(۴۵) وَكَانَ مِنْ دُعَآئِهٖ عَلَیْهِ السَّلَامُ فِیْ وَدَاعِ شَهْرِ رَمَضَانَ۔ دعائے وداع ماہ رمضان۔

اَللّٰهُمَّ یَا مَنْ لَّا یَرْغَبُ فِی الْجَزَآءِ
1
اے اللہ! اے وہ جو (اپنے احسانات کا) بدلہ نہیں چاہتا
1
وَیَا مَنْ لَّا یَنْدَمُ عَلَى الْعَطَآءِ
2
اے وہ جو عطا و بخشش پرپشیمان نہیں ہوتا
2
وَیَا مَنْ لَّا یُكَافِئُ عَبْدَهٗ عَلَى السَّوَآءِ
3
اے وہ جو اپنے بندوں کو (ان کے عمل کے مقابلہ میں) نپا تلا اجر نہیں دیتا
3
مِنَّتُكَ ابْتِدَآءٌ
4
تیری نعمتیں بغیر کسی سابقہ استحقاق کے ہیں
4
وَعَفْوُكَ تَفَضُّلٌ
5
اور تیرا عفو و درگزر تفضل و احسان ہے
5
وَعُقُوْبَتُكَ عَدْلٌ
6
تیرا سزا دینا عین عدل
6
وَقَضَآؤُكَ خِیَرَةٌ
7
اور تیرا فیصلہ خیر و بہبودی کا حامل ہے
7
اِنْ اَعْطَیْتَ لَمْ تَشُبْ عَطَآءَكَ بِمَنٍّ
8
تو اگر دیتا ہے تو اپنی عطا کو منت گزاری سے آلودہ نہیں کرتا
8
وَاِنْ مَّنَعْتَ لَمْ یَكُنْ مَّنْعُكَ تَعَدِّیًا۔
9
اور اگر منع کر دیتا ہے تو یہ ظلم و زیادتی کی بنا پر نہیں ہوتا۔
9
تَشْكُرُ مَنْ شَكَرَكَ
10
جو تیرا شکر ادا کرتا ہے تو اس کے شکر کی جزا دیتا ہے
10
وَاَنْتَ اَلْهَمْتَهٗ شُكْرَكَ
11
حالانکہ تو ہی نے اس کے دل میں شکر گزاری کا القا کیا ہے
11
وَتُكَافِئُ مَنْ حَمِدَكَ
12
اور جو تیری حمد کرتا ہے اسے بدلہ دیتا ہے
12
وَاَنْتَ عَلَّمْتَهٗ حَمْدَكَ
13
حالانکہ تو ہی نے اسے حمد کی تعلیم دی ہے
13
تَسْتُرُ عَلٰى مَنْ لَّوْ شِئْتَ فَضَحْتَهٗ
14
اور ایسے شخص کی پردہ پوشی کرتا ہے کہ اگر چاہتا تو اسے رسوا کر دیتا
14
وَتَجُوْدُ عَلٰى مَنْ لَّوْ شِئْتَ مَنَعْتَهٗ
15
اور ایسے شخص کو دیتا ہے کہ اگر چاہتا تو اسے نہ دیتا
15
وَكِلَاهُمَاۤ اَهْلٌ مِّنْكَ لِلْفَضِیْحَةِ وَالْمَنْعِ
16
حالانکہ وہ دونوں تیری بارگاہ عدالت میں رسوا و محروم کئے جانے ہی کے قابل تھے
16
غَیْرَ اَنَّكَ بَنَیْتَ اَفْعَالَكَ عَلَى التَّفَضُّلِ
17
مگر تو نے اپنے افعال کی بنیاد تفضل و احسان پر رکھی ہے
17
وَاَجْرَیْتَ قُدْرَتَكَ عَلَى التَّجَاوُزِ
18
اور اپنے اقتدار کو عفو و درگزر کی راہ پر لگایا ہے
18
وَتَلَقَّیْتَ مَنْ عَصَاكَ بِالْحِلْمِ
19
اور جس کسی نے تیری نافرمانی کی تو نے اس سے بردباری کا رویہ اختیار کیا
19
وَاَمْهَلْتَ مَنْ قَصَدَ لِنَفْسِهٖ بِالظُّلْمِ
20
اور جس کسی نے اپنے نفس پر ظلم کا ارادہ کیا تو نے اسے مہلت دی
20
تَسْتَنْظِرُهُمْ بِاَنَاتِكَ اِلَى الْاِنَابَةِ
21
تُو ان کے رجوع ہونے تک اپنے حلم کی بنا پر مہلت دیتا ہے
21
وَتَتْرُكُ مُعَاجَلَتَهُمْ اِلَى التَّوْبَةِ
22
اور توبہ کرنے تک انہیں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا
22
لِكَیْلَا یَهْلِكَ عَلَیْكَ هَالِكُهُمْ
23
تاکہ تیری منشاء کے خلاف تباہ ہونے والا تباہ نہ ہو
23
وَلَا یَشْقٰى بِنِعْمَتِكَ شَقِیُّھُمْ
24
اور تیری نعمت کی وجہ سے بدبخت ہونے والا بدبخت نہ ہو
24
اِلَّا عَنْ طُوْلِ الْاِعْذَارِ اِلَیْهِ
25
مگر اس وقت کہ جب اس پر پوری عذرداری
25
وَبَعْدَ تَرَادُفِ الْحُجَّةِ عَلَیْهِ
26
اور اتمام حجت ہو جائے
26
كَرَمًا مِّنْ عَفْوِكَ یَا كَرِیْمُ
27
اے کریم! (یہ اتمام جحت) تیرے عفو و درگزر کا کرم ہے
27
وَعَآئِدَةً مِّنْ عَطْفِكَ یَا حَلِیْمُ۔
28
اور اے بردبار! تیری شفقت و مہربانی کا فیض ہے۔
28
اَنْتَ الَّذِیْ فَتَحْتَ لِعِبَادِكَ بَابًا اِلٰى عَفْوِكَ
29
تو ہی ہے وہ جس نے اپنے بندوں کیلئے عفو و بحشش کا دروازہ کھولا ہے
29
وَسَمَّیْتَهٗ التَّوْبَةَ
30
اور اس کا نام توبہ رکھا ہے
30
وَجَعَلْتَ عَلٰى ذٰلِكَ الْبَابِ دَلِیْلًا مِّنْ وَحْیِكَ
31
اور تو نے اس دروازہ کی نشاندہی کیلئے اپنی وحی کو رہبر قرار دیا ہے
31
لِئَلَّا یَضِلُّوْا عَنْهُ
32
تاکہ وہ اس دروازہ سے بھٹک نہ جائیں
32
فَقُلْتَ تَبَارَكَ اسْمُكَ ﴿تُوْبُوْۤا اِلَی اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا
33
چنانچہ اے مبارک نام والے تو نے فرمایا ہے کہ: ”خدا کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کرو
33
عَسٰی رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ
34
امید ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے گناہوں کو محو کر دے
34
وَیُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ
35
اور تمہیں اس بہشت میں داخل کرے جس کے (محلاّت و باغات کے) نیچے نہریں بہتی ہیں
35
یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ
36
اس دن جب خدا اپنے رسولؐ اور ان لوگوں کو جو اس پر ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کرے گا
36
نُوْرُهُمْ یَسْعٰی بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَبِاَیْمَانِهِمْ
37
بلکہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کی دائیں جانب چلتا ہو گا
37
یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا
38
اور وہ لوگ یہ کہتے ہوں گے کہ اے ہمارے پروردگار! ہمارے لیے ہمارے نور کو کامل فرما اور ہمیں بخش دے
38
اِنَّكَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۝﴾
39
اس لیے کہ تو ہر چیز پر قادر ہے“۔
39
فَمَا عُذْرُ مَنْ اَغْفَلَ دُخُوْلَ ذٰلِكَ الْمَنْزِلِ
