے
18
وَعَلِّمْهُمْ مَا لَا یَعْلَمُوْنَ
19
اور جس بات کا علم نہیں رکھتے وہ انہیں بتا دے
19
وَبَصِّرْهُمْ مَا لَا یُبْصِرُوْنَ۔
20
اور جس چیز کی بصیرت انہیں نہیں ہے وہ انہیں سجھا دے۔
20
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
21
اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
21
وَاَنْسِهِمْ عِنْدَ لِقَآئِهِمُ الْعَدُوَّ ذِكْرَ دُنْیَاهُمُ الْخَدَّاعَةِ الْغَرُوْرِ
22
اور دشمن سے مد مقابل ہوتے وقت غدار و فریب کار دنیا کی یاد ان کے ذہنوں سے مٹا دے
22
وَامْحُ عَنْ قُلُوْبِهِمْ خَطَرَاتِ الْمَالِ الْفَتُوْنِ
23
اور گمراہ کرنے والے مال کے اندیشے ان کے دلوں سے نکال دے
23
وَاجْعَلِ الْجَنَّةَ نَصْبَ اَعْیُنِھِمْ
24
اور جنت کو ان کی نگاہوں کے سامنے کر دے
24
وَلَوِّحْ مِنْهَا لِاَبْصَارِهِمْ مَاۤ اَعْدَدْتَّ فِیْهَا مِنْ مَّسَاكِنِ الْخُلْدِ
25
اور انہیں دکھا دے جو کچھ وہاں فراہم کئے ہیں، دائمی قیام گاہیں،
25
وَمَنَازِلِ الْكَرَامَةِ وَالْحُوْرِ الْحِسَانِ
26
عزت و شرف کی منزلیں، [خوب سیرت حوریں]
26
وَالْاَنْهَارِ الْمُطَّرِدَةِ بِاَنْوَاعِ الْاَشْرِبَةِ
27
اور (پانی دودھ شراب اور صاف و شفاف شہد کی) بہتی ہوئی نہریں
27
وَالْاَشْجَارِ الْمُتَدَلِّیَةِ بِصُنُوْفِ الثَّمَرِ
28
اور طرح طرح کے پھلوں (کے بار) سے جھکے ہوئے اشجار
28
حَتّٰى لَا یَهُمَّ اَحَدٌ مِّنْهُمْ بِالْاِدْبَارِ
29
تاکہ ان میں سے کوئی پیٹھ پھرانے کا ارادہ نہ کرے
29
وَلَا یُحَدِّثَ نَفْسَهٗ عَنْ قِرْنِهٖ بِفِرَارٍ۔
30
اور اپنے حریف کے سامنے سے بھاگنے کا خیال نہ کرے۔
30
اَللّٰهُمَّ افْلُلْ بِذٰلِكَ عَدُوَّهُمْ
31
اے اللہ! اس ذریعہ سے ان کے دشمنوں کے حربے کند
31
وَاقْلِمْ عَنْهُمْ اَظْفَارَهُمْ
32
اور انہیں بے دست و پا کر دے
32
وَفَرِّقْ بَیْنَهُمْ وَبَیْنَ اَسْلِحَتِہِمْ
33
اور ان میں اور ان کے ہتھیاروں میں تفرقہ ڈال دے (یعنی ہتھیار چھوڑ کر بھاگ جائیں)
33
وَاخْلَعْ وَثَآئِقَ اَفْئِدَتِهِمْ
34
اور ان کے رگ دل کی طنابیں توڑ دے
34
وَبَاعِدْ بَیْنَهُمْ وَبَیْنَ اَزْوِدَتِهِمْ
35
اور ان میں اور ان کے آذوقہ میں دوری پیدا کر دے
35
وَحَیِّرْهُمْ فِیْ سُبُلِهِمْ
36
اور ان کی راہوں میں انہیں بھٹکنے کیلئے چھوڑ دے
36
وَضَلِّلْهُمْ عَنْ وَّجْهِهِمْ
37
اور ان کے مقصد سے انہیں بے راہ کر دے
37
وَاقْطَعْ عَنْهُمُ الْمَدَدَ
38
ان کی کمک کا سلسلہ قطع کر دے
38
وَانْقُصْ مِنْهُمُ الْعَدَدَ
39
ان کی گنتی کم کر دے
39
وَامْلَاْ اَفْئِدَتَهُمُ الرُّعْبَ
40
ان کے دلوں میں دہشت بھر دے
40
وَاقْبِضْ اَیْدِیَهُمْ عَنِ الْبَسْطِ
41
