(۳۱) وَكَانَ مِنْ دُعَآئِهٖ عَلَیْهِ السَّلَامُ فِیْ ذِكْرِ التَّوْبَةِ وَطَلَبِهَا۔ دعائے توبہ

اَللّٰهُمَّ یَا مَنْ لَّا یَصِفُهٗ نَعْتُ الْوَاصِفِیْنَ
1
اے معبود! اے وہ جس کی توصیف سے وصف کرنے والوں کے توصیفی الفاظ قاصر ہیں
1
وَیَا مَنْ لَّا یُجَاوِزُهٗ رَجَآءُ الرَّاجِیْنَ
2
اے وہ جو امیدواروں کی امیدوں کا مرکز ہے
2
وَیَا مَنْ لَّا یَضِیْعُ لَدَیْهِ اَجْرُ الْمُحْسِنِیْنَ
3
اے وہ جس کے ہاں نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں ہوتا
3
‏وَیَا مَنْ هُوَ مُنْتَهٰى خَوْفِ الْعَابِدِیْنَ
4
اے وہ جو عبادت گزاروں کے خوف کی منزل منتہا ہے
4
وَیَا مَنْ هُوَغَایَةُ خَشْیَةِ الْمُتَّقِیْنَ۔
5
اے وہ جو پرہیزگاروں کے بیم و ہراس کی حد آخر ہے۔
5
هٰذَا مَقَامُ مَنْ تَدَاوَلَـتْهُ اَیْدِی الذُّنُوْبِ
6
یہ اس شخص کا موقف ہے جو گناہوں کے ہاتھوں میں کھیلتا ہے
6
وَقَادَتْهُ اَزِمَّةُ الْخَطَایَا
7
اور خطاؤں کی باگوں نے جسے کھینچ لیا ہے
7
وَاسْتَحْوَذَ عَلَیْهِ الشَّیْطٰنُ
8
اور جس پر شیطان غالب آ گیا ہے
8
فَقَصَّرَ عَمَّاۤ اَمَرْتَ بِهٖ تَفْرِیْطًا
9
اس لیے تیرے حکم سے لاپرواہی کرتے ہوئے اس نے (ادائے فرض) میں کوتاہی کی
9
وَتَعَاطٰى مَا نَهَیْتَ عَنْهُ تَغْرِیْرًا
10
اور فریب خوردگی کی وجہ سے تیرے منہیات کا مرتکب ہوتا ہے
10
كَالْجَاهِلِ بِقُدْرَتِكَ عَلَیْهِ
11
گویا وہ اپنے کو تیرے قبضۂ قدرت میں سمجھتا ہی نہیں ہے
11
اَوْ كَالْمُنْكِرِ فَضْلَ اِحْسَانِكَ اِلَیْهِ۔
12
اور تیرے فضل و احسان کو جو تو نے اس پر کئے ہیں مانتا ہی نہیں ہے۔
12
حَتّٰۤى اِذَا انْفَتَحَ لَهٗ بَصَرُ الْهُدٰى
13
مگر جب اس کی چشم بصیرت وا ہوئی
13
وَتَقَشَّعَتْ عَنْهُ سَحَآئِبُ الْعَمٰى
14
اور اس کوری و بے بصری کے بادل اس کے سامنے سے چھٹے
14
اَحْصٰى مَا ظَلَمَ بِهٖ نَفْسَهٗ
15
تو اس نے اپنے نفس پر کئے ہوئے ظلموں کا جائزہ لیا
15
وَفَكَّرَ فِیْمَا خَالَفَ بِهٖ رَبَّهٗ
16
اور جن جن موارد پر اپنے پروردگار کی مخالفتیں کی تھیں ان پر نظر دوڑائی
16
فَرَاٰى كَبِیْرَ عِصْیَانِهٖ كَبِیْرًا
17
تو اپنے بڑے گناہوں کو (واقعاً) بڑا پایا
17
وَجَلِیْلَ مُخَالَفَتِهٖ جَلِیْلًا
18
اور اپنی عظیم مخالفتوں کو (حقیقتاً) عظیم پایا
18
فَاَقْبَلَ نَحْوَكَ مُؤَمِّلًا لَّكَ مُسْتَحْیِیًا مِّنْكَ
19
تو وہ اس حالت میں تیری جانب متوجہ ہوا کہ تجھ سے امیدوار بھی ہے اور شرمسار بھی
19
وَوَجَّهَ رَغْبَتَهٗۤ اِلَیْكَ ثِقَةً بِكَ
20
اور تجھ پر اعتماد کرتے ہوئے تیری طرف راغب ہوا
20
فَاَمَّكَ بِطَمَعِهٖ یَقِیْنًا
21
اور یقین و اطمینان کے ساتھ اپنی خواہش و آرزو کو لے کر تیرا قصد کیا
21
وَقَصَدَكَ بِخَوْفِهٖۤ اِخْلَاصًا
22
اور (دل میں) تیرا خوف لیے ہوئے خلوص کے ساتھ تیری بارگاہ کا ارادہ کیا
22
قَدْ خَلَا طَمَعُهٗ مِنْ كُلِّ مَطْمُوْعٍ فِیْهِ غَیْرِكَ
23
اس حالت میں کہ تیرے علاوہ اسے کسی سے غرض نہ تھی
23
وَاَفْرَخَ رَوْعُهٗ مِنْ كُلِّ مَحْذُوْرٍ مِّنْهُ سِوَاكَ۔
24
اور تیرے سوا اسے کسی کا خوف نہ تھا۔
24
فَمَثَلَ بَیْنَ یَدَیْكَ مُتَضَرِّعًا
25
