(۴۷) وَكَانَ مِنْ دُعَآئِهٖ عَلَیْهِ السَّلَامُ فِیْ یَوْمِ عَرَفَةَ۔ دعائے روزِ عرفہ۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ
1
سب تعریف اس اللہ کیلئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے
1
اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ بَدِیْعَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ
2
بار الٰہا! تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں اے آسمان و زمین کے پیدا کرنے والے
2
ذَا الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ
3
اے بزرگی و اعزاز والے
3
رَبَّ الْاَرْبَابِ
4
اے پالنے والوں کے پالنے والے
4
وَاِلٰهَ كُلِّ مَاْلُوْهٍ
5
اے ہر پرستار کے معبود
5
وَخَالِقَ كُلِّ مَخْلُوْقٍ
6
اے ہر مخلوق کے خالق
6
وَوَارِثَ كُلِّ شَیْ‏ءٍ۔
7
اور ہر چیز کے مالک و وارث۔
7
لَیْسَ كَمِثْلِهٖ شَیْ‏ءٌ
8
اس کے مثل کوئی چیز نہیں ہے
8
وَلَا یَعْزُبُ عَنْهُ عِلْمُ شَیْ‏ءٍ
9
اور نہ کوئی چیز اس کے علم سے پوشیدہ ہے
9
وَهُوَ بِكُلِّ شَیْ‏ءٍ مُّحِیْطٌ
10
وہ ہر چیز پر حاوی
10
وَهُوَعَلٰى كُلِّ شَیْ‏ءٍ رَقِیْبٌ۔
11
اور ہر شے پر نگران ہے۔
11
اَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
12
تو ہی وہ اللہ ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں
12
الْاَحَدُ الْمُتَوَحِّدُ الْفَرْدُ الْمُتَفَرِّدُ۔
13
جو ایک اکیلا اور یکتا و یگانہ ہے۔
13
وَاَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
14
اور تو ہی وہ اللہ ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں
14
الْكَرِیْمُ الْمُتَكَرِّمُ
15
جو بخشنے والا اور انتہائی بخشنے والا
15
الْعَظِیْمُ الْمُتَعَظِّمُ
16
عظمت والا اور انتہائی عظمت والا
16
الْكَبِیْرُ الْمُتَكَبِّرُ۔
17
اور بڑا اور انتہائی بڑا ہے۔
17
وَاَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
18
اور تو ہی وہ اللہ ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں
18
الْعَلِیُّ الْمُتَعَالِ
19
جو بلند و برتر
19
الشَّدِیْدُ الْمِحَالِ۔
20
اور بڑی قوت و تدبیر والا ہے۔
20
وَاَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
21
اور تو ہی وہ اللہ ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں
21
الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ
22
جو فیض رساں، مہربان
22
الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ۔
23
اور علم و حکمت والا ہے۔
23
وَاَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
24
اور تو ہی وہ معبود ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں
24
السَّمِیْعُ الْبَصِیْرُ
25
جو سننے والا، دیکھنے والا
25
الْقَدِیْمُ الْخَبِیْرُ۔
26
قدیم و ازلی اور ہر چیز سے آگاہ ہے۔
26
وَاَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
27
اور تو ہی وہ معبود ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں
27
الْكَرِیْمُ الْاَكْرَمُ
28
جو کریم اور سب سے بڑھ کر کریم
28
الدَّآئِمُ الْاَدْوَمُ۔
29
اور دائم و جاوید ہے۔
29
وَاَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
30
اور تو ہی وہ معبود ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں
30
الْاَوَّلُ قَبْلَ كُلِّ اَحَدٍ
31
جو ہر شے سے پہلے
31
وَالْاٰخِرُ بَعْدَ كُلِّ عَدَدٍ۔
32
اور ہر شمار میں آنے والی شے کے بعد ہے۔
32
وَاَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
33
اور تو ہی وہ معبود ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں
33
الدَّانِیْ فِیْ عُلُوِّهٖ
34
جو (کائنات کے دسترس سے) بالا ہونے کے باوجود نزدیک
34
وَالْعَالِیْ فِیْ دُنُوِّهٖ۔
35
اور نزدیک ہونے کے باوجود (فہم و ادراک سے) بلند ہے۔
35
وَاَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
36
اور تو ہی وہ معبود ہے کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں
36
ذُو الْبَهَآءِ وَالْمَجْدِ
37
جو جمال و بزرگی والا
37
وَالْكِبْرِیَآءِ وَالْحَمْدِ۔
38
اور عظمت و ستائش والا ہے۔
38
وَاَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
39
اور تو ہی وہ اللہ ہے کہ تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں
39
الَّذِیْۤ اَنْشَاْتَ الْاَشْیَآءَ مِنْ غَیْرِ سِنْخٍ
40
جس نے بغیر مواد کے تمام چیزوں کو پیدا کیا
40
وَصَوَّرْتَ مَا صَوَّرْتَ مِنْ غَیْرِ مِثَالٍ
41
اور بغیر کسی نمونہ و مثال کے صورتوں کی نقش آرائی کی
41
وَابْتَدَعْتَ الْمُبْتَدَعَاتِ بِلَا احْتِذَآءٍ۔
42
اور بغیر کسی کی پیروی کئے موجودات کو خلعت وجود بخشا۔
42
اَنْتَ الَّذِیْ قَدَّرْتَ كُلَّ شَیْ‏ءٍ تَقْدِیْرًا
43
تو ہی وہ ہے جس نے ہر چیز کا ایک اندازہ ٹھہرایا ہے
43
وَیَسَّرْتَ كُلَّ شَیْ‏ءٍ تَیْسِیْرًا
44
اور ہر چیز کو اس کے وظائف کی انجام دہی پر آمادہ کیا ہے
44
وَدَبَّرْتَ مَا دُوْنَكَ تَدْبِیْرًا۔
45
اور کائنات عالم میں سے ہر چیز کی تدبیر و کارسازی کی ہے۔
45
اَنْتَ الَّذِیْ لَمْ یُعِنْكَ عَلٰى خَلْقِكَ شَرِیْكٌ
46
تو وہ ہے کہ آفرینش عالم میں کسی شریک کار نے تیرا ہاتھ نہیں بٹایا
46
وَلَمْ یُوَازِرْكَ فِیْۤ اَمْرِكَ وَزِیْرٌ
47
اور نہ کسی معاون نے تیرے کام میں تجھے مدد دی ہے
47
وَلَمْ یَكُنْ لَّكَ مُشَاهِدٌ وَّلَا نَظِیْرٌ۔
48
اور نہ کوئی تیرا دیکھنے والا اور نہ کوئی تیرا مثل و نظیر تھا۔
48
اَنْتَ الَّذِیْۤ اَرَدْتَّ فَكَانَ حَتْمًا مَّاۤ اَرَدْتَّ
49
اور تو نے جو ارادہ کیا وہ حتمی و لازمی
49
وَقَضَیْتَ فَكَانَ عَدْلًا مَّا قَضَیْتَ
50
اور جو فیصلہ کیا وہ عدل کے تقاضوں سے عین مطابق
50
وَحَكَمْتَ فَكَانَ نِصْفًا مَّا حَكَمْتَ۔
51
اور جو حکم دیا وہ انصاف پر مبنی تھا۔
51
اَنْتَ الَّذِیْ لَا یَحْوِیْكَ مَكَانٌ
52
تو وہ ہے جسے کوئی جگہ گھیرے ہوئے نہیں ہے
52
وَلَمْ یَقُمْ لِسُلْطَانِكَ سُلْطَانٌ
53
اور نہ تیرے اقتدار کا کوئی اقتدار مقابلہ کر سکتا ہے
53
وَلَمْ یُعْیِكَ بُرْهَانٌ وَّلَا بَیَانٌ۔
54
اور نہ تو دلیل و برہان اور کسی چیز کو واضح طور پر پیش کرنے سے عاجز ہے۔
54
اَنْتَ الَّذِیْۤ اَحْصَیْتَ كُلَّ شَیْ‏ءٍ عَدَدًا
55
تو وہ ہے جس نے ایک ایک چیز کو شمار کر رکھا ہے
55
وَجَعَلْتَ لِكُلِّ شَیْ‏ءٍ اَمَدًا
56
اور ہر چیز کی ایک مدت مقرر کر دی ہے
56
وَقَدَّرْتَ كُلَّ شَیْ‏ءٍ تَقْدِیْرًا۔
57
اور ہر شے کا ایک اندازہ ٹھہرا دیا ہے۔
57
اَنْتَ الَّذِیْ قَصُرَتِ الْاَوْهَامُ عَنْ ذَاتِیَّتِكَ
58
تو وہ ہے کہ تیری کنہ ذات کو سمجھنے سے واہمے قاصر
58
وَعَجَزَتِ الْاَفْهَامُ عَنْ كَیْفِیَّتِكَ
59
اور تیری کیفیت کو جاننے سے عقلیں عاجز ہیں
59
وَلَمْ تُدْرِكِ الْاَبْصَارُ مَوْضِعَ اَیْنِیَّتِكَ۔
60
اور تیری کوئی جگہ نہیں ہے کہ آنکھیں اس کا کھوج لگا سکتیں۔
60
اَنْتَ الَّذِیْ لَا تُحَدُّ فَتَكُوْنَ مَحْدُوْدًا
61
تو وہ ہے کہ تیری کوئی حد و نہایت نہیں ہے کہ تو محدود قرار پائے
61
وَلَمْ تُمَثَّلْ فَتَكُوْنَ مَوْجُوْدًا
62
اور نہ تیرا تصور کیا جا سکتا ہے کہ تو تصور کی ہوئی صورت کے ساتھ ذہن میں موجود ہو سکے
62
وَلَمْ تَلِدْ فَتَكُوْنَ مَوْلُوْدًا۔
63
اور نہ تیرے کوئی اولاد ہے کہ تیرے متعلق کسی کی اولاد ہونے کا احتمال ہو۔
63
اَنْتَ الَّذِیْ لَا ضِدَّ مَعَكَ فَیُعَانِدَكَ
64
تو وہ ہے کہ تیرا کوئی مد مقابل نہیں ہے کہ تجھ سے ٹکرائے
64
وَلَا عِدْلَ لَكَ فَیُكَاثِرَكَ
65
اور نہ تیرا کوئی ہمسر ہے کہ تجھ پر غالب آئے
65
وَلَا نِدَّ لَكَ فَیُعَارِضَكَ۔
66
اور نہ تیرا کوئی مثل و نظیر ہے کہ تجھ سے برابری کرے۔
66
اَنْتَ الَّذِی ابْتَدَاَ وَاخْتَرَعَ
67
تو وہ ہے جس نے خلق کائنات کی ابتدا کی، عالم کو ایجاد کیا
67
وَاسْتَحْدَثَ وَابْتَدَعَ
68
اس کی بنیاد قائم کی اور بغیر کسی مادہ و اصل کے اسے وجود میں لایا
68
وَاَحْسَنَ صُنْعَ مَا صَنَعَ۔
69
اور جو بنایا اسے اپنی حسن صنعت کا نمونہ بنایا۔
69
سُبْحَانَكَ, مَاۤ اَجَلَّ شَاْنَكَ
70
تو ہر عیب سے منزہ ہے۔ تیری شان کس قدر بزرگ
70
وَاَسْنٰى فِی الْاَمَاكِنِ مَكَانَكَ
71
اور تمام جگہوں میں تیرا پایہ کتنا بلند
71
وَاَصْدَعَ بِالْحَقِّ فُرْقَانَكَ۔
72
اور تیری حق و باطل میں امتیاز کرنے والی کتاب کس قدر حق کو آشکارا کرنے والی ہے۔
72
سُبْحَانَكَ، مِنْ لَّطِیْفٍ مَّاۤ اَلْطَفَكَ
73
تو منزہ ہے، اے صاحب لطف و احسان! تو کس قدر لطف فرمانے والا ہے
73
وَرَءُوْفٍ مَّاۤ اَرْاَفَكَ
74
اے مہربان! تو کس قدر مہربانی کرنے والا ہے
74
وَحَكِیْمٍ مَّاۤ اَعْرَفَكَ۔
75
اے حکمت والے! تو کتنا جاننے والا ہے۔
75
سُبْحَانَكَ، مِنْ مَّلِیْكٍ مَّاۤ اَمْنَعَكَ
76
پاک ہے تیری ذات اے صاحب اقتدار! تو کس قدر قوی و توانا ہے
76
وَجَوَادٍ مَّاۤ اَوْسَعَكَ
77
اے کریم! تیرا دامن کرم کتنا وسیع ہے
77
وَرَفِیْعٍ مَّاۤ اَرْفَعَكَ
78
اے بلند مرتبہ! تیرا مرتبہ کتنا بلند ہے
78
ذُو الْبَهَآءِ وَالْمَجْدِ
79
تو مالک ہے حسن و خوبی، شرف و بزرگی کا
79
وَالْكِبْرِیَآءِ وَالْحَمْدِ۔
80
عظمت و کبریائی اور حمد و ستائش کا۔
80
سُبْحَانَكَ، بَسَطْتَّ بِالْخَیْرَاتِ یَدَكَ
81
پاک ہے تیری ذات! تو نے بھلائیوں کیلئے اپنا ہاتھ بڑھایا ہے
81
وَعُرِفَتِ الْهِدَایَةُ مِنْ عِنْدِكَ
82
تجھ ہی سے ہدایت کا عرفان حاصل ہوا ہے
82
فَمَنِ الْتَمَسَكَ لِدِیْنٍ اَوْ دُنْیَا وَجَدَكَ۔
83
لہٰذا جو تجھے دین یا دنیا کیلئے طلب کرے تجھے پا لے گا۔
83
سُبْحَانَكَ، خَضَعَ لَكَ مَنْ جَرٰى فِیْ عِلْمِكَ
84
تو منزہ و پاک ہے! جو بھی تیرے علم میں ہے وہ تیرے سامنے سرنگوں
84
وَخَشَعَ لِعَظَمَتِكَ مَا دُوْنَ عَرْشِكَ
85
اور جو کچھ عرش کے نیچے ہے وہ تیری عظمت کے آگے سر بہ خم
85
وَانْقَادَ لِلتَّسْلِیْمِ لَكَ كُلُّ خَلْقِكَ۔
86
اور جملہ مخلوقات تیری اطاعت کا جوا اپنی گردن میں ڈالے ہوئے ہیں۔
86
سُبْحَانَكَ، لَا تُحَسُّ
87
پاک ہے تیری ذات! کہ نہ حواس سے تجھے جانا جا سکتا ہے
87
وَلَا تُجَسُّ وَلَا تُمَسُّ
88
نہ تجھے ٹٹولا اور چھوا جا سکتا ہے
88
وَلَا تُكَادُ وَلَا تُمَاطُ
89
نہ تجھ پر کسی کا حیلہ چل سکتا ہے، نہ تجھے دور کیا جا سکتا ہے
89
وَلَا تُنَازَعُ وَلَا تُجَارٰى وَلَا تُمَارٰى
90
نہ تجھ سے نزاع ہو سکتی ہے، نہ مقابلہ، نہ تجھ سے جھگڑا کیا جا سکتا ہے
90
وَلَا تُخَادَعُ وَلَا تُمَاكَرُ۔
91
اور نہ تجھے دھوکا اور فریب دیا جا سکتا ہے۔
91
سُبْحَانَكَ، سَبِیْلُكَ جَدَدٌ
92
پاک ہے تیری ذات! تیرا راستہ سیدھا اور ہموار
92
وَاَمْرُكَ رَشَدٌ
93
تیرا فرمان سراسر حق و صواب
93
وَاَنْتَ حَیٌّ صَمَدٌ۔
94
اور تو زندہ و بے نیاز ہے۔
94
سُبْحَانَكَ، قَولُكَ حُكْمٌ
95
پاک ہے تو! تیری گفتار حکمت آمیز
95
وَقَضَآؤُكَ حَتْمٌ
96
تیرا فیصلہ قطعی
96
وَاِرَادَتُكَ عَزْمٌ۔
97
اور تیرا ارادہ حتمی ہے۔
97
سُبْحَانَكَ، لَا رَادَّ لِمَشِیَّتِكَ
98
پاک ہے تو! نہ تو کوئی تیری مشیت کو رد کر سکتا ہے
98
وَلَا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِكَ۔
99
اور نہ کوئی تیری باتوں کو بدل سکتا ہے۔
99
سُبْحَانَكَ! بَاهِرَ الْاٰیَاتِ
100
پاک ہے تو! اے درخشندہ نشانیوں والے!
100
فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ
101
اے آسمانوں کے خلق فرمانے والے!
101
بَارِئَ النَّسَمَاتِ۔
102
اور ذی روح چیزوں کے پیدا کرنے والے!
102
لَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا یَّدُوْمُ بِدَوَامِكَ
103
تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں، ایسی تعریفیں جن کی ہمیشگی تیری ہمیشگی سے سے وابستہ ہے
103
وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا خَالِدًا بِنِعْمَتِكَ
104
اور تیرے ہی لیے ستائش ہے، ایسی ستائش جو تیری نعمتوں کے ساتھ ہمیشہ باقی رہے
104
وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا یُّوَازِیْ صُنْعَكَ
105
اور تیرے ہی لیے حمد و ثنا ہے، ایسی جو تیرے کرم و احسان کے برابر ہو
105
وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا یَّزِیْدُ عَلٰى رِضَاكَ
106
اور تیرے ہی لیے حمد ہے، ایسی جو تیری رضا مندی سے بڑھ جائے
106
وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا مَّعَ حَمْدِ كُلِّ حَامِدٍ
107
اور تیرے ہی لیے حمد و سپاس ہے، ایسی جو ہر حمد گزار کی حمد پر مشتمل ہو
107
وَشُكْرًا یَّقْصُرُ عَنْهُ شُكْرُ كُلِّ شَاكِرٍ۔
108
اور جس کے مقابلہ میں ہر شکر گزار کا شکر پیچھے رہ جائے۔
108
حَمْدًا لَّا یَنبَغِیْۤ اِلَّا لَكَ
109
ایسی حمد جو تیرے علاوہ کسی کیلئے سزا وار نہ ہو
109
وَلَا یُتَقَرَّبُ بِهٖۤ اِلَّاۤ اِلَیْكَ۔
110
اور نہ تیرے سوا کسی کے تقرب کا وسیلہ بنے۔
110
حَمْدًا یُّسْتَدَامُ بِهِ الْاَوَّلُ
111
ایسی حمد جو پہلی حمد کے دوام کا سبب قرار پائے
111
وَیُسْتَدْعٰى بِهٖ دَوَامُ الْاٰخِرِ۔
112
اور اس کے ذریعہ آخری حمد کے دوام کی التجا کی جائے۔
112
حَمْدًا یَّتَضَاعَفُ عَلٰى كُرُوْرِ الْاَزْمِنَةِ
113
ایسی حمد جو زمانہ کی گردشوں کے ساتھ بڑھتی جائے
113
وَیَتَزَایَدُ اَضْعَافًا مُّتَرَادِفَةً۔
114
اور پے در پے اضافوں سے زیادہ ہوتی رہے۔
114
حَمْدًا یَّعْجِزُ عَنْ اِحْصَآئِهِ الْحَفَظَةُ
115
ایسی حمد کہ نگبہانی کرنے والے فرشتے اس کے شمار سے عاجز آ جائیں
115
وَیَزِیْدُ عَلٰى مَاۤ اَحْصَتْهُ فِیْ كِتَابِكَ الْكَتَبَةُ۔
116