40
تو اب اُس کا عذر و بہانہ کیا ہو سکتا ہے جو اِس گھر میں داخل ہونے سے غفلت کرے
40
بَعْدَ فَتْحِ الْبَابِ وَاِقَامَةِ الدَّلِیْلِ۔
41
جبکہ دروازہ کھولا اور رہبر مقرر کیا جاچکا ہے؟
41
وَاَنْتَ الَّذِیْ زِدْتَّ فِی السَّوْمِ عَلٰى نَفْسِكَ لِعِبَادِكَ
42
تو وہ ہے جس نے اپنے بندوں کیلئے لین دین میں اونچے نرخوں کا ذمہ لے لیا ہے
42
تُرِیْدُ رِبْحَهُمْ فِیْ مُتَاجَرَتِهِمْ لَكَ
43
اور یہ چاہا ہے کہ وہ جو سودا تجھ سے کریں اس میں انہیں نفع ہو
43
وَفَوْزَهُمْ بِالْوِفَادَةِ عَلَیْكَ وَالزِّیَادَةِ مِنْكَ
44
اور تیری طرف بڑھنے اور زیادہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں
44
فَقُلْتَ تَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَیْتَ
45
چنانچہ تو نے کہ جو مبارک نام والا اور بلند مقام والا ہے فرمایا ہے
45
﴿مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا
46
”جو میرے پاس نیکی لے کر آئے گا اسے اس کا دس گنا اجر ملے گا
46
وَمَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤی اِلَّا مِثْلَهَا﴾
47
اور جو برائی کا مرتکب ہو گا تو اس کو برائی کا بدلہ بس اتنا ہی ملے گا جتنی بُرائی ہے“
47
وَقُلْتَ ﴿مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ
48
اور تیرا ارشاد ہے کہ ”جو لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں
48
كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ
49
ان کی مثال اس بیج کی سی ہے جس سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو سو دانے ہوں
49
وَاللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ﴾
50
اور خدا جس کیلئے چاہتا ہے دگنا کر دیتا ہے“
50
وَقُلْتَ ﴿مَنْ ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا
51
اور تیرا ارشاد ہے کہ ”کون ہے جو اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے
51
فَیُضٰعِفَهٗ لَهٗۤ اَضْعَافًا كَثِیْرَةً﴾
52
تاکہ خدا اس کے مال کو کئی گنا زیادہ کر کے ادا کرے“
52
وَمَاۤ اَنْزَلْتَ مِنْ نَظَآئِرِهِنَّ فِی الْقُرْاٰنِ مِنْ تَضَاعِیْفِ الْحَسَنَاتِ۔
53
اور ایسی ہی افزائش حسنات کے وعدہ پر مشتمل دوسری آیتیں کہ جو تو نے قرآن مجید میں نازل کی ہیں۔
53
وَاَنْتَ الَّذِیْ دَلَلْتَهُمْ بِقَوْلِكَ مِنْ غَیْبِكَ وَتَرْغِیبِكَ
54
اور تو ہی وہ ہے جس نے وحی و غیب کے کلام اور ایسی ترغیب کے ذریعہ
54
الَّذِیْ فِیْهِ حَظُّهُمْ
55
کہ جو ان کے فائدہ پر مشتمل ہے
55
عَلٰى مَا لَوْ سَتَرْتَهٗ عَنْهُمْ
56
ایسے امور کی طرف ان کی رہنمائی کی کہ اگر ان سے پوشیدہ رکھتا
56
لَمْ تُدْرِكْهُ‏ اَبْصَارُهُمْ
57
تو نہ ان کی آنکھیں دیکھ سکتیں
57
وَلَمْ تَعِهٖ اَسْمَاعُهُمْ
58
نہ ان کے کان سن سکتے
58
وَلَمْ تَلْحَقْهُ اَوْهَامُهُمْ
59
اور نہ ان کے تصورات وہاں تک پہنچ سکتے۔
59
فَقُلْتَ ﴿فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ
60
چنانچہ تیرا ارشاد ہے کہ ”تم مجھے یاد رکھو! میں بھی تمہاری طرف سے غافل نہیں ہوں گا
60
وَاشْكُرُوْا لِیْ وَلَا تَكْفُرُوْنِ۠۝﴾
61
اور میرا شکر ادا کرتے رہو اور ناشکری نہ کرو“
61
وَقُلْتَ ﴿لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ
62
اور تیرا ارشاد ہے کہ ”اگر میرا شکر کرو گے تو میں یقینا تمہیں زیادہ دوں گا
62
وَلَىِٕنْ كَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ۝﴾
63
اور اگر ناشکری کی تو یاد رکھو کہ میرا عذاب سخت عذاب ہے“
63
وَقُلْتَ: ﴿ادْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَكُمْ
64
اور تیرا ارشاد ہے کہ: ”مجھ سے دعا مانگو تو میں قبول کروں گا
64
اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِیْ سَیَدْخُلُوْنَ جَهَنَّمَ دٰخِرِیْنَ۠۝﴾
65
وہ لوگ جو غرور کی بنا پر میری عبادت سے منہ موڑ لیتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے“۔
65
فَسَمَّیْتَ دُعَآءَكَ عِبَادَةً
66
چنانچہ تو نے دعا کا نام عبادت رکھا
66
وَتَرْكَهُ اسْتِكْبَارًا
67
اور اس کے ترک کو غرور سے تعبیر کیا
67
وَتَوَعَّدْتَّ عَلٰى تَرْكِهٖ دُخُوْلَ جَهَنَّمَ دَاخِرِیْنَ
68
اور اس کے ترک پر جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہونے سے ڈرایا۔
68
فَذَكَرُوْكَ بِمَنِّكَ
69
اس لیے انہوں نے تیری نعمتوں کی وجہ سے تجھے یاد کیا
69
وَشَكَرُوْكَ بِفَضْلِكَ
70
تیرے فضل و کرم کی بنا پر تیرا شکریہ ادا کیا
70
وَدَعَوْكَ بِاَمْرِكَ
71
اور تیرے حکم سے تجھے پکارا
71
وَتَصَدَّقُوْا لَكَ طَلَبًا لِّمَزِیْدِكَ
72
اور (نعمتوں میں) طلب افزائش کیلئے تیری راہ میں صدقہ دیا
72
وَفِیْهَا كَانَتْ نَجَاتُهُمْ مِنْ غَضَبِكَ
73
اور تیری یہ رہنمائی ہی ان کیلئے تیرے غضب سے بچاؤ
73
وَفَوْزُهُمْ بِرِضَاكَ
74
اور تیری خوشنودی تک رسائی کی صورت تھی
74
وَلَوْ دَلَّ مَخْلُوْقٌ مَّخْلُوْقًا مِّنْ نَفْسِهٖ
75
اور جن باتوں کی تو نے اپنی جانب سے اپنے بندوں کی رہنمائی کی ہے
75
عَلٰى مِثْلِ الَّذِیْ دَلَلْتَ عَلَیْهِ عِبَادَكَ مِنْكَ كَانَ مَحْمُودًا
76
اگر کوئی مخلوق اپنی طرف سے دوسرے مخلوق کی ایسی ہی چیزوں کی طرف رہنمائی کرتا تو وہ قابل تحسین ہوتا
