(۳) وَكَانَ مِنْ دُعَآئِهٖ عَلَیْهِ السَّلَامُ فِی الصَّلٰوةِ عَلٰى حَمَلَةِ الْعَرْشِ وَ كُلِّ مَلَكٍ مُّقَرَّبٍ۔ دُعا (۳) حاملان عرش اور دوسرے مقرب فرشتوں پر درود و صلوٰۃ کے سلسلہ میں آپؑ کی دُعا:
اس دُعا میں امام علیہ السلام نے فرشتوں اور ملاء اعلیٰ کے رہنے والوں پر درود و صلوٰۃ کے سلسلہ میں ان کے اوصاف و اقسام اور مدارج و طبقات کا ذکر فرمایا ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ ملائکہ کے بارے میں وہی کچھ کہہ سکتا ہے جس کی نگاہیں عالم ملکوت کی منزلوں سے آشنا ہوں۔ چنانچہ اس سلسلہ میں سب سے پہلے جس نے تفصیل سے روشنی ڈالی وہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ الصلوٰۃ و السلام ہیں اور اس کیلئے آپؑ کے خطبات شاہد ہیں جن میں ملائکہ کے صُور و اشکال، صفات و خصوصیات اور اللہ سے اُن کی والہانہ محبت و شیفتگی اور ان کی عبادت و وارفتگی کی مکمل تصویر کشی کی ہے۔ جس کی نظیر نہ اگلوں کے کلام میں ملتی ہے نہ پچھلوں کے۔ اسلام سے قبل اگرچہ کچھ افرادایسے موجود تھے جو حقائق و معارف سے وابستگی رکھتے تھے، جیسے عبد اللہ ابن سلام، اُمیّہ ابن ابی الصلت، ورقہ ابن نوفل، قلس ابن ساعدہ، اکثم ابن صیفی وغیرہ، مگر اس سلسلہ میں وہ زبان و قلم کو حرکت نہ دے سکے اور اگر کچھ کہتے بھی تو وہ طرزِ بیان اور کلام پر اقتدار انہیں کہاں نصیب تھا جو پروردۂ آغوشِ نبوت امیر المومنین علیہ السلام کو حاصل تھا۔ اور دوسرے ادباء و شعرائے عرب تھے تو ان کا موضوعِ کلام عموماً گھوڑا، نیل گائے، اُونٹ وغیرہ ہوتا تھا یا حرب و پیکار کے خونی ہنگاموں اور خودستائی و تفاخر کے تذکروں پر مشتمل ہوتا تھا، یا اس میں باد و باراں کے مناظر، عشق و محبت کے واردات اور کھنڈروں اور ویرانوں کے نشانات کا ذکر ہوتا تھا اور مادیات سے بلند تر چیزوں تک ان کے ذہنوں کی رسائی ہی نہ تھی کہ ان کے متعلق وُہ کچھ کہہ سکتے۔ اگرچہ وہ فرشتوں کے وجود کے قائل تھے مگر انہیں خُدا کی چہیتی اور لاڈلی بیٹیاں تصور کیا کرتے تھے۔ چنانچہ قرآن مجید میں اُن کے غلط عقیدہ کا تذکرہ اس طرح ہے: فَاسْتَفْتِہِمْ اَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَلَہُمُ الْبَنُوْنَ اَمْ خَلَقْنَا الْمَلٰۗىِٕكَۃَ اِنَاثًا وَّہُمْ شٰہِدُوْنَ
اے رسولؐ! ان سے پوچھو کہ کیا تمہارے پروردگار کی بیٹیاں ہیں اور ان کے بیٹے ہیں۔ کیا ہم نے فرشتوں کو طبقۂ اناث سے پیدا کیا تو وہ دیکھ رہے تھے؟
امیر المومنین علیہ السلام کے بعد حضرت علی ابن الحسین علیہ السلام نے ملائکہ کے اصناف، ان کے درجات و مراتب کے تفاوت اور ان کے فرائض و مظاہرۂ عبودیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔
مذاہبِ عالم میں فرشتوں کے متعلق مختلف نظریے پائے جاتے ہیں۔ کچھ تو انہیں نور کا مظہر قرار دیتے ہیں، اور کچھ سعد ستاروں کو ملائکۂ رحمت اور نحس ستاروں کو ملائکۂ عذاب تصور کرتے ہیں، اور کچھ کا خیال ہے کہ وہ عقولِ مجردہ و نفوس فلکیہ ہیں، اور کچھ کا مزعومہ یہ ہے کہ وہ طبائع و قویٰ ہیں یا دفع و جذب کی قوتیں ہیں۔ اور پھر جو انہیں کسی مستقل حیثیت سے مانتے ہیں ان میں بھی اختلافات ہیں کہ آیا وہ روحانی محض ہیں یا جسمانی محض یا جسم و روح سے مرکب ہیں۔ اور اگر جسمانی ہیں تو جسم لطیف رکھتے ہیں یا جسم غیر لطیف۔ اور لطیف ہیں تو از قبیل نور ہیں یا از قبیل ہوا، یا اُن میں سے بعض از قبیل نور ہیں اور بعض از قبیل ہوا۔ بہر حال ان کی حقیقت کچھ بھی ہو ہمیں یہ عقیدہ رکھنا لازم ہے کہ وہ اللہ کی ایک ذی عقل مخلوق ہیں جو گناہوں سے بری اور انبیاء و رسل علیہم السلام کی جانب الٰہی احکام کے پہنچانے پر مامور ہیں۔ چنانچہ ان پر ایمان لانے کے سلسلہ میں قدرت کا ارشاد ہے: اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْہِ مِنْ رَّبِّہٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ، كُلٌّ اٰمَنَ بِاللہِ وَمَلٰۗىِٕكَتِہٖ وَكُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ
(ہمارے) پیغمبرؐ جو کچھ ان پر ان کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اس پر ایمان لائے اور مومنین بھی سب کے سب خدا پر اور اس کے فرشتوں پر (اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر) ایمان لائے۔
حضرت علیہ السلام نے اس دعا میں دس فرشتوں کو نام کے ساتھ یاد کیا ہے جو یہ ہیں: جبرئیلؑ، میکائیلؑ، اسرافیلؑ، ملک الموت (عزرائیلؑ)، رُوح (القدس)، منکرؑ، نکیرؑ، رومانؑ، رضوانؑ، مالکؑ۔
ان میں پہلے چار فرشتے جن کے نام کا آخری جُز ”ایل“ ہے جس کے معنی عبرانی یا سریانی زبان میں ”اللہ“ کے ہوتے ہیں، سب ملائکہ سے افضل و برتر ہیں۔ اور میکائیل علیہ السلام کے متعلق یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ”کیل“ سے مشتق ہے جس کے معنی ناپنے کے ہوتے ہیں اور یہ چونکہ پانی کی پیمائش پر معین ہیں، اس لئے انہیں ”میکائیل“ کہا جاتا ہے۔ اس صورت میں اُن کے نام کا آخری جُز ”ایل“ بمعنی ”اللہ“ نہیں ہو گا۔
اور ”روح“ کے متعلق مختلف روایات ہیں۔ بعض روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک فرشتہ کا نام ہے جو تمام فرشتوں سے زیادہ قدر و منزلت کا مالک ہے اور بعض روایات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ جبرئیلؑ ہی کا دوسرا نام ”رُوح“ ہے اور بعض روایات میں یہ ہے کہ ”رُوح“ ایک نوع ہے جس کا کثیر التعداد ملائکہ پر اطلاق ہوتا ہے۔
اور”منکر“، ”نکیر“ اور ”رومان“ قبر کے سوال و جواب سے تعلق رکھتے ہیں۔ چنانچہ رومان، منکر و نکیر سے پہلے قبر میں آتا ہے اور ہر آدمی کو جانچتا ہے اور پھر منکر و نکیر کو اس کی اچھائی یا برائی سے آگاہ کرتا ہے۔
اور ”رضوان“، جنت کے پاسبانوں کا رأس و رئیس اور مالک جہنم کے دربانوں کا سرخیل ہے جن کی تعداد انیس ہے۔ چنانچہ قدرت کا ارشاد ہے: عَلَيْہَا تِسْعَۃَ عَشَرَ جہنّم پر اُنیس فرشتے مقرر ہیں۔
ان کے علاوہ حسبِ ذیل اصنافِ ملائکہ کا تذکرہ فرمایا ہے:
۱۔ حاملانِ عرش۔
یہ وہ فرشتے ہیں جو عرشِ الٰہی کو اُٹھائے ہوئے ہیں۔ چنانچہ ان کے متعلق ارشادِ الٰہی ہے: اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ
