اَللّٰهُمَّ هٰذَا یَوْمٌ مُّبَارَكٌ مَیْمُوْنٌ
1
بار الٰہا! یہ مبارک و مسعود دن ہے
1
وَالْمُسْلِمُوْنَ فِیْهِ مُجْتَمِعُوْنَ فِیْۤ اَقْطَارِ اَرْضِكَ
2
جس میں مسلمان معمورۂ زمین کے ہر گوشہ میں مجتمع ہیں
2
یَشْهَدُ السَّآئِلُ مِنْهُمْ وَالطَّالِبُ
3
وہ سب ہی تیری بارگاہ میں حاضر ہیں، ان میں سائل بھی ہیں اور طلبگار بھی
3
وَالرَّاغِبُ وَالرَّاهِبُ
4
ملتجی بھی ہیں اور خوف زدہ بھی
4
وَاَنْتَ النَّاظِرُ فِیْ حَوَآئِجِهِمْ۔
5
اور تو ہی ان کی حاجتوں پر نگاہ رکھنے والا ہے۔
5
فَاَسْئَلُكَ بِجُوْدِكَ وَكَرَمِكَ
6
لہٰذا میں تیرے جود و کرم کو دیکھتے ہوئے
6
وَهَوَانِ مَا سَئَلْتُكَ عَلَیْكَ
7
اور اس خیال سے کہ میری حاجت براری تیرے لیے آسان ہے
7
اَنْ تُصَلِّیَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
8
تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر
8
وَاَسْئَلُكَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَا
9
اے اللہ! اے ہم سب کے پروردگار! میں سوال کرتا ہوں
9
بِاَنَّ لَكَ الْمُلْكَ
10
جبکہ تیرے ہی لیے بادشاہی
10
اور تیرے ہی لیے حمد و ستائش ہے
11
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
12
اور کوئی معبود نہیں تیرے علاوہ
12
الْحَلِیْمُ الْكَرِیْمُ
13
الْحَنَّانُ الْمَنَّانُ
14
مہربانی کرنے والا، نعمت بخشنے والا
14
ذُو الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ
15
بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ
16
اور زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے
16
مَهْمَا قَسَمْتَ بَیْنَ عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِیْنَ
17
تو میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جب بھی تو تقسیم فرمائے اپنے ایمان والے بندوں میں
17
مِنْ خَیْرٍ اَوْ عَافِیَةٍ اَوْ بَرَكَةٍ
18
نیکی یا عافیت یا خیر و برکت
18
اَوْ هُدًى اَوْ عَمَلٍ بِطَاعَتِكَ
19
یا اپنی اطاعت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق
19
اَوْ خَیْرٍ تَمُنُّ بِهٖ عَلَیْهِمْ تَهْدِیْهِمْ بِهٖ اِلَیْكَ
20
یا ایسی بھلائی جس سے تو ان پر احسان کرے اور انہیں اپنی طرف رہنمائی فرمائے
20
اَوْ تَرْفَعُ لَهُمْ عِنْدَكَ دَرَجَةً
21
یا اپنے ہاں ان کا درجہ بلند کرے
21
اَوْ تُعْطِیْهِمْ بِهٖ خَیْرًا مِّنْ خَیْرِ الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ
22
یا دنیا و آخرت کی بھلائی میں سے کوئی بھلائی انہیں عطا کرے
22
اَنْ تُوَفِّرَ حَظِّیْ وَنَصِیْبِیْ مِنْهُ۔
23
تو اس میں میرا حصہ و نصیب فراواں کر۔
23
وَاَسْئَلُكَ اللّٰهُمَّ بِاَنَّ لَكَ الْمُلْكَ وَالْحَمْدَ
24