76
فَلَكَ الْحَمْدُ مَا وُجِدَ فِیْ حَمْدِكَ مَذْهَبٌ
77
تو پھر تیرے ہی لیے حمد و ستائش ہے جب تک تیری حمد کیلئے راہ پیدا ہوتی رہے
77
وَمَا بَقِیَ لِلْحَمْدِ لَفْظٌ تُحْمَدُ بِهٖ
78
اور جب تک حمد کے وہ الفاظ باقی رہیں جن سے تیری تحمید کی جا سکے
78
وَمَعْنًى یَّنْصَرِفُ اِلَیْهِ۔
79
اور حمد کے وہ معنی جو تیری حمد کی طرف پلٹ سکیں [موجود ہوں]۔
79
یَا مَنْ تَحَمَّدَ اِلٰى عِبَادِهٖ بِالْاِحْسَانِ وَالْفَضْلِ
80
اے وہ جو اپنے فضل و احسان سے بندوں کی حمد کا سزاوار ہوا ہے
80
وَغَمَرَهُمْ بِالْمَنِّ وَالطَّوْلِ
81
اور انہیں اپنی نعمت و بخشش سے ڈھانپ لیا ہے
81
مَاۤ اَفْشٰى فِیْنَا نِعْمَتَكَ
82
ہم پر تیری نعمتیں کتنی آشکارا ہیں
82
وَاَسْبَغَ عَلَیْنَا مِنَّتَكَ
83
اور تیرا انعام کتنا فراواں ہے
83
وَاَخَصَّنَا بِبِرِّكَ
84
اور کس قدر ہم تیرے انعام و احسان سے مخصوص ہیں
84
هَدَیْتَنَا لِدِیْنِكَ الَّذِی اصْطَفَیْتَ
85
تو نے ہمیں ہدایت کی اس دین کی جسے منتخب فرمایا
85
وَمِلَّتِكَ الَّتِی ارْتَضَیْتَ
86
اور اس طریقہ کی جسے پسند فرمایا
86
وَسَبِیْلِكَ الَّذِیْ سَهَّلْتَ
87
اور اس راستہ کی جسے آسان کر دیا
87
وَبَصَّرْتَنَا الزُّلْفَةَ لَدَیْكَ
88
اور بصیرت دی اپنے ہاں قرب حاصل کرنے کی
88
وَالْوُصُوْلَ اِلٰى كَرَامَتِكَ۔
89
اور عزت و بزرگی تک پہنچنے کیلئے۔
89
اَللّٰهُمَّ وَاَنْتَ جَعَلْتَ مِنْ صَفَایَا تِلْكَ الْوَظَآئِفِ
90
بار الٰہا! تو نے قرار دیا ہے ان منتخب فرائض میں سے
90
وَخَصَآئِصِ تِلْكَ الْفُرُوْضِ شَهْرَ رَمَضَانَ
91
اور مخصوص واجبات میں سے، ماہ رمضان کو
91
الَّذِی اخْتَصَصْتَهٗ مِنْ سَآئِرِ الشُّهُوْرِ
92
جسے تو نے تمام مہینوں میں امتیاز بخشا
92
وَتَخَیَّرْتَهٗ مِنْ جَمِیْعِ الْاَزْمِنَةِ وَالدُّهُوْرِ
93
اور تمام وقتوں اور زمانوں میں اسے منتخب فرمایا ہے
93
وَاٰثَرْتَهٗ عَلٰى كُلِّ اَوْقَاتِ السَّنَةِ
94
اسے سال کے تمام اوقات پر فضیلت دی
94
بِمَاۤ اَنْزَلْتَ فِیْهِ مِنَ الْقُرْاٰنِ وَالنُّوْرِ
95
اور اس میں قرآن اور نور کو نازل فرما کر
95
وَضَاعَفْتَ فِیْهِ مِنَ الْاِیْمَانِ
96
اور ایمان کو فروغ و ترقی بخش کر
96
وَفَرَضْتَ فِیْهِ مِنَ الصِّیَامِ
97
اور اس میں روزے واجب کئے
97
وَرَغَّبْتَ فِیْهِ مِنَ الْقِیَامِ
98
اور نمازوں کی ترغیب دی
98
وَاَجْلَلْتَ فِیْهِ مِنْ لَّیْلَةِ الْقَدْرِ الَّتِیْ هِیَ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ۔
99
اور اس میں شب قدر کو بزرگی بخشی جو خود ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
99
ثُمَّ اٰثَرْتَنَا بِهٖ عَلٰى سَآئِرِ الْاُمَمِ
100
پھر اس مہینہ کی وجہ سے تو نے ہمیں تمام امتوں پر ترجیح دی
100
وَاصْطَفَیْتَنَا بِفَضْلِهٖ دُوْنَ اَهْلِ الْمِلَلِ
101
اور دوسری امتوں کے بجائے ہمیں اس کی فضیلت کے باعث منتخب کیا
101
فَصُمْنَا بِاَمْرِكَ نَهَارَهٗ
102
چنانچہ ہم نے تیرے حکم سے اس کے دنوں میں روزے رکھے
102
وَقُمْنَا بِعَوْنِكَ لَیْلَهٗ
103
اور تیری مدد سے اس کی راتیں عبادت میں بسر کیں
103
مُتَعَرِّضِیْنَ بِصِیَامِهٖ وَقِیَامِهٖ لِمَا عَرَّضْتَنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِكَ
104
اس حالت میں کہ ہم اس روزہ نماز کے ذریعہ تیری اس رحمت کے خواستگار تھے جس کا دامن تو نے ہمارے لیے پھیلایا ہے
104
وَتَسَبَّبْنَاۤ اِلَیْهِ مِنْ مَثُوْبَتِكَ
105
اور اسے تیرے اجر و ثواب کا وسیلہ قرار دیا
105
وَاَنْتَ الْمَلِیْٓ‏ءُ بِمَا رُغِبَ فِیْهِ اِلَیْكَ
106
اور تو ہر اس چیز کے عطا کرنے پر قادر ہے جس کی تجھ سے خواہش کی جائے
106
الْجَوَادُ بِمَا سُئِلْتَ مِنْ فَضْلِكَ
107
اور ہر اس چیز کا بخشنے والا ہے جس کا تیرے فضل سے سوال کیا جائے
107
الْقَرِیْبُ اِلٰى مَنْ حَاوَلَ قُرْبَكَ۔
108
تو ہر اس شخص سے قریب ہے جو تجھ سے قرب حاصل کرنا چاہے۔
108
وَقَدْ اَقَامَ فِیْنَا هٰذَا الشَّهْرُ مُقَامَ حَمْدٍ
109
اس مہینہ نے ہمارے درمیان قابل ستائش دن گزارے
109
وَصَحِبَنَا صُحْبَةَ مَبْرُوْرٍ
110
اور اچھی طرح حق رفاقت ادا کیا
110
وَاَرْبَحَنَاۤ اَفْضَلَ اَرْبَاحِ الْعٰلَمِیْنَ
111
اور دنیا جہان کے بہترین فائدوں سے ہمیں مالا مال کیا
111
ثُمَّ قَدْ فَارَقَنَا عِنْدَ تَمَامِ وَقْتِهٖ
112
پھر وہ ہم سے جدا ہو گیا جب اس کا زمانہ ختم ہو گیا
112
وَانْقِطَاعِ مُدَّتِهٖ، وَوَفَآءِ عَدَدِهٖ۔
113
مدت بیت گئی اور گنتی تمام ہو گئی تو۔
113
فَنَحْنُ مُوَدِّعُوْهُ
114
اب ہم اسے رخصت کرتے ہیں
114
وِدَاعَ مَنْ عَزَّ فِرَاقُهٗ عَلَیْنَا
115
اس شخص کے رخصت کرنے کی طرح جس کی جدائی ہم پر شاق ہو
115
وَغَمَّنَا وَاَوْحَشَنَا انْصِرَافُهٗ عَنَّا
116
اور جس کا جانا ہمارے لیے غم افزا اور وحشت انگیز ہو
116
وَلَزِمَنَا لَهُ الذِّمَامُ الْمَحْفُوْظُ
117
اور از بس ضروری ہو جس کے عہد و پیمان کی نگہداشت،
117
وَالْحُرْمَةُ الْمَرْعِیَّةُ
118
عزت و حرمت کا پاس،
118
وَالْحَقُّ الْمَقْضِیُّ
119
اور اس کے واجب الاداء حق سے سبکدوشی۔
119
فَنَحْنُ قَآئِلُوْنَ: اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ
120
اس لیے ہم کہتے ہیں: تجھ پر سلام!
