(۳۲) وَكَانَ مِنْ دُعَآئِهٖ عَلَیْهِ السَّلَامُ بَعْدَ الْفَرَاغِ مِنْ صَلَاةِ اللَّیْلِ لِنَفْسِهٖ فِی الْاِعْتِرَافِ بِالذَّنبِ۔ اعترافِ گناہ کے سلسلہ میں حضرتؑ کی دعا جسے نمازِ شب کے بعد پڑھتے۔

اَللّٰهُمَّ یَا ذَا الْمُلْكِ الْمُتَاَبِّدِ بِالْخُلُوْدِ
1
اے اللہ! اے دائمی و ابدی بادشاہی والے
1
وَالسُّلْطَانِ الْمُمْتَنِعِ بِغَیْرِ جُنُوْدٍ وَلَاۤ اَعْوَانٍ
2
اور لشکر و اعوان کے بغیر مضبوط فرمانروائی والے
2
وَالْعِزِّ الْبَاقِیْ عَلٰى مَرِّ الدُّهُورِ وَخَوَالِی الْاَعْوَامِ
3
اور ایسی عزت و رفعت والے جو پائندہ و برقرار ہے صدیوں، سالوں سے
3
وَمَوَاضِی الْاَزمَانِ وَالْاَیَّامِ
4
اور زمانوں اور دنوں کے بیتنے گزرنے کے باوجود
4
عَزَّ سُلْطَانُكَ عِزًّا لَّا حَدَّ لَهٗ بِاَوَّلِیَّةٍ
5
تیری بادشاہی ایسی غالب ہے جس کی ابتدا کی کوئی حد ہے
5
وَلَا مُنْتَهٰى لَهٗ بِاٰخِرِیَّةٍ
6
اور نہ انتہا کا کوئی آخری کنارا ہے
6
وَاسْتَعْلٰى مُلْكُكَ عَلُوًّا
7
اور تیری جہانداری کا پایہ اتنا بلند ہے کہ
7
سَقَطَتِ الْاَشْیَآءُ دُوْنَ بُلُوْغِ اَمَدِهٖ
8
تمام چیزیں اس کی بلندی کو چھونے سے قاصر ہیں
8
وَلَا یَبْلُغُ اَدْنٰى مَا اسْتَاْثَرْتَ بِهٖ
9
اور تیری اس بلندی کے پست ترین درجہ تک بھی نہیں پہنچ سکتی
9
مِنْ ذٰلِكَ اَقْصٰى نَعْتِ النَّاعِتِیْنَ
10
تعریف کرنے والوں کی انتہائی تعریف جسے تو نے اپنے لیے مخصوص کیا ہے
10
ضَلَّتْ فِیْكَ الصِّفَاتُ
11
صفتوں کے کارواں تیرے بارے میں سرگردان ہیں
11
وَتَفَسَّخَتْ دُوْنَكَ النُّعُوْتُ
12
اور توصیفی الفاظ تیرے لائق حال مدح تک پہنچنے سے عاجز ہیں
12
وَحَارَتْ فِیْ كِبْرِیَآئِكَ لَطَآئِفُ الْاَوْهَامِ۔
13
اور نازک تصورات تیرے مقام کبریائی میں ششدر و حیران ہیں۔
13
كَذٰلِكَ اَنْتَ اللّٰهُ الْاَوَّلُ فِیْۤ اَوَّلِیَّتِكَ
14
تو وہ خدائے ازلی ہے جو ازل ہی سے ایسا ہے
14
وَعَلٰى ذٰلِكَ اَنْتَ دَآئِمٌ لَّا تَزُوْلُ
15
اور ہمیشہ بغیر زوال کے ایسا ہی رہے گا
15
وَاَنَا الْعَبْدُ الضَّعِیْفُ عَمَلًا
16
میں تیرا وہ بندہ ہوں جس کا عمل کمزور
16
الْجَسِیْمُ اَمَلًا
17
اور سرمایۂ امید زیادہ ہے
17
خَرَجَتْ مِنْ یَدِیْۤ اَسْبَابُ الْوُصُلَاتِ
18
میرے ہاتھ سے تعلق و وابستگی کے رشتے جاتے رہے ہیں
18
اِلَّا مَا وَصَلَهٗ رَحْمَتُكَ
19
مگر وہ رشتہ جسے تیری رحمت نے جوڑ دیا ہے
19
وَتَقَطَّعَتْ عَنِّیْ عِصَمُ الْاٰمَالِ
20
اور امیدوں کے وسیلے بھی ایک ایک کر کے ٹوٹ گئے ہیں
20
اِلَّا مَاۤ اَنَا مُعْتَصِمٌ بِهٖ مِنْ عَفْوِكَ
21
مگر تیرے عفو و درگزر کا وسیلہ جس پر سہارا کئے ہوئے ہوں
21
قَلَّ عِنْدِیْ مَاۤ اَعْتَدُّ بِهٖ مِنْ طَاعَتِكَ
22
تیری اطاعت جسے کسی شمار میں لا سکوں نہ ہونے کے برابر ہے
22
وَكَثُرَ عَلَیَّ مَاۤ اَبُوْٓءُ بِهٖ مِنْ مَّعْصِیَتِكَ
23
اور وہ معصیت جس میں گرفتار ہوں بہت زیادہ ہے
23
وَلَنْ یَّضِیْقَ عَلَیْكَ عَفْوٌ عَنْ عَبْدِكَ وَاِنْ اَسَآءَ
24
