(۴) وَكَانَ مِنْ دُعَآئِهٖ عَلَیْهِ السَّلَامُ فِی الصَّلَاةِ عَلٰۤى اَتْبَاعِ الرُّسُلِ وَ مُصَدِّقِیهِمْ۔ دُعا (۴) انبیاء علیہم السلام کے تابعین اور ان پر ایمان لانے والوں کے حق میں حضرتؑ کی دُعا:
حضرتؑ نے اس دُعا میں صحابہ و تابعین بالاحسان اور سابقین بالایمان کیلئے کلماتِ ترحم ارشاد فرمائے ہیں اور حسبِ ارشادِ الٰہی کہ اہلِ ایمان گزرے ہوئے عہد کے مومنین کیلئے دُعا کرتے ہوئے کہتے ہیں: رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِاِخْوَانِنَا الَّذِيْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِيْمَانِ ”اے ہمارے پروردگار! تو ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ایمان لانے میں ہم سے سبقت لے گئے“، ان کیلئے دعائے عفو و مغفرت فرماتے ہیں۔
امام علیہ السلام کے طرزِ عمل اور اس آیۂ قرآنی سے ہمیں یہ درس حاصل ہوتا ہے کہ جو مومنین رحمتِ الٰہی کے جوار میں پہنچ چکے ہیں ان کیلئے ہماری زبان سے کلماتِ ترحّم نکلیں اور ان کی سبقت ایمانی کے پیشِ نظر ان کیلئے دعائے مغفرت کریں۔ اور یہ حقیقت بھی واضح ہو جاتی ہے کہ ایمان میں سبقت حاصل کرنا بھی فضیلت کا ایک بڑا درجہ ہے تو اس لحاظ سے سبقت لے جانے والوں میں سب سے زیادہ فضیلت کا حامل وہ ہو گا جو ان سب سے سابق ہو اور یہ مسلّمہ امر ہے کہ سب سے پہلے ایمان میں سبقت کرنے والے امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام تھے۔ چنانچہ ابن عبد البر مکّی نے تحریر کیا ہے: اَوَّلُ مَنْ اٰمَنَ بِاللهِ بَعْدَ رَسُوْلِ اللهِﷺ عَلِیِّ بْنِ اَبِیْ طَالِبٍؑ رسول اللہﷺ کے بعد جو سب سے پہلے اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا وہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام تھے۔(استیعاب، ج۲، ص۴۵۹)
اسی بناء پر عبد اللہ ابن عباس فرمایا کرتے تھے کہ:\n فَرَضَ اللّٰهُ تَعَالَى الاِسْتِغْفَارَ لِعَلِیٍّ فِی الْقُرْاٰنِ عَلٰى كُلِّ مُسْلِمٍ بِقَوْلِهٖ تَعَالٰى: یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ، فَكُلُّ مَنْ اَسْلَمَ بَعْدَ عَلِیٍ فَهُوَ يَسْتَغْفِرُ لِعَلِیٍّؑ
خداوند عالم نے اپنے ارشاد: ”اے ہمارے پروردگار! تُو ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو جو ایمان میں ہم سے سابق تھے بخش دے“ کی رُو سے ہر مسلمان پر اپنے کلام میں یہ فریضہ عائد کر دیا ہے کہ وہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کیلئے دعائے مغفرت و رحمت کرتا رہے۔ لہٰذا ہر وہ شخص جو علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے بعد ایمان لائے وہ آپؑ کے حق میں دُعائے مغفرت کرے۔ (شرح ابن ابی الحدید، ج۳، ص۲۵۶)
بہرحال جن صحابہ اور سابقین بالایمان کا اس دُعا میں تذکرہ ہے یہ وہ اصحاب تھے جنہوں نے ہر مرحلہ پر فداکاری کے جوہر دکھائے، باطل کی طاغوتی قوتوں کے سامنے سینہ سپر رہے، رسولؐ اللہ کے اسوۂ حسنہ کے سانچے میں اپنی زندگیوں کو ڈھال کے دوسروں کیلئے منارِ ہدایت قائم کر گئے اور جادۂ حق کی نشاندہی اور اسلام کی صحیح تعلیمات کی طرف رہنمائی کرتے رہے، دین کی خاطر ہر قربانی پر آمادہ نظر آئے، قوم قبیلے کو چھوڑا، بیوی بچوں سے منہ موڑا، گھر سے بے گھر ہوئے، جنگ کی شعلہ فشانیوں میں تلواروں کے وار سہے اور صبر و استقلال کے ساتھ دشمن کے مقابلہ میں جم کر لڑے، جس سے اسلام ان کا رہین منّت اور اہلِ اسلام ان کے زیر احسان ہیں۔ کیا سلمان، ابوذر، مقداد، عمار ابن یاسر، خباب ابن ارت، بلال ابن رباح، قیس ابن سعد، جاریہ ابن قدامہ، حجر ابن عدی، حذیفہ ابن الیمان، حنظلہ ابن نعمان، خزیمہ ابن ثابت، احنف ابن قیس، عمرو ابن الحمق، عثمان ابن حنیف ایسے جلیل القدر صحابہ کو اہلِ اسلام فراموش کر سکتے ہیں جن کی جاں فروشانہ خدمات کے تذکروں سے تاریخ کا دامن چھلک رہا ہے۔