ایسی حمد کہ جو کاتبان اعمال نے تیری کتاب میں لکھ دیا ہے اس سے بڑھ جائے۔
116
حَمْدًا یُّوَازِنُ عَرْشَكَ الْمَجِیْدَ
117
ایسی حمد جو تیرے عرش بزرگ کے ہم وزن
117
وَیُعَادِلُ كُرْسِیَّكَ الرَّفِیْعَ۔
118
اور تیری بلند پایہ کرسی کے برابر ہو۔
118
حَمْدًا یَّكْمُلُ لَدَیْكَ ثَوَابُهٗ
119
ایسی حمد جس کا اجر و ثواب تیری طرف سے کامل
119
وَیَسْتَغْرِقُ كُلَّ جَزَآءٍ جَزَاؤُهٗ۔
120
اور جس کی جزا تمام جزاؤں کو شامل ہو۔
120
حَمْدًا ظَاهِرُهٗ وَفْقٌ لِّبَاطِنِهٖ
121
ایسی حمد جس کا ظاہر باطن سے ہمنوا
121
وَبَاطِنُهٗ وَفْقٌ لِّصِدْقِ النِّیَّةِ۔
122
اور باطن صدق نیت سے ہم آہنگ ہو۔
122
حَمْدًا لَّمْ یَحْمَدْكَ خَلْقٌ مِّثْلَهٗ
123
ایسی حمد کہ کسی مخلوق نے ویسی تیری حمد نہ کی ہو
123
وَلَا یَعْرِفُ اَحَدٌ سِوَاكَ فَضْلَهٗ۔
124
اور تیرے سوا کوئی اس کی فضیلت و برتری سے آشنانہ ہو۔
124
حَمْدًا یُّعَانُ مَنِ اجْتَهَدَ فِیْ تَعْدِیْدِهٖ
125
ایسی حمد کہ جو اِسے بکثرت بجا لانے کیلئے کوشاں ہو اُسے (تیری طرف سے) مدد حاصل ہو
125
وَیُؤَیَّدُ مَنْ اَغْرَقَ نَزْعًا فِیْ تَوْفِیَتِهٖ۔
126
اور جو اِسے انجام تک پہنچانے کیلئے سعی بلیغ کرے اُسے توفیق و تائید نصیب ہو۔
126
حَمْدًا یَّجْمَعُ مَا خَلَقْتَ مِنَ الْحَمْدِ
127
ایسی حمد جو تمام اقسام حمد کی جامع ہو جنہیں تو موجود کر چکا ہے
127
وَیَنْتَظِمُ مَاۤ اَنْتَ خَالِقُهٗ مِن بَعْدُ۔
128
اور ان اقسام کو بھی شامل ہو جنہیں تو بعد میں موجود کرے گا۔
128
حَمْدًا لَّا حَمْدَ اَقْرَبُ اِلٰى قَوْلِكَ مِنْهُ
129
ایسی حمد کہ اس سے بڑھ کر کوئی حمد تیری مراد سے قریب تر نہ ہو
129
وَلَاۤ اَحْمَدَ مِمَّنْ یَّحْمَدُكَ بِهٖ۔
130
اور جو شخص اس طرح کی حمد کرے اس سے بڑھ کر کوئی حمد گزار نہ ہو۔
130
حَمْدًا یُّوجِبُ بِكَرَمِكَ الْمَزِیْدَ بِوُفُوْرِهٖ
131
ایسی حمد جو تیرے فضل و کرم سے اپنی فراوانی کے باعث افزائش نعمت کا سبب ہو
131
وَتَصِلُهٗ بِمَزِیْدٍ بَعْدَ مَزِیْدٍ طَوْلًا مِّنْكَ‏۔
132
اور تو اپنے لطف و احسان سے اس کے ساتھ پیہم اضافہ کا سلسلہ قائم رکھے۔
132
حَمْدًا یَّجِبُ لِكَرَمِ وَجْهِكَ
133
ایسی حمد جو تیری بزرگئ ذات کے شایاں
133
وَیُقَابِلُ عِزَّ جَلَالِكَ۔
134
اور تیرے شرف جلال کے ہمدوش ہو۔
134
رَبِّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ
135
پرودگارا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
135
الْمُنْتَجَبِ الْمُصْطَفَى، الْمُكَرَّمِ الْمُقَرَّبِ
136
وہ محمدؐ جو برگزیدہ، معزز و گرامی اور مقرب ہیں
136
اَفْضَلَ صَلَوَاتِكَ
137
سب رحمتوں سے افضل و برتر
137
وَبَارِكْ عَلَیْهِ اَتَمَّ بَرَكَاتِكَ
138
اور ان پر اپنی کامل ترین برکتوں کا اضافہ فرما
138
وَتَرَحَّمْ عَلَیْهِ اَمْتَعَ رَحَمَاتِكَ۔
139
اور اپنی نفع رساں رحمتوں کے ساتھ ان پر رحم و کرم فرما۔
139
رَبِّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
140
پروردگارا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل کر
140
صَلَاةً زَاكِیَةً لَّا تَكُوْنُ صَلَاةٌ اَزْكٰى مِنْهَا
141
رحمت فراواں جس سے فراوانی میں کوئی رحمت نہ بڑھ سکے
141
وَصَلِّ عَلَیْهِ صَلَاةً نَّامِیَةً
142
اور ان پر ایسی بڑھنے والی رحمت نازل فرما
142
لَّا تَكُوْنُ صَلَاةٌ اَنْمٰى مِنْهَا
143
جس سے زیادہ کوئی رحمت بڑھنے والی نہ ہو
143
وَصَلِّ عَلَیْهِ صَلَاةً رَّاضِیَةً
144
اور ان پر ایسی پسندیدہ رحمت نازل فرما
144
لَّا تَكُوْنُ صَلَاةٌ فَوْقَهَا۔
145
جس سے بالاتر کوئی رحمت نہ ہو۔
145
رَبِّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
146
پروردگارا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما
146
صَلَاةً تُرْضِیْهِ، وَتَزِیْدُ عَلٰى رِضَاهُ
147
جو انہیں خوش و خوشنود کرے اور ان کی خوشنودی سے بڑھ جائے
147
وَصَلِّ عَلَیْهِ صَلَاةً تُرْضِیْكَ
148
[اور ان پر ایسی رحمت نازل فرما جو تجھے راضی کر دے
148
وَتَزِیْدُ عَلٰى رِضَاكَ لَهٗ
149
اور تیری رضا میں اضافہ کر دے]
149
وَصَلِّ عَلَیْهِ صَلَاةً لَّا تَرْضٰى لَهٗۤ اِلَّا بِهَا
150
اور ان پر ایسی رحمت نازل فرما کہ تو ان کیلئے اس کے سوا کسی رحمت کو پسند نہ کرے
150
وَلَا تَرٰى غَیْرَهٗ لَهَاۤ اَهْلًا۔
151
اور نہ ان کے علاوہ کسی کو اس رحمت کا سزاوار سمجھے۔
151
رَبِّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
152
پروردگارا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما
152
صَلَاةً تُجَاوِزُ رِضْوَانَكَ
153
کہ تیری جانب سے جس رضا مندی کے وہ مستحق ہیں اس سے بڑھ جائے
153
وَیَتَّصِلُ اتِّصَالُهَا بِبَقَآئِكَ
154
اور اس کا پیوند تیرے بقا و دوام سے جڑا رہے
154
وَلَا یَنْفَدُ كَمَا لَا تَنْفَدُ كَلِمَاتُكَ۔
155
اور اس کا سلسلہ کہیں ختم نہ ہو جس طرح تیرے کلمے ختم نہ ہوں گے۔
155
رَبِّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
156
پروردگارا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما
156
صَلَاةً تَنْتَظِمُ صَلَوَاتِ مَلٰٓئِكَتِكَ
157
جو تیرے فرشتوں کے درود و رحمت کو شامل کر لے
157
وَاَنبِیَآئِكَ وَرُسُلِكَ وَاَهْلِ طَاعَتِكَ
158
او نبیوں، رسولوں اور اطاعت کرنے والوں کے درود کو بھی۔
158
وَتَشْتَمِلُ عَلٰى صَلَوَاتِ عِبَادِكَ
159
اور تیرے بندوں کے درود و سلام پر مشتمل ہو
159
مِنْ جِنِّكَ وَاِنْسِكَ وَاَهْلِ اِجَابَتِكَ
160
جنوں، انسانوں اور تیری دعوت کو قبول کرنے والوں میں سے
160
وَتَجْتَمِعُ عَلٰى صَلَاةِ كُلِّ مَنْ ذَرَاْتَ
161
اور تیری مخلوقات کی سب کی رحمتوں پر حاوی ہو کہ جنہیں تو نے خلق کیا
161
وَبَرَاْتَ مِنْ اَصْنَافِ خَلْقِكَ۔
162
اور سب قسم کی مخلوقات کی، جنہیں تو عالم وجود میں لایا۔
162
رَبِّ صَلِّ عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ
163
پروردگارا! آنحضرتؐ پر اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما
163
صَلَاةً تُحِیْطُ بِكُلِّ صَلَاةٍ سَالِفَةٍ وَّمُسْتَاْنَفَةٍ
164
جو گزشتہ و آئندہ سب رحمتوں کو محیط ہو
164
وَصَلِّ عَلَیْهِ وَعَلٰۤى اٰلِهٖ
165
ان پر اور ان کی آل پر ایسی رحمت نازل فرما
165
صَلَاةً مَّرْضِیَّةً لَّكَ وَلِمَنْ دُوْنَكَ
166
جو تیرے نزدیک اور تیرے علاوہ دوسروں کے نزدیک پسندیدہ ہو
166
وَتُنْشِئُ مَعَ ذٰلِكَ صَلَوَاتٍ
167
اور ان رحمتوں کے ساتھ ایسی رحمتیں بھیجتا رہے
167
تُضَاعِفُ مَعَهَا تِلْكَ الصَّلَوَاتِ عِنْدَهَا
168
کہ ان کے بھیجنے کے وقت تو پہلی رحمتوں کو دگنا کر دے
168
وَتَزِیْدُهَا عَلٰى كُرُوْرِ الْاَیَّامِ
169
اور انہیں زمانہ کے گزرنے کے ساتھ ساتھ دو چند کر کے اتنا بڑھاتا جائے
169
زِیَادَةً فِیْ تَضَاعِیْفَ لَا یَعُدُّهَا غَیْرُكَ۔
170
کہ جنہیں تیرے علاوہ کوئی شمار نہ کر سکے۔
170
رَبِّ صَلِّ عَلٰۤى اَطَآئِبِ اَهْلِ بَیْتِهِ
171
پروردگارا! ان کے اہل بیت اطہار علیہم السلام پر رحمت نازل فرما
171
الَّذِیْنَ اخْتَرْتَهُمْ لِاَمْرِكَ
172
جنہیں تو نے امر (دین و شریعت) کیلئے منتخب فرمایا
172
وَجَعَلْتَهُمْ خَزَنَةَ عِلْمِكَ
173
اور بنایا اپنے علم کا خزینہ دار
173
وَحَفَظَةَ دِیْنِكَ
174
اور اپنے دین کا محافظ
174
وَخُلَفَآئَكَ فِیْۤ اَرْضِكَ
175
اور زمین میں اپنا خلیفہ و جانشین
175
وَحُجَجَكَ عَلٰى عِبَادِكَ
176
اور بندوں پر اپنی حجت
176
وَطَهَّرْتَهُمْ مِنَ الرِّجْسِ وَالدَّنَسِ تَطْهِیْرًا بِاِرَادَتِكَ
177
اور جنہیں اپنے ارادۂ (ازلی) سے ہر قسم کی نجاست و آلودگی سے پاک و صاف رکھا
177
وَجَعَلْتَهُمُ الْوَسِیْلَةَ اِلَیْكَ
178
اور جنہیں اپنے تک پہنچنے کا وسیلہ
178
وَالْمَسْلَكَ اِلٰى جَنَّتِكَ‏۔
179
اور جنت تک آنے کا راستہ قرار دیا ہے۔
179
رَبِّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
180
پروردگارا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما
180
صَلَاةً تُجْزِلُ لَهُمْ بِهَا مِنْ نِّحَلِكَ وَكَرَامَتِكَ
181
جس کے ذریعے تو ان کیلئے اپنی بخشش و کرامت کو فراواں
181
وَتُكْمِلُ لَهُمُ الْاَشْیَآءَ مِنْ عَطَایَاكَ وَنَوَافِلِكَ
182
اور ان کیلئے عطایا و انعامات کامل کرے
182
وَتُوَفِّرُ عَلَیْهِمُ الْحَظَّ مِنْ عَوَآئِدِكَ وَفَوَآئِدِكَ۔
183
اور اپنے تحائف و منافع میں سے انہیں وافر حصہ بخشے۔
183
رَبِّ صَلِّ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ
184
پروردگارا! ان پر اور ان کے اہل بیت علیہم السلام پر ایسی رحمت نازل فرما
184
صَلَاةً لَّاۤ اَمَدَ فِیْۤ اَوَّلِهَا
185
کہ نہ اس کی ابتدا کی کوئی مدت
185
وَلَا غَایَةَ لِاَمَدِهَا
186
نہ اس مدت کی کوئی انتہا
186
وَلَا نِهَایَةَ لِاٰخِرِهَا۔
187
اور نہ اس کا کوئی آخری کنارا ہو۔
187
رَبِّ صَلِّ عَلَیْهِمْ زِنَةَ عَرْشِكَ وَمَا دُوْنَهٗ
188
پروردگارا! ان پر ایسی رحمت نازل فرما کہ تیرے عرش اور جو کچھ زیر عرش ہے سب کے ہم وزن ہو
188
وَمِلْ‏أَ سَمٰوٰتِكَ وَمَا فَوْقَهُنَّ
189
اور اس مقدار میں ہو کہ آسمانوں اور جو کچھ آسمانوں کے اوپر ہے سب کو بھر دے
189
وَعَدَدَ اَرَضِیْكَ وَمَا تَحْتَهُنَّ وَمَا بَیْنَهُنَّ
190
اور زمینوں اور جو کچھ زمینوں کے نیچے اور ان کے اندر ہے ان کے شمار کے برابر ہو
190
صَلَاةً تُقَرِّبُهُمْ مِّنْكَ زُلْفٰى
191
ایسی رحمت جو انہیں تیرے تقرب کی منزل اعلیٰ پر پہنچا دے
191
وَتَكُوْنُ لَكَ وَلَهُمْ رِضًى
192
اور تیرے لیے اور ان کیلئے سرمایۂ خوشنودی ہو
192
وَمُتَّصِلَةً بِنَظَآئِرِهِنَّ اَبَدًا۔
193
اور اپنے ایسی دوسری رحمتوں سے ہمیشہ متصل رہے۔
193
اَللّٰهُمَّ اِنَّكَ اَیَّدْتَّ دِیْنَكَ فِیْ كُلِّ اَوَانٍ
194
بار الٰہا! تو نے ہر زمانہ میں اپنے دین کی تائید فرمائی ہے
194
بِاِمَامٍ اَقَمْتَهٗ عَلَمًا لِّعِبَادِكَ
195
ایک ایسے امام کے ذریعہ جسے تو نے اپنے بندوں کیلئے نشان راہ قرار دیا
195
وَمَنَارًا فِیْ بِلَادِكَ
196
اور شہروں میں منار ہدایت بنا کر قائم کیا
196
بَعْدَ اَنْ وَّصَلْتَ حَبْلَهٗ بِحَبْلِكَ
197
جبکہ تو نے اپنے پیمان اطاعت کو اس کے پیمان اطاعت سے وابستہ کر دیا
197
وَجَعَلْتَهُ الذَّرِیْعَةَ اِلٰى رِضْوَانِكَ
198
جسے اپنی رضا و خوشنودی کا ذریعہ قرار دیا
198
وَافْتَرَضْتَ طَاعَتَهٗ
199
جس کی اطاعت فرض کر دی
199
وَحَذَّرْتَ مَعْصِیَتَهٗ
200
جس کی نافرمانی سے ڈرایا
200
وَاَمَرْتَ بِامْتِثَالِ اَوَامِرِهٖ
201
حکم دیا جس کے احکام کی بجا آوری کا
201
وَالِانْتِهَآءِ عِنْدَ نَهْیِهٖ
202
اور اس کے منع کرنے پر باز رہنے کا
202
وَاَلَّا یَتَقَدَّمَهٗ مُتَقَدِّمٌ
203
اور یہ کہ کوئی آگے بڑھنے والا اس سے آگے نہ بڑھے
203
وَلَا یَتَاَخَّرَ عَنْهُ مُتَاَخِّرٌ
204
اور کوئی پیچھے رہ جانے والا اس سے پیچھے نہ رہے
204
فَهُوَ عِصْمَةُ اللَّآئِذِیْنَ
205
وہ پناہ طلب کرنے والوں کیلئے سرو سامان حفاظت
205
وَكَهْفُ الْمُؤْمِنِیْنَ
206
اہل ایمان کیلئے جائے پناہ
206
وَعُرْوَةُ الْمُتَمَسِّكِیْنَ
207
وابستگان دامن کیلئے مضبوط سہارا
207
وَبَهَآءُ الْعٰلَمِیْنَ۔
208
اور تمام جہان کی رونق و زیبائش ہے۔
208
اَللّٰهُمَّ فَاَوْزِعْ لِوَلِیِّكَ شُكْرَ مَاۤ اَنْعَمْتَ بِهٖ عَلَیْهِ
209
بار الٰہا! اپنے ولی و پیشوا کے دل میں اس انعام پر جو اسے بخشا ہے ادائے شکر کا الہام فرما
209
وَاَوْزِعْنَا مِثْلَهٗ فِیْهِ
210
اور اس کے وجود کے باعث ویسا ہی ادائے شکر کا جذبہ ہمارے دل میں پیدا کر
210
وَاٰتِهٖ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطانًا نَّصِیْرًا
211
اور اسے اپنی طرف سے ایسا تسلط عطا فرما جس سے ہر طرح کی مدد پہنچے
211
وَافْتَحْ لَهٗ فَتْحًا یَّسِیْرًا
212
اور اس کیلئے کامیابی و کامرانی کی راہ بآسانی کھول دے
212
وَاَعِنْهُ بِرُكْنِكَ الْاَعَزِّ
213
اور اپنے مضبوط سہارے سے اس کی مدد فرما
213
وَاشْدُدْ اَزْرَهٗ
214
اس کی پشت کو مضبوط
214
وَقَوِّ عَضُدَهٗ
215
اور بازو کو قوی کر
215
وَرَاعِهٖ بِعَیْنِكَ
216
اور اپنی نظر توجہ سے اس کی حفاظت
216
وَاحْمِهٖ بِحِفْظِكَ
217
اور اپنی نگہداشت سے اس کی حمایت فرما
217
وَانْصُرْهُ بِمَلٰٓئِكَتِكَ
218
اور اپنے فرشتوں کے ذریعہ اس کی مدد
218
وَامْدُدْهُ بِجُنْدِكَ الْاَغْلَبِ
219
اور اپنے غالب آنے والے سپاہ و لشکر سے اس کی کمک فرما
219
وَاَقِمْ بِهٖ كِتَابَكَ وَحُدُوْدَكَ وَشَرَآئِعَكَ
220
اور اس کے ذریعہ قائم کر اپنی کتاب اور حدود و احکام کو
220
وَسُنَنَ رَسُولِكَ صَلَوَاتُكَ اللّٰهُمَّ عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ
221
اور اپنے رسول (ان پر اے اللہ تیری طرف سے درود و رحمت ہو) کی روشوں کو
221
وَاَحْیِ بِهٖ مَاۤ اَمَاتَهُ الظّٰالِمُوْنَ مِنْ مَّعَالِمِ دِیْنِكَ
222
اور ان کے ذریعہ ظالموں نے دین کے جن نشانات کو مٹا ڈالا ہے ازسر نو زندہ کر دے
222
وَاجْلُ بِهٖ صَدَآءَ الْجَوْرِ عَنْ طَرِیْقَتِكَ
223
اور ظلم و جور کے زنگ کو اپنی شریعت سے دور
223
وَاَبِنْ بِهِ الضَّرَّآءَ مِنْ سَبِیْلِكَ
224
اور اپنی راہ کی دشواریوں کو برطرف کر دے
224
وَاَزِلْ بِهِ النَّاكِبِیْنَ عَنْ صِرَاطِكَ
225
اور جو لوگ تیرے راہ صواب سے رو گردانی کرنے والے ہیں انہیں ختم کر دے
225
وَامْحَقْ بِهٖ بُغَاةَ قَصْدِكَ عِوَجًا
226
اور جو تیرے راہ راست میں کجی پیدا کرتے ہیں انہیں نیست و نابود کر دے
226
وَاَلِنْ جَانِبَهٗ لِاَوْلِیَآئِكَ
227