تجھے اپنے کسی بندے کو معاف کر دینا اگرچہ وہ کتنا ہی برا کیوں نہ ہو دشوار نہیں ہے
24
فَاعْفُ عَنِّیْ۔
25
تو پھر مجھے بھی معاف کر دے۔
25
اَللّٰهُمَّ وَقَدْ اَشْرَفَ عَلٰى خَفَایَا الْاَعْمَالِ عِلْمُكَ
26
اے اللہ تیرا علم تمام پوشیدہ اعمال پر محیط ہے
26
وَانْكَشَفَ كُلُّ مَسْتُوْرٍ دُوْنَ خُبْرِكَ
27
اور تیرے علم و اطلاع کے آگے ہر مخفی چیز ظاہر و آشکارا ہے
27
وَلَا تَنْطَوِیْ عَنْكَ دَقَآئِقُ الْاُمُوْرِ
28
اور باریک سے باریک چیزیں بھی تیری نظر سے پوشیدہ نہیں ہیں
28
وَلَا تَعْزُبُ عَنْكَ غَیِّبَاتُ السَّرَآئِرِ
29
اور نہ راز ہائے درون پردہ تجھ سے مخفی ہیں
29
وَقَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَیَّ عَدُوُّكَ الَّذِیْ اسْتَنْظَرَكَ لِغَوَایَتِیْ فَاَنْظَرْتَهٗ
30
تیرا وہ دشمن جس نے میرے بے راہرو ہونے کے سلسلہ میں تجھ سے مہلت مانگی اور تو نے اسے مہلت دی
30
وَاسْتَمْهَلَكَ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ لِاِضْلَالِیْ فَاَمْهَلْتَهٗ
31
اور مجھے گمراہ کرنے کیلئے روز قیامت تک فرصت طلب کی اور تو نے اسے فرصت دی، مجھ پر غالب آگیا ہے
31
فَاَوْقَعَنِیْ وَقَدْ هَرَبْتُ اِلَیْكَ
32
اور اس نے مجھے آ گرایا جنکہ میں تیرے دامن میں پناہ لینے کیلئے بڑھ رہا تھا
32
مِنْ صَغَآئِرِ ذُنُوْبٍ مُّوْبِقَةٍ
33
ہلاک کرنے والے صغیرہ گناہوں سے
33
وَكَبَآئِرِ اَعْمَالٍ مُّرْدِیَةٍ
34
اور تباہ کرنے والے کبیرہ گناہوں سے
34
حَتّٰۤى اِذَا قَارَفْتُ مَعْصِیَتَكَ
35
اور جب میں گناہ کا مرتکب ہوا
35
وَاسْتَوْجَبْتُ بِسُوْٓءِ سَعْیِیْ سَخْطَتَكَ
36
اور اپنی بداعمالی کی وجہ سے تیری ناراضی کا مستحق بنا
36
فَتَلَ عَنِّیْ عِذَارَ غَدْرِهٖ
37
تو اس نے اپنے حیلہ و فریب کی باگ مجھ سے موڑ لی
37
وَتَلَقَّانِیْ بِكَلِمَةِ كُفْرِهٖ
38
اور اپنے کلمۂ کفر کے ساتھ میرے سامنے آ گیا
38
وَتَوَلَّى الْبَرَآءَةَ مِنِّیْ
39
اور مجھ سے بیزاری کا اظہار کیا
39
وَاَدْبَرَ مُوَلِّیًا عَنِّیْ
40
اور میری جانب سے پیٹھ پھرا کر چل دیا
40
فَاَصْحَرَنِیْ لِغَضَبِكَ فَرِیْدًا
41
اور مجھے کھلے میدان میں تیرے غضب کے سامنے اکیلا چھوڑ دیا
41
وَاَخْرَجَنِیْۤ اِلٰى فِنَآءِ نَقِمَتِكَ طَرِیْدًا۔
42
اور تیرے انتقام کی منزل میں مجھے کھینچ تان کر لے آیا۔
42
لَا شَفِیْعٌ یَّشْفَعُ لِیْۤ اِلَیْكَ
43
اس حالت میں کہ نہ کوئی سفارش کرنے والا تھا جو تجھ سے میری سفارش کرے
43
وَلَا خَفِیْرٌ یُّؤْمِنُنِیْ عَلَیْكَ
44
اور نہ کوئی پناہ دینے والا تھا جو مجھے تیرے عذاب سے ڈھارس دے
44
وَلَا حِصْنٌ یَّحْجُبُنِیْ عَنْكَ
45
اور نہ کوئی چار دیواری تھی جو مجھے تیری نگاہوں سے چھپا سکے
45
وَلَا مَلَاذٌ اَلْجَاُ اِلَیْهِ مِنْكَ۔
46
اور نہ کوئی پناہ گاہ تھی جہاں تیرے خوف سے پناہ لے سکوں۔
46
فَهٰذَا مَقَامُ الْعَآئِذِ بِكَ
47
اب یہ منزل میرے پناہ مانگنے کی
47
وَمَحَلُّ الْمُعْتَرِفِ لَكَ
48
اور یہ مقام میرے گناہوں کے اعتراف کرنے کا ہے
