اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدَانَا لِحَمْدِهٖ
1
تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے جس نے اپنی حمد و سپاس کی طرف ہماری رہنمائی کی
1
وَجَعَلَنا مِنْ اَهْلِهٖ
2
اور ہمیں حمد گزاروں میں سے قرار دیا
2
لِنَكُوْنَ لِاِحْسَانِهٖ مِنَ الشَّاكِرِیْنَ
3
تاکہ ہم اس کے احسانات پر شکر کرنے والوں میں محسوب ہوں
3
وَلِیَجْزِیَنَا عَلٰى ذٰلِكَ جَزَآءَ الْمُحْسِنِیْنَ۔
4
اور ہمیں اس شکر کے بدلہ میں نیکو کاروں کا اجر دے۔
4
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ حَبَانَا بِدِیْنِهٖ
5
اس اللہ کیلئے حمد و ستائش ہے جس نے ہمیں اپنا دین عطا کیا
5
وَاخْتَصَّنَا بِمِلَّتِهٖ
6
اور اپنی ملت میں سے قرار دے کر امتیاز بخشا
6
وَسَبَّلَنا فِیْ سُبُلِ اِحْسَانِهٖ
7
اور اپنے لطف و احسان کی راہوں پر چلایا
7
لِنَسْلُكَهَا بِمَنِّهٖۤ اِلٰى رِضْوَانِهٖ
8
تاکہ ہم اس کے فضل و کرم سے ان راستوں پر چل کر اس کی خوشنودی تک پہنچیں
8
حَمْدًا یَّتَقَبَّلُهٗ مِنَّا
9
ایسی حمد جسے وہ قبول فرمائے
9
وَیَرْضٰى بِهٖ عَنَّا۔
10
اور جس کی وجہ سے ہم سے وہ راضی ہو جائے۔
10
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ جَعَلَ مِنْ تِلْكَ السُّبُلِ شَهْرَهٗ
11
تمام تعریف اس اللہ کیلئے ہے جس نے اپنے لطف و احسان کے راستوں میں سے ایک راستہ اپنے مہینہ کو قرار دیا
11
شَهْرَ رَمَضَانَ، شَهْرَ الصِّیَامِ
12
یعنی رمضان کا مہینہ، صیام کا مہینہ
12
وَشَهْرَ الْاِسْلَامِ، وَشَهْرَ الطَّهُوْرِ
13
اسلام کا مہینہ، پاکیزگی کا مہینہ
13
وَشَهْرَ التَّمْحِیْصِ، وَشَهْرَ الْقِیَامِ
14
تصفیہ و تطہیر کا مہینہ، عبادت و قیام کا مہینہ
14
الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًى لِّلنَّاسِ
15
وہ مہینہ جس میں قرآن نازل ہوا جو لوگوں کیلئے رہنما ہے،
15
وَبَیِّناتٍ مِّنَ الْهُدٰى وَالْفُرْقانِ۔
16
ہدایت اور حق و باطل کے امتیاز کی روشن صداقتیں رکھتا ہے۔
16
فَاَبَانَ فَضِیْلَتَهٗ عَلٰى سَآئِرِ الشُّهُوْرِ
17
چنانچہ تمام مہینوں پر اس کی فضیلت و برتری کو آشکارا کیا
17
بِمَا جَعَلَ لَهٗ مِنَ الْحُرُمَاتِ الْمَوْفُوْرَةِ وَالْفَضَآئِلِ الْمَشْهُوْرَةِ
18
ان فراواں عزتوں اور نمایاں فضیلتوں کی وجہ سے جو اس کیلئے قرار دیں
18
فَحَرَّمَ فِیْهِ مَاۤ اَحَلَّ فِیْ غَیْرِهٖ اِعْظَامًا
19
اور اس کی عظمت کے اظہار کیلئے جو چیزیں دوسرے مہینوں میں جائز کی تھیں اس میں حرام کر دیں
19
وَحَجَرَ فِیْهِ الْمَطَاعِمَ وَالْمَشَارِبَ اِكْرَامًا
20
اور اس کے احترام کے پیش نظر کھانے پینے کی چیزوں سے منع کر دیا
20
وَجَعَلَ لَهٗ وَقْتًا بَیِّنًا
21
اور ایک واضح زمانہ اس کیلئے معین کر دیا
21
لَا یُجِیْزُ جَلَّ وَعَزَّ اَنْ یُّقَدَّمَ قَبْلَهٗ
22
خدائے بزرگ و برتر یہ اجازت نہیں دیتا کہ اسے اس کے معینہ وقت سے آگے بڑھا دیا جائے
22
وَلَا یَقْبَلُ اَنْ یُؤَخَّرَ عَنْهُ۔
23
اور نہ یہ قبول کرتا ہے کہ اس سے مؤخر کر دیا جائے۔
23
ثُمَّ فَضَّلَ لَیْلَةً وَّاحِدَةً مِّنْ لَّیَالِیْهِ عَلٰى لَیَالِیْۤ اَلْفِ شَهْرٍ
24
پھر یہ کہ اس کی راتوں میں سے ایک رات کو ہزار مہینوں کی راتوں پر فضیلت دی
24
وَسَمَّاهَا لَیْلَةَ الْقَدْرِ
25
اور اس کا نام ”شب قدر“ رکھا
25