اور اسے اپنے دوستوں کیلئے نرم و بردبار قرار دے
227
وَابْسُطْ یَدَهٗ عَلٰۤى اَعْدَآئِكَ
228
اور دشمنوں (پر غلبہ و تسلط) کیلئے اس کے ہاتھوں کو کھول دے
228
وَهَبْ لَنا رَاْفَتَهٗ وَرَحْمَتَهٗ
229
اور ہمیں اس کی طرف سے رأفت و رحمت
229
وَتَعَطُّفَهٗ وَتَحَنُّنَهٗ
230
اور شفقت و مہربانی عطا فرما
230
وَاجْعَلْنَا لَهٗ سَامِعِیْنَ مُطِیْعِیْنَ
231
اور ہمیں قرار دے اس کی بات پر کان دھرنے والا اور اطاعت کرنے والا
231
وَفِیْ رِضَاهُ سَاعِیْنَ
232
اور اس کی خوشنودی کیلئے کوشاں رہنے والا
232
وَاِلٰى نُصْرَتِهٖ وَالْمُدَافَعَةِ عَنْهُ مُكْنِفِیْنَ
233
اور اس کی نصرت و تائید اور دشمنوں سے دفاع کے سلسلہ میں مدد دینے والا
233
وَاِلَیْكَ وَاِلٰى رَسُولِكَ صَلَوَاتُكَ اللّٰهُمَّ عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ بِذٰلِكَ مُتَقَرِّبِیْنَ۔
234
اور اس وسیلہ سے تجھ سے اور تیرے رسول (اے خدا ان پر تیرا درود و سلام ہو) سے تقرب چاہنے والا قرار دے۔
234
اَللّٰهُمَّ وَصَلِّ عَلٰۤى اَوْلِیَآئِهِمُ
235
اے اللہ! ان کے دوستوں پر بھی رحمت نازل فرما
235
الْمُعْتَرِفِیْنَ بِمَقَامِهِمُ
236
جو ان کے مرتبہ و مقام کے معترف
236
الْمُتَّبِعِیْنَ مَنْهَجَهُمُ
237
ان کے طریق و مسلک کے تابع
237
الْمُقْتَفِیْنَ اٰثَارَهُمُ
238
ان کے نقش قدم پر گامزن
238
الْمُسْتَمْسِكِیْنَ بِعُرْوَتِهِمُ
239
ان کے سر رشتہ دین سے وابستہ
239
الْمُتَمَسِّكِیْنَ بِوِلَایَتِہِمُ
240
ان کی دوستی و ولایت سے متمسک
240
الْمُؤْتَمِّیْنَ بِاِمَامَتِهِمُ
241
ان کی امامت کے پیرو
241
الْمُسَلِّـمِیْنَ لِاَمْرِهِمُ
242
ان کے احکام کے فرمانبردار
242
الْمُجْتَهِدِیْنَ فِیْ طَاعَتِهِمُ
243
ان کی اطاعت میں سر گرم عمل
243
الْمُنْتَظِرِیْنَ اَیَّامَهُمُ
244
ان کے زمانۂ اقتدار کے منتظر
244
الْمَادِّیْنَ اِلَیْهِمْ اَعْیُنَہُمُ
245
اور ان کیلئے چشم براہ ہیں
245
الصَّلَوَاتِ الْمُبَارَكَاتِ
246
ایسی رحمت جو بابرکت
246
الزَّاكِیَاتِ النَّامِیَاتِ
247
پاکیزہ اور بڑھنے والی
247
الْغَادِیَاتِ الرَّآئِحَاتِ۔
248
اور ہر صبح و شام نازل ہونے والی ہو۔
248
وَسَلِّمْ عَلَیْهِمْ وَعَلٰۤى اَرْوَاحِهِمْ
249
اور ان پر اور ان کے ارواح (طیبہ) پر سلامتی نازل فرما
249
وَاجْمَعْ عَلَى التَّقْوٰى اَمْرَهُمْ
250
اور ان کے کاموں کو صلاح و تقویٰ کی بنیادوں پر قائم کر
250
وَاَصْلِحْ لَهُمْ شُئُوْنَهُمْ
251
اور ان کے حالات کی اصلاح فرما
251
وَتُبْ عَلَیْهِمْ
252
اور ان کی توبہ قبول فرما
252
اِنَّكَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ
253
بیشک تو توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا
253
وَخَیْرُ الْغَافِرِیْنَ
254
اور سب سے بہتر بخشنے والا ہے
254
وَاجْعَلْنَا مَعَهُمْ فِیْ دَارِ السَّلَامِ
255
اور ہمیں ان کے ساتھ دار السلام (جنت) میں جگہ دے
255
بِرَحْمَتِكَ یَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔
256
اپنی رحمت کے وسیلہ سے، اے سب رحیموں سے زیادہ رحیم۔
256
اَللّٰهُمَّ هٰذَا یَوْمُ عَرَفَةَ
257
پروردگارا! یہ روز عرفہ وہ دن ہے
257
یَوْمٌ شَرَّفْتَهٗ وَکَرَّمْتَہٗ وَعَظَّمْتَهٗ
258
جسے تو نے شرف، عزت اور عظمت بخشی ہے
258
نَشَرْتَ فِیْهِ رَحْمَتَكَ
259
جس میں اپنی رحمتیں پھیلا دیں
259
وَمَنَنْتَ فِیْهِ بِعَفْوِكَ
260
اور اپنے عفو و درگزر سے احسان فرمایا
260
وَاَجْزَلْتَ فِیْهِ عَطِیَّتَكَ
261
اپنے عطیوں کو فراواں کیا
261
وَتَفَضَّلْتَ بِهٖ عَلٰى عِبَادِكَ۔
262
اور اس کے وسیلہ سے اپنے بندوں پر تفضل فرمایا ہے۔
262
اَللّٰهُمَّ وَاَنَا عَبْدُكَ الَّذِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ
263
اے اللہ! میں تیرا وہ بندہ ہوں جس پر تو نے انعام و احسان فرمایا ہے
263
قَبْلَ خَلْقِكَ لَهٗ وَبَعْدَ خَلْقِكَ اِیَّاهُ
264
اس کی خلقت سے پہلے اور خلقت کے بعد بھی
264
فَجَعَلْتَهٗ مِمَّنْ هَدَیْتَهٗ لِدِیْنِكَ
265
اس طرح کہ اسے ان لوگوں میں سے قرار دیا جنہیں تو نے اپنے دین کی ہدایت کی
265
وَوَفَّقْتَهٗ لِحَقِّكَ
266
اپنے ادائے حق کی توفیق بخشی
266
وَعَصَمْتَهٗ بِحَبْلِكَ
267
جن کی اپنی ریسماں کے ذریعہ حفاظت کی
267
وَاَدْخَلْتَهٗ فِیْ حِزْبِكَ
268
جنہیں اپنی جماعت میں داخل کیا
268
وَاَرْشَدْتَّهٗ لِمُوَالَاةِ اَوْلِیَآئِكَ
269
اور اپنے دوستوں کی دوستی کی ہدایت فرمائی ہے
269
وَمُعَادَاةِ اَعْدَآئِكَ۔
270
اور دشمنوں کی دشمنی کی۔
270
ثُمَّ اَمَرْتَهٗ فَلَمْ یَاْتَمِرْ
271
باایں ہمہ تو نے اسے حکم دیا تو اس نے حکم نہ مانا
271
وَزَجَرْتَهٗ فَلَمْ یَنْزَجِرْ
272
اور منع کیا تو وہ باز نہ آیا
272
وَنَهَیْتَهٗ عَنْ مَّعْصِیَتِكَ فَخَالَفَ اَمْرَكَ اِلٰى نَهْیِكَ
273
اور اپنی معصیت سے روکا تو وہ تیرے حکم کے خلاف امر ممنوع کا مرتکب ہوا
273
لَا مُعَانَدَةً لَّكَ
274
یہ تجھ سے عناد کی رو سے نہ تھا
274
وَلَا اسْتِكْبَارًا عَلَیْكَ
275
اور نہ تیرے مقابلہ میں تکبر کی وجہ سے
275
بَلْ دَعَاهُ هَوَاهُ اِلٰى مَا زَیَّلْتَهٗ وَاِلٰى مَا حَذَّرْتَهٗ
276
بلکہ خواہش نفس نے اسے ایسے کاموں کی دعوت دی جن سے تو نے روکا اور ڈرایا تھا
276
وَاَعَانَهٗ عَلٰى ذٰلِكَ عَدُوُّكَ وَعَدُوُّهٗ
277
اور تیرے دشمن اور اس کے دشمن (شیطان ملعون) نے ان کاموں میں اس کی مدد کی
277
فَاَقْدَمَ عَلَیْهِ عَارِفًا بِوَعِیْدِكَ
278
چنانچہ اس نے گناہ کی طرف اقدام کیا تیری دھمکی سے آگاہ ہونے کے باوجود
278
رَاجِیًا لِّعَفْوِكَ
279
تیرے عفو کی امید کرتے ہوئے
279
وَاثِقًا بِتَجَاوُزِكَ
280
اور تیرے درگزر پر بھروسا رکھتے ہوئے
280
وَكَانَ اَحَقَّ عِبَادِكَ مَعَ مَا مَنَنْتَ عَلَیْهِ اَلَّا یَفْعَلَ۔
281
حالانکہ ان احسانات کی وجہ سے جو تو نے اس پر کئے تھے تمام بندوں میں وہ اس کا سزاوار تھا کہ ایسا نہ کرتا۔
281
وَهَاۤ اَنَا ذَا بَیْنَ یَدَیْكَ صَاغِرًا ذَلِیْلًا
282
اچھا پھر میں تیرے سامنے کھڑا ہوں بالکل خوار و ذلیل
282
خَاضِعًا خَاشِعًا خَآئِفًا
283
سراپا عجز و نیاز اور لرزاں و ترساں
283
مُعْتَرِفًا بِعَظِیْمٍ مِّنَ الذُّنُوْبِ تَحَمَّلْتُهٗ
284
اعتراف کرتا ہوا ان عظیم گناہوں کا جن کا بوجھ اپنے سر اٹھایا ہے
284
وَجَلِیْلٍ مِّنَ الْخَطَایَا اجْتَرَمْتُهٗ
285
اور ان بڑی خطاؤں کا جن کا ارتکاب کیا ہے
285
مُسْتَجِیْرًا بِصَفْحِكَ
286
تیرے دامن عفو میں پناہ چاہتا ہوا
286
لَآئِذًا بِرَحْمَتِكَ
287
اور تیری رحمت کا سہارا ڈھونڈتا ہوا
287
مُوْقِنًاۤ اَنَّهٗ لَا یُجِیْرُنِیْ مِنْكَ مُجِیْرٌ
288
اور یہ یقین رکھتا ہوا کہ کوئی پناہ دینے والا (تیرے عذاب سے) مجھے پناہ نہیں دے سکتا
288
وَلَا یَمْنَعُنِیْ مِنْكَ مَانِعٌ۔
289
اور کوئی بچانے والا (تیرے غضب سے) مجھے بچا نہیں سکتا۔
289
فَعُدْ عَلَیَّ بِمَا تَعُوْدُ بِهٖ
290
لہٰذا (اس اعتراف گناہ و اظہار ندامت کے بعد) تو میری پردہ پوشی فرما
290
عَلٰى مَنِ اقْتَرَفَ مِنْ تَغَمُّدِكَ
291
جس طرح گنہگاروں کی پردہ پوشی فرماتا ہے
291
وَجُدْ عَلَیَّ بِمَا تَجُوْدُ بِهٖ
292
اور مجھے معافی عطا کر ان لوگوں کی طرح
292
عَلٰى مَنْ اَلْقٰى بِیَدِهٖۤ اِلَیْكَ مِنْ عَفْوِكَ
293
جنہوں نے اپنے آپ کو تیرے حوالے کر دیا ہو
293
وَامْنُنْ عَلَیَّ بِمَا لَا یَتَعَاظَمُكَ اَنْ تَمُنَّ بِهٖ
294
اور مجھ پر اُس بخشش و آمرزش کے ساتھ احسان فرما جو تجھے بڑی نہیں معلوم ہوتی
294
عَلٰى مَنْ اَمَّلَكَ مِنْ غُفْرَانِكَ۔
295
کہ جس بخشش و آمرزش سے تو اپنے امیدوار پر احسان کرتا ہے۔
295
وَاجْعَلْ لِّیْ فِیْ هٰذَا الْیَوْمِ نَصِیْبًا
296
اور میرے لیے آج کے دن ایسا حظ و نصیب قرار دے
296
اَنَالُ بِهٖ حَظًّا مِّنْ رِضْوَانِكَ
297
کہ جس کے ذریعہ تیری رضا مندی کا کچھ حصہ پا سکوں
297
وَلَا تَرُدَّنِیْ صِفْرًا
298
اور مجھے (ان تحائف سے) خالی ہاتھ نہ پھیر
298
مِّمَّا یَنْقَلِبُ بِهِ الْمُتَعَبِّدُوْنَ لَكَ مِنْ عِبَادِكَ
299
جو (اجر و ثواب کے) تحائف لے کر تیرے عبادت گزار بندے پلٹے ہیں
299
وَاِنِّیْ وَاِنْ لَّمْ اُقَدِّمْ مَا قَدَّمُوْهُ مِنَ الصَّالِحَاتِ
300
اگرچہ وہ نیک اعمال جو انہوں نے آگے بھیجے ہیں میں نے آگے نہیں بھیجے
300
فَقَدْ قَدَّمْتُ تَوْحِیْدَكَ
301
لیکن میں نے تیری وحدت و یکتائی کا عقیدہ پیش کیا ہے
301
وَنَفْیَ الْاَضْدَادِ وَالْاَنْدَادِ
302
اور یہ کہ تیرا کوئی حریف، شریک کار
302
وَالْاَشْبَاهِ عَنْكَ
303
اور مثل و نظیر نہیں ہے
303
وَاَتَیْتُكَ مِنَ الْاَبْوَابِ
304
اور انہی دروازوں سے آیا ہوں
304
الَّتِیْۤ اَمَرْتَ اَنْ تُؤْتٰى مِنْهَا
305
جن دروازوں سے تو نے آنے کا حکم دیا ہے
305
وَتَقَرَّبْتُ اِلَیْكَ بِمَا لَا یَقْرُبُ اَحَدٌ مِّنْكَ اِلَّا بِالتَّقَرُّبِ بِهٖ۔
306
اور ایسی چیز کے ذریعہ جس کے بغیر کوئی تجھ سے تقرب حاصل نہیں کر سکتا تقرب چاہا ہے۔
306
ثُمَّ اَتْبَعْتُ ذٰلِكَ بِالْاِنَابَةِ اِلَیْكَ
307
پھر ان کے ہمراہ رکھا ہے تیری طرف رجوع و بازگشت کو
307
وَالتَّذَلُّلِ وَالْاِسْتِكَانَةِ لَكَ
308
تیری بارگاہ میں تذلل و عاجزی،
308
وَحُسْنِ الظَّنِّ بِكَ
309
اور تجھ سے نیک گمان
309
وَالثِّقَةِ بِمَا عِنْدَكَ
310
اور تیری رحمت پر اعتماد کو طلب تقرب کے (ہمراہ رکھا ہے)
310
وَشَفَعْتُهٗ بِرَجَآئِكَ
311
اور اس کے ساتھ ایسی امید کا ضمیمہ بھی لگا دیا ہے
311
الَّذِیْ قَلَّ مَا یَخِیْبُ عَلَیْهِ رَاجِیْكَ
312
جس کے ہوتے ہوئے تجھ سے امید رکھنے والا محروم نہیں رہتا
312
وَسَئَلْتُكَ مَسْئَلَةَ الْحَقِیْرِ الذَّلِیْلِ
313
اور تجھ سے اسی طرح سوال کیا ہے جس طرح کوئی بے قدر، ذلیل،
313
الْبَآئِسِ الْفَقِیْرِ الْخَآئِفِ الْمُسْتَجِیْرِ
314
شکستہ حال، تہی دست، خوف زدہ اور طلبگارِ پناہ سوال کرتا ہے
314
وَمَعَ ذٰلِكَ خِیْفَةً وَّتَضَرُّعًا
315
اور اس حالت کے باوجود میرا یہ سوال خوف، عجز،
315
وَتَعَوُّذًا وَّتَلَوُّذًا
316
نیاز مندی، پناہ طلبی اور امان خواہی کی رو سے ہے
316
لَا مُسْتَطِیْلًا بِتَكَبُّرِ الْمُتَكَبِّرِیْنَ
317
نہ متکبروں کے تکبر کے ساتھ برتری جتلاتے ہوئے
317
وَلَا مُتَعَالِیًا بِدَالَّةِ الْمُطِیْعِیْنَ
318
نہ اطاعت گزاروں کے (اپنی عبادت پر) فخر و اعتماد کی بنا پر اتراتے ہوئے
318
وَلَا مُسْتَطِیْلًا بِشَفَاعَةِ الشَّافِعِیْنَ
319
اور نہ سفارش کرنے والوں کی سفارش پر سربلندی دکھاتے ہوئے
319
وَاَنَا بَعْدُ اَقَلُّ الْاَقَلِّیْنَ
320
اور میں اس اعتراف کے ساتھ تمام کمتروں سے کمتر
320
وَاَذَلُّ الْاَذَلِّیْنَ
321
خوار و ذلیل لوگوں سے ذلیل تر
321
وَمِثْلُ الذَّرَّةِ اَوْ دُوْنَهَا۔
322
اور ایک چیونٹی کے مانند بلکہ اس سے بھی پست تر ہوں۔
322
فَیَا مَنْ لَّمْ یُعَاجِلِ الْمُسِیْٓئِیْنَ
323
اے وہ جو گنہگاروں پر عذاب کرنے میں جلدی نہیں کرتا
323
وَلَا یَنْدَهُ الْمُتْرَفِیْنَ
324
اور نہ سرکشوں کو (اپنی نعمتوں سے) روکتا ہے
324
وَیَا مَنْ یَّمُنُّ بِاِقَالَةِ الْعَاثِرِیْنَ
325
اے وہ جو لغزش کرنے والوں سے درگزر فرما کر احسان کرتا ہے
325
وَیَتَفَضَّلُ بِاِنْظَارِ الْخَاطِئِیْنَ۔
326
اور گنہگاروں کو مہلت دے کر تفضل فرماتا ہے
326
اَنَا الْمُسِیْٓ‏ءُ الْمُعْتَرِفُ
327
میں وہ ہوں جو گنہگار گناہ کا معترف،
327
الْخَاطِئُ الْعَاثِرُ
328
خطاکار اور لغزش کرنے والا ہوں
328
اَنَا الَّذِیْ اَقْدَمَ عَلَیْكَ مُجْتَرِئًا
329
میں وہ ہوں جس نے تیرے مقابلہ میں جرأت سے کام لیتے ہوئے پیش قدمی کی
329
اَنَا الَّذِیْ عَصَاكَ مُتَعَمِّدًا
330
میں وہ ہوں جس نے دیدہ دانستہ گناہ کئے
330
اَنَا الَّذِی اسْتَخْفٰى مِنْ عِبَادِكَ وَبَارَزَكَ
331
میں وہ ہوں جس نے (اپنے گناہوں کو) تیرے بندوں سے چھپایا اور تیرے سامنے کھلم کھلا مخالفت کی
331
اَنَا الَّذِیْ هَابَ عِبَادَكَ وَاَمِنَكَ
332
میں وہ ہوں جو تیرے بندوں سے ڈرتا رہا اور تجھ سے بے خوف رہا
332
اَنَا الَّذِیْ لَمْ یَرْهَبْ سَطْوَتَكَ
333
میں وہ ہوں جو تیری ہیبت سے ہراساں نہ ہوا
333
وَلَمْ یَخَفْ بَاْسَكَ
334
اور تیرے عذاب سے خوف زدہ نہ ہوا
334
اَنَا الْجَانِیْ عَلٰى نَفْسِهٖ
335
میں خود ہی اپنے حق میں مجرم
335
اَنَا الْمُرْتَهَنُ بِبَلِیَّتِهٖ
336
اور بلا و مصیبت کے ہاتھوں میں گروی ہوں
336
اَنَا القَلِیْلُ الْحَیَآءِ
337
میں ہی شرم و حیا سے عاری
337
اَنَا الطَّوِیلُ الْعَنَآءِ۔
338
اور طویل رنج و تکلیف میں مبتلا ہوں۔
338
بِحَقِّ مَنِ انْتَجَبْتَ مِنْ خَلْقِكَ
339
میں تجھے اس کے حق کا واسطہ دیتا ہوں جسے تو نے مخلوقات میں سے منتخب کیا
339
وَبِمَنِ اصْطَفَیْتَهٗ لِنَفْسِكَ
340
اس کے حق کا واسطہ دیتا ہوں جسے تو نے اپنے لیے پسند فرمایا
340
بِحَقِّ مَنِ اخْتَرْتَ مِن بَرِیَّتِكَ
341
اس کے حق کا واسطہ دیتا ہوں جسے تو نے کائنات میں سے برگزیدہ کیا
341
وَمَنِ اجْتَبَیْتَ لِشَاْنِكَ
342
اور جسے اپنے احکام (کی تبلیغ) کیلئے چن لیا
342
بِحَقِّ مَنْ وَّصَلْتَ طَاعَتَهٗ بِطَاعَتِكَ
343
اس کے حق کا واسطہ دیتا ہوں جس کی اطاعت کو اپنی اطاعت سے ملا دیا
343
وَمَنْ جَعَلْتَ مَعْصِیَتَهٗ كَمَعْصِیَتِكَ
344
اور جس کی نافرمانی کو اپنی نافرمانی کے مانند قرار دیا
344
بِحَقِّ مَنْ قَرَنْتَ مُوَالَاتَهٗ بِمُوَالَاتِكَ
345
اس کے حق کا واسطہ دیتا ہوں جس کی محبت کو اپنی محبت سے مقرون کیا
345
وَمَنْ نُّطْتَ مُعَادَاتَهٗ بِمُعَادَاتِكَ۔
346
اور جس کی دشمنی کو اپنی دشمنی سے وابستہ کیا ہے۔
346