48
فَلَا یَضِیْقَنَّ عَنِّیْ فَضْلُكَ
49
لہٰذا ایسا نہ ہو کہ تیرے دامن فضل (کی وسعتیں) میرے لیے تنگ ہو جائیں
49
وَلَا یَقْصُرَنَّ دُوْنِیْ عَفْوُكَ
50
اور عفو و درگزر مجھ تک پہنچنے ہی نہ پائے
50
وَلَاۤ اَكُنْ اَخْیَبَ عِبَادِكَ التَّآئِبِیْنَ
51
اور نہ توبہ گزار بندوں میں سب سے زیادہ ناکام ثابت ہوں
51
وَلَاۤ اَقْنَطَ وُفُوْدِكَ الْاٰمِلِیْنَ
52
اور نہ تیرے پاس امیدیں لے کر آنے والوں میں سب سے زیادہ ناامید رہوں
52
وَاغْفِرْ لِیْ، اِنَّكَ خَیْرُ الْغَافِرِیْنَ۔
53
(بار الٰہا!) مجھے بخش دے، اس لیے کہ تو بخشنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔
53
اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ اَمَرْتَنِیْ فَتَرَكْتُ
54
اے اللہ! تو نے مجھے (اطاعت کا) حکم دیا مگر میں اسے بجا نہ لایا
54
وَنَهَیْتَنِیْ فَرَكِبْتُ
55
اور (برے اعمال سے) مجھے روکا مگر ان کا مرتکب ہوتا رہا
55
وَسَوَّلَ لِیَ الْخَطَآءَ خَاطِرُ السُّوْٓءِ فَفَرَّطْتُ
56
اور برے خیالات نے جب گناہ کو خوشنما کر کے دکھایا تو (تیرے احکام میں) کوتاہی کی
56
وَلَاۤ اَسْتَشْهِدُ عَلٰى صِیَامِیْ نَهَارًا
57
میں نہ روزہ رکھنے کی وجہ سے دن کو گواہ بنا سکتا ہوں
57
وَلَاۤ اَسْتَجِیْرُ بِتَهَجُّدِیْ لَیْلًا
58
اور نہ نماز شب کی وجہ سے رات کو اپنی سپر بنا سکتا ہوں
58
وَلَا تُثْنِیْ عَلَیَّ بِاِحْیَآئِهَا سُنَّةٌ
59
اور نہ کسی سنّت کو میں نے زندہ کیا ہے کہ اس سے تحسین و ثنا کی توقع کروں
59
حَاشَا فُرُوْضِكَ الَّتِیْ مَنْ ضَیَّعَهَا هَلَكَ
60
سوائے تیرے واجبات کے کہ جو انہیں ضائع کرے وہ بہرحال ہلاک و تباہ ہو گا
60
وَلَسْتُ اَتَوَسَّلُ اِلَیْكَ بِفَضْلِ نَافِلَةٍ
61
اور نوافل کے فضل و شرف کی وجہ سے بھی تجھ سے توسل نہیں کر سکتا
61
مَّعَ كَثِیْرِ مَاۤ اَغْفَلْتُ مِنْ وَّظَآئِفِ فُرُوْضِكَ
62
درصورتیکہ تیرے واجبات کے بہت سے شرائط سے غفلت کرتا رہا
62
وَتَعَدَّیْتُ عَنْ مَّقَامَاتِ حُدُوْدِكَ اِلٰى حُرُمَاتٍ انْتَهَكْتُهَا
63
اور تیرے احکام کے حدود سے تجاوز کرتا ہوا محارم شریعت کا دامن چاک کرتا رہا
63
وَكَبَآئِرِ ذُنُوْبٍ اجْتَرَحْتُهَا
64
اور کبیرہ گناہوں کا مرتکب ہوتا رہا
64
كَانَتْ عَافِیَتُكَ لِیْ مِنْ فَضَآئِحِهَا سِتْرًا۔
65
جن کی رسوائیوں سے صرف تیرا دامن عفو رحمت پردہ پوش رہا۔
65
وَهٰذَا مَقَامُ مَنِ اسْتَحْیَا لِنَفْسِهٖ مِنْكَ
66
یہ (میرا موقف) اس شخص کا موقف ہے جو تجھ سے شرم و حیا کرتے ہوئے اپنے نفس کو برائیوں سے روکتا ہو
66
وَسَخِطَ عَلَیْهَا، وَرَضِیَ عَنْكَ
67
اور اس پر ناراض ہو اور تجھ سے راضی ہو
67
فَتَلَقَّاكَ بِنَفْسٍ خَاشِعَةٍ
68
اور تیرے سامنے [حاضر ہو] خوفزدہ دل،
68
وَرَقَبَةٍ خَاضِعَةٍ
69
خمیدہ گردن کے ساتھ
69
وَظَهْرٍ مُّثْقَلٍ مِّنَ الْخَطَایَا
70
اور گناہوں سے بوجھل پیٹھ کے ساتھ
70
وَاقِفًا بَیْنَ الرَّغْبَةِ اِلَیْكَ وَالرَّهْبَةِ مِنْكَ
71