تَنَزَّلُ الْمَلٰٓئِكَةُ وَالرُّوْحُ فِیْهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ
26
اس رات میں فرشتے اور روح القدس نازل ہوتے ہیں ہر امر کے ساتھ
26
سَلَامٌ دَآئِمُ الْبَرَكَةِ اِلٰى طُلُوْعِ الْفَجْرِ
27
وہ رات سراسر سلامتی کی رات ہے جس کی برکت طلوع فجر تک دائم و برقرار ہے
27
عَلٰى مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ
28
[فرشتوں کا نزول] اس کے بندوں میں سے جس پر وہ چاہتا ہے [ہوتا ہے]
28
بِمَاۤ اَحْكَمَ مِنْ قَضَآئِهٖ۔
29
[اور اس کا امر] اس کا قطعی فیصلہ ہوتا ہے۔
29
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
30
اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
30
وَاَلْهِمْنَا مَعْرِفَةَ فَضْلِهٖ
31
اور ہمیں ہدایت فرما کہ ہم اس مہینہ کے فضل و شرف کو پہچانیں
31
وَاِجْلَالَ حُرْمَتِهٖ
32
اس کی عزت و حرمت کو بلند جانیں
32
وَالتَّحَفُّظَ مِمَّا حَظَرْتَ فِیْهِ
33
اور اس میں ان چیزوں سے جن سے تو نے منع کیا ہے اجتناب کریں
33
وَاَعِنَّا عَلٰى صِیَامِهٖ
34
اور ہماری اعانت فرما اس کے روزے رکھنے میں
34
بِكَفِّ الْجَوَارِحِ عَنْ مَّعَاصِیْكَ
35
ہمارے اعضاء کو نافرمانیوں سے روکنے میں
35
وَاسْتِعْمَالِهَا فِیْهِ بِمَا یُرْضِیْكَ
36
اور ان کاموں میں مصروف رکھنے سے جو تیری خوشنودی کا باعث ہوں
36
حَتّٰى لَا نُصْغِیَ بِاَسْمَاعِنَاۤ اِلٰى لَغْوٍ
37
تاکہ ہم نہ بیہودہ باتوں کی طرف کان لگائیں
37
وَلَا نُسْرِعَ بِاَبْصَارِنَاۤ اِلٰى لَهْوٍ
38
نہ فضول چیزوں کی طرف بے محابا نگاہیں اٹھائیں
38
وَحَتّٰى لَا نَبْسُطَ اَیْدِیَنَاۤ اِلٰى مَحْظُوْرٍ
39
نہ حرام کی طرف ہاتھ بڑھائیں
39
وَلَا نَخْطُوَ بِاَقْدَامِنَاۤ اِلٰى مَحْجُوْرٍ
40
نہ امر ممنوع کی طرف پیش قدمی کریں
40
وَحَتّٰى لَا تَعِیَ بُطُوْنُنَاۤ اِلَّا مَاۤ اَحْلَلْتَ
41
نہ تیری حلال کی ہوئی چیزوں کے علاوہ کسی چیز کو ہمارے شکم قبول کریں
41
وَلَا تَنْطِقَ اَلْسِنَتُنَاۤ اِلَّا بِمَا مَثَّلْتَ
42
اور نہ تیری بیان کی ہوئی باتوں کے سوا ہماری زبانیں گویا ہوں
42
وَلَا نَتَكَلَّفَ اِلَّا مَا یُدْنِیْ مِنْ ثَوَابِكَ
43
صرف ان چیزوں کے بجا لانے کا بار اٹھائیں جو تیرے ثواب سے قریب کریں
43
وَلَا نَتَعَاطٰۤى اِلَّا الَّذِیْ یَقِیْ مِنْ عِقَابِكَ
44
اور صرف ان کاموں کو انجام دیں جو تیرے عذاب سے بچا لے جائیں
44
ثُمَّ خَلِّصْ ذٰلِكَ كُلَّهٗ مِنْ رِئَآءِ الْمُرَآءِیْنَ
45
پھر ان تمام اعمال کو پاک کر دے ریاکاروں کی ریاکاری سے
45
وَسُمْعَةِ الْمُسْمِعِیْنَ
46
اور شہرت پسندوں کی شہرت پسندی سے
46
لَا نُشْرِكُ فِیْهِۤ اَحَدًا دُوْنَكَ
47
اس طرح کہ تیرے علاوہ کسی کو ان میں شریک نہ کریں
47
وَلَا نَبْتَغِیْ فِیْهِ مُرَادًا سِوَاكَ۔
48
اور تیرے سوا کسی سے کوئی مطلب نہ رکھیں۔
48
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
49
اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
49
وَقِفْنَا فِیْهِ عَلٰى مَوَاقِیْتِ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ
50
اور ہمیں اس میں آگاہ فرما نماز ہائے پنچگانہ کے اوقات سے
50
بِحُدُوْدِهَا الَّتِیْ حَدَّدْتَّ
51
ان حدود کے ساتھ جو تو نے معین کئے ہیں
51
وَفُرُوْضِهَا الَّتِیْ فَرَضْتَ
52