جو فرشتے عرش کو اُٹھائے ہوئے ہیں اور جو اس کے گرد اگرد ہیں اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں۔
۲۔ ملائکۂ حُجب۔
اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو اس عالمِ انوار و تجلیات سے تعلق رکھتے ہیں جس کے گرد سرادقِ جلال و حجابِ عظمت کے پہرے ہیں اور انسانی علم و ادراک سے بالا تر ہیں۔
۳۔ ملائکۂ سمٰوات۔
اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو طبقاتِ آسمانی میں پائے جاتے ہیں۔ چنانچہ قدرت کا ارشاد ہے: وَاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآءَ فَوَجَدْنٰہَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيْدًا
ہم نے آسمانوں کو ٹٹولا تو اُسے قوی نگہبانوں سے بھرا ہوا پایا۔
۴۔ ملائکۂ روحانیین۔
اس سے مراد وہ فرشتے ہیں جو آسمانِ ہفتم میں حظیرۃ القدس کے اندر مقیم ہیں اور شب قدر زمین پر اترتے ہیں۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: تَنَزَّلُ الْمَلٰىِٕكَۃُ وَالرُّوْحُ فِيْہَا بِاِذْنِ رَبِّہِمْ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ
اس رات فرشتے اور رُوح (القدس) ہر بات کا حکم لے کر اپنے پروردگار کی اجازت سے اُترتے ہیں۔
۵۔ ملائکۂ مقرّبین۔
یہ وہ فرشتے ہیں جنہیں بارگاہِ الٰہی میں خاص تقرب حاصل ہے اور انہیں ”کروبیین“ سے بھی یاد کیا جاتا ہے جو ”کرب“ بمعنی قُرب سے ماخوذ ہے۔ ان کے متعلق ارشادِ قدرت ہے: لَنْ يَّسْتَنْكِفَ الْمَسِيْحُ اَنْ يَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلہِ وَلَا الْمَلٰۗىِٕكَۃُ الْمُقَرَّبُوْنَ
مسیح کو اس میں عار نہیں کہ وہ اللہ کا بندہ ہو اور نہ اس کے مقرب فرشتوں کو
۶۔ ملائکۂ رُسُل۔
یہ وہ فرشتے ہیں جو پیغامبری کا کام انجام دینے پر مامور ہیں۔ چنانچہ قدرت کا ارشاد ہے: اَلْحَمْدُ لِلہِ فَاطِرِ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ جَاعِلِ الْمَلٰۗىِٕكَۃِ رُسُلًا
سب تعریف اس اللہ کیلئے جو آسمان و زمین کا بنانے والا اور فرشتوں کو اپنا قاصد بنا کر بھیجنے والا ہے۔
۷۔ ملائکۂ مدبّرات۔
یہ وہ فرشتے ہیں جو عناصر بسیط و اجسامِ مرکبہ جیسے پانی، ہوا، برق، باد و باراں، رعد اور جمادات و نباتات و حیوان پر مقرر ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے: فَالْمُدَبِّرٰتِ اَمْرًا ان فرشتوں کی قسم جو امور عالم کے انتظام میں لگے ہوئے ہیں۔
پھر ارشاد ہے: فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًا جھڑک کر ڈانٹنے والوں کی قسم۔
ابنِ عباس کا قول ہے کہ اس سے وہ فرشتے مراد ہیں جو بادلوں پر مقرر ہیں۔
۸۔ ملائکۂ حفظہ۔
یہ وہ فرشتے ہیں جو افرادِ انسانی کی حفاظت پر مامور ہیں۔ چنانچہ قدرت کا ارشاد ہے: لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنْ بَيْنِ يَدَيْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ يَحْفَظُوْنَہٗ مِنْ اَمْرِ اللہِ
اس کیلئے اس کے آگے اور پیچھے حفاظت کرنے والے فرشتے مقرّر ہیں جو خدا کے حکم سے اس کی حفاظت و نگرانی کرتے ہیں۔
۹۔ ملائکۂ کاتبین۔