یہ ظاہر ہے کہ یہ دُعا عہد نبویؐ کے تمام مسلمانوں کو شامل نہیں ہے، کیونکہ:
ان میں ایسے بھی تھے جو بنصِ قرآنی فاسق تھے، جیسے ولید ابن عقبہ۔
ایسے بھی تھے جنہیں پیغمبرؐ نے فتنہ پروری و شرانگیزی کی وجہ سے شہر بدر کر دیا تھا جیسے حکم ابن عاص اور اس کا بیٹا مروان۔
ایسے بھی تھے جنہوں نے محض حصولِ اقتدار و طلبِ جاہ کیلئے اہلِ بیتؐ رسول سے جنگیں کیں، جیسے معاویہ، عمرو ابن عاص، بسر ابن ابی ارطاۃ، حبیب ابن مسلمہ، عمر ابن سعد وغیرہ۔
ایسے بھی تھے جو پیغمبرؐ کو مسجد میں تنہا چھوڑ کر الگ ہو جاتے تھے۔ چنانچہ ارشادِ باری ہے: وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَۃً اَوْ لَہْوًا انْفَضُّوْٓا اِلَيْہَا وَتَرَكُوْكَ قَاىِٕمًا یہ وہ ہیں کہ جب کوئی تجارت یا بیہودگی کی بات دیکھتے ہیں تو اس کی طرف ٹوٹ پڑتے ہیں اور تم کو کھڑا ہوا چھوڑ جاتے ہیں۔
اور ایسے بھی تھے جن کے دماغوں میں جاہلیت کی بو بسی ہوئی تھی اور پیغمبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد اپنی سابقہ سیرت کی طرف پلٹ گئے۔ چنانچہ محمد ابن اسماعیل بخاری یہ حدیث تحریر کرتے ہیں:\n قَالَ: يَرِدُ عَلَیَّ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ رَهْطٌ مِّنْ اَصْحَابِیْ فَيُحَلَّئُوْنَ عَنِ الْحَوْضِ فَاَقُوْلُ: يَا رَبِّ اَصْحَابِیْ فَيَقُوْلُ: اِنَّكَ لَا عِلْمَ لَكَ بِمَاۤ اَحْدَثُوْا بَعْدَكَ، اِنَّهُمُ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمُ الْقَهْقَرٰى
فرمایا کہ قیامت کے دن میرے اصحاب کی ایک جماعت میرے پاس آئے گی جسے حوضِ کوثر سے ہٹا دیا جائے گا۔ میں اس موقع پر کہوں گا کہ اے میرے پروردگار! یہ تو میرے اصحاب ہیں، ارشاد ہو گا کہ: تمہیں خبر نہیں ہے کہ انہوں نے تمہارے بعد دین میں کیا کیا بدعتیں پیدا کیں۔ یہ تو الٹے پاؤں اپنے سابقہ مذہب کی طرف پلٹ گئے تھے۔ (صحیح بخاری، باب الحوض)
ان حالات میں ان سب کے متعلق یکساں حسن عقیدت رکھنا اور ان سب کو ایک سا عادل قرار دے لینا، ایک تقلیدی عقیدت کا نتیجہ تو ہو سکتا ہے مگر واقعات و حقائق کی روشنی میں پرکھنے کے بعد اس عقیدہ پر برقرار رہنا بہت مشکل ہے۔ آخر ایک ہوشمند انسان یہ سوچنے پر مجبور ہو گا کہ پیغمبرؐ کے رحلت فرماتے ہی یہ ایک دم انقلاب کیسے رونما ہو گیا کہ اُن کی زندگی میں تو اُن کے مراتب و درجات میں امتیاز ہو اور اب سب کے سب ایک سطح پر آ کر عادل قرار پا جائیں اور انہیں ہر طرح کے نقد و جرح سے بالاتر سمجھتے ہوئے اپنی عقیدت کا مرکز بنا لیا جائے، آخر کیوں؟
بیشک بیعتِ رضوان کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اُن کے متعلق اپنی خوشنودی کا اظہار کیا۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: لَقَدْ رَضِيَ اللہُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ "جس وقت ایمان لانے والے تم سے درخت کے نیچے بیعت کر رہے تھے تو خُدا ان کی اس بات سے ضرور خوش ہوا"۔ تو اس ایک بات سے خوشنود ہونے کے معنی یہ نہیں ہوں گے کہ بس اب ان کا ہر عمل اور ہر اقدام رضامندی ہی کا ترجمان ہو گا اور اب وہ جو چاہیں کریں یہ خوشنودی اُن کے شریک حال ہی رہے گی۔ اور پھر یہ کہ خداوند عالم نے اس آیت میں اپنی رضامندی کو صرف بیعت سے وابستہ نہیں کیا بلکہ بیعت اور ایمان دونوں کے مجموعے سے وابستہ کیا ہے۔ لہٰذا یہ رضامندی صرف اُن سے متعلق ہو گی جو دل سے ایمان لائے ہوں۔ اور اگر کوئی منافقت کے ساتھ اظہارِ اسلام کر کے بیعت کرے تو اس سے رضامندی کا تعلق ثابت نہیں ہو گا۔ اور پھر جہاں یہ رضامندی ثابت ہو وہاں یہ کہاں ضروری ہے کہ وہ باقی و برقرار بھی رہے گی۔ کیونکہ یہ خوشنودی تو اس معاہدہ پر مبنی تھی کہ وہ دشمن کے مقابلہ میں پیغمبر اکرمؐ کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے اور جہاد کے موقع پر جم کر حریف کا مقابلہ کریں گے۔ تو اگر وہ اس معاہدہ کے تقاضوں کو نظر انداز کر کے میدان سے منہ موڑ لیں اور بیعت کے ماتحت کئے ہوئے قول و قرار کو پورا نہ کریں تو یہ خوشنودی کہاں باقی رہ سکتی ہے۔ اور واقعات یہ بتاتے ہیں کہ ان میں سے ایسے افراد بھی تھے جنہوں نے اس معاہدہ کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا اور حمایتِ پیغمبرؐ کے فریضہ کو نظرانداز کر دیا۔ چنانچہ جنگ حنین اس کی شاہد ہے کہ جو اسلام کی آخری جنگ تھی، اگرچہ اس کے بعد غزوۂ طائف و غزوۂ تبوک پیش آیا مگر ان غزووں میں جنگ کی نوبت نہیں آئی۔ اس آخری معرکہ میں مسلمانوں کی تعداد چار ہزار سے زیادہ تھی جو دشمن کی فوج سے کہیں زیادہ تھی۔ مگر اتنی بڑی فوج میں سے صرف سات آدمی نکلے جو میدان میں جمے رہے اور باقی دشمن کے مقابلہ میں میدان چھوڑ کر چلے گئے۔چنانچہ قرآن مجید میں ہے: وَضَاقَتْ عَلَيْكُمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ ثُمَّ وَلَّيْتُمْ مُّدْبِرِيْنَ زمین اپنی وُسعت کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی پھر تم پیٹھ پھرا کر چل دئیے۔
یہ کوئی اور نہ تھے بلکہ وہی لوگ تھے جو بیعتِ رضوان میں شریک تھے۔ چنانچہ پیغمبرؐ نے اس معاہدہ کا ذکر کرتے ہوئے عباس سے فرمایا:\n اُصْرُخْ بِالْمُهَاجِرِيْنَ الَّذِيْنَ بَايَعُوْا تَحْتَ الشَّجَرَةِ وَ بِالْاَنْصَارِ الَّذِيْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْا
ان درخت کے نیچے بیعت کرنے والے مہاجروں کو پکارو اور ان پناہ دینے والے اور مدد کرنے والے انصار کو للکارو۔ (خصائص سیوطی، ج۱، ص۲۷۰)
کیا اس موقع پر یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ اللہ کی خوشنودی ان کے شامل حال رہی ہو گی؟ ہرگز نہیں! کیونکہ وہ خوشنودی تو صرف معاہدہ سے وابستہ تھی اور جب اس معاہدہ کی پابندی نہ کی جا سکی تو خوشنودی کے کیا معنی۔ اور بیعتِ رضوان میں شامل ہونے والے بھی یہ سمجھتے تھے کہ اللہ کی خوشنودی بشرطِ استواری ہی باقی رہ سکتی تھی۔ چنانچہ محمد ابن اسماعیل بخاری تحریر کرتے ہیں:\n عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ اَبِيْهِ قَالَ: لَقِيْتُ الْبَرَآءَ بْنَ عَازِبٍ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمَا فَقُلْتُ: طُوْبٰى لَكَ صَحِبْتَ النَّبِیَّﷺ وَبَايَعْتَهٗ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ اَخِیْ! اِنَّكَ لَا تَدْرِیْ مَاۤ اَحْدَثْنَا بَعْدَهٗ
علاء ابن مسیّب اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا کہ میں نے براء ابن عازب سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ خوشا نصیب تمہارے کہ تم نبیؐ کی صحبت میں رہے اور درخت کے نیچے اُن کے ہاتھ پر بیعت کی۔ فرمایا کہ: اے برادر زادے! تم نہیں جانتے کہ ہم نے ان کے بعد کیا کیا بدعتیں پیدا کیں۔(صحیح بخاری، ج۳، ص۳۰)
لہٰذا نہ محض صحابیت کوئی دلیل عدالت ہے اور نہ بیعتِ رضوان سے اُن کی عدالت پر دلیل لائی جا سکتی ہے۔
سورۂ حشر، آیت ۱۰
سورۂ جمعہ، آیت ۱۱
سورۂ فتح، آیت ۱۸
سورۂ توبہ، آیت ۲۵