اور ان واجبات کے ساتھ جو تو نے عائد کئے ہیں
52
وَوَظَآئِفِهَا الَّتِیْ وَظَّفْتَ
53
اور ان آداب کے ساتھ جو تو نے قرار دئیے ہیں
53
وَاَوْقَاتِهَا الَّتِیْ وَقَّتَّ
54
اور ان لمحات کے ساتھ جو تو نے مقرر کئے ہیں۔
54
وَاَنْزِلْنَا فِیْهَا مَنْزِلَةَ الْمُصِیْبِیْنَ لِمَنَازِلِهَا
55
اور ہمیں ان نمازوں میں ان لوگوں کے مرتبہ پر فائز کر جو ان نمازوں کے درجات عالیہ حاصل کرنے والے
55
الْحَافِظِیْنَ لِاَرْكَانِهَا
56
ان کے واجبات کی نگہداشت کرنے والے
56
الْمُؤَدِّیْنَ لَهَا فِیْۤ اَوْقَاتِهَا
57
اور انہیں ان کے اوقات میں
57
عَلٰى مَا سَنَّهٗ عَبْدُكَ وَرَسُوْلُكَ صَلَوَاتُكَ عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ
58
اسی طریقہ پر جو تیرے عبد خاص اور رسولؐ نے جاری کیا تھا
58
فِیْ رُكُوْعِهَا وَسُجُوْدِهَا وَجَمِیْعِ فَوَاضِلِهَا
59
جو رکوع و سجود اور ان کے تمام فضیلت و برتری کے پہلوؤں میں
59
عَلٰۤى اَتَمِّ الطَّهُورِ وَاَسْبَغِهٖ
60
کامل اور پوری پاکیزگی کے ساتھ
60
وَاَبْیَنِ الْخُشُوْعِ وَاَبْلَغِهٖ۔
61
اور نمایاں و مکمل خشوع و فروتنی کے ساتھ ادا کرنے والے ہیں۔
61
وَوَفِّقْنَا فِیْهِ لِاَنْ نَّصِلَ اَرْحَامَنَا بِالْبِرِّ وَالصِّلَةِ
62
اور ہمیں اس مہینہ میں توفیق دے کہ نیکی و احسان کے ذریعہ عزیزوں کے ساتھ صلہ رحمی
62
وَاَنْ نَّتَعَاهَدَ جِیْرَانَنَا بِالْاِفْضَالِ وَالْعَطِیَّةِ
63
اور انعام و بخشش سے ہمسایوں کی خبر گیری کریں
63
وَاَنْ نُّخَلِّصَ اَمْوَالَنا مِنَ التَّبِعَاتِ
64
اور اپنے اموال کو مظلوموں سے پاک و صاف کریں
64
وَاَنْ نُّطَهِّرَهَا بِاِخْرَاجِ الزَّكَوَاتِ
65
اور زکوٰۃ دے کر انہیں پاکیزہ و طیب بنا لیں
65
وَاَنْ نُّرَاجِعَ مَنْ هَاجَرَنَا
66
اور یہ کہ جو ہم سے علیحدگی اختیار کرے اس کی طرف دستِ مصالحت بڑھائیں
66
وَاَنْ نُّنْصِفَ مَنْ ظَلَمَنَا
67
جو ہم پر ظلم کرے اس سے انصاف برتیں
67
وَاَنْ نُّسَالِمَ مَنْ عَادَانَا
68
جو ہم سے دشمنی کرے اس سے صلح و صفائی کریں
68
حَاشٰى مَنْ عُوْدِیَ فِیْكَ وَلَكَ
69
سوائے اس کے جس سے تیرے لیے اور تیری خاطر دشمنی کی گئی ہو
69
فَاِنَّهُ الْعَدُوُّ الَّذِیْ لَا نُوَالِیْهِ
70
کیونکہ وہ ایسا دشمن ہے جسے ہم دوست نہیں رکھ سکتے
70
وَالْحِزْبُ الَّذِیْ لَا نُصَافِیْهِ۔
71
اور ایسے گروہ کا (فرد) ہے جس سے ہم صاف نہیں ہو سکتے۔
71
وَاَنْ نَتَقَرَّبَ اِلَیْكَ فِیْهِ مِنَ الْاَعْمَالِ الزَّاكِیَةِ
72
اور ہمیں اس مہینہ میں ایسے پاک و پاکیزہ اعمال کے وسیلہ سے تقرب حاصل کرنے کی توفیق دے
72
بِمَا تُطَهِّرُنَا بِهٖ مِنَ الذُّنُوْبِ
73
جن کے ذریعہ تو ہمیں گناہوں سے پاک کر دے
73
وَتَعْصِمُنَا فِیْهِ مِمَّا نَسْتَاْنِفُ مِنَ الْعُیُوْبِ
74
اور از سر نو برائیوں کے ارتکاب سے بچالے جائے
74
حَتّٰى لَا یُوْرِدَ عَلَیْكَ اَحَدٌ مِّنْ مَّلٰٓئِكَتِكَ
75
یہاں تک کہ فرشتے تیری بارگاہ میں جو اعمال نامے پیش کریں
75
اِلَّا دُوْنَ مَا نُوْرِدُ مِنْ اَبْوَابِ الطَّاعَةِ لَكَ
76
وہ سبک ہوں ہماری ہر قسم کی اطاعتوں
76
وَاَنْوَاعِ الْقُرْبَةِ اِلَیْكَ۔
77
اور ہر نوع کی عبادت کے مقابلہ میں۔
77
اَللّٰهُمَّ اِنِّیْۤ اَسْئَلُكَ بِحَقِّ هٰذَا الشَّهْرِ
78
اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس مہینہ کے حق و حرمت کا واسطہ دے کر