چنانچہ وہ عاجزانہ صورت میں تیرے سامنے آکھڑا ہوا
25
وَغَمَّضَ بَصَرَهٗۤ اِلَى الْاَرْضِ مُتَخَشِّعًا
26
اور فروتنی سے اپنی آنکھیں زمین میں گاڑ لیں
26
وَطَاْطَاَ رَاْسَهٗ لِعِزَّتِكَ مُتَذَلِّلًا
27
اور تذلل و انکسار سے تیری عظمت کے آگے سر جھکا لیا
27
وَاَبَثَّكَ مِنْ سِرِّهٖ مَاۤ اَنْتَ اَعْلَمُ بِهٖ مِنْهُ خُضُوْعًا
28
اور عجز و نیاز مندی سے اپنے راز ہائے درون پردہ جنہیں تو اس سے بہتر جانتا ہے تیرے آگے کھول دیئے
28
وَعَدَّدَ مِنْ ذُنُوْبِهٖ مَاۤ اَنْتَ اَحْصٰى لَهَا خُشُوْعًا
29
اور عاجزی سے اپنے وہ گناہ جن کا تو اس سے زیادہ حساب رکھتا ہے ایک ایک کر کے شمار کئے
29
وَاسْتَغَاثَ بِكَ مِنْ عَظِیْمِ مَا وَقَعَ بِهٖ فِیْ عِلْمِكَ
30
اور داد و فریاد کرتا ہے ان بڑے گناہوں سے جو تیرے علم میں اس کیلئے مہلک ہیں
30
وَقَبِیْحِ مَا فَضَحَهٗ فِیْ حُكْمِكَ
31
اور ان بداعمالیوں سے جو تیرے فیصلہ کے مطابق اس کیلئے رسوا کُن ہیں
31
مِنْ ذُنُوْبٍ اَدْبَرَتْ لَذَّاتُهَا فَذَهَبَتْ
32
وہ گناہ کہ جن کی لذت جاتی رہی ہے
32
وَاَقَامَتْ تَبِعَاتُهَا فَلَزِمَتْ۔
33
اور ان کا وبال ہمیشہ کیلئے باقی رہ گیا ہے۔
33
لَا یُنْكِرُ یَاۤ اِلٰهِیْ عَدْلَكَ اِنْ عَاقَبْتَهٗ
34
اے میرے معبود! اگر تو اس پر عذاب کرے تو وہ تیرے عدل کا منکر نہیں ہو گا
34
وَلَا یَسْتَعْظِمُ عَفْوَكَ اِنْ عَفَوْتَ عَنْهُ وَرَحِمْتَهٗ
35
اور اگر اس سے درگزر کرے اور ترس کھائے تو وہ تیرے عفو کو کوئی عجیب اور بڑی بات نہیں سمجھے گا۔
35
لِاَنَّكَ الرَّبُّ الْكَرِیْمُ
36
اس لیے کہ تو وہ پروردگار کریم ہے
36
الَّذِیْ لَا یَتَعَاظَمُهٗ غُفْرَانُ الذَّنبِ الْعَظِیْمِ۔
37
جس کے نزدیک بڑے سے بڑے گناہ کو بھی بخش دینا کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
37
اَللّٰهُمَّ فَهَاۤ اَنَا ذَا قَدْ جِئْتُكَ
38
اچھا تو اے میرے معبود! میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں
38
مُطِیْعًا لِّاَمْرِكَ فِیْمَاۤ اَمَرْتَ بِهٖ مِنَ الدُّعَآءِ
39
تیرے حکمِ دعا کی اطاعت کرتے ہوئے
39
مُتَنَجِّزًا وَعْدَكَ فِیْمَا وَعَدْتَّ بِهٖ مِنَ الْاِجَابَةِ
40
اور تیرے وعدہ کا ایفا چاہتے ہوئے جو قبولیت دعا کے متعلق تو نے کیا ہے
40
اِذْ تَقُوْلُ: ﴿ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾۔
41
اپنے اس ارشاد میں: ”مجھ سے دعا مانگو تو میں تمہاری دعا قبول کروں گا“۔
41
اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
42
خداوندا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
42
وَالْقَنِیْ بِمَغْفِرَتِكَ كَمَا لَقِیْتُكَ بِاِقْرَارِیْ
43
اور اپنی مغفرت میرے شامل حال کر جس طرح میں (اپنے گناہوں کا) اقرار کرتے ہوئے تیری طرف متوجہ ہوا ہوں
43
وَارْفَعْنِیْ عَنْ مَّصَارِعِ الذُّنُوْبِ
44
اور ان مقامات سے جہاں گناہوں سے مغلوب ہونا پڑتا ہے مجھے (سہارا دے کر) اوپر اٹھا لے
44
كَمَا وَضَعْتُ لَكَ نَفْسِیْ
45
جس طرح میں نے اپنے نفس کو تیرے آگے (خاک مذلت پر) ڈال دیا ہے
45
وَاسْتُرْنِیْ بِسِتْرِكَ
46
اور اپنے دامن رحمت سے میری پردہ پوشی فرما
46