ان کی دراز دستیوں کو کوتاہ کر دے
41
وَاخْزِمْ اَلْسِنَتَهُمْ عَنِ النُّطْقِ
42
ان کی زبانوں میں گرہ لگا دے کہ بول نہ سکیں
42
وَشَرِّدْ بِهِمْ مَنْ خَلْفَهُمْ
43
اور انہیں سزا دے کر ان کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کو بھی تتر بتر کر دے جو ان کے پس پشت ہیں
43
وَنَكِّلْ بِهِمْ مَنْ وَّرَآءَهُمْ
44
اور پس پشت والوں کو ایسی شکست دے کہ جو ان کے پشت پر ہیں انہیں عبرت حاصل ہو
44
وَاقْطَعْ بِخِزْیِهِمْ اَطْمَاعَ مَن بَعْدَهُمْ۔
45
اور ان کی ہزیمت و رسوائی سے ان کے پیچھے والوں کے حوصلے توڑ دے۔
45
اَللّٰهُمَّ عَقِّمْ اَرْحَامَ نِسَآئِهِمْ
46
اے اللہ! ان کی عورتوں کے شکم بانجھ
46
وَیَبِّسْ اَصْلَابَ رِجَالِهِمْ
47
ان کے مردوں کے صلب خشک کر دے
47
وَاقْطَعْ نَسْلَ دَوَابِّهِمْ وَاَنْعَامِهِمْ
48
اور ان کے گھوڑوں، اونٹوں، گائیوں، بکریوں کی نسل قطع کر دے
48
لَا تَاْذَنْ لِّسَمَآئِهِمْ فِیْ قَطْرٍ
49
اور اجازت نہ دے ان کے آسمان کو برسنے کی
49
وَلَا لِاَرْضِهِمْ فِیْ نَبَاتٍ۔
50
اور زمین کو روئیدگی کی۔
50
اَللّٰهُمَّ وَقَوِّ بِذٰلِكَ مِحَالَ اَهْلِ الْاِسْلَامِ
51
بار الٰہا! اس ذریعہ سے اہل اسلام کی تدبیروں کو مضبوط
51
وَحَصِّنْ بِهٖ دِیَارَهُمْ
52
ان کے شہروں کو محفوظ
52
وَثَمِّرْ بِهٖۤ اَمْوَالَهُمْ
53
اور ان کی دولت و ثروت کو زیادہ کر دے
53
وَفَرِّغْهُمْ عَنْ مُّحَارَبَتِهِمْ لِعِبَادَتِكَ
54
اور انہیں اپنی عبادت کے لیے لڑائی جھگڑے سے فارغ کر دے
54
وَعَنْ مُنَابَذَتِهِمْ لِلْخَلْوَةِ بِكَ
55
اور اپنی خلوت گزینی کیلئے جنگ و جدال سے۔
55
حَتّٰى لَا یُعْبَدَ فِیْ بِقَاعِ الْاَرْضِ غَیْرُكَ
56
تاکہ روئے زمین پر تیرے علاوہ کسی کی پرستش نہ ہو
56
وَلَا تُعَفَّرَ لِاَحَدٍ مِّنْهُمْ جَبْهَةٌ دُوْنَكَ۔
57
اور تیرے سوا کسی کے آگے خاک پر پیشانی نہ رکھی جائے۔
57
اَللّٰهُمَّ اغْزُ بِكُلِّ نَاحِیَةٍ مِّنَ الْمُسْلِمِیْنَ
58
اے اللہ! تو مسلمانوں کو غلبہ دے ان کے ہر ہر علاقہ میں
58
عَلٰى مَن بِاِزَآئِهِمْ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ
59
بر سر پیکار ہونے والے مشرکوں پر
59
وَاَمْدِدْهُمْ بِمَلٰٓئِكَةٍ مِّنْ عِنْدِكَ مُرْدِفِیْنَ
60
اور صف در صف فرشتوں کے ذریعہ ان کی امداد فرما
60
حَتّٰى یَكْشِفُوْهُمْ اِلٰى مُنْقَطَعِ التُّرَابِ قَتْلًا فِیْ اَرْضِكَ وَاَسْرًا
61
تاکہ اس خطۂ زمین میں انہیں قتل و اسیر کرتے ہوئے اس کے آخری حدود تک پسپا کر دیں
61
اَوْ یُقِرُّوْا بِاَنَّكَ اَنْتَ اللّٰهُ
62
یا یہ کہ وہ اقرار کریں کہ تو وہ خدا ہے
62
الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ، وَحْدَكَ لَا شَرِیْكَ لَكَ۔