78
وَبِحَقِّ مَنْ تَعَبَّدَ لَكَ فِیْهِ
79
نیز ان لوگوں کا واسطہ دے کر جنہوں نے تیری عبادت کی ہو
79
مِنِ ابْتِدَآئِهٖۤ اِلٰى وَقْتِ فَنَآئِهٖ
80
اس مہینہ میں شروع سے لے کر اس کے ختم ہونے تک
80
مِنْ مَّلَكٍ قَرَّبْتَهٗ، اَوْ نَبِیٍّ اَرْسَلْتَهٗ
81
وہ مقرب بارگاہ فرشتہ ہو یا بنی مرسل
81
اَوْ عَبْدٍ صَالِحٍ اخْتَصَصْتَهٗ
82
یا کوئی مرد صالح و برگزیدہ
82
اَنْ تُصَلِّیَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
83
کہ تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرمائے
83
وَاَهِّلْنَا فِیْهِ لِمَا وَعَدْتَّ اَوْلِیَآءَكَ مِنْ كَرَامَتِكَ
84
اور جس عزت و کرامت کا تو نے اپنے دوستوں سے وعدہ کیا ہے اس کا ہمیں اہل بنا
84
وَاَوْجِبْ لَنا فِیْهِ مَاۤ اَوْجَبْتَ لِاَهْلِ الْمُبَالَغَةِ فِیْ طَاعَتِكَ
85
اور جو انتہائی اطاعت کرنے والوں کیلئے تو نے اجر مقرر کیا ہے وہ ہمارے لیے بھی مقرر فرما
85
وَاجْعَلْنَا فِیْ نَظْمِ مَنِ اسْتَحَقَّ الرَّفِیْعَ الْاَعْلٰى بِرَحْمَتِكَ۔
86
اور ہمیں اپنی رحمت سے ان لوگوں میں شامل کر جنہوں نے بلند ترین مرتبہ کا استحقاق پیدا کیا۔
86
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
87
اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
87
وَجَنِّبْنَا الْاِلْحَادَ فِیْ تَوْحِیْدِكَ
88
اور ہمیں اس چیز سے بچائے رکھ کہ ہم توحید میں کج اندیشی
88
وَالْتَّقْصِیْرَ فِیْ تَمْجِیْدِكَ
89
تیری تمجید و بزرگی میں کوتاہی
89
وَالشَّكَّ فِی دِیْنِكَ
90
وَالْعَمٰى عَنْ سَبِیْلِكَ
91
تیرے راستے سے بے راہ روی
91
وَالْاِغْفَالَ لِحُرْمَتِكَ
92
اور تیری حرمت سے لاپرواہی کریں
92
وَالْاِنْخِدَاعَ لِعَدُوِّكَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ۔
93
اور تیرے دشمن شیطان مردود سے فریب خوردگی کا شکار ہوں۔
93
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
94
اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
94
وَاِذَا كَانَ لَكَ فِیْ كُلِّ لَیْلَةٍ مِّنْ لَّیَالِیْ شَهْرِنَا هٰذَا
95
اور جبکہ اس مہینے کی راتوں میں ہر رات میں
95
رِقَابٌ یُّعْتِقُهَا عَفْوُكَ
96
تیرے کچھ ایسے بندے ہوتے ہیں جنہیں تیرا عفو و کرم آزاد کرتا ہے
96
اَوْ یَهَبُهَا صَفْحُكَ
97
یا تیری بخشش و درگزر انہیں بخش دیتی ہے
97
فَاجْعَلْ رِقَابَنَا مِنْ تِلْكَ الرِّقَابِ
98
تو ہمیں بھی انہی بندوں میں داخل کر
98
وَاجْعَلْنَا لِشَهْرِنَا مِنْ خَیْرِ اَهْلٍ وَّاَصْحَابٍ۔
99
اور اس مہینہ کے بہترین اہل و اصحاب میں قرار دے۔
99
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
100
اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
100
وَامْحَقْ ذُنُوْبَنَا مَعَ امِّحَاقِ هِلَالِهٖ
101
اور اس چاند کے گھنٹے کے ساتھ ہمارے گناہوں کو بھی محو کر دے
101
وَاسْلَخْ عَنَّا تَبِعَاتِنَا مَعَ انْسِلَاخِ اَیَّامِهٖ
102
اور جب اس کے دن ختم ہونے پر آئیں تو ہمارے گناہوں کا وبال ہم سے دور کر دے
102
حَتّٰى یَنْقَضِیَ عَنَّا وَقَدْ صَفَّیْتَنَا فِیْهِ مِنَ الْخَطِیْٓـئَاتِ
103
تاکہ یہ مہینہ اس طرح تمام ہو کہ تو ہمیں خطاؤں سے پاک
103
وَاَخْلَصْتَنَا فِیْهِ مِنَ السَّیِّئَاتِ۔