كَمَا تَاَنَّیْتَنِیْ عَنِ الْاِنْتِقَامِ مِنِّیْ۔
47
جس طرح مجھ سے انتقام لینے میں صبر و حلم سے کام لیا ہے۔
47
اَللّٰهُمَّ وَثَبِّتْ فِیْ طَاعَتِكَ نِیَّتِیْ
48
اے اللہ! اپنی اطاعت میں میری نیت کو استوار
48
وَاَحْكِمْ فِیْ عِبَادَتِكَ بَصِیْرَتِیْ
49
اور اپنی عبادت میں میری بصیرت کو قوی کر
49
وَوَفِّقْنِیْ مِنَ الْاَعْمَالِ
50
اور مجھے ان اعمال کے بجالانے کی توفیق دے
50
لِمَا تَغْسِلُ بِهٖ دَنَسَ الْخَطَایَا عَنِّیْ
51
جن کے ذریعہ تو میرے گناہوں کے میل کو دھو ڈالے
51
وَتَوَفَّنِیْ عَلٰى مِلَّتِكَ وَمِلَّةِ نَبِیِّكَ مُحَمَّدٍ عَلَیْهِ السَّلَامُ اِذَا تَوَفَّیْتَنِیْ۔
52
اور جب مجھے دنیا سے اٹھائے تو اپنے دین اور اپنے نبی محمدؐ کے آئین پر اٹھا۔
52
اَللّٰهُمَّ اِنِّیْۤ اَتُوْبُ اِلَیْكَ فِیْ مَقَامِیْ هٰذَا
53
اے معبود! میں اس مقام پر توبہ کرتا ہوں
53
مِنْ كَبَآئِرِ ذُنُوْبِیْ وَصَغَآئِرِهَا
54
اپنے چھوٹے بڑے گناہوں سے
54
وَبَوَاطِنِ سَیِّئَاتِیْ وَظَوَاهِرِهَا
55
پوشیدہ و آشکار معصیتوں سے
55
وَسَوَالِفِ زَلَّاتِیْ وَحَوَادِثِهَا
56
اور گزشتہ و موجودہ لغزشوں سے
56
تَوْبَةَ مَنْ لَّا یُحَدِّثُ نَفْسَهٗ بِمَعْصِیَةٍ
57
اس شخص کی سی توبہ جو دل میں معصیت کا خیال بھی نہ لائے
57
وَلَا یُضْمِرُ اَنْ یَّعُوْدَ فِیْ خَطِیْٓئَةٍ۔
58
اور گناہ کی طرف پلٹنے کا تصور بھی نہ کرے۔
58
وَقَدْ قُلْتَ یَاۤ اِلٰهِیْ فِیْ مُحْكَمِ كِتَابِكَ
59
خداوندا! تو نے اپنی محکم کتاب میں فرمایا ہے کہ
59
اِنَّكَ تَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِكَ
60
تو بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے
60
وَتَعْفُوْ عَنِ السَّیِّئَاتِ
61
اور گناہوں کو معاف کرتا ہے
61
وَتُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ
62
اور توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے
62
فَاقْبَلْ تَوْبَتِیْ كَمَا وَعَدْتَّ
63
لہٰذا تو میری توبہ قبول فرما جیسا کہ تو نے وعدہ کیا ہے
63
وَاعْفُ عَنْ سَیِّئَاتِیْ كَمَا ضَمِنْتَ
64
اور میرے گناہوں کو معاف کر دے جیسا کہ تو نے ذمہ لیا ہے
64
وَاَوْجِبْ لِیْ مَحَبَّتَكَ كَمَا شَرَطْتَّ
65
اور حسب قرار داد اپنی محبت کو میرے لیے ضروری قرار دے۔
65
وَلَكَ یَا رَبِّ شَرْطِیْۤ
66
اور میں تجھ سے اے میرے پروردگار! یہ اقرار کرتا ہوں
66
اَلَّاۤ اَعُوْدَ فِیْ مَكْرُوْهِكَ
67
کہ تیری ناپسندیدہ باتوں کی طرف رخ نہیں کروں گا
67
وَضَمَانِیْۤ اَنْ لَّاۤ اَرْجِعَ فِیْ مَذْمُوْمِكَ
68
اور یہ قول و قرار کرتا ہوں کہ قابلِ مذمت چیزوں کی طرف رجوع نہ کروں گا
68
وَعَهْدِیْۤ اَنْ اَهْجُرَ جَمِیْعَ مَعَاصِیْكَ۔
69
اور یہ عہد کرتا ہوں کہ تیری تمام نافرمانیوں کو یکسر چھوڑ دوں گا۔
69
اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ اَعْلَمُ بِمَا عَمِلْتُ
70
بار الٰہا! تو میرے عمل و کردار سے خوب آگاہ ہے
70
فَاغْفِرْ لِیْ مَا عَلِمْتَ
71
اب جو بھی تو جانتا ہے اسے بخش دے
71
وَاصْرِفْنِیْ بِقُدْرَتِكَ اِلٰى مَاۤ اَحْبَبْتَ۔
72
اور اپنی قدرت کاملہ سے پسندیدہ چیزوں کی طرف مجھے موڑ دے۔
72