وہ فرشتے جو بندوں کے اعمال ضبطِ تحریر میں لاتے ہیں۔ چنانچہ قدرت کا ارشاد ہے: اِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيٰنِ عَنِ الْيَمِيْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيْدٌ مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَـدَيْہِ رَقِيْبٌ عَتِيْدٌ
جب وہ کوئی کام کرتا ہے تو دو لکھنے والے جو اس کے دائیں بائیں ہیں لکھ لیتے ہیں اور وہ کوئی بات نہیں کہتا مگر ایک نگران اس کے پاس تیار رہتا ہے۔
۱۰۔ ملائکۂ موت۔
وُہ فرشتے جو موت کا پیغام لاتے اور رُوح کو قبض کرتے ہیں۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: وَالنّٰزِعٰتِ غَرْقًا وَّالنّٰشِطٰتِ نَشْطًا
ان فرشتوں کی قسم! جو ڈوب کر انتہائی شدّت سے کافروں کی رُوح کھینچ لیتے ہیں، اور اُن کی قسم جو بڑی آسانی سے مومنوں کی رُوح قبض کرتے ہیں۔
۱۱۔ ملائکۂ طائفین۔
وُہ فرشتے جو عرش اور عرش کے نیچے بیت المعمور کا طواف کرتے رہتے ہیں۔ چنانچہ قدرت کا ارشاد ہے: وَتَرَى الْمَلٰىِٕكَۃَ حَافِّيْنَ مِنْ حَوْلِ الْعَرْشِ تم عرش کے گردا گرد فرشتوں کو گھیرا ڈالے ہوئے دیکھو گے۔
۱۲۔ ملائکۂ حشر۔
وہ فرشتے جو میدانِ حشر میں انسانوں کو لائیں گے اور ان کے اعمال و افعال کی گواہی دیں گے۔ چنانچہ قدرت کا ارشاد ہے: وَجَاءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّعَہَا سَاىِٕقٌ وَّشَہِيْدٌ
اور ہر شخص ہمارے پاس آئے گا اور اس کے ساتھ ایک فرشتہ ہنکانے والا اور ایک اعمال کی شہادت دینے والا ہو گا۔
۱۳۔ ملائکۂ جہنّم۔
وہ فرشتے جو دوزخ کی پاسبانی پر مقرر ہیں۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: عَلَيْہَا مَلٰۗىِٕكَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ جہنّم پر وُہ فرشتے مقرّر ہیں جو تُند خُو اور تیز مزاج ہیں۔
۱۴۔ ملائکۂ بہشت۔
وہ فرشتے جو جنت کے دروازوں پر مقرر ہیں۔ چنانچہ قدرت کا ارشاد ہے: حَتّٰٓي اِذَا جَآءُوْہَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُہَا وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا سَلٰمٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْہَا خٰلِدِيْنَ
یہاں تک کہ جب وہ جنّت کے پاس پہنچیں گے اور اس کے دروازے کھول دئیے جائیں گے اور اس کے نگہبان اُن سے کہیں گے سلام علیکم تم خیر و خوبی سے رہے لہٰذا بہشت میں ہمیشہ کیلئے داخل ہو جاؤ۔
یہ وہ اصنافِ ملائکہ ہیں جن کا اس دعا میں تذکرہ ہے اور ان کے علاوہ اور کتنے اقسام و اصناف ہیں تو ان کا احاطہ اللہ کے سوا کون کر سکتا ہے، وَمَا يَعْلَمُ جُنُوْدَ رَبِّكَ اِلَّا ھُو ”تمہارے پروردگار کے لشکروں کو اس کے علاوہ کوئی نہیں جانتا“۔
سورۂ صافات، آیت ۱۴۹ - ۱۵۰
سورۂ بقرہ، آیت ۲۸۵
سورۂ مدثر، آیت ۳۰
سورۂ مومن، (غافر) آیت ۴۰
سورۂ جن، آیت ۸
سورۂ قدر، آیت ۴
سورۂ نساء، آیت ۱۷۲
سورۂ فاطر، آیت ۱
سورۂ نازعات، آیت ۵
سورۂ صافات، آیت ۲
سورۂ رعد، آیت ۱۱
سورۂ ق آیت، ۱۷ - ۱۸
سورۂ نازعات، آیت ۱- ۲
سورۂ زمر، آیت ۷۵
سورۂ ق، آیت ۲۱
سورۂ تحریم، آیت ۶
سورۂ زمر، آیت ۷۳
سورۂ مدثر، آیت ۳۱