امید و بیم کی حالت میں ایستادہ ہو
71
وَاَنْتَ اَوْلٰى مَنْ رَّجَاهُ
72
اور تو ان سب سے زیادہ سزاوار ہے جن سے اس نے آس لگائی
72
وَاَحَقُّ مَنْ خَشِیَهٗ وَاتَّقَاهُ
73
اور ان سب سے زیادہ حقدار ہے جن سے وہ ہراساں و خائف ہوا
73
فَاَعْطِنِیْ یَا رَبِّ مَا رَجَوْتُ
74
اے میرے پروردگار ! جب یہی حالت میری ہے تو مجھے بھی وہ چیز مرحمت فرما جس کا میں امیدوار ہوں
74
وَاٰمِنِّیْ مَا حَذِرْتُ
75
اور اس چیز سے مطمئن کر جس سے خائف ہوں
75
وَعُدْ عَلَیَّ بِعَآئِدَةِ رَحْمَتِكَ
76
اور اپنی رحمت کے انعام سے مجھ پر احسان فرما
76
اِنَّكَ اَكْرَمُ الْمَسْئُوْلِیْنَ۔
77
اس لیے کہ تو ان تمام لوگوں سے جن سے سوال کیا جاتا ہے زیادہ سخی و کریم ہے۔
77
اَللّٰهُمَّ وَاِذْ سَتَرْتَنِیْ بِعَفْوِكَ
78
اے اللہ! جبکہ تو نے مجھے اپنے دامن عفو میں چھپا لیا ہے
78
وَتَغَمَّدْتَنِیْ بِفَضْلِكَ فِیْ دَارِ الْفَنَآءِ بِحَضْرَةِ الْاَكْفَآءِ
79
اور ہمسروں کے سامنے اس دار فنا میں فضل و کرم کا جامہ پہنایا ہے
79
فَاَجِرْنِیْ مِنْ فَضِیْحَاتِ دَارِ الْبَقَآءِ
80
تو دار بقا کی رسوائیوں سے بھی پناہ دے
80
عِنْدَ مَوَاقِفِ الْاَشْهَادِ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ الْمُقَرَّبِیْنَ
81
اس مقام پر کہ جہاں سب حاضر ہوں گے مقرب فرشتے،
81
وَالرُّسُلِ الْمُكَرَّمِیْنَ، وَالشُّهَدَآءِ وَالصّٰلِحِیْنَ
82
معزز و باوقار پیغمبر، شہید و صالح افراد
82
مِنْ جَارٍ كُنْتُ اُكَاتِمُهٗ سَیِّئَاتِیْ
83
کچھ تو ہمسائے ہوں گے جن سے میں اپنی برائیوں کو چھپاتا رہا ہوں
83
وَمِنْ ذِیْ رَحِمٍ كُنْتُ اَحْتَشِمُ مِنْهُ فِیْ سَرِیْرَاتِیْ
84
اور کچھ خویش و اقارب ہوں گے جن سے میں اپنے پوشیدہ کاموں میں شرم و حیا کرتا رہا ہوں
84
لَمْ اَثِقْ بِهِمْ رَبِّ فِی السِّتْرِ عَلَیَّ
85
اے میرے پروردگار! میں نے اپنی پردہ پوشی میں ان پر بھروسا نہیں کیا
85
وَوَثِقْتُ بِكَ رَبِّ فِی الْمَغْفِرَةِ لِیْ
86
اور مغفرت کے بارے میں پروردگارا تجھ پر اعتماد کیا ہے
86
وَاَنْتَ اَوْلٰى مَنْ وُّثِقَ بِهٖ
87
اور تو ان تمام لوگوں سے جن پر اعتماد کیا جاتا ہے زیادہ سزاوار اعتماد ہے
87
وَاَعْطٰى مَنْ رُّغِبَ اِلَیْهِ
88
اور ان سب سے زیادہ عطا کرنے والا ہے جن کی طرف رجوع ہوا جاتا ہے
88
وَاَرْاَفُ مَنِ اسْتُرْحِمَ
89
اور ان سب سے زیادہ مہربان ہے جن سے رحم کی التجا کی جاتی ہے
89
فَارْحَمْنِیْ۔
90
لہٰذا مجھ پر رحم فرما۔
90
اَللّٰهُمَّ وَاَنْتَ حَدَرْتَنِیْ مَآءً مَّهِیْنًا
91
اے اللہ! تو نے مجھے ایک ذلیل پانی (نطفہ) کی صورت میں اتارا
91
مِّنْ صُلْبٍ مُّتَضَایِقِ الْعِظَامِ
92
باہم پیوستہ ہڈیوں اور تنگ راہوں والی صلب سے
92
حَرِجِ الْمَسَالِكِ اِلٰى رَحِمٍ ضَیِّقَةٍ سَتَرْتَهَا بِالْحُجُبِ
93
تنگ نائے رحم میں کہ جسے تو نے پردوں میں چھپا رکھا ہے
93
تُصَرِّفُنِیْ حَالًا عَنْ حَالٍ
94
جہاں تو مجھے ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل کرتا رہا
94