120
یَا شَهْرَ اللّٰهِ الْاَكْبَرَ
121
اے اللہ کے بزرگ ترین مہینے،
121
وَیَا عِیْدَ اَوْلِیَآئِهٖ۔
122
اے دوستان خدا کی عید
122
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ یَاۤ اَكْرَمَ مَصْحُوْبٍ مِّنَ الْاَوْقَاتِ
123
تجھ پر سلام! اے اوقات میں بہترین رفیق
123
وَیَا خَیْرَ شَهْرٍ فِی الْاَیَّامِ وَالسَّاعَاتِ۔
124
اور دنوں اور ساعتوں میں بہترین مہینے
124
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ مِنْ شَهْرٍ قَرُبَتْ فِیْهِ الْاٰمَالُ
125
تجھ پر سلام! اے وہ مہینے جس میں امیدیں بر آتی ہیں
125
وَنُشِرَتْ فِیْهِ الْاَعْمَالُ۔
126
اور اعمال کی فروانی ہوتی ہے
126
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ مِنْ قَرِیْنٍ جَلَّ قَدْرُهٗ مَوْجُوْدًا
127
تجھ پر سلام! اے وہ ہم نشین کہ جو موجود ہو تو اس کی بڑی قدرو منزلت ہوتی ہے
127
وَاَفْجَعَ فَقْدُهٗ مَفْقُوْدًا
128
اور نہ ہونے پر بڑا دکھ ہوتا ہے
128
وَمَرْجُوٍّ اٰلَمَ فِرَاقُهٗ۔
129
اور اے وہ سر چشمۂ امید و رجا جس کی جدائی الم انگیز ہے
129
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ مِنْ اَلِیْفٍ اٰنَسَ مُقْبِلًا فَسَرَّ
130
تجھ پر سلام! اے وہ ہمدم جو انس و دل بستگی کا سامان لیے ہوئے آیا تو شادمانی کا سبب ہوا
130
وَاَوْحَشَ مُنْقَضِیًا فَمَضَّ۔
131
اور واپس گیا تو وحشت بڑھا کر غمگین بنا گیا
131
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ مِنْ مُّجَاوِرٍ رَقَّتْ فِیْهِ الْقُلُوْبُ
132
تجھ پر سلام! اے وہ ہمسائے جس کی ہمسائیگی میں دل نرم
132
وَقَلَّتْ فِیْهِ الذُّنُوْبُ۔
133
اور گناہ کم ہو گئے
133
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ مِنْ نَاصِرٍ اَعَانَ عَلَى الشَّیْطٰنِ
134
تجھ پر سلام! اے وہ مددگار جس نے شیطان کے مقابلہ میں مدد و اعانت کی
134
وَصَاحِبٍ سَهَّلَ سُبُلَ الْاِحْسَانِ۔
135
اے وہ ساتھی جس نے حسن عمل کی راہیں ہموار کیں
135
السَّلَامُ عَلَیْكَ مَاۤ اَكْثَرَ عُتَقَآءَ اللّٰهِ فِیْكَ
136
تجھ پر سلام! (اے ماہ رمضان) تجھ میں اللہ تعالیٰ کے آزاد کئے ہوئے بندے کس قدر زیادہ ہیں
136
وَمَاۤ اَسْعَدَ مَنْ رَّعٰى حُرْمَتَكَ بِكَ!۔
137
اور جنہوں نے تیری حرمت و عزت کا پاس و لحاظ رکھا وہ کتنے خوش نصیب ہیں
137
السَّلَامُ عَلَیْكَ مَا كَانَ اَمْحَاكَ لِلذُّنُوْبِ
138
تجھ پر سلام! تو کس قدر گناہوں کو محو کرنے والا
138
وَاَسْتَرَكَ لِاَنْوَاعِ الْعُیُوْبِ۔
139
اور قسم قسم کے عیبوں کو چھپانے والا ہے
139
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ مَا كَانَ اَطْوَلَكَ عَلَى الْمُجْرِمِیْنَ
140
تجھ پر سلام! تو گنہگاروں کیلئے کتنا طویل
140
وَاَهْیَبَكَ فِیْ صُدُوْرِ الْمُؤْمِنِیْنَ۔
141
اور مومنوں کے دلوں میں کتنا پر ہیبت ہے
141
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ مِنْ شَهْرٍ لَّا تُنَافِسُهُ الْاَیَّامُ۔
142
تجھ پر سلام! اے وہ مہینے جس سے دوسرے ایام ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتے
142
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ مِنْ شَهْرٍ هُوَ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ سَلَامٌ۔
143
تجھ پر سلام! اے وہ مہینے جو ہر امر سے سلامتی کا باعث ہے
143
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ غَیْرَ كَرِیْهِ الْمُصَاحَبَةِ
144
تجھ پر سلام! اے وہ جس کی ہم نشینی بار خاطر نہیں
144
وَلَا ذَمِیْمِ الْمُلَابَسَةِ۔
145
اور معاشرت ناگوار نہیں
145
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ كَمَا وَفَدْتَّ عَلَیْنَا بِالْبَرَكَاتِ
146
تجھ پر سلام! جبکہ تو برکتوں کے ساتھ ہمارے پاس آیا
146
وَغَسَلْتَ عَنَّا دَنَسَ الْخَطِیْٓـئَاتِ۔
147
اور گناہوں کی آلودگیوں کو دھو دیا
147
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ غَیْرَ مُوَدَّعٍ بَرَمًا
148
تجھ پر سلام! اے وہ جسے دل تنگی کی وجہ سے رخصت نہیں کیا گیا
148
وَّلَا مَتْرُوْكٍ صِیَامُهٗ سَاَمًا۔
149
اور نہ خستگی کی وجہ سے اس کے روزے چھوڑے گئے
149
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ مِنْ مَّطْلُوْبٍ قَبْلَ وَقْتِهٖ
150
تجھ پر سلام! اے وہ کہ جس کے آنے کی پہلے سے خواہش تھی
150
وَمَحْزُوْنٍ عَلَیْهِ قَبْلَ فَوْتِهٖ۔
151
اور جس کے ختم ہونے سے قبل ہی دل رنجیدہ ہیں