اَللّٰهُمَّ وَعَلَیَّ تَبِعَاتٌ قَدْ حَفِظْتُهُنَّ
73
اے اللہ! میرے ذمہ کتنے ایسے حقوق ہیں جو مجھے یاد ہیں
73
وَتَبِعَاتٌ قَدْ نَسِیْتُهُنَّ
74
اور کتنے ایسے مظلمے ہیں جن پر نسیان کا پردہ پڑا ہوا ہے
74
وَكُلُّهُنَّ بِعَیْنِكَ الَّتِیْ لَا تَنَامُ
75
لیکن وہ سب کے سب تیری آنکھوں کے سامنے ہیں، ایسی آنکھیں جو خواب آلودہ نہیں ہوتیں
75
وَعِلْمِكَ الَّذِیْ لَا یَنْسٰى
76
اور تیرے علم میں ہیں، ایسا علم جس میں فرو گزاشت نہیں ہوتی
76
فَعَوِّضْ مِنْهَاۤ اَهْلَهَا
77
لہٰذا جن لوگوں کا مجھ پر کوئی حق ہے اس کا انہیں عوض دے کر
77
وَاحْطُطْ عَنِّیْ وِزْرَهَا
78
اس کا بوجھ مجھ سے برطرف
78
وَخَفِّفْ عَنِّیْ ثِقْلَهَا
79
اور اس کا بار ہلکا کر دے
79
وَاعْصِمْنِیْ مِنْ اَنْ اُقَارِفَ مِثْلَهَا۔
80
اور مجھے پھر ویسے گناہوں کے ارتکاب سے محفوظ رکھ۔
80
اَللّٰهُمَّ وَاِنَّهٗ لَا وَفَآءَ لِیْ بِالتَّوْبَةِ اِلَّا بِعِصْمَتِكَ
81
اے اللہ! میں توبہ پر قائم نہیں رہ سکتا مگر تیری ہی نگرانی سے
81
وَلَا اسْتِمْسَاكَ بِیْ عَنِ الْخَطَایَاۤ اِلَّا عَنْ قُوَّتِكَ
82
اور گناہوں سے باز نہیں آسکتا مگر تیری ہی قوت و توانائی سے
82
فَقَوِّنِیْ بِقُوَّةٍ كَافِیَةٍ
83
لہٰذا مجھے بے نیاز کرنے والی قوت سے تقویت دے
83
وَتَوَلَّنِیْ بِعِصْمَةٍ مَّانِعَةٍ۔
84
اور (گناہوں سے) روکنے والی نگرانی کا ذمہ لے۔
84
اَللّٰهُمَّ اَیُّمَا عَبْدٍ تَابَ اِلَیْكَ
85
اے اللہ! وہ بندہ جو تجھ سے توبہ کرے
85
وَهُوَ فِیْ عِلْمِ الْغَیْبِ عِنْدَكَ فَاسِخٌ لِّتَوْبَتِهٖ
86
اور تیرے علم غیب میں وہ توبہ شکنی کرنے والوں
86
وَعَآئِدٌ فِیْ ذَنبِهٖ وَخَطِیْٓئَتِهٖ
87
اور گناہ و معصیت کی طرف دو بارہ پلٹنے والا ہو
87
فَاِنِّیْۤ اَعُوذُ بِكَ اَنْ اَكُوْنَ كَذٰلِكَ
88
تو میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ اس جیسا ہوں
88
فَاجْعَلْ تَوْبَتِیْ هٰذِهٖ تَوْبَةً لَّاۤ اَحْتَاجُ بَعْدَهَاۤ اِلٰى تَوْبَةٍ
89
میری توبہ کو ایسی توبہ قرار دے کہ اس کے بعد پھر توبہ کی احتیاج نہ رہے
89
تَوْبَةً مُّوْجِبَةً لِّمَحْوِ مَا سَلَفَ
90
جس سے گزشتہ گناہ محو ہو جائیں
90
وَالسَّلَامَةِ فِیْمَا بَقِیَ۔
91
اور زندگی کے باقی دنوں میں (گناہوں سے) سلامتی کا سامان ہو۔
91
اَللّٰهُمَّ اِنِّیْۤ اَعْتَذِرُ اِلَیْكَ مِنْ جَهْلِیْ
92
اے اللہ! میں اپنی جہالتوں سے عذر خواہ
92
وَاَسْتَوْهِبُكَ سُوْٓءَ فِعْلِیْ
93
اور اپنی بداعمالیوں سے بخشش کا طلبگار ہوں
93
فَاضْمُمْنِیْۤ اِلٰى كَنَفِ رَحْمَتِكَ تَطَوُّلًا
94
لہٰذا اپنے لطف و احسان سے مجھے پناہ گاہِ رحمت میں جگہ دے
94
وَاسْتُرْنِیْ بِسِتْرِ عَافِیَتِكَ تَفَضُّلًا۔
95
اور اپنے تفضل سے اپنی عافیت کے پردہ میں چھپا لے۔
95
اَللّٰهُمَّ وَاِنِّیْۤ اَتُوْبُ اِلَیْكَ
96
اے اللہ! میں تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں
96
مِنْ كُلِّ مَا خَالَفَ اِرَادَتَكَ
97
ہر اس چیز سے جو تیرے ارادہ و رضا کے خلاف ہو
97
اَوْ زَالَ عَنْ مَّحَبَّتِكَ
98
اور تیری محبت کے حدود سے باہر ہو
98
مِنْ خَطَرَاتِ قَلْبِیْ
99
دل میں گزرنے والے خیالات