اے اللہ! تیرے ہی لیے جہاں داری اور تیرے ہی لیے حمد و ستائش ہے
24
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
25
اور کوئی معبود نہیں تیرے سوا
25
اَنْ تُصَلِّیَ عَلٰى مُحَمَّدٍ عَبْدِكَ وَّرَسُوْلِكَ
26
لہٰذا میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو رحمت نازل فرما محمدؐ پر، اپنے عبد، رسول
26
وَحَبِیْبِكَ وَصِفْوَتِكَ وَخِیَرَتِكَ مِنْ خَلْقِكَ
27
حبیب، منتخب اور بر گزیدۂ خلائق
27
وَعَلٰۤى اٰلِ مُحَمَّدٍ الْاَبْرَارِ
28
اور ان کے اہل بیت علیہم السلام پر جو نیکو کار،
28
الطَّاهِرِیْنَ الْاَخْیَارِ
29
پاک و پاکیزہ اور بہترین خلق ہیں
29
صَلَاةً لَّا یَقْوٰى عَلٰۤى اِحْصَآئِهَاۤ اِلَّاۤ اَنْتَ
30
ایسی رحمت جس کے شمار پر تیرے علاوہ کوئی قادر نہ ہو
30
وَاَنْ تُشْرِكَنَا فِیْ صَالِحِ مَّنْ دَعَاكَ
31
اور آج کے دن ہمیں شریک کر دے اس نیک دعا میں
31
فِیْ هٰذَا الْیَوْمِ مِنْ عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِیْنَ
32
جو تیرے ایمان لانے والے بندوں میں سے جو بھی تجھ سے مانگے
32
یَا رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ
33
اے تمام جہانوں کے پروردگار
33
وَاَنْ تَغْفِرَ لَنا وَلَهُمْ
34
اور ہمیں اور ان سب کو بخش دے
34
اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۔
35
اس لیے کہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔
35
اَللّٰهُمَّ اِلَیْكَ تَعَمَّدْتُّ بِحَاجَتِیْ
36
اے اللہ! میں اپنی حاجتیں تیری طرف لایا ہوں
36
وَبِكَ اَنْزَلْتُ الْیَوْمَ فَقْرِیْ وَفَاقَتِیْ وَمَسْكَنَتِیْ
37
اور اپنے فقر و فاقہ و احتیاج کا بارگراں تیرے در پر لا اتارا ہے
37
وَاِنِّیْ بِمَغْفِرَتِكَ وَرَحْمَتِكَ اَوْثَقُ مِنِّیْ بِعَمَلِیْ
38
اور میں اپنے عمل سے کہیں زیادہ تیری آمرزش و رحمت پر مطمئن ہوں
38
وَلَمَغْفِرَتُكَ وَرَحْمَتُكَ اَوْسَعُ مِنْ ذُنُوْبِیْ
39
اور بے شک تیری مغفرت و رحمت کا دامن میرے گناہوں سے کہیں زیادہ وسیع ہے
39
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ
40
لہٰذا تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
40
وَتَوَلَّ قَضَآءَ كُلِّ حَاجَةٍ هِیَ لِیْ بِقُدْرَتِكَ عَلَیْهَا
41
اور میری ہر حاجت تو ہی بر لا، اپنی اس قدرت کی بدولت جو تجھے اس پر حاصل ہے
41
وَتَیْسِیْرِ ذٰلِكَ عَلَیْكَ
42
اور یہ تیرے لیے سہل و آسان ہے
42
وَبِفَقْرِیْۤ اِلَیْكَ وَغِنَاكَ عَنِّیْ
43
اور اس لیے کہ میں تیرا محتاج اور تو مجھ سے بے نیاز ہے
43
فَاِنِّیْ لَمْ اُصِبْ خَیْرًا قَطُّ اِلَّا مِنْكَ
44
اور اس لیے کہ میں کسی بھلائی کو حاصل نہیں کر سکا مگر تیری جانب سے
44
وَلَمْ یَصْرِفْ عَنِّیْ سُوْٓءًا قَطُّ اَحَدٌ غَیْرُكَ