151
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ كَمْ مِّنْ سُوْٓءٍ صُرِفَ بِكَ عَنَّا
152
تجھ پر سلام! تیری وجہ سے کتنی برائیاں ہم سے دور ہو گئیں
152
وَكَمْ مِنْ خَیْرٍ اُفِیْضَ بِكَ عَلَیْنَا۔
153
اور کتنی بھلائیوں کے سرچشمے ہمارے لیے جاری ہو گئے
153
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ وَعَلٰى لَیْلَةِ الْقَدْرِ
154
تجھ پر سلام! (اے ماہِ رمضان) تجھ پر اور اس شب قدر پر
154
الَّتِیْ هِیَ خَیْرٌ مِّنْ اَلْفِ شَهْرٍ۔
155
جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے
155
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ مَا كَانَ اَحْرَصَنَا بِالْاَمْسِ عَلَیْكَ
156
سلام ہو! ابھی کل ہم کتنے تجھ پر وارفتہ تھے
156
وَاَشَدَّ شَوْقَنَا غَدًاۤ اِلَیْكَ۔
157
اور آنے والے کل میں ہمارے شوق کی کتنی فراوانی ہو گی
157
اَلسَّلَامُ عَلَیْكَ وَعَلٰى فَضْلِكَ الَّذِیْ حُرِمْنَاهُ
158
تجھ پر سلام! (اے ماہِ مبارک تجھ پر) اور تیری ان فضیلتوں پر جن سے ہم محروم ہو گئے
158
وَعَلٰى مَاضٍ مِّن بَرَكَاتِكَ سُلِبْنَاهُ۔
159
اور تیری گزشتہ برکتوں پر سلام ہو جو ہمارے ہاتھ سے جاتی رہیں
159
اَللّٰهُمَّ اِنَّاۤ اَهْلُ هٰذَا الشَّهْرِ الَّذِیْ شَرَّفْتَنَا بِهٖ
160
اے اللہ! ہم اس مہینہ سے مخصوص ہیں جس کی وجہ سے تو نے ہمیں شرف بخشا
160
وَوَفَّقْتَنَا بِمَنِّكَ لَهٗ
161
اور اپنے لطف و احسان سے اس کی حق شناسی کی توفیق دی
161
حِیْنَ جَهِلَ الْاَشْقِیَآءُ وَقْتَهٗ
162
جبکہ بدنصیب لوگ اس کے وقت (کی قدر و قیمت) سے بے خبر تھے
162
وَحُرِمُوْا لِشَقَآئِهِمْ فَضْلَهٗ
163
اور اپنی بدبختی کی وجہ سے اس کے فضل سے محروم رہ گئے
163
اَنْتَ وَلِیُّ مَا اٰثَرْتَنَا بِهٖ مِنْ مَّعْرِفَتِهٖ
164
اور تو ہی ولی و صاحب اختیار ہے کہ ہمیں اس کی حق شناسی کیلئے منتخب کیا
164
وَهَدَیْتَنَا لَهٗ مِنْ سُنَّتِهٖ
165
اور اس کے احکام کی ہدایت فرمائی
165
وَقَدْ تَوَلَّیْنَا بِتَوْفِیْقِكَ صِیَامَهٗ وَقِیَامَهٗ عَلٰى تَقْصِیْرٍ
166
بیشک تیری توفیق سے ہم نے اس ماہ میں روزے رکھے عبادت کیلئے قیام کیا مگر کمی و کوتاہی کے ساتھ
166
وَاَدَّیْنَا فِیْهِ قَلِیلًا مِّنْ كَثِیْرٍ۔
167
اور مشتے از خروار سے زیادہ نہ بجا لا سکے۔
167
اَللّٰهُمَّ فَلَكَ الْحَمْدُ اِقْرَارًا بِالْاِسَآءَةِ
168
اے اللہ! ہم تیری حمد کرتے ہیں اپنی بد اعمالی کا اقرار کرتے ہوئے
168
وَاعْتِرَافًا بِالْاِضَاعَةِ
169
اور سہل انگاری کا اعتراف کرتے ہوئے
169
وَلَكَ مِنْ قُلُوْبِنَا عَقْدُ النَّدَمِ
170
اور اب تیرے لیے کچھ ہے تو وہ ہمارے دلوں کی واقعی شرمساری
170
وَمِنْ اَلْسِنَتِنَا صِدْقُ الْاِعْتِذَارِ
171
اور ہماری زبانوں کی سچی معذرت ہے
171
فَاْجُرْنَا عَلٰى مَاۤ اَصَابَنَا فِیْهِ مِنَ التَّفْرِیْطِ
172
لہٰذا اس کمی و کوتاہی کے باوجود جو ہم سے ہوئی ہے ہمیں ایسا اجر عطا کر
172
اَجْرًا نَّسْتَدْرِكُ بِهِ الْفَضْلَ الْمَرْغُوْبَ فِیهِ
173
کہ ہم اس کے ذریعہ دلخواہ فضیلت و سعادت کو پا سکیں
173
وَنَعْتَاضُ بِهٖ مِنْ اَنْوَاعِ الذُّخْرِ الْمَحْرُوْصِ عَلَیْهِ
174
اور طرح طرح کے اجر و ثواب کے ذخیرے جن کے ہم آرزومند تھے اس کے عوض حاصل کر سکیں
174
وَاَوْجِبْ لَنا عُذْرَكَ
175
اور ہمارے عذر کو قبول فرما
175
عَلٰى مَا قَصَّرْنَا فِیْهِ مِنْ حَقِّكَ
176
ہم نے اس میں تیرے حق میں جو کمی و کوتاہی کی ہے
176
وَابْلُغْ بِاَعْمَارِنَا مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ الْمُقْبِلِ
177
اور ہماری عمر آئندہ کا رشتہ آنے والے ماہِ رمضان سے جوڑ دے
177
فَاِذَا بَلَّغْتَنَاهُ فَاَعِنَّا
178
اور جب اس تک پہنچا دے تو ہماری اعانت فرمانا
178
عَلٰى تَنَاوُلِ مَاۤ اَنْتَ اَهْلُهٗ مِنَ الْعِبَادَةِ
179
جو عبادت تیرے شایان شان ہو اس کے بجا لانے پر
179
وَاَدِّنَاۤ اِلَى الْقِیَامِ بِمَا یَسْتَحِقُّهٗ مِنَ الطَّاعَةِ
180
اور اس اطاعت پر جس کا وہ مہینہ سزاوار ہے عمل پیرا ہونے کی توفیق دینا
180
وَاَجْرِ لَنا مِنْ صَالِحِ الْعَمَلِ
181
اور ہمارے لیے ایسے نیک اعمال کا سلسلہ جاری رکھنا
181
مَا یَكُوْنُ دَرَكًا لِّحَقِّكَ فِی الشَّهْرَیْنِ مِنْ شُهُورِ الدَّهْرِ۔
182
کہ جو زمانۂ زیست کے مہینوں میں ایک کے بعد دوسرے ماہ تیرے حق ادائیگی کا باعث ہوں۔
182
اَللّٰهُمَّ وَمَاۤ اَلْمَمْنَا بِهٖ فِیْ شَهْرِنَا هٰذَا مِنْ لَّمَمٍ اَوْ اِثْمٍ