99
وَلَحَظَاتِ عَیْنِیْ
100
اور آنکھ کے اشاروں
100
وَحِكَایَاتِ لِسَانِیْ
101
اور زبان کی گفتگوؤں میں سے
101
تَوْبَةً تَسْلَمُ بِهَا كُلُّ جَارِحَةٍ عَلٰى حِیَالِهَا مِنْ تَبِعَاتِكَ
102
ایسی توبہ جس سے میرا ہر ہر عضو اپنی جگہ پر تیری عقوبتوں سے بچا رہے
102
وَتَاْمَنُ مِمَّا یَخَافُ الْمُعْتَدُوْنَ مِنْ اَلِیْمِ سَطَوَاتِكَ۔
103
اور ان تکلیف دہ عذابوں سے محفوظ رہے جن سے سر کش لوگ خائف رہتے ہیں۔
103
اَللّٰهُمَّ فَارْحَمْ وَحْدَتِیْ بَیْنَ یَدَیْكَ
104
اے معبود! ان حالتوں پر رحم فرما: یہ تیرے سامنے میرا عالم تنہائی
104
وَوَجِیْبَ قَلْبِیْ مِنْ خَشْیَتِكَ
105
تیرے خوف سے میرے دل کی دھڑکن
105
وَاضْطِرَابَ اَرْكَانِیْ مِنْ هَیْبَتِكَ
106
تیری ہیبت سے میرے اعضاء کی تھر تھری۔
106
فَقَدْ اَقَامَتْنِیْ یَا رَبِّ ذُنُوْبِیْ مَقَامَ الْخِزْیِ بِفِنَآئِكَ
107
پروردگارا! مجھے گناہوں نے تیری بارگاہ میں رسوائی کی منزل پر لا کھڑا کیا ہے
107
فَاِنْ سَكَتُّ لَمْ یَنْطِقْ عَنِّیْۤ اَحَدٌ
108
اب اگر چپ رہوں تو میری طرف سے کوئی بولنے والا نہیں ہے
108
وَاِنْ شَفَعْتُ فَلَسْتُ بِاَهْلِ الشَّفَاعَةِ۔
109
اور کوئی وسیلہ لاؤں تو شفاعت کا سزاوار نہیں ہوں۔
109
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
110
اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
110
وَشَفِّعْ فِیْ خَطَایَایَ كَرَمَكَ
111
اور اپنے کرم و بخشش کو میری خطاؤں کا شفیع قرار دے
111
وَعُدْ عَلٰى سَیِّئَاتِیْ بِعَفْوِكَ
112
اور اپنے فضل سے میرے گناہوں کو بخش دے
112
وَلَا تَجْزِنِیْ جَزَآئِیْ مِنْ عُقُوْبَتِكَ
113
اور جس سزا کا میں سزاوار ہوں وہ سزا نہ دے
113
وَابْسُطْ عَلَیَّ طَوْلَكَ
114
اور اپنا دامن کرم مجھ پر پھیلا دے
114
وَجَلِّلْنِیْ بِسِتْرِكَ
115
اور اپنے پردۂ عفو و رحمت میں مجھے ڈھانپ لے
115
وَافْعَلْ بِیْ فِعْلَ عَزِیْزٍ تَضَرَّعَ اِلَیْهِ عَبْدٌ ذَلِیْلٌ فَرَحِمَهٗ
116
اور مجھ سے اس ذی اقتدار شخص کا سا برتاؤ کر جس کے آگے کوئی بندہ ذلیل گڑگڑائے تو وہ اس پر ترس کھائے
116
اَوْ غَنِیٍّ تَعَرَّضَ لَهٗ عَبْدٌ فَقِیْرٌ فَنَعَشَهٗ۔
117
یا اس دولتمند کا سا جس سے کوئی بندۂ محتاج لپٹے تو وہ اسے سہارا دے کر اٹھا لے۔
117
اَللّٰهُمَّ لَا خَفِیْرَ لِیْ مِنْكَ
118
بار الٰہا! مجھے تیرے (عذاب) سے کوئی پناہ دینے والا نہیں ہے
118
فَلْیَخْفُرْنِیْ عِزُّكَ
119
اب تیری قوت و توانائی ہی پناہ دے تو دے
119
وَلَا شَفِیْعَ لِیْۤ اِلَیْكَ
120
اور تیرے یہاں کوئی میری سفارش کرنے والا نہیں
120
فَلْیَشْفَعْ لِیْ فَضْلُكَ
121
اب تیرا فضل ہی سفارش کرے تو کرے
121
وَقَدْ اَوْجَلَتْنِیْ خَطَایَایَ
122
اور میرے گناہوں نے مجھے ہراساں کر دیا ہے
122
فَلْیُؤْمِنِّیْ عَفْوُكَ
123
اب تیرا عفو و درگزر ہی مجھے مطمئن کرے تو کرے
123
فَمَا كُلُّ مَا نَطَقْتُ بِهٖ عَنْ جَهْلٍ مِّنِّیْ بِسُوْٓءِ اَثَرِیْ
124
یہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اس لیے نہیں کہ میں اپنی بداعمالیوں سے ناواقف
124
وَلَا نِسْیَانٍ لِّمَا سَبَقَ مِنْ ذَمِیْمِ فِعْلِیْ