حَتَّى انْتَهَیْتَ بِیْۤ اِلَى تَمَامِ الصُّوْرَةِ
95
یہاں تک کہ تو نے مجھے اس حد تک پہنچا دیا جہاں میری صورت کی تکمیل ہو گئی
95
وَاَثْبَتَّ فِیَّ الْجَوَارِحَ
96
پھر مجھ میں اعضاء و جوارح ودیعت کئے
96
كَمَا نَعَتَّ فِیْ كِتَابِكَ: نُطْفَةً
97
جیسا کہ تو نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ (میں) پہلے نطفہ تھا
97
ثُمَّ عَلَقَةً ثُمَّ مُضْغَةً
98
پھر منجمد خون ہوا، پھر گوشت کا ایک لوتھڑا
98
ثُمَّ عَظْمًا ثُمَّ كَسَوْتَ الْعِظَامَ لَحْمًا
99
پھر ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ، پھر ان ہڈیوں پر گوشت کی تہیں چڑھا دیں
99
ثُمَّ اَنْشَاْتَنِیْ خَلْقًا اٰخَرَ كَمَا شِئْتَ
100
پھر جیسا تو نے چاہا ایک دوسری طرح کی مخلوق بنا دیا
100
حَتّٰۤى اِذَا احْتَجْتُ اِلٰى رِزْقِكَ
101
اور جب میں تیری روزی کا محتاج ہوا
101
وَلَمْ اَسْتَغْنِ عَنْ غِیَاثِ فَضْلِكَ
102
اور تیرے لطف و احسان کی دستگیری سے بے نیاز نہ رہ سکا
102
جَعَلْتَ لِیْ قُوْتًا مِّنْ فَضْلِ طَعَامٍ وَّشَرَابٍ
103
تو تو نے اس بچے ہوئے کھانے پانی میں سے میری روزی کا سر و سامان کر دیا
103
اَجْرَیْتَهٗ لِاَمَتِكَ الَّتِیْۤ اَسْكَنْتَنِیْ جَوْفَهَا
104
جسے تو نے اس کنیز کیلئے جاری کیا تھا جس کے شکم میں تو نے مجھے ٹھہرا دیا
104
وَاَوْدَعْتَنِیْ قَرَارَ رَحِمِهَا۔
105
اور جس کے رحم میں مجھے ودیعت کیا تھا۔
105
وَلَوْ تَكِلُنِیْ یَا رَبِّ فِیْ تِلْكَ الْحَالَاتِ اِلٰى حَوْلِیْ
106
اے میرے پروردگار ان حالات میں اگر تو خود میری تدبیر پر مجھے چھوڑ دیتا
106
اَوْ تَضْطَرُّنِیْۤ اِلٰى قُوَّتِیْ
107
یا میری ہی قوت کے حوالے کر دیتا
107
لَكَانَ الْحَوْلُ عَنِّیْ مُعْتَزِلًا
108
تو تدبیر مجھ سے کنارا کش
108
وَلَكَانَتِ الْقُوَّةُ مِنِّیْ بَعِیدَةً
109
اور قوت مجھ سے دور رہتی
109
فَغَذَوْتَنِیْ بِفَضْلِكَ غِذَآءَ الْبَرِّ اللَّطِیْفِ
110
مگر تو نے اپنے فضل و احسان سے ایک شفیق و مہربان کی طرح میری پرورش کا اہتمام کیا
110
تَفْعَلُ ذٰلِكَ بِیْ تَطَوُّلًا عَلَیَّ اِلٰى غَایَتِیْ هٰذِهٖ
111
جس کا تیرے فضل بے پایاں کی بدولت اس وقت تک سلسلہ جاری ہے
111
لَاۤ اَعْدَمُ بِرَّكَ
112
کہ نہ تیرے حسن سلوک سے کبھی محروم رہا
112
وَلَا یُبْطِئُ بِیْ حُسْنُ صَنِیْعِكَ
113
اور نہ تیرے احسانات میں کبھی تاخیر ہوئی
113
وَلَا تَتَاَكَّدُ مَعَ ذٰلِكَ ثِقَتِیْ
114
لیکن اس کے باوجود یقین و اعتماد قوی نہ ہوا
114
فَاَتَفَرَّغَ لِمَا هُوَ اَحْظٰى لِیْ عِنْدَكَ
115
کہ میں صرف اسی کام کیلئے وقف ہو جاتا جو تیرے نزدیک میرے لیے زیادہ سو مند ہے،
115
قَدْ مَلَكَ الشَّیْطٰنُ عِنَانِیْ
116
(اس بے یقینی کا سبب یہ ہے کہ) میری باگ شیطان کے ہاتھ میں ہے
116
فِیْ سُوْٓءِ الظَّنِّ وَضَعْفِ الْیَقِیْنِ
117
بدگمانی اور کمزوریٔ یقین کے سلسلہ میں
117
فَاَنَاۤ اَشْكُوْ سُوْٓءَ مُجَاوَرَتِهٖ لِیْ
118
اس لیے میں اُس کی بد ہمسائیگی کا شکوہ کرتا ہوں