45
اور تیرے سوا کوئی مجھ سے دکھ درد دور نہیں کر سکا
45
وَلَاۤ اَرْجُوْ لِاَمْرِ اٰخِرَتِیْ وَدُنْیَایَ سِوَاكَ۔
46
اور میں دنیا و آخرت کے کاموں میں تیرے علاوہ کسی سے امید نہیں رکھتا۔
46
اَللّٰهُمَّ مَنْ تَهَیَّاَ وَتَعَبَّاَ وَاَعَدَّ وَاسْتَعَدَّ
47
اے اللہ! جو کوئی کمر بستہ و آمادہ اور تیار و مستعد ہو
47
لِوِفَادَةٍ اِلٰى مَخْلُوْقٍ
48
کسی مخلوق کے پاس جانے کیلئے
48
رَجَآءَ رِفْدِهٖ وَنَوَافِلِهٖ
49
صلہ و عطا کی امید لے کر
49
وَطَلَبَ نَیْلِهٖ وَجَآئِزَتِهٖ
50
اور بخشش و انعام کی خواہش لے کر
50
فَاِلَیْكَ یَا مَوْلَایَ كَانَتِ الْیَوْمَ تَهْیِئَتِیْ
51
تو اے میرے مولا و آقا! آج کے دن میری آمادگی
51
وَتَعْبِئَتِیْ وَاِعْدَادِیْ وَاسْتِعْدَادِیْ
52
اور تیاری اور سر و سامان کی فراہمی و مستعدی
52
رَجَآءَ عَفْوِكَ وَرِفْدِكَ
53
تیرے عفو و عطا کی امید
53
وَطَلَبَ نَیْلِكَ وَجَآئِزَتِكَ۔
54
اور بخشش و انعام کی طلب کیلئے ہے۔
54
اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ
55
لہٰذا اے میرے معبود! تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
55
وَلَا تُخَیِّبِ الْیَوْمَ ذٰلِكَ مِنْ رَّجَآئِیْ
56
اور آج کے دن میری امیدوں میں مجھے ناکام نہ کر
56
یَا مَنْ لَّا یُحْفِیْهِ سَآئِلٌ
57
اے وہ جو مانگنے والے کے ہاتھوں تنگ نہیں ہوتا
57
وَلَا یَنْقُصُهٗ نَآئِلٌ
58
اور نہ بخشش و عطا سے جس کے ہاں کمی ہوتی ہے
58
فَاِنِّیْ لَمْ اٰتِكَ ثِقَةً مِّنِّیْ بِعَمَلٍ صَالِحٍ قَدَّمْتُهٗ
59
میں اپنے کسی عمل خیر پر، جسے آگے بھیجا ہو، اطمینان کرتے ہوئے تیری بارگاہ میں حاضر نہیں ہوا
59
وَلَا شَفَاعَةِ مَخْلُوْقٍ رَّجَوْتُهٗ
60
اور نہ کسی مخلوق کی سفارش پر جس کی امید رکھی ہو
60
اِلَّا شَفَاعَةَ مُحَمَّدٍ وَّاَهْلِ بَیْتِهٖ، عَلَیْهِ وَعَلَیْهِمْ سَلَامُكَ
61
اور سوائے محمدؐ اور ان کے اہل بیت علیہم السلام کی شفاعت کے
61
اَتَیْتُكَ مُقِرًّا بِالْجُرْمِ
62
میں تو تیرے پاس حاضر ہوا ہوں اپنے گناہ کے اقرار کے ساتھ
62
وَالْاِسَآءَةِ اِلٰى نَفْسِیْ
63
اور اپنے حق میں برائی کا اقرار کرتے ہوئے
63
اَتَیْتُكَ اَرْجُوْ عَظِیْمَ عَفْوِكَ
64
درآنحالیکہ میں تیرے اس عفو عظیم کا امیدوار ہوں
64
الَّذِیْ عَفَوْتَ بِهٖ عَنِ الْخَاطِئِیْنَ
65
جس کے ذریعہ تو نے خطاکاروں کو بخش دیا
65
ثُمَّ لَمْ یَمْنَعْكَ طُوْلُ عُكُوْفِهِمْ عَلٰى عَظِیْمِ الْجُرْمِ
66
پھر یہ کہ ان کا بڑے بڑے گناہوں پر عرصہ تک جمے رہنا مانع نہ ہوا
66
اَنْ عُدْتَّ عَلَیْهِمْ بِالرَّحْمَةِ وَالْمَغْفِرَةِ۔
67
تجھے ان پر مغفرت و رحمت کی احسان فرمائی سے۔
67
فَیَا مَنْ رَّحْمَتُهٗ وَاسِعَةٌ
68
اور عفو و بخشش عظیم ہے!