تَغَمَّدْنِیْ فِیْ یَوْمِیْ هٰذَا
347
مجھے آج کے دن اس دامن رحمت میں ڈھانپ لے
347
بِمَا تَتَغَمَّدُ بِهٖ مَنْ جَارَ اِلَیْكَ مُتَنَصِّلًا
348
جس سے ایسے شخص کو ڈھانپتا ہے جو گناہوں سے دست بردار ہو کر تجھ سے نالہ و فریاد کرے
348
وَعَاذَ بِاسْتِغْفَارِكَ تَآئِبًا
349
اور تائب ہو کر تیرے دامنِ مغفرت میں پناہ چاہے
349
وَتَوَلَّنِیْ بِمَا تَتَوَلّٰى بِهٖۤ اَهْلَ طَاعَتِكَ
350
اور میری سرپرستی فرما جس طرح اپنے اطاعت گزاروں کی
350
وَالزُّلْفٰى لَدَیْكَ وَالْمَكَانَةِ مِنْكَ
351
اور قرب و منزلت والوں کی سر پرستی فرماتا ہے اسی طرح۔
351
وَتَوَحَّدْنِیْ بِمَا تَتَوَحَّدُ بِهٖ مَنْ وَّفٰى بِعَهْدِكَ
352
اور مجھ پر تن تنہا احسان فرما جس طرح ان لوگوں پر خود تن تنہا احسان کرتا ہے جنہوں نے تیرے عہد کو پورا کیا
352
وَاَتْعَبَ نَفْسَهٗ فِیْ ذَاتِكَ
353
تیری خاطر اپنے کو تعب و مشقت میں ڈالا
353
وَاَجْهَدَهَا فِیْ مَرْضَاتِكَ
354
اور تیری رضامندیوں کیلئے سختیوں کو جھیلا، اسی طرح۔
354
وَلَا تُؤَاخِذْنِیْ بِتَفْرِیْطِیْ فِیْ جَنبِكَ
355
اور میرا مؤاخذہ نہ کر تیرے حق میں کوتاہی کرنے،
355
وَتَعَدِّیْ طَوْرِیْ فِیْ حُدُوْدِكَ
356
تیرے حدود سے متجاوز ہونے
356
وَمُجَاوَزَةِ اَحْكَامِكَ
357
اور تیرے احکام کے پس پشت ڈالنے پر۔
357
وَلَا تَسْتَدْرِجْنِیْ بِاِمْلَآئِكَ لِیْ اسْتِدْرَاجَ
358
اور مجھے اس شخص کے مہلت دینے کی طرح مہلت دے کر رفتہ رفتہ اپنے عذاب کا مستحق نہ بنا
358
مَنْ مَّنَعَنِیْ خَیْرَ مَا عِنْدَهٗ
359
جس نے اپنی بھلائی کو مجھ سے روک لیا
359
وَلَمْ یَشْرَكْكَ فِیْ حُلُوْلِ نِعْمَتِهٖ بِیْ۔
360
اور سمجھتا یہ ہے کہ بس وہی نعمت کا دینے والا ہے یہاں تک کہ تجھے بھی ان نعمتوں کے دینے میں شریک نہ سمجھا ہو۔
360
وَنَبِّهْنِیْ مِنْ رَّقْدَةِ الْغَافِلِیْنَ
361
مجھے ہوشیار کر دے غفلت شعاروں کی نیند سے
361
وَسِنَةِ الْمُسْرِفِیْنَ
362
بے راہرؤوں کے خواب سے
362
وَنَعْسَةِ الْمَخْذُوْلِیْنَ
363
اور حرماں نصیبوں کی غفلت سے۔
363
وَخُذْ بِقَلْبِیْ اِلٰى مَا اسْتَعْمَلْتَ بِهِ الْقَانِتِیْنَ
364
اور میرے دل کو اس راہ عمل پر لگا جس پر تو نے اطاعت گزاروں کو لگایا ہے
364
وَاسْتَعْبَدْتَّ بِهِ الْمُتَعَبِّدِیْنَ
365
اور اس عبادت کی طرف مائل فرما جو عبادت گزاروں سے تو نے چاہی ہے
365
وَاسْتَنْقَذْتَ بِهِ الْمُتَهَاوِنِیْنَ۔
366
اور ان چیزوں کی ہدایت کر جن کے وسیلہ سے سہل انگاروں کو رہائی بخشی ہے۔
366
وَاَعِذْنِیْ مِمَّا یُبَاعِدُنِیْ عَنْكَ
367
اور مجھے محفوظ رکھ ان باتوں سے جو تیری بارگاہ سے دور کر دیں
367
وَیَحُوْلُ بَیْنِیْ وَبَیْنَ حَظِّیْ مِنْكَ
368
اور میرے اور تیرے ہاں کے حظ و نصیب کے درمیان حائل ہو جائیں
368
وَیَصُدُّنِیْ عَمَّاۤ اُحَاوِلُ لَدَیْكَ
369
اور تیرے ہاں کے مقصد و مراد سے مانع ہو جائیں۔
369
وَسَهِّلْ لِیْ مَسْلَكَ الْخَیْرَاتِ اِلَیْكَ
370
اور میرے لیے سہل و آسان کر نیکیوں کی راہ پیمائی
370
وَالْمُسَابَقَةَ اِلَیْهَا مِنْ حَیْثُ اَمَرْتَ
371
اور ان کی طرف سبقت جس طرح تو نے حکم دیا ہے
371
وَالْمُشَاحَّةَ فِیْهَا عَلٰى مَاۤ اَرَدْتَ۔
372
اور ان کی بڑھ چڑھ کر خواہش جیسا کہ تو نے چاہا ہے۔
372
وَلَا تَمْحَقْنِیْ فِیْمَنْ تَمْحَقُ
373
اور ان کے ساتھ مجھے تباہ نہ کرنا
373
مِنَ الْمُسْتَخِفِّیْنَ بِمَاۤ اَوْعَدْتَّ
374
جنہیں تو تباہ کرے گا، اپنے عذاب و وعید کو سبک سمجھنے والوں کو۔
374
وَلَا تُهْلِكْنِیْ مَعَ مَنْ تُهْلِكُ
375
اور ان کے ساتھ مجھے ہلاک نہ کرنا
375
مِنَ الْمُتَعَرِّضِیْنَ لِمَقْتِكَ
376
جنہیں دشمنی پر آمادہ ہونے کی وجہ سے ہلاک کرے گا
376
وَلَا تُتَبِّرْنِیْ فِیْمَنْ تُتَبِّرُ
377
اور مجھے برباد نہ کرنا
377
مِنَ الْمُنْحَرِفِیْنَ عَنْ سُبُلِكَ
378
اپنی سیدھی راہوں سے انحراف کرنے والوں کے زمرہ میں کہ جنہیں تو برباد کرے گا
378
وَنَجِّنِیْ مِنْ غَمَرَاتِ الْفِتْنَةِ
379
اور فتنہ و فساد کے بھنور سے مجھے نجات دے
379
وَخَلِّصْنِیْ مِنْ لَّهَوَاتِ الْبَلْوٰى
380
اور بلا کے منہ سے چھڑا لے
380
وَاَجِرْنِیْ مِنْ اَخْذِ الْاِمْلَآءِ
381
اور زمانۂ مہلت (کی بداعمالیوں) پر گرفت سے پناہ دے
381
وَحُلْ بَیْنِیْ وَبَیْنَ عَدُوٍّ یُّضِلُّنِیْ
382
اور حائل ہو جا اس دشمن کے درمیان جو مجھے بہکائے
382
وَهَوًى یُّوْبِقُنِیْ
383
اور اس خواہش نفس کے درمیان جو مجھے تباہ و برباد کرے
383
وَمَنْقَصَةٍ تَرْهَقُنِیْ۔
384
اور اس نقص و عیب کے درمیان جو مجھے گھیر لے۔
384
وَلَا تُعْرِضْ عَنِّیْۤ
385
اور اسی طرح مجھ سے رخ نہ پھیر
385
اِعْرَاضَ مَنْ لَّا تَرْضٰى عَنْهُ بَعْدَ غَضَبِكَ
386
جیسے اس شخص سے کہ جس پر غضب ناک ہونے کے بعد تو راضی نہ ہو رخ پھیر لیتا ہے
386
وَلَا تُؤْیِسْنِیْ مِنَ الْاَمَلِ فِیْكَ
387
اور جو امیدیں تیرے دامن سے وابستہ کئے ہوئے ہوں ان میں مجھے بے آس نہ کر
387
فَیَغْلِبَ عَلَیَّ الْقُنُوْطُ مِنْ رَّحْمَتِكَ
388
کہ تیری رحمت سے یاس و ناامیدی مجھ پر غالب آجائے
388
وَلَا تَمْنَحْنِیْ بِمَا لَا طَاقَةَ لِیْ بِهٖ
389
اور مجھے اتنی نعمتیں بھی نہ بخش کہ جن کے اٹھانے کی میں طاقت نہیں رکھتا
389
فَتَبْهَظَنِیْ مِمَّا تُحَمِّلُنِیْهِ مِنْ فَضْلِ مَحَبَّتِكَ
390
کہ تو فراوانئ محبت سے مجھ پر وہ بار لاد دے جو مجھے گرانبار کر دے
390
وَلَا تُرْسِلْنِیْ مِنْ یَدِكَ
391
اور مجھے اس طرح اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑ دے
391
اِرْسَالَ مَنْ لَّا خَیْرَ فِیْهِ
392
جس طرح اسے چھوڑ دیتا ہے جس میں کوئی بھلائی نہ ہو
392
وَلَا حَاجَةَ بِكَ اِلَیْهِ
393
اور نہ تجھے اس سے کوئی مطلب ہو
393
وَلَاۤ اِنَابَةَ لَهٗ
394
اور نہ اس کیلئے توبہ و بازگشت ہو۔
394
وَلَا تَرْمِ بِیْ رَمْیَ مَنْ سَقَطَ مِنْ عَیْنِ رِعَایَتِكَ
395
اور مجھے اس طرح نہ پھینک دے جس طرح اسے پھینک دیتا ہے جو تیری نظر توجہ سے گر چکا ہو
395
وَمَنِ اشْتَمَلَ عَلَیْهِ الْخِزْیُ مِنْ عِنْدِكَ
396
اور تیری طرف سے ذلّت و رسوائی اس پر چھائی ہوئی ہو
396
بَلْ خُذْ بِیَدِیْ مِنْ سَقْطَةِ الْمُتَرَدِّیْنَ
397
بلکہ میرا ہاتھ تھام لے گِرنے والوں کے گرنے سے
397
وَوَهْلَةِ الْمُتَعَسِّفِیْنَ
398
اور کجرؤوں کے خوف و ہراس سے
398
وَزَلَّةِ الْمَغْرُوْرِیْنَ
399
اور فریب خوردہ لوگوں کے لغزش کھانے سے
399
وَوَرْطَةِ الْهَالِكِیْنَ۔
400
اور ہلاک ہونے والوں کے ورطۂ ہلاکت میں گرنے سے۔
400
وَعَافِنِیْ مِمَّا ابْتَلَیْتَ بِهٖ طَبَقَاتِ عَبِیْدِكَ وَاِمَآئِكَ۔
401
اور اپنے بندوں اور کنیزوں کے مختلف طبقوں کو جن چیزوں میں مبتلا کیا ہے ان سے مجھے عافیت و سلامتی بخش
401
وَبَلِّغْنِیْ مَبَالِغَ مَنْ عُنِیْتَ بِهٖ
402
اور ان کے مراتب و درجات پر مجھے فائز کر جنہیں تو نے مورد عنایت قرار دیا
402
وَاَنْعَمْتَ عَلَیْهِ
403
جنہیں نعمتیں عطا کیں
403
وَرَضِیْتَ عَنْهُ
404
جن سے راضی و خوشنود ہوا
404
فَاَعَشْتَهٗ حَمِیْدًا
405
جنہیں قابل ستائش زندگی بخشی
405
وَتَوَفَّیْتَهٗ سَعِیْدًا۔
406
اور سعادت و کامرانی کے ساتھ موت دی۔
406
وَطَوِّقْنِی طَوْقَ الْاِقْلَاعِ
407
اور میرے لیے [ایسا حفاظتی حصار]بنا دے جس طرح گردن میں پڑا ہوا طوق،
407
عَمَّا یُحْبِطُ الْحَسَنَاتِ
408
جو ان چیزوں سے کنارہ کشی لازم کر دے جو نیکیوں کو محو کر دیں
408
وَیَذْهَبُ بِالْبَرَكَاتِ۔
409
اور برکتوں کو زائل کر دیں۔
409
وَاَشْعِرْ قَلْبِیَ الْاِزْدِجَارَ
410
اور ان چیزوں سے علیحدگی و نفرت کو میرے دل کیلئے اس طرح ضروری قرار دے جس طرح بدن سے چمٹا ہوا لباس،
410
عَنْ قَبَآئِحِ السَّیِّئَاتِ
411
یعنی برے گناہوں سے (علیحدگی و نفرت)
411
وَفَوَاضِحِ الْحَوْبَاتِ۔
412
اور رسوا کرنے والی معصیتوں سے۔
412
وَلَا تَشْغَلْنِیْ بِمَا لَاۤ اُدْرِكُهٗۤ اِلَّا بِكَ
413
اور مجھے دنیا میں مصروف کر کے ان اعمال سے روک نہ دے جنہیں تیری مدد کے بغیر حاصل نہیں کر سکتا
413
عَمَّا لَا یُرْضِیْكَ عَنِّیْ غَیْرُهٗ۔
414
(وہ اعمال) کہ جن کے علاوہ کوئی اور چیز تجھے مجھ سے خوش نہیں کر سکتی۔
414
وَانْزِعْ مِنْ قَلْبِیْ حُبَّ دُنْیَا دَنِیَّةٍ
415
اور اس پست دنیا کی محبت میرے دل سے نکال دے
415
تَنْهٰى عَمَّا عِنْدَكَ
416
کہ جو تیرے ہاں کی سعادت ابدی کی طرف متوجہ ہونے سے مانع،
416
وَتَصُدُّ عَنِ ابْتِغَآءِ الْوَسِیْلَةِ اِلَیْكَ
417
تیری طرف وسیلہ طلب کرنے سے سد راہ،
417
وَتُذْهِلُ عَنِ التَّقَرُّبِ مِنْكَ۔
418
اور تیرا تقرب حاصل کرنے سے غافل کرنے والی ہے۔
418
وَزَیِّنْ لِّیَ التَّفَرُّدَ بِمُنَاجَاتِكَ بِاللَّیْلِ وَالنَّهَارِ
419
اور میرے لیے شب و روز تیری مناجات کیلئے تنہائی کو خوش نما بنا دے
419
وَهَبْ لِیْ عِصْمَةً تُدْنِیْنِیْ مِنْ خَشْیَتِكَ
420
اور مجھے وہ ملکۂ عصمت عطا فرما جو مجھے تیرے خوف سے قریب،
420
وَتَقْطَعُنِیْ عَنْ رُّكُوْبِ مَحَارِمِكَ
421
ارتکاب محرمات سے الگ
421
وَتَفُكَّنِیْ مِنْ اَسْرِ الْعَظَآئِمِ۔
422
اور کبیرہ گناہوں کے بندھنوں سے رہا کر دے۔
422
وَهَبْ لِیَ التَّطْهِیْرَ مِنْ دَنَسِ الْعِصْیَانِ
423
اور مجھے گناہوں کی آلودگی سے پاکیزگی عطا فرما
423
وَاَذْهِبْ عَنِّیْ دَرَنَ الْخَطَایَا
424
اور معصیت کی کثافتوں کو مجھ سے دور کر دے
424
وَسَرْبِلْنِیْ بِسِرْبَالِ عَافِیَتِكَ
425
اور اپنی عافیت کا جامہ مجھے پہنا دے
425
وَرَدِّنِیْ رِدَآءَ مُعَافَاتِكَ
426
اور اپنی سلامتی کی چادر اوڑھا دے
426
وَجَلِّلْنِیْ سَوَابِغَ نَعْمَآئِكَ
427
اور اپنی وسیع نعمتوں سے مجھے ڈھانپ لے
427
وَظَاهِرْ لَدَیَّ فَضْلَكَ وَطَوْلَكَ
428
اور میرے لیے اپنے عطایا و انعامات کا سلسلہ پیہم جاری رکھ
428
وَاَیِّدْنِیْ بِتَوْفِیْقِكَ وَتَسْدِیْدِكَ
429
اور اپنی توفیق و راہ حق کی راہ نمائی سے مجھے تقویت دے
429
وَاَعِنِّیْ عَلٰى صَالِحِ النِّیَّةِ
430
اور میری مدد فرما پاکیزہ نیت،
430
وَمَرْضِیِّ الْقَوْلِ، وَمُسْتَحْسَنِ الْعَمَلِ
431
پسندیدہ گفتار اور شائستہ کردار کے سلسلہ میں
431
وَلَا تَكِلْنِیْۤ اِلٰى حَوْلِیْ وَقُوَّتِیْ دُوْنَ حَوْلِكَ وَقُوَّتِكَ۔
432
اور اپنی قوت و طاقت کے بجائے مجھے میری قوت و طاقت کے حوالے نہ کر۔
432
وَلَا تُخْزِنِیْ یَوْمَ تَبْعَثُنِیْ لِلِقَآئِكَ
433
اور جس دن مجھے اپنی ملاقات کیلئے اٹھائے مجھے ذلیل و خوار نہ کرنا
433
وَلَا تَفْضَحْنِیْ بَیْنَ یَدَیْ اَوْلِیَآئِكَ
434
اور اپنے دوستوں کے سامنے رسوا نہ کرنا
434
وَلَا تُنْسِنِیْ ذِكْرَكَ
435
اور اپنی یاد میرے دل سے فراموش نہ ہونے دے
435
وَلَا تُذْهِبْ عَنِّیْ شُكْرَكَ
436
اور اپنا شکر و سپاس مجھ سے زائل نہ کر
436
بَلْ اَلْزِمْنِیْهِ فِیْۤ اَحْوَالِ السَّهْوِ
437
بلکہ میرے لیے ادائے شکر لازم قرار دے، جب میں تیری نعمتوں سے بے خبر
437
عِنْدَ غَفَلَاتِ الْجَاهِلِیْنَ لِاٰلَآئِكَ
438
سہو و غفلت کے عالم میں ہوں
438
وَاَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اُثْنِیَ بِمَاۤ اَوْلَیْتَنِیْهِ
439
اور میرے دل میں یہ بات ڈال دے کہ جو نعمتیں تو نے بخشی ہیں ان پر حمد و توصیف
439
وَاَعْتَرِفَ بِمَاۤ اَسْدَیْتَهٗ اِلَیَّ۔
440
اور جو احسانات مجھ پر کئے ہیں ان کا اعتراف کروں۔
440
وَاجْعَلْ رَغْبَتِیْۤ اِلَیْكَ فَوْقَ رَغْبَةِ الرَّاغِـبِیْنَ
441
اور اپنی طرف میری توجہ کو تمام توجہ کرنے والوں سے بالاتر
441
وَحَمْدِیْۤ اِیَّاكَ فَوْقَ حَمْدِ الْحَامِدِیْنَ
442
اور میری حمد سرائی کو تمام حمد کرنے والوں سے بلند تر قرار دے
442
وَلَا تَخْذُلْنِیْ عِنْدَ فَاقَتِیْۤ اِلَیْكَ
443
اور جب مجھے تیری احتیاج ہو تو مجھے اپنی نصرت سے محروم نہ کرنا
443
وَلَا تُهْلِكْنِیْ بِمَاۤ اَسْدَیْتُهٗۤ اِلَیْكَ
444
اور جن اعمال کو تیری بارگاہ میں پیش کیا ہے ان کو میرے لیے وجۂ ہلاکت نہ قرار دینا
444
وَلَا تَجْبَهْنِیْ بِمَا جَبَهْتَ بِهِ الْمُعَانِدِیْنَ لَكَ۔
445
اور جس عمل و کردار کے پیش نظر تو نے اپنے نافرمانوں کو دھتکارا ہے یوں مجھے اپنی بارگاہ سے دھتکار نہ دینا۔
445
فَاِنِّیْ لَكَ مُسَلِّمٌ
446
اس لیے کہ میں تیرا مطیع و فرمانبردارہوں
446
اَعْلَمُ اَنَّ الْحُجَّةَ لَكَ
447
اور یہ جانتا ہوں کہ حجت و برہان تیرے ہی لیے ہے
447
وَاَنَّكَ اَوْلٰى بِالْفَضْلِ
448
اور تو فضل و بخشش کا زیادہ سزاوار
448
وَاَعْوَدُ بِالْاِحْسَانِ
449
اور لطف و احسان کے ساتھ فائدہ رساں
449
وَاَهْلُ التَّقْوٰى‏
450
اور اس لائق ہے کہ تجھ سے ڈرا جائے
450
وَاَهْلُ الْمَغْفِرَةِ
451
اور اس کا اہل ہے کہ مغفرت سے کام لے
451
وَاَنَّكَ بِاَنْ تَعْفُوَ اَوْلٰى مِنْكَ بِاَنْ تُعَاقِبَ
452
اور اس کا زیادہ سزاوار ہے کہ سزا دینے کے بجائے معاف کر دے
452
وَاَنَّكَ بِاَنْ تَسْتُرَ اَقْرَبُ مِنْكَ اِلٰۤى اَنْ تَشْهَرَ۔
453
اور تشہیر کرنے کے بجائے پردہ پوشی تیری روش سے قریب تر ہے۔
453
فَاَحْیِنِیْ حَیَاةً طَیِّبَةً تَنْتَظِمُ بِمَاۤ اُرِیْدُ
454
تو پھر مجھے ایسی پاکیزہ زندگی دے جو میرے حسب دلخواہ امور پر مشتمل
454
وَتَبْلُغُ مَاۤ اُحِبُّ
455
اور میری دل پسند چیزوں پر منتہی ہو
455
مِنْ حَیْثُ لَا اٰتِیْ مَا تَكْرَهُ
456
اس طرح کہ جس کام کو تو ناپسند کرے اسے بجا نہ لاؤں
456
وَلَاۤ اَرْتَكِبُ مَا نَهَیْتَ عَنْهُ
457
اور جس سے منع کرے اس کا ارتکاب نہ کروں
457
وَاَمِتْنِیْ مِیتَةَ مَنْ یَّسْعٰى نُوْرُهٗ بَیْنَ یَدَیْهِ وَعَنْ یَّمِیْنِهٖ۔