118
وَطَاعَةَ نَفْسِیْ لَهٗ
119
اور اپنے نفس کی اُس کے لیے فرمانبرداری کا
119
وَاَسْتَعْصِمُكَ مِنْ مَّلَكَتِهٖ
120
اور اُس کے تسلط سے تیرے دامن میں حفظ و نگہداشت کا طالب ہوں
120
وَاَتَضَرَّعُ اِلَیْكَ فِیْ صَرْفِ كَیْدِهٖ عَنِّیْ
121
اور تجھ سے عاجزی کے ساتھ التجا کرتا ہوں کہ اس کے مکر و فریب کا رخ مجھ سے موڑ دے
121
وَاَسْئَلُكَ فِیْۤ اَنْ تُسَهِّلَ اِلٰى رِزْقِیْ سَبِیْلًا۔
122
اور تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میری روزی کی آسان سبیل پیدا کر دے۔
122
فَلَكَ الْحَمْدُ عَلَى ابْتِدَآئِكَ بِالنِّعَمِ الْجِسَامِ
123
تیرے ہی لیے حمد و ستائش ہے کہ تو نے از خود بلند پایہ نعتیں عطا کیں
123
وَاِلْهَامِكَ الشُّكْرَ عَلَى الْاِحْسَانِ وَالْاِنْعَامِ
124
اور احسان و انعام پر (دل میں) شکر کا القاء کیا
124
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
125
تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
125
وَسَهِّلْ عَلَیَّ رِزْقِیْ
126
اور میرے لیے روزی کو سہل و آسان کر دے
126
وَاَنْ تُقَنِّعَنِیْ بِتَقْدِیْرِكَ لِیْ
127
اور جو اندازہ میرے لیے مقرر کیا ہے اس پر قناعت کی توفیق دے
127
وَاَنْ تُرْضِیَنِیْ بِحِصَّتِیْ فِیْمَا قَسَمْتَ لِیْ
128
اور جو حصہ میرے لیے معین کیا ہے اس پر مجھے راضی کر دے
128
وَاَنْ تَجْعَلَ مَا ذَهَبَ مِنْ جِسْمِیْ وَعُمُرِیْ
129
اور جو جسم کام میں آ چکا اور جو عمر گزر چکی ہے
129
فِیْ سَبِیْلِ طَاعَتِكَ
130
اسے اپنی اطاعت کی راہ میں محسوب فرما
130
اِنَّكَ خَیْرُ الرَّازِقِیْنَ۔
131
بلاشبہ تو اسباب رزق مہیا کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔
131
اَللّٰهُمَّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ نَّارٍ
132
بار الٰہا! میں اس آگ سے پناہ مانگتا ہوں
132
تَغَلَّظْتَ بِهَا عَلٰى مَنْ عَصَاكَ
133
جس کے ذریعہ تو نے اپنے نافرمانوں کی سخت گرفت کی ہے
133
وَتَوَعَّدْتَّ بِهَا مَنْ صَدَفَ عَنْ رِضَاكَ
134
اور جس سے تو نے ان لوگوں کو جنہوں نے تیری رضا و خوشنودی سے رخ موڑ لیا ڈرایا دھمکایا ہے
134
وَمِنْ نَّارٍ نُّوْرُهَا ظُلْمَةٌ
135
اور اس آتش جہنم سے پناہ مانگتا ہوں جس میں روشنی کے بجائے اندھیرا
135
وَهَیِّنُهَاۤ اَلِیْمٌ
136
جس کا خفیف لپکا بھی انتہائی تکلیف دہ
136
وَبَعِیْدُهَا قَرِیْبٌ
137
اور جو کوسوں دور ہونے کے باوجود (گرمی و تپش کے لحاظ سے) قریب ہے
137
وَمِنْ نَّارٍ یَّاْكُلُ بَعْضَهَا بَعْضٌ
138
اور اس آگ سے پناہ مانگتا ہوں جو آپس میں ایک دوسرے کو کھا لیتی ہے
138
وَیَصُوْلُ بَعْضُهَا عَلٰى بَعْضٍ
139
اور ایک دوسرے پر حملہ آور ہوتی ہے
139
وَمِنْ نَّارٍ تَذَرُ الْعِظَامَ رَمِیْمًا
140
اور اس آگ سے پناہ مانگتا ہوں جو ہڈیوں کو خاکستر کر دے گی
140
وَتَسْقِیْۤ اَهْلَهَا حَمِیْمًا
141
اور دوزخیوں کو کھولتا ہوا پانی پلائے گی
141
وَمِنْ نَّارٍ لَّا تُبْقِیْ عَلٰى مَنْ تَضَرَّعَ اِلَیْهَا