69
یَا عَظِیْمُ یَا عَظِیْمُ
70
یَا كَرِیْمُ یَا كَرِیْمُ
71
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ
72
محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
72
وَعُدْ عَلَیَّ بِرَحْمَتِكَ
73
اور اپنی رحمت سے مجھ پر احسان فرما
73
وَتَعَطَّفْ عَلَیَّ بِفَضْلِكَ
74
اور اپنے فضل و کرم کے ذریعہ مجھ پر مہربانی فرما
74
وَتَوَسَّعْ عَلَیَّ بِمَغْفِرَتِكَ۔
75
اور میرے حق میں اپنے دامن مغفرت کو وسیع کر۔
75
اَللّٰهُمَّ اِنَّ هٰذَا الْمَقَامَ
76
بار الٰہا! یہ مقام (خطبہ و امامت نماز جمعہ)
76
لِخُلَفَآئِكَ وَاَصْفِیَآئِكَ
77
تیرے جانشینوں اور برگزیدہ بندوں کیلئے تھا
77
وَمَوَاضِعَ اُمَنَآئِكَ
78
اور تیرے امانتداروں کا محل تھا
78
فِی الدَّرَجَةِ الرَّفِیْعَةِ الَّتِی اخْتَصَصْتَهُمْ بِهَا
79
درآنحالیکہ تو نے اس بلند منصب کے ساتھ انہیں مخصوص کیا تھا
79
(غصب کرنے والوں نے) اسے چھین لیا
80
وَاَنْتَ الْمُقَدِّرُ لِذٰلِكَ
81
اور تو ہی روز ازل سے اس چیز کا مقدر کرنے والا ہے
81
لَا یُغَالَبُ اَمْرُكَ
82
نہ تیرا امر و فرمان مغلوب ہو سکتا ہے
82
وَلَا یُجَاوَزُ الْمَحْتُوْمُ مِنْ تَدْبِیْرِكَ
83
اور نہ تیری قطعی تدبیر (قضا و قدر) سے تجاوز ممکن ہے
83
كَیْفَ شِئْتَ وَاَنّٰى شِئْتَ
84
جس طرح تو نے چاہا ہو اور جس وقت چاہا ہو
84
وَلِمَاۤ اَنْتَ اَعْلَمُ بِهٖ
85
اس مصلحت کی وجہ سے جسے تو ہی بہتر جانتا ہے
85
غَیْرُ مُتَّهَمٍ عَلٰى خَلْقِكَ وَلَا لِاِرَادَتِكَ
86
بہرحال تیری تقدیر اور تیرے ارادہ و مشیت کی نسبت تجھ پر الزام عائد نہیں ہو سکتا
86
حَتّٰى عَادَ صِفْوَتُكَ وَخُلَفَآؤُكَ
87
یہاں تک کہ (اس غصب کے نتیجہ میں) تیرے برگزیدہ اور جانشین
87
مَغْلُوْبِیْنَ مَقْهُوْرِینَ مُبْتَزِّیْنَ
88
مغلوب و مقہور ہو گئے اور ان کا حق ان کے ہاتھ سے جاتا رہا
88
یَرَوْنَ حُكْمَكَ مُبَدَّلًا
89
وہ دیکھ رہے ہیں کہ تیرے احکام بدل دیئے گئے
89
وَكِتَابَكَ مَنبُوْذًا
90
تیری کتاب پس پشت ڈال دی گئی
90
وَفَرَآئِضَكَ مُحَرَّفَةً عَنْ جِهَاتِ اَشْرَاعِكَ
91
تیرے فرائض و واجبات تیرے واضح مقاصد سے ہٹا دیئے گئے
91
وَسُنَنَ نَبِیِّكَ مَتْرُوْكَةً۔
92
اور تیرے نبیؐ کے طور و طریقے متروک ہو گئے۔
92
اَللّٰهُمَّ الْعَنْ اَعْدَآءَهُمْ مِنَ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ
93
بار الٰہا! تو لعنت فرما ان برگزیدہ بندوں کے اگلے اور پچھلے دشمنوں پر
93
وَمَنْ رَّضِیَ بِفِعَالِهِمْ
94
اور ان پر جو ان دشمنوں کے عمل و کردار پر راضی و خوشنود ہوں
94
وَاَشْیَاعَهُمْ وَاَتْبَاعَهُمْ۔
95
اور جو ان کے تابع اور پیروکار ہوں۔
95
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ
96
اے اللہ! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر ایسی رحمت نازل فرما
96
اِنَّكَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ
97
بیشک تو قابل حمد و ثنا بزرگی والا ہے
97
كَصَلَوَاتِكَ وَبَرَكَاتِكَ وَتَحِیَّاتِكَ
98
جیسی رحمتیں برکتیں اور سلام
98
عَلٰۤى اَصْفِیَآئِكَ اِبْرَاهِیْمَ وَاٰلِ اِبْرَاهِیْمَ
99
تو نے اپنے منتخب و برگزیدہ ابراہیمؑ اور آل ابراہیمؑ پر نازل کئے ہیں
99
وَعَجِّلِ الْفَرَجَ وَالرَّوْحَ
100
اور ان کیلئے تعجیل فرما کشائش، راحت،
100
وَالنُّصْرَةَ وَالتَّمْكِیْنَ وَالتَّاْیِیْدَ لَهُمْ۔
101
نصرت، غلبہ اور تائید میں۔
101
اَللّٰهُمَّ وَاجْعَلْنِیْ مِنْ اَهْلِ التَّوْحِیْدِ
102
بار الٰہا! مجھے قرار دے توحید کا عقیدہ رکھنے والوں
102
وَالْاِیْمَانِ بِكَ، وَالتَّصْدِیْقِ بِرَسُوْلِكَ
103
تجھ پر ایمان لانے والوں، اور تیرے رسولؐ تصدیق کرنے والوں میں سے
103
وَالْاَئِمَّةِ الَّذِیْنَ حَتَمْتَ طَاعَتَهُمْ
104
اور ان آئمہ ؑکی جن کی اطاعت کو تو نے واجب کیا ہے
104
مِمَّنْ یَّجْرِیْ ذٰلِكَ بِهٖ وَعَلٰى یَدَیْهِ
105
ان لوگوں میں سے جن کے وسیلہ اور جن کے ہاتھوں سے (توحید، ایمان اور تصدیق) یہ سب چیزیں جاری کرے
105
اٰمِیْنَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ۔
106
میری دعا کو قبول فرما اے تمام جہانوں کے پروردگار!