458
اور مجھے اس شخص کی سی موت دے جس کا نور اس کے آگے اور اس کے داہنی طرف چلتا ہو۔
458
وَذَلِّلْنِیْ بَیْنَ یَدَیْكَ
459
اور مجھے اپنی بارگاہ میں عاجز و نگوں سار
459
وَاَعِزَّنِیْ عِنْدَ خَلْقِكَ
460
اور لوگوں کے نزدیک باوقار بنا دے
460
وَضَعْنِیْۤ اِذَا خَلَوْتُ بِكَ
461
اور جب تجھ سے تخلیہ میں راز و نیاز کروں تو مجھے پست و سرافگندہ
461
وَارْفَعْنِیْ بَیْنَ عِبَادِكَ
462
اور اپنے بندوں میں بلند مرتبہ قرار دے
462
وَاَغْنِنِیْ عَمَّنْ هُوَغَنِیٌّ عَنِّیْ
463
اور جو مجھ سے بے نیاز ہو اس سے مجھے بے نیاز کر دے
463
وَزِدْنِی اِلَیْكَ فَاقَةً وَفَقْرًا
464
اور میرے فقر و احتیاج کو اپنی طرف بڑھا دے
464
وَاَعِذْنِیْ مِنْ شَمَاتَةِ الْاَعْدَآءِ
465
اور پناہ دے دشمنوں کے خندۂ زیر لب سے
465
وَمِنْ حُلُوْلِ الْبَلَآءِ
466
بلاؤں کے ورود سے
466
وَمِنَ الذُّلِّ وَالْعَنَآءِ۔
467
اور ذلت و سختی سے۔
467
تَغَمَّدْنِیْ فِیْمَا اطَّلَعْتَ عَلَیْهِ مِنِّیْ
468
اور میری پردہ پوشی فرما میرے ان گناہوں کے بارے میں کہ جن پر تو مطلع ہے
468
بِمَا یَتَغَمَّدُ بِهِ الْقَادِرُ عَلَى الْبَطْشِ لَوْ لَا حِلْمُهٗ
469
اس شخص کے مانند کہ اگر اس کا حلم مانع نہ ہوتا تو وہ سخت گرفت پر قادر ہوتا
469
وَالْاٰخِذُ عَلَى الْجَرِیْرَةِ لَوْ لَاۤ اَنَاتُهٗ
470
اور اگر اس کی روش میں نرمی نہ ہوتی تو وہ گناہوں پر مؤاخذہ کرتا
470
وَاِذَاۤ اَرَدْتَّ بِقَوْمٍ فِتْنَةً اَوْ سُوْٓءًا
471
اور جب کسی جماعت کو تو مصیبت میں گرفتار یا بلا و نکبت سے دو چار کرنا چاہے
471
فَنَجِّنِیْ مِنْهَا لِوَاذًا بِكَ
472
تو در صورتیکہ میں تجھ سے پناہ طلب ہوں اس مصیبت سے نجات دے [کر اپنی پناہ میں رکھ لینا]
472
وَاِذْ لَمْ تُقِمْنِیْ مَقَامَ فَضِیْحَةٍ فِیْ دُنْیَاكَ
473
اور جبکہ تو نے مجھے دنیا میں رسوائی کے مؤقف میں کھڑا نہیں کیا
473
فَلَا تُقِمْنِیْ مِثْلَهٗ فِیْۤ اٰخِرَتِكَ‏
474
تو اسی طرح آخرت میں بھی رسوائی کے مقام پر کھڑا نہ کرنا
474
وَاشْفَعْ لِیْ اَوَآئِلَ مِنَنِكَ بِاَوَاخِرِهَا
475
اور میرے لیے دنیوی نعمتوں کو اخروی نعمتوں سے ملا دے
475
وَقَدِیْمَ فَوَآئِدِكَ بِحَوَادِثِهَا
476
اور قدیم فائدوں کو جدید فائدوں سے ملا دے
476
وَلَا تَمْدُدْ لِیْ مَدًّا یَّقْسُوْ مَعَهٗ قَلْبِیْ
477
اور مجھے اتنی مہلت نہ دے کہ اس کے نتیجہ میں میرا دل سخت ہو جائے
477
وَلَا تَقْرَعْنِیْ قَارِعَةً یَّذْهَبُ لَهَا بَهَآئِیْ
478
اور ایسی مصیبت میں مبتلا نہ کر جس سے میری عزت و آبرو جاتی رہے
478
وَلَا تَسُمْنِیْ خَسِیْسَةً یَّصْغُرُ لَهَا قَدْرِیْ
479
اور ایسی ذلّت سے دوچار نہ کر جس سے میری قدرو منزلت کم ہو جائے
479
وَلَا نَقِیْصَةً یُّجْهَلُ مِنْ اَجْلِهَا مَكَانِیْ۔
480
اور ایسے عیب میں گرفتار نہ کر جس سے میرا مرتبہ و مقام جانا نہ جا سکے۔
480
وَلَا تَرُعْنِیْ رَوْعَةً اُبْلِسُ بِهَا
481
اور مجھے اتنا خوف زدہ نہ کر کہ میں مایوس ہو جاؤں
481
وَلَا خِیْفَةً اُوْجِسُ دُوْنَهَا
482
اور ایسا خوف نہ دلا کہ ہراساں ہو جاؤں
482
اجْعَلْ هَیْبَتِیْ فِیْ وَعِیْدِكَ
483
میرے خوف کو اپنی وعید و سرزنش میں منحصر کر دے
483
وَحَذَرِیْ مِنْ اِعْذَارِكَ وَاِنْذَارِكَ
484
اور میرے اندیشہ کو تیرے عذر تمام کرنے اور ڈرانے میں (منحصر کر دے)
484
وَرَهْبَتِیْ عِنْدَ تِلَاوَةِ اٰیَاتِكَ۔
485
اور میرے خوف و ہراس کو آیات (قرآنی) کی تلاوت کے وقت قرار دے۔
485
وَاعْمُرْ لَیْلِیْ بِاِیْقَاظِیْ فِیْهِ لِعِبَادَتِكَ
486
اور میری راتوں کو آباد کر مجھے اپنی عبادت کیلئے بیدار رکھنے سے
486
وَتَفَرُّدِیْ بِالتَّهَجُّدِ لَكَ
487
خلوت و تنہائی میں دعا و مناجات کیلئے جاگنے سے
487
وَتَجَرُّدِیْ بِسُكُوْنِیْۤ اِلَیْكَ
488
سب سے الگ رہ کر تجھ سے لو لگانے سے
488
وَاِنْزَالِ حَوَآئِجِیْ بِكَ
489
تیرے سامنے اپنی حاجتیں پیش کرنے سے
489
وَمُنَازَلَتِیْۤ اِیَّاكَ فِیْ فَكَاكِ رَقَبَتِیْ مِنْ نَّارِكَ
490
دوزخ سے گلو خلاصی کیلئے بار بار التجا کرنے سے
490
وَاِجَارَتِیْ مِمَّا فِیْهِ اَهْلُهَا مِنْ عَذَابِكَ۔
491
اور تیرے اس عذاب سے جس میں اہل دوزخ گرفتار ہیں پناہ مانگنے کے وسیلہ سے۔
491
وَلَا تَذَرْنِیْ فِیْ طُغْیَانِیْ عَامِهًا
492
اور مجھے سرکشی میں سرگردان چھوڑ نہ دے
492
وَلَا فِیْ غَمْرَتِیْ سَاهِیًا حَتّٰى حِیْنٍ
493
اور نہ غفلت میں ایک خاص وقت تک غافل و بے خبر پڑا رہنے دے
493
وَلَا تَجْعَلْنِیْ عِظَةً لِّمَنِ اتَّعَظَ
494
اور مجھے نصیحت حاصل کرنے والوں کیلئے نصیحت کا سبب نہ قرار دے
494
وَلَا نَكَالًا لِّمَنِ اعْتَبَرَ
495
اور نہ عبرت حاصل کرنے والوں کیلئے عبرت
495
وَلَا فِتْنَةً لِّمَنْ نَّظَرَ
496
اور نہ ہی دیکھنے والوں کیلئے فتنہ و گمراہی کا سبب۔
496
وَلَا تَمْكُرْ بِیْ فِیْمَنْ تَمْكُرُ بِهٖ
497
اور مجھے ان لوگوں میں جن سے تو (ان کے مکر کی پاداش میں) مکر کرے گا شمار نہ کر
497
وَلَا تَسْتَبْدِلْ بِیْ غَیْرِیْ
498
اور (انعام و بخشش کیلئے) میرے عوض دوسرے کو انتخاب نہ کر
498
وَلَا تُغَیِّرْ لِیَ اسْمًا
499
میرے نام میں تغیر نہ فرما
499
وَلَا تُبَدِّلْ لِیْ جِسْمًا
500
اور جسم میں تبدیلی نہ فرما
500
وَلَا تَتَّخِذْنِیْ هُزُوًا لِّخَلْقِكَ
501
اور مجھے مخلوقات کیلئے مضحکہ نہ بنا
501
وَلَا سُخْرِیًّا لَّكَ
502
اور اپنی بارگاہ میں لائق استہزا نہ قرار دے
502
وَلَا تَبَعًاۤ اِلَّا لِمَرْضَاتِكَ
503
مجھے صرف ان چیزوں کا پابند بنا جن سے تیری رضا مندی وابستہ ہے
503
وَلَا مُمْتَهَنًاۤ اِلَّا بِالِانْتِقَامِ لَكَ۔
504
اور صرف اس زحمت سے دو چار کر جو (تیرے دشمنوں سے) انتقام لینے کے سلسلہ میں ہو۔
504
وَاَوْجِدْنِیْ بَرْدَ عَفْوِكَ
505
اور آشنا کر اپنے عفو و درگزر کی لذت کی شیرینی سے
505
وَحَلَاوَةَ رَحْمَتِكَ
506
اور رحمت و راحت سے
506
وَرَوْحِكَ وَرَیْحَانِكَ
507
اور آسائش گل و ریحان سے
507
وَجَنَّةِ نَعِیْمِكَ
508
اور جنت نعیم کی شیرینی سے۔
508
وَاَذِقْنِیْ طَعْمَ الْفَرَاغِ لِمَا تُحِبُّ
509
اور ایسی فراغت سے روشناس کر جس میں تیرے پسندیدہ کاموں کو بجا لا سکوں
509
بِسَعَةٍ مِّنْ سَعَتِكَ
510
اپنی وسعت و تونگری کی بدولت
510
وَالْاِجْتِهَادِ فِیْمَا یُزْلِفُ لَدَیْكَ وَعِنْدَكَ
511
اور ایسی سعی و کوشش کی توفیق دے جو تیری بارگاہ میں تقرب کا باعث ہو
511
وَاَتْحِفْنِیْ بِتُحْفَةٍ مِّنْ تُحَفَاتِكَ۔
512
اور اپنے تحفوں میں سے مجھے نت نیا تحفہ دے۔
512
وَاجْعَلْ تِجَارَتِیْ رَابِحَةً
513
اور میری اخروی تجارت کو نفع بخش
513
وَكَرَّتِیْ غَیْرَ خَاسِرَةٍ
514
اور میری بازگشت کو بے ضرر قرار دے
514
وَاَخِفْنِیْ مَقَامَكَ
515
اور مجھے اپنے مقام و موقف سے ڈرا
515
وَشَوِّقْنِیْ لِقَآءَكَ
516
اور اپنی ملاقات کا مشتاق بنا
516
وَتُبْ عَلَیَّ تَوْبَةً نَّصُوْحًا
517
اور ایسی سچی توبہ کی توفیق عطا فرما
517
لَا تُبْقِ مَعَهَا ذُنُوْبًا صَغِیْرَةً وَّلَا كَبِیْرَةً
518
کہ جس کے ساتھ میرے چھوٹے اور بڑے گناہوں کو باقی نہ رکھے
518
وَلَا تَذَرْ مَعَهَا عَلَانِیَةً وَّلَا سَرِیْرَةً۔
519
اور کھلی اور ڈھکی معصیتوں کو محو کر دے۔
519
وَانْزِعِ الْغِلَّ مِنْ صَدْرِی لِلْمُؤْمِنِیْنَ
520
اور اہل ایمان کی طرف سے میرے دل سے کینہ و بغض کو نکال دے
520
وَاعْطِفْ بِقَلْبِیْ عَلَى الْخَاشِعِیْنَ
521
اور انکسار و فروتنی کرنے والوں پر میرے دل کو مہربان بنا دے
521
وَكُنْ لِّیْ كَمَا تَكُوْنُ لِلصَّالِحِیْنَ
522
اور میرے لیے تو ایسا ہو جا جیسا نیکو کاروں کیلئے ہے
522
وَحَلِّنِیْ حِلْیَةَ الْمُتَّقِیْنَ
523
اور پرہیزگاروں کے زیور سے مجھے آراستہ کر دے
523
وَاجْعَلْ لِّیْ لِسانَ صِدْقٍ فِی الْغَابِرِیْنَ
524
اور آئندہ آنے والوں میں میرا ذکر خیر قرار دے
524
وَذِكْرًا نَّامِیًا فِی الْاٰخِرِیْنَ
525
اور بعد میں آنے والی نسلوں میں میرا ذکر روز افزوں برقرار رکھ
525
وَوَافِ بِیْ عَرْصَةَ الْاَوَّلِیْنَ
526
اور سابقون الاولون کے محل و مقام میں مجھے پہنچا دے
526
وَتَمِّمْ سُبُوْغَ نِعْمَتِكَ عَلَیَّ
527
اور فراخئ نعمت کو مجھ پر تمام کر
527
وَظَاهِرْ كَرَامَاتِهَا لَدَیَّ
528
اور اس کی منفعتوں کا سلسلہ پہیم جاری رکھ
528
وَامْلَاْ مِنْ فَوَآئِدِكَ یَدِیْ
529
اپنی نعمتوں سے میرے ہاتھوں کو بھر دے
529
وَسُقْ كَرَآئِمَ مَوَاهِبِكَ اِلَیَّ
530
اور اپنی گراں قدر بخششوں کو میری طرف بڑھا دے۔
530
وَجَاوِرْ بِیَ الْاَطْیَبِیْنَ مِنْ اَوْلِیَآئِكَ
531
اور مجھے اپنے پاکیزہ دوستوں کا ہمسایہ قرار دے
531
فِی الْجِنَانِ الَّتِیْ زَیَّنْتَهَا لِاَصْفِیَآئِكَ
532
جنت میں جسے تو نے اپنے برگزیدہ بندوں کیلئے سجایا ہے
532
وَجَلِّلْنِیْ شَرَآئِفَ نِحَلِكَ
533
اور مجھے عمدہ و نفیس عطیوں کے خلعت اوڑھا دے
533
فِی الْمَقَامَاتِ الْمُعَدَّةِ لِاَحِبَّآئِكَ
534
ان جگہوں میں جنہیں اپنے دوستداروں کیلئے مہیا کیا ہے
534
وَاجْعَلْ لِّیْ عِنْدَكَ مَقِیْلًا اٰوِیْۤ اِلَیْهِ مُطْمَئِنًّا
535
اور میرے لیے وہ آرامگاہ اپنے نزدیک قرار دے کہ جہاں میں اطمینان سے بے کھٹکے رہوں
535
وَمَثَابَةً اَتَبَوَّؤُهَا وَاَقَرُّ عَیْنًا۔
536
اور وہ منزل کہ جہاں میں ٹھہروں اور اپنی آنکھوں کو ٹھنڈا کروں
536
وَلَا تُقَایِسْنِیْ بِعَظِیْمَاتِ الْجَرَآئِرِ
537
اور مجھے میرے عظیم گناہوں کے لحاظ سے سزا نہ دینا
537
وَلَا تُهْلِكْنِیْ ﴿یَوْمَ تُبْلَی السَّرَآىِٕرُ﴾
538
اور جس دن دلوں کے بھید جانچے جائیں گے مجھے ہلاک نہ کرنا
538
وَاَزِلْ عَنِّیْ كُلَّ شَكٍّ وَّشُبْهَةٍ
539
ہر شک و شبہ کو مجھ سے دور کر دے
539
وَاجْعَلْ لِّیْ فِی الْحَقِّ طَرِیْقًا مِّنْ كُلِّ رَحْمَةٍ
540
اور میرے لیے ہر سمت سے حق تک پہنچنے کی راہ پیدا کر دے
540
وَاَجْزِلْ لِّیْ قِسَمَ الْمَوَاهِبِ مِنْ نَّوَالِكَ
541
اور اپنی عطا و بخشش کے حصے میرے لیے زیادہ کر دے
541
وَوَفِّرْ عَلَیَّ حُظُوْظَ الْاِحْسَانِ مِنْ اِفْضَالِكَ۔
542
اور اپنے فضل سے نیکی و احسان سے حظ فراواں عطا کر۔
542
وَاجْعَلْ قَلْبِیْ وَاثِقًا بِمَا عِنْدَكَ
543
اور اپنے ہاں کی چیزوں پر میرا دل مطمئن
543
وَهَمِّیْ مُسْتَفْرَغًا لِّمَا هُوَ لَكَ
544
اور اپنے کاموں کیلئے میری فکر کو یک سو کر دے
544
وَاسْتَعْمِلْنِیْ بِمَا تَسْتَعْمِلُ بِهٖ خَالِصَتَكَ
545
اور مجھ سے وہی کام لے جو اپنے مخصوص بندوں سے لیتا ہے
545
وَاَشْرِبْ قَلْبِیْ عِنْدَ ذُهُوْلِ الْعُقُوْلِ طَاعَتَكَ
546
اور جب عقلیں غفلت میں پڑ جائیں اس وقت میرے دل میں اطاعت کا ولولہ سمو دے
546
وَاجْمَعْ لِیَ الْغِنٰى وَالْعَفَافَ
547
اور میرے لیے جمع کر دے تونگری، پاکدامنی،
547
وَالدَّعَةَ وَالْمُعَافَاةَ
548
آسائش، سلامتی
548
وَالصِّحَّةَ وَالسَّعَةَ
549
تندرستی، فراخی
549
وَالطُّمَاْنِیْنَةَ وَالْعَافِیَةَ۔
550
اطمینان اور عافیت کو۔
550
وَلَا تُحْبِطْ حَسَنَاتِیْ بِمَا یَشُوْبُهَا مِنْ مَّعْصِیَتِكَ
551
اور میری نیکیوں کو گناہوں کی آمیزش کی وجہ سے تباہ نہ کر
551
وَلَا خَلَوَاتِیْ بِمَا یَعْرِضُ لِیْ مِنْ نَّزَغَاتِ فِتْنَتِكَ
552
اور نہ میری تنہائیوں کو، ان مفسدوں کے باعث جو از راہ امتحان پیش آتے ہیں۔
552
وَصُنْ وَّجْهِیْ عَنِ الطَّلَبِ اِلٰۤى اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ
553
اور اہل عالم میں سے کسی ایک کے آگے ہاتھ پھیلانے سے میری عزت و آبرو کو بچائے رکھ
553
وَذُبَّنِیْ عَنِ الْتِمَاسِ مَا عِنْدَ الْفَاسِقِیْنَ
554
اور ان چیزوں کی طلب و خواہش سے جو بدکرداروں کے پاس ہیں مجھے روک دے
554
وَلَا تَجْعَلْنِیْ لِلظّٰلِمِیْنَ ظَهِیْرًا
555
اور مجھے ظالموں کا پشت پناہ نہ بنا
555
وَلَا لَهُمْ عَلٰى مَحْوِ كِتَابِكَ یَدًا وَّنَصِیْرًا
556
اور نہ (احکام) کتاب کے محو کرنے پر ان کا ناصر و مددگار قرار دے
556
وَحُطْنِیْ مِنْ حَیْثُ لَاۤ اَعْلَمُ
557
اور میری اس طرح نگہداشت کر کہ مجھے خبر بھی نہ ہونے پائے
557
حِیَاطَةً تَقِیْنِیْ بِهَا۔
558
ایسی نگہداشت کہ جس کے ذریعہ تو مجھے (ہلاکت و تباہی ) سے بچالے جائے۔
558
وَافْتَحْ لِیْۤ اَبْوَابَ تَوْبَتِكَ
559
اور میرے لیے دروازے کھول دے توبہ و رحمت،
559
وَرَحْمَتِكَ وَرَاْفَتِكَ
560
لطف و رأفت،
560
وَرِزْقِكَ الْوَاسِعِ
561
اور کشادہ روزی کے۔
561
اِنِّیْۤ اِلَیْكَ مِنَ الرَّاغِـبِیْنَ
562
اس لیے کہ میں تیری جانب رغبت و خواہش کرنے والوں میں سے ہوں
562
وَاَتْمِمْ لِیْۤ اِنْعَامَكَ
563
اور میرے لیے اپنی نعمتوں کو پایۂ تکمیل تک پہنچا دے
563
اِنَّكَ خَیْرُ الْمُنْعِمِیْنَ
564
اس لیے کہ تو انعام و بخشش کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے
564
وَاجْعَلْ بَاقِیَ عُمُرِیْ فِی الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ ابْتِغَآءَ وَجْهِكَ۔
565
اور میری بقیہ عمر کو حج و عمرہ اور اپنی رضا جوئی کیلئے قرار دے۔
565
یَا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ
566
اے تمام جہانوں کے پالنے والے!
566
وَصَلَّى اللّٰهُ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهِ الطَّیِّبِیْنَ الطَّاهِرِیْنَ
567
رحمت نازل کرے اللہ محمدؐ اور ان کی پاک و پاکیزہ آلؑ پر
567
وَالسَّلَامُ عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ اَبَدَ الْاٰبِدِیْنَ۔
568
اور ان پر اور ان کی اولاد پر ہمیشہ ہمیشہ درود و سلام ہو۔
568