125
اور اپنی گزشتہ بدکردار یوں کو فراموش کر چکا ہوں
125
لٰكِنْ لِّتَسْمَعَ سَمَآؤُكَ وَمَنْ فِیْهَا
126
بلکہ اس لیے کہ سن لیں تیرا آسمان اور جو اس میں رہتے سہتے ہیں
126
وَاَرْضُكَ وَمَنْ عَلَیْهَا
127
اور تیری زمین اور جو اس پر آباد ہیں
127
مَاۤ اَظْهَرْتُ لَكَ مِنَ النَّدَمِ
128
میری ندامت کو جس کا میں نے تیرے سامنے اظہار کیا ہے
128
وَلَجَاْتُ اِلَیْكَ فِیْهِ مِنَ التَّوْبَةِ
129
اور میری توبہ کو جس کے ذریعہ تجھ سے پناہ مانگی ہے
129
فَلَعَلَّ بَعْضَهُمْ بِرَحْمَتِكَ یَرْحَمُنِیْ لِسُوْٓءِ مَوْقِفِیْ
130
تاکہ تیری رحمت کی کارفرمائی کی وجہ سے کسی کو میرے حال زار پر رحم آجائے
130
اَوْ تُدْرِكُهُ الرِّقَّةُ عَلَیَّ لِسُوْٓءِ حَالِیْ
131
یا میری پریشان حالی پر اس کا دل پسیجے
131
فَیَنَالَنِیْ مِنْهُ بِدَعْوَةٍ هِیَ اَسْمَعُ لَدَیْكَ مِنْ دُعَآئِیْ
132
تو میرے حق میں دعا کرے جس کی تیرے ہاں میری دعا سے زیادہ شنوائی ہو
132
اَوْ شَفَاعَةٍ اَوْكَدُ عِنْدَكَ مِنْ شَفَاعَتِیْ
133
یا کوئی ایسی سفارش حاصل کر لوں جو تیرے ہاں میری درخواست سے زیادہ مؤثر ہو
133
تَكُوْنُ بِهَا نَجَاتِیْ مِنْ غَضَبِكَ
134
اور اس طرح تیرے غضب سے نجات کی دستاویز
134
وَفَوْزَتِیْ بِرِضَاكَ۔
135
اور تیری خوشنودی کا پروانہ حاصل کر سکوں۔
135
اَللّٰهُمَّ اِنْ یَّكُنِ النَّدَمُ تَوْبَةً اِلَیْكَ
136
اے اللہ! اگر تیری بارگاہ میں ندامت و پشیمانی ہی توبہ ہے
136
فَاَنَاۤ اَنْدَمُ النَّادِمِیْنَ
137
تو میں پشیمان ہونے والوں میں سب سے زیادہ پشیمان ہوں
137
وَاِنْ یَّكُنِ التَّرْكُ لِمَعْصِیَتِكَ اِنَابَةً
138
اور اگر ترک معصیت ہی توبہ و انابت ہے
138
فَاَنَاۤ اَوَّلُ الْمُنِیْبِیْنَ
139
تو میں توبہ کرنے والوں میں اول درجہ پر ہوں
139
وَاِنْ یَّكُنِ الْاِسْتِغْفَارُ حِطَّةً لِّلذُّنُوْبِ
140
اور اگر طلب مغفرت گناہوں کو زائل کرنے کا سبب ہے
140
فَاِنِّیْ لَكَ مِنَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ۔
141
تو مغفرت کرنے والوں میں سے ایک میں بھی ہوں۔
141
اَللّٰهُمَّ فَكَمَاۤ اَمَرْتَ بِالتَّوْبَةِ
142
خدایا! جبکہ تو نے توبہ کا حکم دیا
142
وَضَمِنْتَ الْقَبُوْلَ
143
اور قبول کرنے کا ذمہ لیا ہے
143
وَحَثَثْتَ عَلَى الدُّعَآءِ
144
اور دعا پر آمادہ کیا ہے
144
وَوَعَدْتَّ الْاِجَابَةَ
145
اور قبولیت کا وعدہ فرمایا ہے
145
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
146
تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر
146
وَاقْبَلْ تَوْبَتِیْ
147
اور میری توبہ کو قبول فرما
147
وَلَا تَرْجِعْنِیْ مَرْجِعَ الْخَیْبَةِ مِنْ رَّحْمَتِكَ
148
اور مجھے اپنی رحمت سے ناامیدی کے ساتھ نہ پلٹا
148
اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ عَلَى الْمُذْنِبِیْنَ
149
کیونکہ تو گنہگاروں کی توبہ قبول کرنے والا
149
وَالرَّحِیْمُ لِلْخَاطِئِیْنَ الْمُنِیْبِیْنَ۔
150
اور رجوع ہونے والے خطاکاروں پر رحم کرنے والا ہے۔
150
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
151
اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