106
اَللّٰهُمَّ لَیْسَ یَرُدُّ غَضَبَكَ اِلَّا حِلْمُكَ
107
بار الٰہا! تیرے حلم کے سوا کوئی چیز تیرے غضب کو ٹال نہیں سکتی
107
وَلَا یَرُدُّ سَخَطَكَ اِلَّا عَفْوُكَ
108
اور تیرے عفو و درگزر کے سوا کوئی چیز تیری ناراضگی کو پلٹا نہیں سکتی
108
وَلَا یُجِیْرُ مِنْ عِقَابِكَ اِلَّا رَحْمَتُكَ
109
اور تیری رحمت کے سوا کوئی چیز تیرے عذاب سے پناہ نہیں دے سکتی
109
وَلَا یُنْجِیْنِیْ مِنْكَ اِلَّا التَّضَرُّعُ اِلَیْكَ وَبَیْنَ یَدَیْكَ
110
اور تیری بارگاہ میں گڑگڑاہٹ کے علاوہ کوئی چیز تجھ سے رہائی نہیں دے سکتی
110
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ
111
لہٰذا تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
111
وَهَبْ لَنا یَاۤ اِلٰهِیْ مِنْ لَّدُنْكَ فَرَجًا
112
اور مجھے اپنی جانب سے غم اندوہ سے چھٹکارا دے
112
بِالْقُدْرَةِ الَّتِیْ بِهَا تُحْیِیْۤ اَمْوَاتَ الْعِبَادِ
113
اپنی اس قدرت سے جس سے تو مُردوں کو زندہ
113
وَبِهَا تَنْشُرُ مَیْتَ الْبِلَادِ
114
اور بنجر زمینوں کو شاداب کرتا ہے
114
وَلَا تُهْلِكْنِیْ یَاۤ اِلٰهِیْ غَمًّا
115
بار الٰہا! مجھے غم و اندوہ سے ہلاک نہ کرنا
115
حَتّٰى تَسْتَجِیْبَ لِیْ
116
جب تک تو میری دعا قبول نہ فرمائے
116
وَتُعَرِّفَنِی الْاِجَابَةَ فِیْ دُعَآئِیْ
117
اور اس کی قبولیت سے آگاہ نہ کر دے
117
وَاَذِقْنِیْ طَعْمَ الْعَافِیَةِ اِلٰى مُنْتَهٰۤى اَجَلِیْ
118
اور زندگی کے آخری لمحوں تک مجھے صحت و عافیت کی لذت سے شاد کام رکھنا
118
وَلَا تُشْمِتْ بِیْ عَدُوِّیْ
119
اور دشمنوں کو موقعہ نہ دینا (میری حالت پر) خوش ہونے
119
وَلَا تُمَكِّنْهُ مِنْ عُنُقِیْ
120
اور میری گردن پر سوار ہونے
120
وَلَا تُسَلِّطْهُ عَلَیَّ۔
121
اور مجھ پر مسلط ہونے کا۔
121
اِلٰهِیْۤ اِنْ رَّفَعْتَنِیْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَضَعُنِیْ
122
بار الٰہا! اگر تو مجھے بلند کرے تو کون پست کر سکتا ہے؟
122
وَاِنْ وَضَعْتَنِیْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَرْفَعُنِیْ
123
اور تو پست کرے تو کون بلند کر سکتا ہے؟
123
وَاِنْ اَكْرَمْتَنِیْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یُهِیْنُنِیْ
124
اور تو عزّت بخشے تو کون ذلیل کر سکتا ہے؟
124
وَاِنْ اَهَنْتَنِیْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یُكْرِمُنِیْ
125
اور تو ذلیل کرے تو کون عزّت دے سکتا ہے؟
125
وَاِنْ عَذَّبْتَنِیْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَرْحَمُنِیْ
126
اور تو مجھ پر عذاب کرے تو کون مجھ پر ترس کھا سکتا ہے؟
126
وَاِنْ اَهْلَكْتَنِیْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْرِضُ لَكَ فِیْ عَبْدِكَ
127
اور اگر تو ہلاک کرے تو کون تیرے بندے کے بارے میں تجھ پر معترض ہو سکتا ہے
127
اَوْ یَسْئَلُكَ عَنْ اَمْرِهٖ۔
128
یا اس کے متعلق تجھ سے کچھ پوچھ سکتا ہے؟
128
وَقَدْ عَلِمْتُ اَنَّهٗ لَیْسَ فِیْ حُكْمِكَ ظُلْمٌ
129
اور مجھے خوب علم ہے کہ تیرے فیصلہ میں نہ ظلم کا شائبہ ہوتا ہے
129
وَلَا فِیْ نَقِمَتِكَ عَجَلَةٌ
130
اور نہ سزا دینے میں جلدی ہوتی ہے
130
وَاِنَّمَا یَعْجَلُ مَنْ یَّخَافُ الْفَوْتَ
131
جلدی تو وہ کرتا ہے جسے موقع کے ہاتھ سے نکل جانے کا اندیشہ ہو
131
وَاِنَّمَا یَحْتَاجُ اِلَى الظُّلْمِ الضَّعِیْفُ
132
اور ظلم کی اسے حاجت ہوتی ہے جو کمزور و ناتواں ہو
132
وَقَدْ تَعَالَیْتَ یَاۤ اِلٰهِیْ عَنْ ذٰلِكَ عُلُوًّا كَبِیْرًا۔
133
اور تو اے میرے معبود ! ان چیزوں سے بہت بلند و بر تر ہے۔
133
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ
134
اے اللہ! تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