63
جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یکتا و لا شریک ہے۔
63
اَللّٰهُمَّ وَاعْمُمْ بِذٰلِكَ اَعْدَآءَكَ
64
خدایا! اس قتل و غارت کی لپیٹ میں لے لے دوسرے دشمنان دین کو بھی
64
فِیْۤ اَقْطَارِ الْبِلَادِ مِنَ الْهِنْدِ وَالرُّوْمِ
65
مختلف اطراف و جوانب کے، وہ ہندی ہوں یا رومی
65
وَالتُّرْكِ وَالْخَزَرِ وَالْحَبَشِ
66
ترکی ہوں یا خزری یا حبشی
66
وَالنُّوْبَةِ وَالزَّنْجِ
67
نوبی ہوں یا زنگی
67
وَالسَّقَالِبَةِ وَالدَّیَالِمَةِ
68
یا صقلبی و دیلمی
68
وَسَآئِرِ اُمَمِ الشِّرْكِ الَّذِیْنَ تَخْفٰۤى اَسْمَاؤُهُمْ وَصِفَاتُهُمْ
69
اور نیز ان مشرک جماعتوں کو جن کے نام اور صفات ہمیں معلوم نہیں
69
وَقَدْ اَحْصَیْتَهُمْ بِمَعْرِفَتِكَ
70
اور تو اپنے علم سے ان پر محیط
70
وَاَشْرَفْتَ عَلَیْهِمْ بِقُدْرَتِكَ۔
71
اور اپنی قدرت سے ان پر مطلع ہے۔
71
اَللّٰهُمَّ اشْغَلِ الْمُشْرِكِیْنَ بِالْمُشْرِكِیْنَ
72
اے اللہ! مشرکوں کو مشرکوں سے الجھا کر
72
عَنْ تَنَاوُلِ اَطْرَافِ الْمُسْلِمِیْنَ
73
مسلمانوں کے حدود مملکت پر دست درازی سے باز رکھ
73
وَخُذْهُمْ بِالنَّقْصِ عَنْ تَنَقُّصِهِمْ
74
اور ان میں کمی واقع کر کے مسلمانوں میں کمی کرنے سے روک دے
74
وَثَبِّطْهُمْ بِالْفُرْقَةِ عَنِ الْاِحْتِشَادِ عَلَیْهِمْ۔
75
اور ان میں پھوٹ ڈلوا کر اہل اسلام کے مقابلہ میں صف آرائی سے بٹھا دے۔
75
اَللّٰهُمَّ اَخْلِ قُلُوْبَهُمْ مِنَ الْاَمَنَةِ
76
اے اللہ! خالی کر دے ان کے دلوں کو تسکین و بے خوفی سے
76
وَاَبْدَانَهُمْ مِنَ الْقُوَّةِ
77
ان کے جسموں کو قوت و توانائی سے
77
وَاَذْهِلْ قُلُوْبَهُمْ عَنِ الْاِحْتِیَالِ
78
ان کی فکروں کو تدبیر و چارہ جوئی سے غافل
78
وَاَوْهِنْ اَرْكَانَهُمْ عَنْ مُّنَازَلَةِ الرِّجَالِ
79
اور مردان کارزار کے مقابلہ میں ان کے دست و بازو کو کمزور کر دے
79
وَجَبِّنْهُمْ عَنْ مُّقَارَعَةِ الْاَبْطَالِ
80
اور دلیران اسلام سے ٹکر لینے میں انہیں بزدل بنا دے
80
وَابْعَثْ عَلَیْهِمْ جُنْدًا مِّنْ مَلٰٓئِكَتِكَ بِبَاْسٍ مِّن بَاْسِكَ
81
اور اپنے عذابوں میں سے ایک عذاب کے ساتھ ان پر فرشتوں کی سپاہ بھیج
81
كَفِعْلِكَ یَوْمَ بَدْرٍ
82
جیسا کہ تو نے بدر کے دن کیا تھا
82
تَقْطَعُ بِهٖ دَابِرَهُمْ
83
اسی طرح تو ان کی جڑ بنیادیں کاٹ دے
83
وَتَحْصُدُ بِهٖ شَوْكَتَهُمْ
84
ان کی شان و شوکت مٹا دے
84
وَتُفَرِّقُ بِهٖ عَدَدَهُمْ۔
85
اور ان کی جمعیت کو پراگندہ کر دے۔
85
اَللّٰهُمَّ وَامْزُجْ مِیَاهَهُمْ بِالْوَبَآءِ
86
اے اللہ! ان کے پانی میں وبا
86
وَاَطْعِمَتَهُمْ بِالْاَدْوَآءِ