151
كَمَا هَدَیْتَنَا بِهٖ
152
جس طرح تو نے ان کے وسیلہ سے ہماری ہدایت فرمائی ہے
152
وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
153
تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل کر
153
كَمَا اسْتَنْقَذْتَنَا بِهٖ
154
جس طرح ان کے ذریعہ ہمیں (گمراہی کے بھنور سے) نکالا ہے
154
وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
155
تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل کر
155
صَلَاةً تَشْفَعُ لَنا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَیَوْمَ الْفَاقَةِ اِلَیْكَ
156
ایسی رحمت جو قیامت کے روز اور تجھ سے احتیاج کے دن ہماری سفارش کرے
156
اِنَّكَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
157
اس لیے کہ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے
157
وَهُوَ عَلَیْكَ یَسِیْرٌ۔
158
اور یہ امر تیرے لیے سہل و آسان ہے۔
158

صحیفۂ کاملہ کی اکثر دعائیں اعتراف گناہ، عفو تقصیر اور توبہ و انابت پر مشتمل ہیں مگر یہ دعا، ”دعائے توبہ“ ہی کے نام سے موسوم ہے جس سے اس کے خصوصیات ظاہر ہیں۔ ”توبہ“ کے لغوی معنی پلٹنے اور رجوع ہونے کے ہیں اور اصطلاحاً ”توبہ“ کا مطلب یہ ہے کہ بندہ اپنے گناہوں پر پشیمان ہو کر بارگاہِ الٰہی میں ان سے باز رہنے کا عہد کرے اور جن گناہوں کا تدارک ممکن ہے ان کا تدارک کرے۔ اس طرح کہ جو حقوق اس کے ذمہ ہوں انہیں ادا کرے، یا اہل حقوق سے معافی حاصل کرے، اور یہ نہ ہو سکے تو ان کیلئے ایسے اعمالِ خیر بجا لائے کہ وہ قیامت کے روز اس سے خوش ہو کر درگزر کریں۔

”توبہ“ کا اصل محرک جزا و سزا کا علم و یقین ہے جو گنہگار کو کثافتِ گناہ کی آلودگیوں سے دور رہنے پر آمادہ کرتا ہے۔ چنانچہ جب وہ گناہوں کے ہلاکت آفرین نتائج کے پیش نظر اپنا محاسبہ کرتا ہے تو یہ احتسابِ نفس اسے جھنجھوڑتا اور مطعون کرتا ہے جس سے وہ نفسیاتی طور پر ایک قسم کی تکلیف و اذیت محسوس کرتا ہے۔ اس احساس تکلیف کو ندامت و پشیمانی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جب یہ ندامت اس کے احساسات پر غالب آ جاتی ہے تو وہ گناہوں سے باز رہنے کا ارادہ کر لیتا ہے اور توبہ اسی علم، ندامت اور ارادہ کے مجموعے کا نام ہے جس کے بعد اعمال میں تبدیلی کا ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

اس دنیا میں رہتے ہوئے کوئی شخص بھی توبہ سے بے نیاز نہیں ہو سکتا، کیونکہ کبھی ہاتھ، زبان اور دوسرے اعضاء سے کوئی گناہ سرزد ہوا ہو گا، کبھی جھوٹ بولا ہو گا، کبھی کسی کی غیبت کی ہو گی، کبھی کسی پر ظلم کیا ہو گا، کبھی کسی سے ناحق جھگڑا کیا ہو گا۔ اور اگر اس کے اعضاء و جوارح ہر قسم کے گناہ سے بری ہوں تو وہ برائی کے قصد، گناہ کے ارادہ اور نفس کے دوسرے رذائل سے خالی نہیں ہو گا۔ اور اگر ان چیزوں سے بھی پاک ہو تو شیطانی وساوس اور گناہ کے تصورات و خیالات سے خالی نہیں ہو گا۔ اور اگر ان سے بھی پاک ہو تو خداوند عالم کی قدرت و حکمت اور اس کے آثار و صفات میں نظر و فکر سے غافل رہا ہو گا۔ اور اگر اس قصور و غفلت سے بھی بری اور ہر لحاظ سے معصوم ہو تو اس ثواب سے تو بے نیاز نہیں ہو سکتا جو ”توبہ“ پر مترتب ہوتا ہے، لہٰذا گنہگار ہو یا معصوم، سب ہی کو ”توبہ“ کرنا چاہیے۔چنانچہ ارشاد الٰہی ہے: وَتُوْبُوْٓا اِلَى اللہِ جَمِيْعًا اَيُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۝ ”اے ایمان والو! تم سب کے سب اللہ سے توبہ کرو، تا کہ تم ہر لحاظ سے بہتری پا سکو“ ۱۔