134
وَلَا تَجْعَلْنِیْ لِلْبَلَآءِ غَرَضًا
135
اور مجھے بلاؤں کا نشانہ
135
وَلَا لِنَقِمَتِكَ نَصَبًا
136
اور اپنی عقوبتوں کا ہدف نہ قرار دے
136
وَمَهِّلْنِیْ، وَنَفِّسْنِیْ
137
مجھے مہلت دے اور میرے رنج و غم کو دور کر
137
وَاَقِلْنِیْ عَثْرَتِیْ
138
میری لغزشوں کو معاف کر دے
138
وَلَا تَبْتَلِیَنِّیْ بِبَلَآءٍ عَلٰۤى اَثَرِ بَلَآءٍ
139
اور مجھے ایک مصیبت کے بعد دوسری مصیبت میں مبتلا نہ کر
139
فَقَدْ تَرٰى ضَعْفِیْ
140
کیونکہ تو دیکھ رہا ہے میری ناتوانی کو،
140
وَقِلَّةَ حِیْلَتِیْ وَتَضَرُّعِیْ اِلَیْكَ۔
141
میری بے چارگی اور اپنے حضور میری گڑگڑاہٹ کو۔
141
اَعُوْذُ بِكَ اللّٰهُمَّ الْیَوْمَ مِنْ غَضَبِكَ
142
بار الٰہا ! میں آج کے دن تیرے غضب سے تیرے ہی دامن میں پناہ مانگتا ہوں
142
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ وَاَعِذْنِیْ۔
143
تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے پناہ دے۔
143
وَاَسْتَجِیْرُ بِكَ الْیَوْمَ مِنْ سَخَطِكَ
144
اور میں آج کے دن تیری ناراضگی سے امان چاہتا ہوں
144
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ وَاَجِرْنِیْ۔
145
تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما اور مجھے امان دے۔
145
وَاَسْئَلُكَ اَمْنًا مِّنْ عَذَابِكَ
146
اور تیرے عذاب سے امن کا طلبگار ہوں
146
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ وَاٰمِنِّیْ۔
147
تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور مجھے (عذاب سے ) مطمئن کر دے۔
147
اور تجھ سے ہدایت کا خواستگار ہوں
148
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ وَاهْدِنِیْ۔
149
تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور مجھے ہدایت فرما۔
149
اور تجھ سے مدد چاہتا ہوں
150
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ وَانْصُرْنِیْ۔
151
تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور میری مدد فرما۔
151
اور تجھ سے رحم کی درخواست کرتا ہوں
152
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ وَارْحَمْنِیْ۔
153
تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور مجھ پر رحم کر۔
153
اور تجھ سے بے نیازی کا سوال کرتا ہوں
154
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ وَاكْفِنِیْ۔
155
تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور مجھے بے نیاز کر دے۔
155
اور تجھ سے روزی کا سوال کرتا ہوں
156
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ وَارْزُقْنِیْ۔
157
تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور مجھے روزی دے۔
157
اور تجھ سے کمک کا طالب ہوں
158
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ وَاَعِنِّیْ۔
159
تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور میری کمک فرما۔
159
وَاَسْتَغْفِرُكَ لِمَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوْبِیْ
160
اور گزشتہ گناہوں کی آمرزش کا خواستگار ہوں
160
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ وَاغْفِرْ لِیْ۔
161
تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آل ؑپر اور مجھے بخش دے۔
161
اور تجھ سے (گناہوں کے بارے میں) بچاؤ کا خواہاں ہوں
162
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ وَاعْصِمْنِیْ
163
تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر اور مجھے (گناہوں سے) بچائے رکھ۔
163
فَاِنِّیْ لَنْ اَعُوْدَ لِشَیْءٍ كَرِهْتَهٗ مِنِّیْۤ
164
اس لیے کہ کسی ایسے کام کا جسے تو مجھ سے ناپسند کرتا ہو مرتکب نہ ہوں گا
164
اگر تیری مشیت شامل حال رہی تو۔
165
اے میرے پروردگار! اے میرے پروردگار!