142
اور اس آگ سے کہ جو اس کے آگے گڑ گڑائے گا اس پر ترس نہیں کھائے گی
142
وَلَا تَرْحَمُ مَنِ اسْتَعْطَفَهَا
143
اور جو اس سے رحم کی التجا کرے گا اس پر رحم نہیں کرے گی
143
وَلَا تَقْدِرُ عَلَى التَّخْفِیْفِ
144
اور اسے کسی طرح کی تخفیف کا اسے اختیار نہیں ہو گا
144
عَمَّنْ خَشَعَ لَهَا وَاسْتَسْلَمَ اِلَیْهَا
145
جو اس کے سامنے فروتنی کرے گا اور خود کو اس کے حوالے کر دے گا اس پر [بھی]
145
تَلْقٰى سُكَّانَهَا بِاَحَرِّ مَا لَدَیْهَا
146
وہ شعلہ سامانیوں کے ساتھ اپنے رہنے والوں کا سامنا کرے گی
146
مِنْ اَلِیْمِ النَّكَالِ وَشَدِیْدِ الْوَبَالِ‏۔
147
دردناک عذاب اور شدید عقاب کی۔
147
وَاَعُوْذُ بِكَ مِنْ عَقَارِبِهَا الْفَاغِرَةِ اَفْوَاهُهَا
148
(بار الٰہا!) میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں جہنم کے بچھوؤں سے جن کے منہ کھلے ہوئے ہوں گے
148
وَحَیَّاتِهَا الصَّالِقَةِ بِاَنْیَابِهَا
149
اور ان سانپوں سے جو دانتوں کو پیس پیس کر پھنکار رہے ہوں گے
149
وَشَرَابِهَا الَّذِیْ یُقَطِّعُ اَمْعَآءَ وَاَفْئِدَةَ سُكَّانِهَا
150
اور اس کے کھولتے ہوئے پانی سے جو انتڑیوں اور دلوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے گا
150
وَیَنْزِعُ قُلُوْبَهُمْ
151
اور (سینوں کو چیر کر ) دلوں کو نکال لے گا۔
151
وَاَسْتَهْدِیْكَ لِمَا بَاعَدَ مِنْهَا وَاَخَّرَ عَنْهَا۔
152
خدایا! میں تجھ سے توفیق مانگتا ہوں ان باتوں کی جو اس آگ سے دور کریں اور اسے پیچھے ہٹا دیں۔
152
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
153
خداوندا ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
153
وَاَجِرْنِیْ مِنْهَا بِفَضْلِ رَحْمَتِكَ
154
اور مجھے اپنی رحمت فراواں کے ذریعہ اس آگ سے پناہ دے
154
وَاَقِلْنِیْ عَثَرَاتِیْ بِحُسْنِ اِقَالَتِكَ
155
اور حسن درگزر سے کام لیتے ہوئے میری لغزشوں کو معاف کر دے
155
وَلَا تَخْذُلْنِیْ، یَا خَیْرَ الْمُجِیْرِیْنَ۔
156
اور مجھے محروم و ناکام نہ کر اے پناہ دینے والوں میں سب سے بہتر پناہ دینے والے۔
156
اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ تَقِی الْكَرِیْهَةَ
157
خدایا تو سختی و مصیبت سے بچاتا
157
وَتُعْطِی الْحَسَنَةَ
158
اور اچھی نعمتیں عطا کرتا
158
وَتَفْعَلُ مَا تُرِیْدُ
159
اور جو چاہے وہ کرتا ہے
159
وَاَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْ‏ءٍ قَدِیْرٌ۔
160
اور تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
160
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ اِذَا ذُكِرَ الْاَبْرَارُ
161
اے اللہ! جب بھی نیکو کاروں کا ذکر آئے تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
161
وَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
162
اور تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
162
مَا اخْتَلَفَ اللَّیْلُ وَالنَّهَارُ
163