یہ دعا ”دعائے عرفہ“ کے نام سے موسوم ہے۔ ”عرفہ“ کے معنی میں فی الجملہ اختلاف ہے۔ چنانچہ بعض کے نزدیک ”عرفہ“، عرفات ہی کا دوسرا نام ہے جو مکہ معظمہ سے ۱۲ میل کے فاصلہ پر ایک وسیع میدان ہے جہاں حجاج نہم ذی الحجہ کو (ظہر سے) غروب آفتاب تک وقوف کرتے ہیں۔ گویا اس میدان کا ہر ٹکڑا عرفہ ہے اور ان ٹکڑوں کا مجموعہ ”عرفات“ ہے۔ اسے ”عرفات“ اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہاں ملک ملک کے باشندے جمع ہوتے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے سے متعارف ہوتے ہیں۔ یا اس لیے کہ یہ ”عرف الدیک“ (مرغ کی کلغی) سے ماخوذ ہے۔ کیونکہ مرغ کی کلغی بلند اور نمایاں ہوتی ہے، اسی طرح عرفات بھی مکہ کی سرزمین سے کچھ بلندی پر واقع ہوا ہے۔

اور بعض کے نزدیک ”عرفہ“ دن کا نام اور ”عرفات“ مقام کا نام ہے۔ چنانچہ طبرسی رحمہ اللہ نے مجمع البیان میں تحریر کیا ہے: وَعَرَفَاتٌ اسْمٌ لِّلْبُقْعَةِِ الْمَعْرُوْفَةِ يَجِبُ الْوُقُوْفُ بِهَا فِی الْحَجِّ، وَيَوْمُ عَرَفَةَ يَوْمُ الْوُقُوْفِ بِهَا۔ ”عرفات“ اس مشہور جگہ کا نام ہے جہاں حج کے موقع پر وقوف ضروری ہے اور اس روز وقوف کو ”روز عرفہ“ کہا جاتا ہے ۱۔ فیروز آبادی نے قاموس میں تحریر کیا ہے: وَيَوْمُ عَرَفَةَ التَّاسِعُ مِنْ ذِی الْحِجَّةِ، وَعَرَفَاتٌ مَوْقِفُ الْحَاجِِّ ذٰلِكَ الْيَوْمَ عَلَى اثْنَيْ عَشَرَ مِيْلاً مِّنْ مَّكَّةَ۔ نہم ذی الحجہ روز عرفہ ہے اور مکہ سے ۱۲ میل کے فاصلہ پر وہ موقف جہاں اس دن وقوف کیا جاتا ہے عرفات ہے ۲۔ اس قول کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو ”عرفہ“ کی وجۂ تسمیہ کے سلسلہ میں ابن عباس سے منقول ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ذی الحجہ کی آٹھویں شب کو خواب دیکھا کہ وہ اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کر رہے ہیں فَاَصْبَحَ يُرَوِّيْ يَوْمَهٗ اَجْمَعَ اَیْ يَتَفَكَّرُ اَهُوَ اَمْرٌ مِّنَ اللّهِ اَمْ لَا؟ فَسُمِّیَ بِذٰلِكَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ جب صبح کو بیدار ہوئے تو تمام دن اس پر غور کرتے رہے کہ یہ حکم الٰہی ہے یا نہیں؟ اس سوچ بچار کی وجہ سے آٹھویں ذی الحجہ کا نام ”یوم ترویہ“ ہو گیا (اور ترویہ کے معنی سوچ بچار اور غور و فکر کے ہوتے ہیں)۔ ثُمَّ رَاٰى فِی اللَّيْلَةِ الثَّانِيَةِ، فَلَمَّا اَصْبَحَ عَرَفَ اَنَّهٗ مِنَ اللّهِ فَسُمِّيَ يَوْمَ عَرَفَةَ دوسری رات کو پھر یہی خواب دیکھا۔ جب صبح ہوئی تو پوری طرح جان لیا کہ حکم خدا یہی ہے۔ اس عرفان کی وجہ سے نویں ذی الحجہ کا نام ”روز عرفہ“ ہو گیا۔ ۳