اگر انسان گناہ کا مرتکب ہو تو اسے فوراً توبہ کرنا چاہیے اور توبہ کو تاخیر میں نہ ڈالنا چاہیے۔ ایک تو اس لیے کہ نہ معلوم کب موت کا پیغام آ جائے اور توبہ کئے بغیر اس دنیا سے رختِ سفر باندھ لینا پڑے، اور دوسرے یہ کہ توبہ میں تاخیر کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ توبہ کی نوبت ہی نہیں آتی اور گناہ کی عادت اس طرح اس میں راسخ ہو جاتی ہے کہ طبیعت ثانیہ بن جاتی ہے اور پھر وہ بغیر کسی احساس ندامت کے گناہ پر گناہ کئے جاتا ہے جس سے دل و دماغ پر تاریکی کی تہیں چڑھ جاتی ہیں اور دل کے صفا و نورانیت کے ساتھ توفیق کی روشنی بھی ختم ہو جاتی ہے۔ اور جس طرح طبیعت مرض سے مغلوب ہو جائے تو صحت کے عود کرنے کی توقع نہیں رہتی، اسی طرح گناہ کے رگ و پے میں سرایت کرنے کے بعد گنہگار لا علاج ہو جاتا ہے، لہٰذا اس یاس آفرین حالت کے پیدا ہونے سے پہلے توبہ کر لینا چاہیے۔ اور یہ توبہ اس کی دلیل ہے کہ ابھی دل فطری سلامتی پر باقی ہے جس نے احساس ندامت پیدا کرکے توبہ کی طرف متوجہ کیا ہے اور یہ خداوند عالم کا انتہائی لطف و کرم ہے کہ وہ یقین موت کی صورت کے علاوہ ہر صورت میں توبہ قبول فرماتا ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے: وَھُوَ الَّذِيْ يَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَيَعْفُوْا عَنِ السَّـيِّاٰتِ ”وہی تو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور گناہوں کو معاف کرتا ہے۔ ۲

اور پیغمبر اکرمؐ سے مروی ہے کہ اگر بندہ اپنے مرنے سے ایک سال پہلے توبہ کر لے ،تو خدا اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔ پھر فرمایا کہ سال بھر کی مدت تو بہت زیادہ ہے، اگر مرنے سے ایک مہینہ بھی پہلے توبہ کر لے تو خدا قبول کرے گا۔ پھر فرمایا کہ ایک مہینہ بھی بہت ہے، اگر مرنے سے ایک دن پہلے توبہ کر لے تو خدا قبول فرمانے والا ہے۔ پھر فرمایا کہ ایک دن بھی بہت ہے، اگر موت سے ایک ساعت بھی پہلے توبہ کر لے تو خداوند عالم اپنی رحمت سے اس کی توبہ قبول کر لے گا اور اس کے گناہوں سے درگزر فرمائے گا۔ ۳

”توبہ“ صرف گناہوں کو دور کرنے ہی کا ذریعہ نہیں ہے، بلکہ ثواب عظیم اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی و محبت بھی اس سے وابستہ ہے۔ چنانچہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے: اِنَّ اللّٰهَ تَعَالٰۤى اَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهٖ مِنْ رَّجُلٍ اَضَلَّ رَاحِلَتَهٗ وَزَادَهٗ فِیْ لَيْلَةٍ ظَلْمَآءَ فَوَجَدَهَا۔

خداوند عالم اس شخص سے بھی زیادہ اپنے بندہ کی توبہ سے خوش ہوتا ہے جو اندھیری رات میں اپنی سواری اور زاد راہ کھوکر اچانک اسے پالے۔۴

سورۂ نور، آیت ۳۱

سورۂ توبہ، آیت ۳۵

۔۔۔

الکافی، ج ۲ س ۴۳۵