جب تک شب و روز کے آنے جانے کا سلسلہ قائم رہے
163
صَلٰوةً لَّا یَنْقَطِعُ مَدَدُهَا
164
ایسی رحمت جس کا ذخیرہ ختم نہ ہو
164
وَلَا یُحْصٰى عَدَدُهَا
165
اور جس کی گنتی شمار نہ ہو سکے
165
صَلَاةً تَشْحَنُ الْهَوَآءَ
166
ایسی رحمت جو فضائے عالم کو پر کر دے
166
وَتَمْلَاُ الْاَرْضَ وَالسَّمَآءَ۔
167
اور زمین و آسمان کو بھر دے۔
167
صَلَّى اللّٰهُ عَلَیْهِ حَتّٰى یَرْضٰى
168
خدا ان پر رحمت نازل کرے اس حد تک کہ وہ خوشنود ہو جائیں
168
وَصَلَّى اللّٰهُ عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ بَعْدَ الرِّضَا
169
اور خوشنودی کے بعد بھی انؐ پر اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل کرتا رہے
169
صَلَاةً لَّا حَدَّ لَهَا وَلَا مُنْتَهٰى
170
ایسی رحمت جس کی نہ کوئی حد ہو اور نہ کوئی انتہا
170
یَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔
171
اے تمام رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
171

اس دعا کو نماز شب کے بعد پڑھنا چاہیے۔ نمازِ شب کا اطلاق کبھی آٹھ رکعتوں پر ہوتا ہے اور کبھی شفع و وِتر کی نمازوں کو ملا کر گیارہ رکعتوں پر اور کبھی نافلۂ صبح کو بھی ان کے ساتھ ملا کر تیرہ رکعتوں پر۔ علامہ سید علی خانؒ نے تحریر فرمایا ہے کہ شیخ الطائفہ شیخ ابو جعفر طوسیؒ نے ”مصباح“ میں اور شیخ بہاؤ الدین عاملی نے ”مفتاح“ میں لکھا ہے کہ اسے تیرہ رکعتوں کے بعد پڑھنا چاہیے. اور کفعمی رحمہ اللہ نے اس دعا کو نقل کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اسے گیارہ رکعتوں کے بعد پڑھنا چاہیے ۱۔ بہرحال خواہ تیرہ رکعتوں کے بعد پڑھے یا گیارہ رکعتوں کے یا آٹھ رکعتوں کے، تینوں صورتوں میں اسے پڑھا جا سکتا ہے۔

نماز شب کا آسان و مختصر طریقہ یہ ہے کہ نصف شب کے بعد دو دو رکعت کر کے آٹھ نوافل پڑھے۔ پہلی رکعت میں حمد اور سورۃ توحید اور دوسری رکعت میں حمد اور سورۃ قل یا ایھا الکافرون یا سورۃ توحید پڑھے اور دوسری رکعتوں میں حمد اور جو سورہ چاہے پڑھے، اور ہر دوسری رکعت میں قبل رکوع قنوت پڑھے جس میں تین مرتبہ سبحان اللہ کہہ لینا کافی ہے۔ اس کے بعد دو رکعت نماز شفع پڑھے اور دونوں رکعتوں میں سورۃ حمد کے بعد سورہ توحید پڑھے۔ نماز شفع کے بعد ایک رکعت نماز وتر پڑھے اور اس میں بھی سورہ حمد و سورہ توحید پڑھے اور قبل رکوع قنوت بھی پڑھے اور مستحب ہے کہ قنوت میں چالیس افراد کیلئے نام بنام دعا مانگے اور پھر رکوع و سجود و تشہد کے بعد نماز تمام کرے اور بعد ختم نماز تسبیح حضرت زہرا سلام اللہ علیہا پڑھے۔

نماز شب کا وقت اگرچہ نصف شب کے بعد شروع ہو جاتا ہے، مگر جس قدر صبح صادق کے قریب ہو اتنا بہتر ہے اور اگر کوئی عذر مانع ہو تو نصف شب سے پہلے بھی پڑھی جا سکتی ہے، لیکن اس سے بہتر یہ ہے کہ بعد میں بہ نیت قضا پڑھے، اور اگر طلوع صبح صادق سے پہلے چار رکعت پڑھ چکا ہو تو پھر بقیہ رکعتیں بھی ادا کر لے اور اس صورت میں صرف سورۂ حمد پر اکتفا کرے۔

ریاض السالکین، ج ۵ ص ۱۱