183
اے اللہ! ہم نے اس مہینہ میں جو صغیرہ یا کبیرہ معصیت کی ہو
183
اَوْ وَاقَعْنَا فِیْهِ مِنْ ذَنبٍ
184
یا کسی گناہ سے آلودہ ہوئے ہوں
184
وَاكْتَسَبْنَا فِیْهِ مِنْ خَطِیْٓئَةٍ
185
اور کسی خطا کے مرتکب ہوئے ہوں
185
عَلٰى تَعَمُّدٍ مِّنَّا اَوْ عَلٰى نِسْیَانٍ
186
جان بوجھ کر یا بھولے چوکے
186
ظَلَمْنَا فِیْهِ اَنْفُسَنَا
187
خود اپنے نفس پر ظلم کیا ہو
187
اَوِ انْتَهَكْنَا بِهٖ حُرْمَةً مِنْ غَیْرِنَا
188
یا دوسرے کا دامن حرمت چاک کیا ہو
188
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
189
تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
189
وَاسْتُرْنَا بِسِتْرِكَ
190
اور ہمیں اپنے پردہ میں ڈھانپ لے
190
وَاعْفُ عَنَّا بِعَفْوِكَ
191
اور اپنے عفو و درگزر سے کام لیتے ہوئے معاف کر دے
191
وَلَا تَنْصِبْنَا فِیْهِ لِاَعْیُنِ الشَّامِتِیْنَ
192
اور ایسا نہ ہو کہ اس گناہ کی وجہ سے طنز کرنے والوں کی آنکھیں ہمیں گھوریں
192
وَلَا تَبْسُطْ عَلَیْنَا فِیْهِ اَلْسُنَ الطَّاعِنِیْنَ
193
اور طعنہ زنی کرنے والوں کی زبانیں ہم پر کھلیں
193
وَاسْتَعْمِلْنَا بِمَا یَكُوْنُ حِطَّةً
194
اور ہمیں ان اعمال پر کار بند کر کہ جو ان چیزوں کو برطرف کریں
194
وَّكَفَّارَةً لِّمَاۤ اَنْكَرْتَ مِنَّا فِیْهِ
195
اور ان باتوں کی تلافی کریں جنہیں تو اس ماہ میں ہمارے لیے ناپسند کرتا ہے
195
بِرَاْفَتِكَ الَّتِیْ لَا تَنْفَدُ
196
اپنی شفقت بے پایاں سے
196
وَفَضْلِكَ الَّذِیْ لَا یَنْقُصُ۔
197
اور مرحمت روز افزوں سے۔
197
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
198
اے اللہ ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
198
وَاجْبُرْ مُصِیْبَتَنَا بِشَهْرِنَا
199
اور اس مہینہ کے رخصت ہونے سے جو قلق ہمیں ہوا ہے اس کا چارہ کر
199
وَبَارِكْ لَنا فِیْ یَوْمِ عِیْدِنَا وَفِطْرِنَا
200
اور عید اور روزہ چھوڑنے کے دن کو ہمارے لیے مبارک قرار دے
200
وَاجْعَلْهُ مِنْ خَیْرِ یَوْمٍ مَّرَّ عَلَیْنَاۤ
201
اور اسے ہمارے گزرے ہوئے دنوں میں بہترین دن قرار دے
201
اَجْلَبِهٖ لِعَفْوٍ
202
جو عفو و درگزر کو سمیٹنے والا
202
وَاَمْحَاهُ لِذَنبٍ
203
اور گناہوں کو محو کرنے والا ہو
203
وَاغْفِرْ لَنا مَا خَفِیَ مِنْ ذُنُوْبِنَا وَمَا عَلَنَ۔
204
اور تو ہمارے ظاہر و پوشیدہ گناہوں کو بخش دے۔
204
اَللّٰهُمَّ اسْلَخْنَا بِانْسِلَاخِ هٰذَا الشَّهْرِ مِنْ خَطَایَانَا
205
بار الٰہا! اس مہینہ کے الگ ہونے کے ساتھ تو ہمیں گناہوں سے الگ کر دے
205
وَاَخْرِجْنَا بِخُرُوْجِهٖ مِنْ سَیِّئَاتِنَا
206
اور اس کے نکلنے کے ساتھ تو ہمیں برائیوں سے نکال لے
206
وَاجْعَلْنَا مِنْ اَسْعَدِ اَهْلِهٖ بِهٖ
207
اور اس مہینہ کی بدولت اس کو آباد کرنے والوں میں ہمیں سب سے بڑھ کر خوش بخت
207
وَاَجْزَلِهِمْ قِسْمًا فِیْهِ
208
[سب سے بڑھ کر] بانصیب
208
وَاَوْفَرِهِمْ حَظًّا مِّنْهُ۔
209
اور [سب سے بڑھ کر] بہرمند قرار دے۔
209
اَللّٰهُمَّ وَمَنْ رَّعٰى هٰذَا الشَّهْرَ حَقَّ رِعَایَتِهٖ
210
اے اللہ! جس کسی نے جیسا چاہیے اس مہینے کا پاس و لحاظ کیا ہو
210
وَحَفِظَ حُرْمَتَهٗ حَقَّ حِفْظِهَا
211
اور کماحقہ اس کا احترام ملحوظ رکھا ہو
211
وَقَامَ بِحُدُوْدِهٖ حَقَّ قِیَامِهَا
212
اور اس کے احکام پر پوری طرح عمل پیرا رہا ہو
212
وَاتَّقٰى ذُنُوْبَهٗ حَقَّ تُقَاتِهَا
213
اور گناہوں سے جس طرح بچنا چاہیے اس طرح بچا ہو
213
اَوْ تَقَرَّبَ اِلَیْكَ بِقُرْبَةٍ اَوْجَبَتْ رِضَاكَ لَهٗ
214
یا بہ نیت تقرب ایسا عمل خیر بجا لایا ہو جس نے تیری خوشنودی اس کیلئے ضروری قرار دی ہو
214
وَعَطَفَتْ رَحْمَتَكَ عَلَیْهِ
215
اور تیری رحمت کو اس کی طرف متوجہ کر دیا ہو
215
فَهَبْ لَنا مِثْلَهٗ مِنْ وُّجْدِكَ
216
تو جو اسے بخشے ویسا ہی ہمیں بھی اپنی دولت بے پایاں میں سے بخش
216
وَاَعْطِنَاۤ اَضْعَافَهٗ مِنْ فَضْلِكَ
217
اور اپنے فضل و کرم سے اس سے بھی کئی گنا زائد عطا کر۔
217
فَاِنَّ فَضْلَكَ لَا یَغِیْضُ
218
اس لیے کہ تیرے فضل کے سوتے خشک نہیں ہوتے
218
وَاِنَّ خَزَآئِنَكَ لَا تَنْقُصُ بَلْ تَفِیْضُ
219
اور تیرے خزانے کم ہونے میں نہیں آتے بلکہ بڑھتے ہی جاتے ہیں
219
وَاِنَّ مَعَادِنَ اِحْسَانِكَ لَا تَفْنٰى
220
اور نہ تیرے احسانات کی کانیں فنا ہوتی ہیں
220