روز عرفہ وہ مبارک و مسعود دن ہے جس میں خداوند عالم کی طرف رجوع ہوا جائے تو وہ گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے: مَنْ لَّمْ يُغْفَرْ لَهٗ فِیْ شَهْرِ رَمَضَانَ لَمْ يُغْفَرْ لَهٗۤ اِلٰى قَابِلٍ اِلَّاۤ اَنْ يَّشْهَدَ عَرَفَةَ۔ جس شخص کے گناہ ماہ رمضان میں بخشے نہیں جاتے اس کے گناہ آئندہ ماہ رمضان تک نہیں بخشے جائیں گے، مگر یہ کہ وہ روزِ عرفہ کا شرف حاصل کرے۔ ۴

اسی دن مسلمان اطراف و اکناف عالم سے سمٹ کر مکہ معظمہ میں جمع ہوتے ہیں اور فریضۂ حج بجا لاتے ہیں۔ حج کی تین قسمیں ہیں ،”حج افراد“، ”حج قران“ اور ”حج تمتع“۔ ”حج اِفراد“ اور ”حج قِران“ ان لوگوں کیلئے ہے جو مکہ یا مکہ کے اطراف و جوانب کے رہنے والے ہیں۔ جس میں ایک ہی دفعہ احرام باندھا جاتا ہے اور اس کے بعد عرفات میں وقوف اور مشعر الحرام میں، کہ جو مکہ اور عرفات کے درمیان واقع ہے، قیام اور طلوع آفتاب کے بعد منیٰ میں کہ جو مشعر الحرام اور مکہ کے درمیان واقع ہے قربانی کرنا ہوتی ہے اور سر منڈوایا جاتا ہے اور جمرۂ عقبہ پر کنکریاں پھینکی جاتی ہیں، پھر مکہ میں خانہ کعبہ کا طواف ، صفا و مروہ کے درمیان سعی، طواف النساء اور پھر منیٰ میں رمی جمرات کے بعد حج تمام کیا جاتا ہے۔