87
اور ان کے کھانوں میں امراض (کے جراثیم) کی آمیزش کر دے
87
وَارْمِ بِلَادَهُمْ بِالْخُسُوْفِ
88
ان کے شہروں کو زمین میں دھنسا دے
88
وَاَلِحَّ عَلَیْهَا بِالْقُذُوْفِ
89
انہیں ہمیشہ پتھروں کا نشانہ بنا
89
وَافْرَعْهَا بِالْمُحُوْلِ
90
اور قحط سالی ان پر مسلط کر دے
90
وَاجْعَلْ مِیَرَهُمْ فِیْۤ اَحَصِّ اَرْضِكَ وَاَبْعَدِهَا عَنْهُمْ
91
ان کی روزی ایسی سر زمین میں قرار دے جو بنجر اور ان سے کوسوں دور ہو
91
وَامْنَعْ حُصُوْنَهَا مِنْهُمْ
92
زمین کے محفوظ قلعے ان کیلئے بند کر دے
92
اَصِبْهُمْ بِالْجُوْعِ الْمُقِیْمِ وَالسُّقْمِ الْاَلِیْمِ۔
93
اور انہیں ہمیشہ کی بھوک اور تکلیف دہ بیماریوں میں مبتلا رکھ۔
93
اَللّٰهُمَّ وَاَیُّمَا غَازٍ غَزَاهُمْ مِنْ اَهْلِ مِلَّتِكَ
94
بار الٰہا! تیرے دین و ملت والوں میں سے جو غازی ان سے آمادۂ جنگ ہو
94
اَوْ مُجَاهِدٍ جَاهَدَهُمْ مِنْ اَتْبَاعِ سُنَّتِكَ
95
یا تیرے طریقہ کی پیروی کرنے والوں میں سے جو مجاہد قصد جہاد کرے
95
لِیَكُوْنَ دِیْنُكَ الْاَعْلٰى
96
اس غرض سے کہ تیرا دین بلند
96
وَحِزْبُكَ الْاَقْوٰى، وَحَظُّكَ الْاَوْفٰی
97
تیرا گروہ قوی اور تیرا حصہ و نصیب کامل تر ہو
97
فَلَقِّهِ الْیُسْرَ
98
تو اس کیلئے آسانیاں پیدا کر
98
وَهَیِّئْ لَهُ الْاَمْرَ
99
تکمیل کار کے سامان فراہم کر
99
وَتَوَلَّهٗ بِالنُّجْحِ
100
اس کامیابی کا ذمہ لے
100
وَتَخَیَّرْ لَهُ الْاَصْحَابَ
101
اس کیلئے بہترین ہمراہی انتخاب فرما
101
وَاسْتَقْوِ لَهُ الظَّهْرَ
102
قوی و مضبوط سواری کا بندوبست کر
102
وَاَسْبِـغْ عَلَیْهِ فِی النَّفَقَةِ
103
ضروریات پورا کرنے کیلئے وسعت و فراخی دے
103
وَمَتِّعْهُ بِالنَّشَاطِ
104
دل جمعی و نشاط خاطر سے بہرہ مند فرما
104
وَاَطْفِ عَنْهُ حَرَارَةَ الشَّوْقِ
105
اس کے اشتیاق (وطن) کا ولولہ ٹھنڈا کر دے
105
وَاَجِرْهُ مِنْ غَمِّ الْوَحْشَةِ
106
تنہائی کے غم کا اسے احساس نہ ہونے دے
106
وَاَنْسِهٖ ذِكْرَ الْاَهْلِ وَالْوَلَدِ
107
زن و فرزند کی یاد اسے بھلا دے
107
وَاْثُرْ لَهٗ حُسْنَ النِّیَّةِ
108
قصد خیر کی طرف رہنمائی فرما
108
وَتَوَلَّهٗ بِالْعَافِیَةِ
109
اس کی عافیت کا ذمہ لے
109
وَاَصْحِبْهُ السَّلَامَةَ
110
سلامتی کو اس کا ساتھی قرار دے
110
وَاَعْفِهٖ مِنَ الْجُبْنِ
111
بزدلی کو اس کے پاس نہ پھٹکنے دے
111
وَاَلْهِمْهُ الْجُرْاَةَ
112
اس کے دِل میں جرأت پیدا کر
112
وَارْزُقْهُ الشِّدَّةَ
113
زور و قوت اسے عطا فرما
113
وَاَیِّدْهُ بِالنُّصْرَةِ
114
اپنی مدد گاری سے اسے توانائی بخش
114
وَعَلِّمْهُ السِّیَرَ وَالسُّنَنَ
115
راہ و روش (جہاد) کی تعلیم دے