104
اور گناہوں سے بری کر چکا ہو۔
104
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
105
اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
105
وَاِنْ مِّلْنَا فِیْهِ فَعَدِّلْنَا
106
اور اس مہینہ میں اگر ہم حق سے منہ موڑیں تو ہمیں سیدھے راستہ پر لگا دے
106
وَاِنْ زُغْنَا فِیْهِ فَقَوِّمْنَا
107
اور کجروی اختیار کریں تو ہماری اصلاح و درستگی فرما
107
وَاِنِ اشْتَمَلَ عَلَیْنَا عَدُوُّكَ الشَّیْطٰنُ فَاسْتَنْقِذْنَا مِنْهُ۔
108
اور اگر تیرا دشمن شیطان ہمارے گرد احاطہ کرے تو اس کے پنجے سے چھڑا لے۔
108
اَللّٰهُمَّ اشْحَنْهُ بِعِبَادَتِنَاۤ اِیَّاكَ
109
بار الٰہا! اس مہینہ کا دامن ہماری عبادتوں سے جو تیرے لیے بجا لائی گئی ہوں بھر دے
109
وَزَیِّنْ اَوْقَاتَهٗ بِطَاعَتِنَا لَكَ
110
اور اس کے لمحات کو ہماری اطاعتوں سے سجا دے
110
وَاَعِنَّا فِیْ نَهَارِهٖ عَلٰى صِیَامِهٖ
111
اور ہماری مدد فرما اس کے دنوں میں روزے رکھنے میں
111
وَفِیْ لَیْلِهٖ عَلَى الصَّلٰوةِ وَالتَّضَرُّعِ اِلَیْكَ
112
اور اس کی راتوں میں نمازیں پڑھنے، تیرے حضور گڑگڑانے میں
112
تیرے سامنے عجز و الحاح کرنے میں
113
وَالذِّلَّةِ بَیْنَ یَدَیْكَ
114
اور تیرے روبرو ذلت و خواری کا مظاہرہ کرنے میں
114
حَتّٰى لَا یَشْهَدَ نَهَارُهٗ عَلَیْنَا بِغَفْلَةٍ
115
تاکہ اس کے دن ہمارے خلاف غفلت کی گواہی نہ دیں
115
وَلَا لَیْلُهٗ بِتَفْرِیْطٍ۔
116
اور اس کی راتیں کوتاہی و تقصیر کی۔
116
اَللّٰهُمَّ وَاجْعَلْنَا فِیْ سَآئِرِ الشُّهُوْرِ وَالْاَیَّامِ
117
اے اللہ! ہمیں تمام مہینوں اور دنوں میں
117
كَذٰلِكَ مَا عَمَّرْتَنَا
118
جب تک تو ہمیں زندہ رکھے، ایسا ہی قرار دے
118
وَاجْعَلْنَا مِنْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ
119
اور ہمیں ان [صالح] بندوں میں شامل فرما
119
﴿الَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْفِرْدَوْسَ، هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴾
120
جو فردوس بریں کی زندگی کے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے وارث ہوں گے
120
﴿وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا
121
اور وہ کہ جو کچھ وہ خدا کی راہ میں دے سکتے ہیں دیتے ہیں
121
وَّقُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰی رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَ﴾
122
پھر بھی ان کے دلوں کو یہ کھٹکا لگا رہتا ہے کہ انہیں اپنے پروردگار کی طرف پلٹ کر جانا ہے
122
وَمِنَ الَّذِیْنَ ﴿یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ
123
اور ان لوگوں میں سے جو نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں
123
وَهُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ﴾
124
اور وہی تو وہ لوگ ہیں جو بھلائیوں میں آگے نکل جانے والے ہیں۔
124
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
125
اے اللہ! رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر
125
فِیْ كُلِّ وَقْتٍ، وَّكُلِّ اَوَانٍ، وَّعَلٰى كُلِّ حَالٍ
126
ہر وقت اور ہر گھڑی اور ہر حال میں
126
عَدَدَ مَا صَلَّیْتَ عَلٰى مَنْ صَلَّیْتَ عَلَیْهِ
127
اس قدر رحمت جتنی تو نے کسی پر نازل کی ہو
127
وَاَضْعَافَ ذٰلِكَ كُلِّهٖ