اور ”حج تمتع“ ان لوگوں کیلئے ہے جو مکہ اور اطراف مکہ کے حدود کے رہنے والے نہ ہوں۔ اس میں پہلی مرتبہ عمرۂ تمتع کی نیت سے احرام باندھا جاتا ہے اور طواف کعبہ، نماز طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کے بعد بالوں اور ناخنوں کا کاٹنا ہوتا ہے اور اس کے بعد احرام کھول دیا جاتا ہے اور آٹھ ذی الحجہ کو حج کی نیت سے مکہ ہی میں احرام باندھا جاتا ہے اور حج کے اعمال بجا لائے جاتے ہیں۔ حج تمتع کی مشروعیت میں کسی کو کلام نہیں۔ اور جو اس کے وجوب کے قائل نہیں ہیں انہیں بھی اس کے صحیح و درست ہونے سے انکار نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن مجید اور کتب صحاح میں اس کا صراحةً ذکر ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:

فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْہَدْيِ ”جو شخص حج تمتع کا عمرہ بجا لائے تو جیسی قربانی میسر آئے کرے“ ۵۔

اور عمران ابن حصین سے منقول ہے کہ نَزَلَتْ اٰيَةُ الْمُتْعَةِ فِیْ كِتَابِ اللّٰهِ، يَعْنِىْ مُتْعَةَ الْحَجِّ۔ وَاَمَرَنَا بِهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ۔ ثُمَّ لَمْ تَنْزِلْ اٰيَةٌ تَنْسَخُ اٰيَةَ مُتْعَةِ الْحَجِّ وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا رَسُوْلُ اللّٰهِ حَتّٰى مَاتَ۔ قَالَ رَجُلٌ بِرَاْيِهٖ بَعْدُ مَا شَآءَ۔ حج تمتع کی آیت قرآن مجید میں وارد ہوئی ہے اور پیغمبر اکرمؐ نے ہمیں اس کا حکم دیا تھا۔ پھر ایسی کوئی آیت نازل نہیں ہوئی جو حج تمتع کو منسوخ کر دے اور نہ پیغمبرؐ نے مرتے دم تک اس سے کبھی روکا۔ البتہ بعد میں ایک شخص نے اپنی رائے سے جو چاہا کہہ دیا۔ ۶

نووی نے شرح صحیح مسلم میں لکھا ہے کہ اس سے مراد حضرت عمر ہیں جنہوں نے بعض مصالح کی بنا پر اس سے منع کر دیا۔ اور حضرت عثمان بھی اسی منع پر کار بند رہے۔ مگر امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام حکم خدا و عمل پیغمبرؐ کے مطابق حج تمتع ہی بجا لاتے رہے اور حضرت عثمان نے روکنا چاہا تو آپؑ نے فرمایا کہ میں کسی کے کہنے پر سنت پیغمبرؐ کو چھوڑ نہیں سکتا۔ چنانچہ محمد بن اسماعیل بخاری نے تحریر کیا ہے:

قَالَ اخْتَلَفَ عَلِیٌّ وَّعُثْمَانُ وَهُمَا بِعُسْفَانَ فِی الْمُتْعَةِ۔ فَقَالَ عَلِیٌّ مَا تُرِيْدُ اِلَّاۤ اَنْ تَنْهٰى عَنْ اَمْرٍ فَعَلَهٗ رَسُوْلُ اللّٰهِ۔ فَقَالَ عُثْمَانُ دَعْنِیْ عَنْكَ۔

(راوی کا بیان ہے کہ) حضرت علی علیہ السلام اور حضرت عثمان نے مقام عسفان میں حج تمتع کے بارے میں اختلاف کیا۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا تمہارا مطلب کیا ہے کہ تم اس کام سے منع کرتے ہو جس کو آنحضرتؐ نے کیا۔ حضرت عثمان نے (لاجواب ہو کر) کہا کہ یہ بحث جانے دیجیے۔ ۷

بہرحال حج ایک ایسا فریضہ ہے جس سے انسان کی زندگی پر اثر پڑتا اور اس کے افکار و اعمال میں ضبط و انضباط پیدا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ حج کے سلسلہ میں جو خواہشات ترک کئے جاتے ہیں اس سے صبر و تحمل اور ضبط نفس کی مشق ہوتی ہے جو برائیوں سے محفوظ رہنے کا پیش خیمہ ہے۔ اور سفر کی سختیوں اور صعوبتوں کو جھیلنے سے سستی و سہل انگاری، مستعدی و آمادگی سے بدل جاتی ہے اور دل و دماغ میں ایسے تاثرات پیدا ہوتے ہیں جو ایک طرف مبدا سے وابستہ کرتے ہیں تو دوسری طرف معاد کا تصور تازہ کرتے ہیں۔

چنانچہ جب انسان میقات پر پہنچ کر احرام باندھتا ہے اور زبان سے لَبَّيْکَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْکَ، لَبَّيْکَ لَا شَرِيْکَ لَکَ لَبَّيْکَ۔۔۔ (حاضر ہوں بار الٰہا! میں حاضر ہوں، حاضر ہوں تو لاشریک ہے میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں۔۔۔ ۸) کہتا ہے تو یہ تصور بھی پیدا ہوتا ہے کہ جس طرح آج احرام لپیٹے گھر بار اور اہل و عیال کو چھوڑ کر اس کی آواز پر لبیک کہہ رہا ہے اسی طرح ایک دن وہ ہو گا جب احرام کے بجائے کفن لپیٹے اس دنیا سے منہ موڑ کر داعیٔ موت کی پکار پر لبیک کہے گا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا۔

اور جب احرام باندھے ہوئے عرفات میں پہنچتا ہے تو یہ منظر دیکھنے میں آتا ہے کہ تا حد نگاہ لوگوں کا جمگھٹا جن کا پہناوا ایک، لباس ایک، وضع قطع ایک، نہ غربت و امارت کا امتیاز، نہ چھوٹے اور بڑے کا فرق، سب دست بہ دعا۔ ہر ایک کی زبان پر توبہ و استغفار، ہر ایک اپنے گناہوں پر پشیمان اور عفو و آمرزش کا طلبگار، ہر ایک امید و بیم کے سنگھم پر ایستادہ، ہر شخص فریاد کناں، ہر شخص گھبرایا ہوا اور سہما ہوا،ایک کو دوسرے کی خبر نہیں، نفسا نفسی کا عالم، اس پر گرمی کا تڑاقہ، لوؤں کا زور، جھلسا دینے والے باد سموم کے جھونکے، نہ سر چھپانے کی جگہ نہ سایہ کرنے کی اجازت، جسے دیکھ کر حشر کا نقشہ آنکھوں کے سامنے کھنچ جاتا ہے۔

اور جب اس مرحلہ سے فارغ ہو کر مشعر الحرام کی طرف آتا ہے تو دھوپ سے سنولایا ہوا چہرہ، شاداب اور دھڑکتا ہوا دل مطمئن اس لیے کہ حرم میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی جو نجات و کامرانی کیلئے ایک نیک فال ہے۔

پھر مشعر الحرام سے منیٰ میں آتا ہے جہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تاسی میں رمئ جمرات کرتا ہے، کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس مقام پر شیطان پر پتھر مارے تھے۔ تو گویا وہ اپنے اس عمل سے شیطان کو اپنے سے ہنکاتا اور دور کرتا ہے۔

پھر قربانی کرتا ہے۔ یہ عمل نفس امارہ کو کچلنے اور نفسانی خواہشات کو ذبح کرنے کی طرف اشارہ ہے۔ چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے: وَاذْبَحْ حَنْجَرَةَ الْهَوٰى وَالطَّمَعِ عِنْدَ الذَّبِيْحَةِ۔ ذبح کے وقت نفسانی خواہشات اور حرص و طمع کا گلا کاٹ دو۔ ۹

پھر خانہ کعبہ کا طواف کرتا ہے تو اس طوافِ ظاہری سے طواف باطنی کی طرف بھی توجہ پیدا ہوتی ہے۔ اس طرح کہ جسم مادی گھر کا طواف کرتا ہے اور قلب و روح رب البیت کے گرد طواف کرتے ہیں۔

پھر صفا و مروہ کے درمیان سعی کرتا ہے تو گویا اللہ تعالیٰ کی طرف دوڑتا اور اس کی جانب بڑھتا ہے کہ اگر پہلی مرتبہ رحم نہیں کرے گا تو دوسری مرتبہ، آخر کب تک اس کی رحمت جوش میں نہ آئے گی اور حیرانی و سراسیمگی کو اپنے دامن میں پناہ نہ دے گی۔

اور سنگ اسود کو بوسہ دیتا ہے تو گویا یہ پیمان کرتا ہے کہ اب اسی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھوں گا جسے قدرت نے نصب کیا ہو، چاہے وہ پتھر ہی کیوں نہ ہو۔

اگر حج ان احساسات کو بیدار نہ کرے تو وہ ایک بے روح عمل ہے جو انسان کے اخلاق و اعمال میں تبدیلی پیدا نہیں کر سکتا۔

مجمع البیان، ج ۲ ص ۵۲۵

القاموس المحیط، ج ۱ ص ۱۰۸۰، فصل العین

ریاض السالکین، ج ۲ ص ۲۷۱

الکافی، ج ۴ ص ۶۶

سورۃ بقرہ، آیت ۱۹۶

صحيح مسلم، ج ۱ ص ۴۷۴

صحیح بخاری، پ ۶ ص۸۲

تلبیہ کی مکمل عبارت یہ ہے: لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْك، لَا شَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ۔

مصباح الشریعہ، ص ۴۹