115
وَسَدِّدْهُ فِی الْحُكْمِ
116
اور حکم میں صحیح طریق کار کی ہدایت فرما
116
وَاعْزِلْ عَنْهُ الرِّیَآءَ
117
ریا و نمود کو اس سے دور رکھ
117
وَخَلِّصْهُ مِنَ السُّمْعَةِ
118
ہوسِ شہرت کا کوئی شائبہ اس میں نہ رہنے دے
118
وَاجْعَلْ فِكْرَهٗ وَذِكْرَهٗ
119
قرار دے اس کے ذکر و فکر کو
119
وَظَعْنَهٗ وَاِقَامَتَهٗ فِیْكَ وَلَكَ۔
120
اور سفر و قیام کو اپنی راہ میں اور اپنے لیے۔
120
فَاِذَا صَافَّ عَدُوَّكَ وَعَدُوَّهٗ
121
اور جب وہ تیرے دشمنوں اور اپنے دشمنوں سے مدّ مقابل ہو
121
فَقَلِّلْهُمْ فِیْ عَیْنِهٖ
122
تو اس کی نظروں میں ان کی تعداد تھوڑی کر کے دکھا
122
وَصَغِّرْ شَاْنَهُمْ فِیْ قَلْبِهٖ
123
اس کے دل میں ان کے مقام و منزلت کو پست کر دے
123
وَاَدِلْ لَهٗ مِنْهُمْ
124
اسے ان پر غلبہ دے
124
وَلَا تُدِلْهُمْ مِنْهُ
125
اور ان کو اس پر غالب نہ ہونے دے
125
فَاِنْ خَتَمْتَ لَهٗ بِالسَّعَادَةِ
126
اگر تو نے اس مرد مجاہد کے خاتمہ بالخیر کا
126
وَقَضَیْتَ لَهٗ بِالشَّهَادَةِ
127
اور شہادت کا فیصلہ کر دیا ہے
127
فَبَعْدَ اَنْ یَّجْتَاحَ عَدُوَّكَ بِالْقَتْلِ
128
تو یہ شہادت اس وقت واقع ہو جب وہ تیرے دشمنوں کو قتل کر کے کیفر کردار تک پہنچا دے
128
وَبَعْدَ اَنْ یَّجْهَدَ بِهِمُ الْاَسْرُ
129
یا اسیری انہیں بے حال کر دے
129
وَبَعْدَ اَنْ تَاْمَنَ اَطْرَافُ الْمُسْلِمِیْنَ
130
اور مسلمانوں کے اطراف مملکت میں امن برقرار ہو جائے
130
وَبَعْدَ اَنْ یُّوَلِّیَ عَدُوُّكَ مُدْبِرِیْنَ۔
131
اور دشمن پیٹھ پھرا کر چل دے۔
131
اَللّٰهُمَّ وَاَیُّمَا مُسْلِمٍ خَلَفَ غَازِیًاۤ اَوْ مُرَابِطًا فِیْ دَارِهٖ
132
بار الٰہا! وہ مسلمان جو کسی مجاہد یا نگہبان سرحد کے گھر کا نگران ہو
132
اَوْ تَعَهَّدَ خَالِفِیْهِ فِیْ غَیْبَتِهٖ
133
یا اس کے اہل و عیال کی خبر گیری کرے
133
اَوْ اَعَانَهٗ بِطَآئِفَةٍ مِّنْ مَّالِهٖ
134
یا تھوڑی بہت مالی اعانت کرے
134
اَوْ اَمَدَّهٗ بِعِتَادٍ
135
یا آلات جنگ سے مدد دے
135
اَوْ شَحَذَهٗ عَلٰى جِهَادٍ
136
یا جہاد پر ابھارے
136
اَوْ اَتْبَعَهٗ فِیْ وَجْهِهٖ دَعْوَةً
137
یا اس کے مقصد کے سلسلہ میں دعائے خیر کرے
137
اَوْ رَعٰی لَهٗ مِنْ وَّرَآئِهٖ حُرْمَةً
138
یا اس کے پس پشت اس کی عزت و ناموس کا خیال رکھے
138
فَاٰجِرْ لَهٗ مِثْلَ اَجْرِهٖ وَزْنًا بِوَزْنٍ وَّمِثْلًا بِمِثْلٍ
139
تو اسے بھی اس کے اجر کے برابر بے کم و کاست اجر [عطا کر]
139
وَعَوِّضْهُ مِنْ فِعْلِهٖ عِوَضًا حَاضِرًا
140
اور اس کے عمل کا ہاتھوں ہاتھ بدلہ دے
140
یَّتَعَجَّلُ بِهٖ نَفْعَ مَا قَدَّمَ
141