وَاِنَّ عَطَآءَكَ لَلْعَطَآءُ الْمُهَنَّا۔
221
اور تیری بخشش و عطا تو ہر لحاظ سے خوشگوار بخشش و عطا ہے۔
221
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
222
اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
222
وَاكْتُبْ لَنا مِثْلَ اُجُوْرِ مَنْ صَامَهٗ
223
اور ہمارے لیے اجر و ثواب ثبت فرما ایسے لوگوں کے ثواب کی مانند جو اس ماہ کے روزے رکھیں
223
اَوْ تَعَبَّدَ لَكَ فِیْهِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیَامَةِ۔
224
یا جو لوگ روز قیامت تک تیری عبادت کریں ان کے اجر و ثواب کے مانند۔
224
اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَتُوْبُ اِلَیْكَ فِیْ یَوْمِ فِطْرِنَا
225
اے اللہ! ہم توبہ کرتے ہیں اس روز فطر میں
225
الَّذِیْ جَعَلْتَهٗ لِلْمُؤْمِنِیْنَ عِیْدًا وَّسُرُوْرًا
226
جسے تو نے اہل ایمان کیلئے عید و مسرت کا روز
226
وَلِاَهْلِ مِلَّتِكَ مَجْمَعًا وَّمُحْتَشَدًا
227
اور اہل اسلام کیلئے اجتماع و تعاون کا دن قرار دیا ہے
227
مِّنْ كُلِّ ذَنبٍ اَذْنَبْنَاهُ
228
ہر اس گناہ سے جس کے ہم مرتکب ہوئے ہوں
228
اَوْ سُوْٓءٍ اَسْلَفْنَاهُ
229
اور ہر اس برائی سے جسے پہلے کر چکے ہوں
229
اَوْ خَاطِرِ شَرٍّ اَضْمَرْنَاهُ
230
اور ہر بری نیت سے جسے دل میں لیے ہوئے ہوں
230
تَوْبَةَ مَنْ‏ لَّا یَنْطَوِیْ عَلٰى رُجُوْعٍ اِلٰى ذَنبٍ
231
اس شخص کی طرح توبہ جو گناہ کی طرف دوبارہ پلٹنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو
231
وَلَا یَعُوْدُ بَعْدَهَا فِیْ خَطِیْٓـئَةٍ
232
اور نہ توبہ کے بعد خطا کا مرتکب ہوتا ہو
232
تَوْبَةً نَصُوْحًا خَلَصَتْ مِنَ الشَّكِّ وَالِارْتِیَابِ
233
ایسی سچی توبہ جو ہر شک و شبہ سے پاک ہو
233
فَتَقَبَّلْهَا مِنَّا
234
تو اب ہماری توبہ کو قبول فرما
234
وَارْضَ عَنَّا، وَثَبِّتْنَا عَلَیْهَا۔
235
ہم سے راضی و خوشنود ہو جا، اور ہمیں اس پر ثابت قدم رکھ۔
235
اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنَا خَوْفَ عِقَابِ الْوَعِیْدِ
236
اے اللہ! ہمیں نصیب فرما گناہوں کی سزا کا خوف
236
وَشَوْقَ ثَوَابِ الْمَوْعُوْدِ
237
اور جس ثواب کا تو نے وعدہ کیا ہے اس کا شوق
237
حَتّٰى نَجِدَ لَذَّةَ مَا نَدْعُوْكَ بِهٖ
238
تاکہ پوری طرح جان سکیں جس ثواب کے تجھ سے خواہشمند ہیں اس کی لذت،
238
وَكَاْبَةَ مَا نَسْتَجِیْرُكَ مِنْهُ
239
اور جس عذاب سے پناہ مانگ رہے ہیں اس کی تکلیف و اذیت۔
239
وَاجْعَلْنَا عِنْدَكَ مِنَ التَّوَّابِیْنَ
240
اور ہمیں اپنے نزدیک ان توبہ گزاروں میں سے قرار دے
240
الَّذِیْنَ اَوْجَبْتَ لَهُمْ مَحَبَّتَكَ
241
جن کیلئے تو نے اپنی محبت کو لازم کر دیا ہے
241
وَقَبِلْتَ مِنْهُمْ مُرَاجَعَةَ طَاعَتِكَ
242
اور جن سے فرمانبرداری و اطاعت کی طرف رجوع ہونے کو تو نے قبول فرمایا ہے
242
یَاۤ اَعْدَلَ الْعَادِلِیْنَ۔
243
اے عدل کرنے والوں میں سب سے زیادہ عدل کرنے والے۔
243
اَللّٰهُمَّ تَجَاوَزْ عَنْ اٰبَآئِنَا وَاُمَّهَاتِنَا وَاَهْلِ دِیْنِنَا جَمِیْعًا
244
اے اللہ! ہمارے ماں باپ اور ہمارے تمام اہل مذہب و ملت، سب سے در گزر فرما
244
مَنْ سَلَفَ مِنْهُمْ وَمَنْ غَبَرَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ۔
245
خواہ وہ گزر چکے ہوں یا قیامت کے دن تک آئندہ آنے والے ہوں۔
245
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ نَبِـیِّنَا وَاٰلِهٖ
246
اے اللہ! ہمارے نبی محمدؐ اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما
246
كَمَا صَلَّیْتَ عَلٰى مَلٰٓئِكَتِكَ الْمُقَرَّبِیْنَ
247
جیسی رحمت تو نے اپنے مقرب فرشتوں پر کی ہے
247
وَصَلِّ عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ كَمَا صَلَّیْتَ عَلٰۤى اَنبِیَآئِكَ الْمُرْسَلِیْنَ
248
اور ان پر اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما جیسی تو نے اپنے فرستادہ نبیوں پر نازل فرمائی ہے
248
وَصَلِّ عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ كَمَا صَلَّیْتَ عَلٰى عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ
249
اور ان پر اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما جیسی تو نے اپنے نیکو کار بندوں پر نازل کی ہے
249
وَاَفْضَلَ مِنْ ذٰلِكَ یَا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ
250
(بلکہ) اس سے بہتر و برتر، اے تمام جہان کے پروردگار!