128
اور ان سب رحمتوں سے دوگنی چوگنی
128
بِالْاَضْعَافِ الَّتِیْ لَا یُحْصِیْهَا غَیْرُكَ
129
کہ جسے تیرے علاوہ کوئی شمار نہ کر سکے
129
اِنَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا تُرِیْدُ۔
130
بیشک تو جو چاہتا ہے وہی کرنے والا ہے۔
130
یہ دعا ماہ رمضان کے خیر مقدم کے سلسلہ میں ہے۔ ماہ رمضان قمری سال کا نواں مہینہ ہے جس میں طلوع صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک چند امور بقصد قربت ترک کئے جاتے ہیں جیسے کھانا، پینا وغیرہ۔ اس ترک کا نام ”روزہ“ ہے جو اسلامی عبادات میں ایک اہم عبادت ہے۔ روزہ صرف مذہب اسلام ہی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ تمام ملل و مذاہب کسی نہ کسی صورت میں روزہ رکھتے اور اس کی افادیت کا اقرار کرتے ہیں۔ البتہ ماہ رمضان میں روزہ رکھنا اسلام سے مختص ہے۔ اسی لیے حضرتؑ نے اسے شهر الاسلام (اسلام کا مہینہ) فرمایا ہے۔ اس مہینہ کو ماہ رمضان کے نام سے موسوم کرنے کے سلسلہ میں چند اقوال ہیں۔
* پہلا قول یہ ہے کہ ”رمض“ سے ماخوذ ہے اور ”رمض“ کے معنی دھوپ کی شدت سے پتھر، ریت وغیرہ کے گرم ہونے کے ہیں۔ اسی لیے جلتی ہوئی زمین کو ”رمضاء“ کہا جاتا ہے۔ اور جب پہلی دفعہ روزے واجب ہوئے تو ماہ رمضان سخت گرمی میں پڑا تھا اور روزوں کی وجہ سے گرمی و تپش کا احساس بڑھا تو اس مہینہ کا نام ماہ رمضان یعنی ماہ آتش فشاں پڑ گیا۔ یا اس لیے کہ یہ مہینہ گناہوں کو اس طرح جلاتا اور فنا کرتا ہے جس طرح سورج کی تمازت زمین کی رطوبتوں کو جلاتی اور فنا کرتی ہے۔ چنانچہ پیغمبر اکرمؐ کا ارشاد ہے: اِنَّمَا سُمِّیَ رَمَضَانَ لِاَنَّ رَمَضَانَ يَرْمَضُ الذُّنُوْبَ۔ ماہ رمضان کو ماہ رمضان اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ گناہوں کو جلا دیتا ہے۔ ۱
* دوسرا قول یہ ہے کہ یہ ”رمضی“ سے ماخوذ ہے اور ”رمضی“ اس ابر و باراں کو کہتے ہیں جو موسم گرما کے اخیر میں آئے۔ اس سے گرمی کی تیزی دور ہو جاتی ہے، اسی طرح یہ مہینہ بھی گناہوں کے جوش کو کم کرتا اور برائیوں کو دھو ڈالتا ہے۔
* چوتھا قول یہ ہے کہ یہ ”ارتماض“ سے ماخوذ ہے جس کے معنی قلق و اضطراب محسوس کرنے کے ہیں۔ چونکہ اس مہینہ میں بھوک پیاس کی وجہ سے بے چینی محسوس کی جاتی ہے اس لیے اس ماہ رمضان کے نام سے موسوم کیا گیا۔
* پانچواں قول یہ ہے کہ یہ مشتق نہیں ہے، بلکہ اللہ کا نام ہے اور چونکہ اس مہینہ کو اللہ تعالیٰ سے خصوصی نسبت حاصل ہے اس لیے یہ اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو کر ماہ رمضان کہلاتا ہے۔ چنانچہ امام محمد باقر علیہ السلام کا ارشاد ہے: لَا تَقُوْلُوْا هٰذَا رَمَضَانُ وَلَا ذَهَبَ رَمَضَانُ وَلَا جَآءَ رَمَضَانُ، فَاِنَّ رَمَضَانَ اسْمٌ مِّنْ اَسْمَآءِ اللّٰهِ تَعَالٰی وَھُوَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يَجِیْٓءُ وَلَا يَذْهَبُ۔ وَلٰكِنْ قُوْلُوْا شَهْرُ رَمَضانَ۔ یہ نہ کہا کرو کہ یہ رمضان ہے اور رمضان گیا اور رمضان آیا، اس لیے کہ ”رمضان“ اللہ سبحانہ کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کہیں آتا جاتا نہیں، لہٰذا ماہ رمضان کہا کرو۔ ۲
ماہ رمضان اس انتساب اور اپنے فیوض و برکات کے لحاظ سے تمام مہینوں پر فوقیت رکھتا ہے۔ چنانچہ پیغمبر اکرمؐ کا ارشاد ہے:
تمہاری طرف اللہ کا مہینہ برکت، رحمت اور مغفرت کا پیغام لے کر بڑھ رہا ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام مہینوں سے افضل ہے۔ اس کے دن تمام دنوں سے افضل، اس کی راتیں تمام راتوں سے بہتر، اس کے لمحے تمام لمحوں سے برتر ہیں۔ ۳ اَلْعَمَلُ فِيْهَا خَيْرٌ مِّنَ الْعَمَلِ فِیْۤ اَلْفِ شَهْرٍ لَّيْسَ فِيْهَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ۔ اس مہینہ کی راتوں میں سے ایک رات ”لیلة القدر“ کے نام سے موسوم ہے جس میں بجا لائے ہوئے اعمال و عبادات ہزار مہینوں کے اعمال سے بہتر ہیں۔ چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے۔
اسی مہینہ میں تمام آسمانی کتابیں نازل ہوئیں اور اسی مہینہ میں قرآن مجید نازل ہوا۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے: شَہْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْٓ اُنْزِلَ فِيْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنٰتٍ مِّنَ الْہُدٰى وَالْفُرْقَانِ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔ وہ لوگوں کیلئے رہنما ہے اور ہدایت اور حق و باطل کے امتیاز کی روشن نشانیاں رکھتا ہے۔ ۵
اس مہینہ کو روزوں سے مختص کرنے میں یہ مصلحت بھی ہو سکتی ہے کہ قرآن کی یاد تازہ رہے اور روزہ و عبادت کے جلو میں اس کے نزول کی تقریب کو منایا جا سکے اور یوں بھی عمل و عبادت کیلئے وقت و زمانہ کی پابندی اس کے بجا لانے کی قوی محرک ہوتی ہے۔ اگر روزوں کا زمانہ مقرر نہ ہوتا اور لوگوں کو یہ اختیار ہوتا کہ وہ سال میں جب چاہیں روزہ رکھ لیں، تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ بیشتر افراد روزہ رکھنے میں ٹال مٹول سے کام لیتے اور آج کل کرکے پورا سال گزار دیتے اور ایک آدھ دن بھی روزہ رکھنے کی توفیق نصیب نہ ہوتی۔ اور اگر ایک آدھ روزہ رکھ بھی لیتے تو اس پر کوئی فائدہ مرتب نہ ہوتا، بلکہ ایک معتاد زندگی میں خلل پیدا ہوتا اور پھر ہر شخص ایسے ہی زمانہ میں روزہ رکھتا جس میں روزے کی تکلیف کا احساس کم ہوتا اور مختلف موسموں میں روزہ رکھنے سے جو مختلف اثرات صحت انسانی پر پڑتے ہیں ان سے محروم ہونا پڑتا۔ اس کے علاوہ عبادت میں ہم آہنگی و اجتماعی شان باقی نہ رہتی اور یک رنگی ہی وہ چیز ہے جس سے تلخی بھی خوشگوار ہو جایا کرتی ہے۔ چنانچہ جب کوئی شخص دوسروں کو بے روزہ دیکھتا ہے اور خود روزہ سے ہوتا ہے تو اسے روزہ گراں گزرتا ہے، مگر دوسروں کو روزہ دار دیکھنے سے اس کی ناخوشگواری بار خاطر نہیں ہوتی۔ چنانچہ جب سفر یا مرض کی وجہ سے روزے قضا ہو جانے میں اور بعد میں رکھنا پڑتے ہیں تو وہ ماہ رمضان کے روزوں کی بہ نسبت شاق گزرتے ہیں اور دل میں ماہ رمضان کے روزوں کا سا ولولہ و جوش پیدا نہیں ہوتا۔ اور اس تحدید اوقات سے ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ انسان دوسروں کی دیکھا دیکھی روزہ رکھ لیتا ہے اور بے روزہ رہنے سے شرم و خجالت محسوس کرتا ہے۔