جس سے وہ فوری طور سے حاصل کر لے اپنے پیش کئے ہوئے عمل کا نفع
141
وَسُرُوْرَ مَاۤ اَتٰى بِهٖ
142
اور دنیا میں اپنے بجا لائے ہوئے کام کی مسرت حاصل کر لے
142
اِلٰۤى اَنْ یَّنْتَهِیَ بِهِ الْوَقْتُ
143
یہاں تک کہ زندگی کی ساعتیں اسے پہنچا دیں
143
اِلٰى مَاۤ اَجْرَیْتَ لَهٗ مِنْ فَضْلِكَ
144
تیرے فضل و احسان کی اس نعمت تک جو تو نے اس کیلئے جاری کی ہے
144
وَاَعْدَدْتَّ لَهٗ مِنْ كَرَامَتِكَ۔
145
اور اس عزت و کرامت تک جو تو نے اس کیلئے مہیا کی ہے۔
145
اَللّٰهُمَّ وَاَیُّمَا مُسْلِمٍ اَهَمَّهٗ اَمْرُ الْاِسْلَامِ
146
پروردگار! جس مسلمان کو اسلام کی فکر پریشان
146
وَاَحْزَنَهٗ تَحَزُّبُ اَهْلِ الشِّرْكِ عَلَیْهِمْ
147
اور مسلمانوں کے خلاف مشرکوں کی جتھہ بندی غمگین کرے
147
فَنَوٰى غَزْوًا اَوْ هَمَّ بِجِهَادٍ
148
اس حد تک کہ وہ جنگ کی نیت اور جہاد کا ارادہ کرے
148
فَقَعَدَ بِهٖ ضَعْفٌ
149
مگر کمزوری اسے بٹھا دے
149
اَوْ اَبْطَاَتْ بِهٖ فَاقَةٌ
150
یا بے سروسامانی اسے قدم نہ اٹھانے دے
150
اَوْ اَخَّرَهٗ عَنْهُ حَادِثٌ
151
یا کوئی حادثہ اس مقصد سے تاخیر میں ڈال دے
151
اَوْ عَرَضَ لَهٗ دُوْنَ اِرَادَتِهٖ مَانِعٌ
152
یا کوئی مانع اس کے ارادہ میں حائل ہو جائے
152
فَاكْتُبِ اسْمَهٗ فِی الْعَابِدِیْنَ
153
تو اس کا نام عبادت گزاروں میں لکھ
153
وَاَوْجِبْ لَهٗ ثَوَابَ الْمُجَاهِدِیْنَ
154
اور اسے مجاہدوں کا ثواب عطا کر
154
وَاجْعَلْهُ فِیْ نِظَامِ الشُّهَدَآءِ وَالصَّالِحِیْنَ۔
155
اور اسے شہیدوں اور نیکوکاروں کے زمرہ میں شمار فرما۔
155
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَرَسُوْلِكَ وَاٰلِ مُحَمَّدٍ
156
اے اللہ! رحمت نازل فرما محمدؐ پر جو تیرے عبد خاص اور رسول ہیں اور ان کی اولاد علیہم السلام پر
156
صَلَاةً عَالِیَةً عَلٰى الصَّلَوَاتِ
157
ایسی رحمت جو شرف و رتبہ میں تمام رحمتوں سے بلند تر
157
مُشْرِفَةً فَوْقَ التَّحِیَّاتِ
158
اور تمام درودوں سے بالاتر ہو
158
صَلَاةً لَّا یَنْتَهِیْۤ اَمَدُهَا
159
ایسی رحمت جس کی مدت اختتام پذیر نہ ہو
159
وَلَا یَنْقَطِعُ عَدَدُهَا
160
جس کی گنتی کا سلسلہ کہیں قطع نہ ہو
160
كَاَتَمِّ مَا مَضٰى مِنْ صَلَوَاتِكَ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْ اَوْلِیَآئِكَ
161
ایسی کامل و اکمل رحمت جو تیرے دوستوں میں سے کسی ایک پر نازل ہوئی ہو
161
اِنَّكَ الْمَنَّانُ الْحَمِیْدُ
162
اس لیے کہ تو عطا و بخشش کرنے والا، ہر حال میں قابل ستائش
162
الْمُبْدِئُ الْمُعِیْدُ
163
پہلی دفعہ پیدا کرنے والا اور دوبارہ زندہ کرنے والا
163
الْفَعَّالُ لِمَا تُرِیْدُ۔
164
اور جو چاہے وہ کرنے والا ہے۔