250
صَلَاةً تَبْلُغُنَا بَرَكَتُهَا
251
ایسی رحمت جس کی برکت ہم تک پہنچے
251
وَیَنَالُنَا نَفْعُهَا
252
جس کی منفعت ہمیں حاصل ہو
252
وَیُسْتَجَابُ لَهَا دُعَآؤُنَا
253
اور جس کی وجہ سے ہماری دعائیں قبول ہوں۔
253
اِنَّكَ اَكْرَمُ مَنْ رُغِبَ اِلَیْهِ
254
اس لیے کہ تو ان لوگوں سے جن کی طرف رجوع ہوا جاتا ہے زیادہ کریم
254
وَاَكْفٰى مَنْ تُوُكِّلَ عَلَیْهِ
255
اور ان لوگوں سے جن پر بھروسا کیا جاتا ہے زیادہ بے نیاز کرنے والا ہے
255
وَاَعْطٰى مَنْ سُئِلَ مِنْ فَضْلِهٖ
256
اور ان لوگوں سے جن کے فضل کی بنا پر سوال کیا جاتا ہے، زیادہ عطا کرنے والا ہے
256
وَاَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْ‏ءٍ قَدِیْرٌ۔
257
اور تو ہر چیز پر قادر و توانا ہے۔
257

یہ دعا ماہ رمضان کے برکت آفرین لمحات کو الوداع کرنے کے سلسلہ میں ہے۔ لفظ ”وداع“، دعة سے ماخوذ ہے جس کے معنی راحت و آرام اور پرسکون زندگی کے ہیں۔ اور مسافر کو وداع کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس سے اپنی محبت و دل بستگی کا اظہار کیا جائے اور اس کیلئے دعا کی جائے کہ سفر کی صعوبتیں اس کیلئے آسان اور منزل کی دشواریاں اس کیلئے سہل ہوں اور اسے دوبارہ پلٹ کر آنا نصیب ہو، یا جہاں جانا چاہتا ہے وہاں سکون و قرار حاصل ہو۔ یہ وداع اس کی دلیل ہے کہ جسے وداع کیا جا رہا ہے نگاہوں میں اس کی عزت اور دل میں اس کی قدر و منزلت ہے اور اس کی جدائی گراں اور مفارقت شاق ہے۔ یہ محبت اور لگاؤ زمان سے بھی ہو سکتا ہے اور مکان سے بھی۔ ذی شعور سے بھی ہو سکتا ہے اور غیر ذی شعور سے بھی۔ چنانچہ اسی محبت و وابستگی کے نتیجہ میں انسان کبھی ماضی کے ان لمحوں کو پکارتا ہے جو اپنی خوشگوار یاد دل میں چھوڑ جاتے ہیں اور کبھی شباب کی گھڑیوں کو خطاب کرتا اور عمر رفتہ کو آواز دیتا ہے، اور کبھی اداس کھنڈروں، خاموش ویرانوں اور شکستہ دیواروں سے خطاب کرتا ہے اور کبھی ان کی زبان بے زبانی کی خود ترجمانی کرتا اور کبھی ان سے بولنے اور جواب دینے کی فرمائش کرتا ہے۔ چنانچہ عرب کا ایک شاعر کہتا ہے:

يَا دَارَ عَبْلَةَ بِالْجِوَآءِ تَكَلَّمِیْ، وَعِمِیْ صَبَاحًا دَارَ عَبْلَةَ وَاسْلَمِیْ

”اے مقام جوا میں واقع ہونے والے عبلہ کے گھر !کچھ بول کہ میں گوش بر آواز ہوں، تیری صبحیں غارت گری سے محفوظ اور تو گردش زمانہ سے بچا رہے“۔

اسی طرح ماہ رمضان کے لمحوں اور ساعتوں سے خطاب کرنا اس سے انتہائی وابستگی کی دلیل ہے۔ کیونکہ خاصان خدا کو ذکر الٰہی، اطاعت خداوندی اور عبادت سے اتنی شیفتگی ہوتی ہے کہ وہ عبادت کے مخصوص دنوں اور لمحوں سے بھی والہانہ محبت کا اظہار کرتے ہیں اور ان لمحوں کی جدائی کو اتنا ہی محسوس کرتے ہیں جتنا دل باختگان محبت، محبوب کی جدائی کو اور اسی طرح بجھے ہوئے دل اور مرجھائے ہوئے چہرے کے ساتھ انہیں الوداع کرتے ہیں جس طرح محبوب کو رخصت کیا جاتا ہے۔ چنانچہ حضرتؑ اواخر ماہ رمضان میں یہ دعا پڑھتے اور تحسر آمیز جذبات کے ساتھ اسے الوداع کرتے۔

یہ دعا انہی لوگوں کیلئے ہے جنہوں نے اس ماہ مبارک کے لمحات عبادت و اطاعت میں گزارے ہوں، واجبات ادا کئے ہوں اور محرمات سے کنارہ کش رہے ہوں۔ اور جنہوں نے نماز روزہ سے کوئی واسطہ نہ رکھا ہو تو انہیں اس کے آنے پر خوشی ہی کیا تھی کہ جانے کا رنج کریں اور اسے الوداع کرنے کی ضرورت محسوس کریں۔ البتہ جنہوں نے خدا کی خوشنودی کا سر و سامان کیا ہو اور اس کے مبارک لمحات میں زاد آخرت بہم پہنچایا ہو، فرائض و واجبات ادا کئے ہوں، انہیں الوداع کرنا چاہیے، تا کہ ان کے حسنات میں مزید اضافہ ہو اور رحمت و مغفرت الٰہی کے اہل قرار پائیں۔ چنانچہ جابر ابن عبد اللہ انصاری کہتے ہیں:

دَخَلْتُ عَلٰى رَسُوْلِ اللّٰهِ فِیْۤ اٰخِرِ جُمُعَةٍ مِّنْ شَهْرِ رَمَضَانَ۔ فَلَمَّا بَصُرَ بِیْ قَالَ لِیْ: يَا جَابِرُ! هٰذَا اٰخِرُ جُمُعَةٍ مِّنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَوَدِّعْهُ وَقُلِ: اللّٰهُمَّ لَا تَجْعَلْهُ اٰخِرَ الْعَهْدِ مِنْ صِيَامِنَا اِيَّاهُ، فَاِنْ جَعَلْتَهٗ فَاجْعَلْنِیْ مَرْحُوْمًا وَّلَا تَجْعَلْنِیْ مَحْرُوْمًا۔ فَاِنَّهٗ مَنْ قَالَ ذٰلِكَ ظَفِرَ بِاِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ: اِمَّا بِبُلُوْغِ شَهْرِ رَمَضَانَ، وَاِمَّا بِغُفْرَانِ اللّٰهِ وَرَحْمَتِهٖ۔

میں ماہ رمضان میں جمعة الوداع کے دن پیغمبر اکرمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آنحضرتؐ نے مجھے دیکھا تو فرمایا کہ اے جابر! یہ ماہ رمضان کا آخری جمعہ ہے، لہٰذا اسے وداع کرو اور یہ کہو ”اے اللہ! اسے ہمارے روزوں کا آخری زمانہ نہ قرار دے اور اگر تو نے قرار دیا ہے تو ہمیں اپنی رحمت سے سرفراز کر اور محروم نہ کر“۔ تو جو شخص یہ کلمات کہے گا تو وہ دو خوبیوں میں سے ایک خوبی کو ضرور پائے گا، یا تو آئندہ کا ماہ رمضان اسے نصیب ہو گا، یا اللہ تعالیٰ کی مغفرت و رحمت اس کے شامل حال ہو گی۔ ۱

یہ دعا جمعة الوداع یا ماہ رمضان کی آخری شب یا آخری روز میں پڑھنا چاہیے اور آخری شب میں سحر کے وقت پڑھنا بہتر ہے۔ اور اس سے بہتر یہ ہے کہ جمعة الوداع میں بھی پڑھے اور آخری شب میں بھی پڑھے۔ اور اگر یہ خیال ہو کہ چاند انتیس کا ہو گا تو انتیسویں شب میں پڑھے اور چاند نہ ہو تو تیسویں شب میں بھی پڑھے اور ایک قول یہ ہے کہ شب عید پڑھے۔

وسائل الشیعہ، ج ۱۰ ص ۳۶۵