اسلامی روزہ فقط تعیین مدت ہی کے لحاظ سے امتیاز نہیں رکھتا کہ اسے آگے پیچھے نہیں کیا جا سکتا اور بھی چند وجوہ سے خصوصی امتیازات کا حامل ہے۔ چنانچہ اسلام نے روزوں کی مدت نہ اتنی مختصر رکھی ہے کہ ان سے کوئی فائدہ و نتیجہ حاصل نہ ہو اور نہ اتنی طویل کہ زندگی کے معمول میں فرق پڑے اور اس سے عہدہ برآ ہونے میں دشواری محسوس ہو۔ اس معتدل مدت کے ساتھ روزہ کے اوقات بھی بالکل طبعی ہیں۔ یعنی طلوع صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک جنہیں بڑی آسانی سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح پوری مدت کی تعیین میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی۔ یوں کہ ایک چاند دیکھو تو روزے شروع کر دو اور دوسرا چاند دیکھو تو ختم کر دو۔ بخلاف دوسرے مذاہب کے کہ ان کے ہاں روزہ رکھنے کیلئے پورا حساب لگانے کی ضرورت پڑتی ہے اور بغیر حساب دانی کے نہ شروع کا وقت معلوم ہو سکتا ہے اور نہ ختم کا۔
اور پھر اسلامی روزہ صرف دن کے اوقات میں ہوتا ہے جبکہ انسان چلتا پھرتا اور حرکت کرتا رہتا ہے اور طبی حیثیت سے یہ مسلمہ طور پر ثابت ہے کہ جب انسان کے بدن میں حرکت نہ ہو تو اس حالت میں خالی پیٹ رہنا صحت کو معتدبہ نقصان پہچاتا ہے۔ اسی لیے آئمۂ اہل بیت علیہم السلام نے رات کے وقت کچھ نہ کچھ کھا پی کر سونے کی ہدایت کی ہے اور ”صوم وصال“ یعنی دو روزوں کو ملا کر رکھنے کو حرام قرار دیا گیا ہے، تا کہ روزہ میں رات کا حصہ شامل نہ ہونے پائے۔ اس کے بر خلاف یہود و نصاری وغیرہ کے ہاں رات کا حصہ بھی شامل ہوتا ہے۔ چنانچہ یہودیوں کا روزہ ۲۲ گھنٹہ سے لے کر ۲۶ گھنٹہ تک کا ہوتا ہے۔ اور اتنا طویل فاقہ یقیناً صحت جسمانی کیلئے مضر ہوتا ہے۔ اور پھر روزہ کا سب سے اہم مقصد ضبط نفس کی مشق ہے اور یہ مقصد رات کے روزہ سے حاصل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ رات تو سونے میں کٹ جاتی ہے اور اس کے ساتھ خواہشات و جذبات بھی سو جاتے ہیں۔ اس لیے خواہشات نفس کو روکنے کی ریاضت نہ ہو سکے گی۔ یہ ریاضت تو دن ہی کے روزہ سے ہو سکتی ہے جس سے انسان رفتہ رفتہ اپنے خواہشات پر قابو پا لیتا ہے۔ کبھی خواہشات پر اقتدار صرف اس حد تک ہوتا ہے کہ انسان بھوک پیاس کے ہوتے ہوئے نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے اور کبھی زبان، آنکھ، کان پر بھی قابو پا لیتا ہے اور انہیں بے راہ نہیں ہونے دیتا اور کبھی اپنے خیالات و تصورات پر بھی قابو حاصل کر لیتا ہے۔ اس اعتبار سے روزہ دار تین قسم کے ہیں:
٭ ایک وہ جو صرف کھانے پینے اور دوسرے مفطرات سے اجتناب کرتے ہیں یہ ”عوام“ کا گروہ ہے۔
اور دوسرے وہ جو ہمہ تن روزہ دار ہوتے ہیں اور کسی عضو کو گناہ سے آلودہ نہیں ہونے دیتے۔ یہ ”خواص“ کی جماعت ہے اور در اصل روزہ دار یہی لوگ ہیں۔ چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے: اِذَا صُمْتَ فَلْيَصُمْ سَمْعُكَ وَبَصَرُكَ وَشَعْرُكَ وَجِلْدُكَ۔ وَقَالَ لَا يَكُوْنُ يَوْمُ صَوْمِكَ كَيَوْمِ فِطْرِكَ۔ جب روزہ رکھو تو تمہارے کان، آنکھ، بال اور جسم کی کھال تک روزہ دار ہو۔ اور تمہارے روزہ کا دن بے روزہ والے دن کے مانند نہ ہونا چاہیے۔ ۶
٭ اور تیسرے وہ جو اپنے دل و دماغ کو ہر قسم کے خیالات فاسدہ اور تصورات باطلہ سے پاک و صاف رکھتے ہیں اور ہمہ تن اللہ تعالیٰ کے ذکر و فکر میں مستغرق رہتے ہیں۔ یہ ”مقربین“ کی جماعت ہے۔ چنانچہ امام زین العابدین علیہ السلام کے متعلق وارد ہوا ہے کہ ماہ رمضان میں آپؑ کی زبان اقدس سے دعا و تسبیح اور تکبیر و استغفار کے علاوہ کوئی کلمہ سننے میں نہ آتا تھا، یہاں تک کہ تمام ماہ مبارک اسی طرح سے گزر جاتا تھا۔