164

یہ دعا کسی خاص گروہ یا کسی خاص جماعت سے مخصوص نہیں ہے، بلکہ جو بھی اسلامی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ انجام دینے کیلئے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں ان سب کو شامل ہے۔ خواہ وہ انہی سرحدوں کے رہنے والے ہوں یا وہاں اس مقصد سے قیام کریں تاکہ مشرکین و کفار اگر مسلمانوں کے جان و مال و ناموس پر حملہ آور ہوں تو بروقت ان کی روک تھام کر سکیں اور ان کی چیرہ دستیوں سے اسلامی مملکت کو بچا سکیں۔ اور اسلام میں جہاد کا مفہوم یہی ہے کہ جو لوگ صلح و آشتی کے اصولوں کو توڑ کر اسلام کی بربادی اور مسلمانوں کی بیخ کنی پر آمادہ ہوں ان کی سرکوبی کی جائے۔ یہ مقصد نہیں ہے کہ اختلاف مذہب کی بنا پر امن پسند و صلح جو افراد کے خلاف اعلان جنگ کر دیا جائے اور اسلام کی آڑ لے کر تاخت و تاراج کو جائز سمجھ لیا جائے۔ اسلام کے متعلق ایسا تصور کرنا بھی اس کی تقدیس پر حرف رکھتا ہے، جبکہ وہ ناگزیر صورتِ دفاع اور حفاظت خود اختیاری کے علاوہ جنگ کی اجازت نہیں دیتا۔ چنانچہ حضرت امام رضا علیہ السلام کا ارشاد ہے:

وَاِنْ خَافَ عَلٰى بَيْضَةِ الْاِسْلَامِ وَالْمُسْلِمِيْنَ قَاتَلَ فَيَكُوْنُ قِتَالُهٗ لِنَفْسِهٖ وَلَيْسَ لِلسُّلْطَانِ۔ قَالَ قُلْتُ فَاِنْ جَآءَ الْعَدُوُّ اِلَى الْمَوْضِعِ الَّذِیْ هُوَ فِيْهِ مُرَابِطٌ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ قَالَ يُقَاتِلُ عَنْ بَيْضَةِ الْاِسْلَامِ لَا عَنْ هٰٓؤُلَآءِ، لِاَنَّ فِیْ دُرُوْسِ الْاِسْلَامِ دُرُوْسَ دِيْنِ مُحَمَّدٍﷺ۔

اگر اسلام اور اہل اسلام کے متعلق خطرہ ہو تو قتال کرے۔ یہ قتال در حقیقت حفاظت خود اختیاری کیلئے ہو گا نہ کسی فرمانروا کیلئے۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے عرض کیا کہ اگر دشمن وہاں تک آگے بڑھ جائے جہاں یہ حفاظت کیلئے مقیم ہے تو کیا کرے؟ فرمایا کہ اسلام کی حفاظت کیلئے جنگ کرے نہ حکمرانوں کی طرف سے۔ یہ اس لیے کہ اگر اسلام مٹے گا تو دین محمدیؐ کے حقیقی نقوش بھی مٹ جائیں گے۔ ۱

اسی جذبۂ بقائے اسلام کے پیش نظر حضرتؑ نے اسلامی سرحدوں کی نگہداشت کرنے والوں کے حق میں دعا فرمائی ہے تا کہ حقیقی اسلام کی حفاظت، عمومی اسلام کی حفاظت کے پردہ میں ہوتی رہے اور یہی اس دعا کا مقصودِ اصلی ہے۔ ان مخافظوں اور نگہبانوں کے حق میں صدق نیت، خلوص عمل اور ثباتِ قدم کی دعا کے ساتھ ان کفار و مشرکین کیلئے بددعا بھی کرتے ہیں جو اسلامی علاقوں پر حملہ آور ہو کر مسلمانوں کو قتل و غارت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس میں ایک جملہ یہ ہے کہ ”ان کے پانی میں وبا کی اور ان کے کھانوں میں امراض کی آمیزش کر دے“۔ جس وقت تک مائیکروب دریافت نہ ہوئے تھے اس جملہ کے معنی پورے طور سے نہ سمجھے جا سکتے تھے اور نہ سمجھائے جا سکتے تھے۔ مگر جراثیم کے علم و مشاہدہ میں آنے کے بعد جہاں اس جملہ کے معنی منکشف ہوئے ہیں وہاں اس کی اہمیت اور قدر و قیمت کا بھی اندازہ ہوا ہے۔ چنانچہ اب اس نظریہ میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ خراب اور کچی خوراک اور پانی میں ایسے جراثیم کی آلودگی پائی جاتی ہے جو مہلک اور وبائی امراض کی تولید کرتے ہیں۔ ان جراثیم کی اہمیت کو سب سے پہلے لیون ہاک نے سمجھا اور اس کے بعد ۱۸۸۱ ؁ء میں میں فرانسیسی ڈاکٹر لوئی پاسچر (Louis Pasteur) نے اسے ثابت کر دیا اور ۱۸۸۳؁ء میں جرمن ڈاکٹر کاخ نے ہیضہ کے جراثیم دریافت کئے۔ اور پھر مختلف امراض کے مختلف جراثیم دریافت ہوتے رہے۔ چنانچہ ہیضہ، تپ دق، نمونیا، تپ محرقہ، ملیریا وغیرہ کے جراثیم ہی ہوتے ہیں جو کھانے اور پانی اور دوسرے ذرائع سے ایک سے دوسرے کی طرف منتقل ہوتے ہیں اور خون کے سفید ذرّوں کو مغلوب کر کے اپنا اثر پھیلانا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ ایک مربع انچ میں چالیس کروڑ تک سما سکتے ہیں۔ اور آنکھ سے انہیں دیکھا نہیں جا سکتا بلکہ اعلیٰ درجہ کی الیکٹرک خوردبین ہی سے دیکھے جا سکتے ہیں۔ کیا یہ ایک حیرت انگیز چیز نہیں کہ جب جراثیم کا تصور بھی پیدا نہ ہوا تھا اور نہ خوردبین ہی ایجاد ہوئی تھی ،اس لیے کہ خوردبین تو ۱۶۰۸ ؁ء میں ایجاد ہوئی، اس وقت یہ آواز بلند ہوتی ہے کہ وہ پانی جو حیات کا سرچشمہ ہے وبا کا پیش خیمہ اور وہ غذا جس سے انسانی زندگی وابستہ ہے امراض کی تولید کا سبب بن جایا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ پیغمبر اکرمؐ اور امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے بھی ایسے کلمات منقول ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس انتہائی چھوٹی مخلوق سے نا آشنا نہ تھے۔ چنانچہ آنحضرتؐ کا ارشاد ہے: فِرَّ مِنَ الْمَجْذُوْمِ فِرَارَكَ مِنَ الْاَسَدِ۔ جذامی سے اس طرح دور رہو جس طرح شیر سے دور رہا جاتا ہے ۲۔ عصری تحقیق نے بتایا ہے کہ جذامی کے اندر جو مائیکروب پائے جاتے ہیں ان کی شکل و صورت ہو بہو شیر کی سی ہوتی ہے جو آس پاس بیٹھنے والوں کو متاثر کرتے ہیں۔ اور امیرالمومنین علیہ السلام کا ارشاد ہے کہ: لَا يَبُوْلَنَّ اَحَدُكُمْ فِی الْمَآءِ لِاَنَّ لِلْمَآءِ اَهْلًا۔ تم میں سے کوئی شخص پانی میں پیشاب نہ کرے، اس لیے کہ پانی کے اندر بھی ایک مخلوق آباد ہے۔۳

الکافی، ج ۵ ص ۲۱

من لا یحضرہ الفقیہ، ج ۳ ص ۵۵۷

شرح مقامات الحریری، ج ۱ ص ۳۹۰