166
یَا حَنَّانُ یَا مَنَّانُ
167
اے مہربان! اے نعمتوں کے بخشنے والے!
167
یَا ذَا الْجَلَالِ وَالْاِكْرَامِ
168
اے جلالت و بزرگی کے مالک!
168
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
169
تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی آلؑ پر
169
وَاسْتَجِبْ لِیْ جَمِیْعَ مَا سَئَلْتُكَ
170
اور جاری کر دے جو کچھ میں نے مانگا
170
اور جو کچھ طلب کیا ہے
171
وَرَغِبْتُ فِیْهِ اِلَیْكَ
172
اور جن چیزوں کے حصول کیلئے تیری بارگاہ کا رخ کیا ہے
172
وَاَرِدْهُ وَقَدِّرْهُ وَاقْضِهٖ وَاَمْضِهٖ
173
ان سے اپنا ارادہ، حکم اور فیصلہ متعلق کر
173
وَخِرْ لِیْ فِیْمَا تَقْضِیْ مِنْهُ
174
اور جو بھی فیصلہ کرے اس میں میرے لیے بھلائی قرار دے
174
وَبَارِكْ لِیْ فِیْ ذٰلِكَ
175
اور مجھے اس میں برکت عطا کر
175
وَتَفَضَّلْ عَلَیَّ بِهٖ
176
اور اس کے ذریعہ مجھ پر احسان فرما
176
وَاَسْعِدْنِیْ بِمَا تُعْطِیْنِیْ مِنْهُ
177
اور جو عطا فرمائے اس کے وسیلہ سے مجھے خوش بخت بنا دے
177
وَزِدْنِیْ مِنْ فَضْلِكَ وَسَعَةِ مَا عِنْدَكَ
178
اور میرے لیے اپنے فضل و کشائش کو جو تیرے پاس ہے زیادہ کر دے
178
فَاِنَّكَ وَاسِعٌ كَرِیْمٌ
179
اس لیے کہ تو تونگر و کریم ہے
179
وَصِلْ ذٰلِكَ بِخَیْرِ الْاٰخِرَةِ وَنَعِیْمِهَا
180
اور اس کا سلسلہ آخرت کی خیر و نیکی اور وہاں کی نعمت فراواں سے ملا دے
180
یَاۤ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔
181
اے تمام رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والے۔
181
حضرت یہ دعا روز جمعہ اور عید الاضحیٰ کے موقعہ پر پڑھتے تھے۔ ”روز جمعہ“ کو ”جمعہ“ اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس دن مسلمان نماز کیلئے ایک مقام پر مجتمع ہوتے ہیں۔ اور ”اضحی“، اضحاة کی جمع ہے۔ اور ”اضحاة“ اس بکری، دنبہ بھیڑ وغیرہ کو کہتے ہیں جو حج کے موقع پر ذبح کی جاتی ہے۔ اس ذبح کی بنیاد اس طرح پڑی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خواب کے ذریعہ اپنے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ذبح پر مامور ہوئے تو وہ اپنی تمناؤں کے مرکز اور دعاؤں کے حاصل کو خود اپنے ہاتھوں سے ذبح کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کو کہ جن کا سن اس وقت صرف تیرہ سال کا تھا بلا کر کہا کہ اے فرزند! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں تمہاری کیا رائے ہے؟ انہوں نے جواب دیا يٰٓاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ۔ سَتَجِدُنِيْٓ اِنْ شَآءَ اللہُ مِنَ الصّٰبِرِيْنَ ”بابا آپؑ کو جو حکم ہوا ہے اس کو بجا لائیے، آپؑ ان شاء اللہ مجھے ثابت قدم پائیں گے“ ۱۔ جب اسماعیل علیہ السلام کو بھی آمادہ پایا تو رسی اور چھری لے کر قربان گاہِ محبت پر اپنی متاع عزیز کی قربانی کیلئے آ گئے اور اسماعیل علیہ السلام کو ذبح کرنے کیلئے زمین پر لٹا دیا۔ کیا بعید ہے کہ اس موقع پر آسمان کانپا اور زمین تھرائی ہو، مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نہ ہاتھ کانپا اور نہ دل دھڑکا، بلکہ بڑے اطمینان سے اپنے جگر گوشہ کے حلقوم پر چھری رکھ دی اور قریب تھا کہ اسماعیل ذبح ہو جاتے کہ قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْيَا ”تم نے خواب کو سچ کر دکھایا“ ۲، کی آواز نے اسماعیل کو بچا لیا اور ان کے بجائے دنبہ ذبح ہو گیا اور اسماعیل علیہ السلام ”ذبیح اللہ“ بن کر اٹھ کھڑے ہوئے۔ یہ عید الاضحیٰ اسی واقعہ کی یاد کو تازہ رکھنے کیلئے ہے۔ چنانچہ اس دن گائے، بکری، دنبہ وغیرہ کی قربانی دے کر اس قربانی کی یاد کو قائم کیا جاتا ہے۔
۱۔ نماز جمعہ اور نماز عیدین کی امامت آئمۂ اہل بیت علیہم السلام سے مخصوص ہے اور ان کی موجودگی میں کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ وظائف امامت سر انجام دے۔ چنانچہ عبداللہ ابن دینار نے امام باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ آپؑ نے فرمایا:
اے عبد اللہ! مسلمانوں کی عید الاضحیٰ ہو یا عید الفطر اس میں آل محمد علیہم السلام کا غم و حزن تازہ ہو جاتا ہے۔ (عبد اللہ کہتے ہیں کہ) میں نے عرض کیا کہ یہ کس لیے؟ فرمایا اس لیے کہ وہ اپنے حق کو اغیار کے ہاتھوں میں دیکھتے ہیں۔ ۳
اسی طرح نماز جمعہ کی امامت کا حق بھی امامؑ یا اس شخص کے علاوہ جسے امامؑ مامور فرمائے کسی دوسرے کو نہیں پہنچتا۔ البتہ زمانۂ غیبت میں جب کہ امام علیہ السلام تک دسترس نہیں ہے، نماز جمعہ واجب تخییری ہے۔ یعنی چاہے نماز جمعہ پڑھے چاہے نماز ظہر، لیکن نماز جمعہ افضل ہے۔ اور نماز عید مستحب ہے، خواہ جماعت سے ہو یا فرادیٰ۔ اس لیے کہ نماز عید کے ساتھ کوئی اور فرد نہیں ہے کہ واجب تخییری صورت پذیر ہو سکے، بخلاف نماز جمعہ کے کہ اس کے ساتھ دوسری فرد ظہر موجود ہے۔ مقصد یہ ہے کہ نماز جمعہ اور نماز عیدین کے شرائطِ وجوب میں سے ایک شرط حضور امامؑ بھی ہے اور درصورتیکہ یہ شرط نہ پائی جائے تو وجوب باقی نہ رہے گا۔ اس لیے علماء نماز عیدین کے استحباب کے قائل ہیں، لیکن جمعہ میں استحباب کے قائل اس لیے نہیں ہیں کہ جمعہ ظہر کے قائم مقام ہوتا ہے جس سے نماز ظہر ساقط ہو جاتی ہے اور واجب کا بدل مستحب نہیں ہو سکتا اور نہ دونوں کو بہ نیت وجوب جمع کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے ان دونوں میں سے ایک کو بہ نیت وجوب بجا لانا کافی ہے۔ البتہ اس اعتبار سے جمعہ کو مستحب کہا جا سکتا ہے کہ یہ اپنی دوسری فرد ظہر کے مقابلہ میں افضل ہے۔
۲۔ خلافت و امامت کے صحیح ورثہ دار آئمہ اہل بیت علیہم السلام ہیں۔ کیونکہ امامت کے شرائط میں سے افضلیت، عصمت اور منصوص ہونا ہے اور یہ شرائط ان کے علاوہ کسی ایک میں نہیں پائے جاتے۔ چنانچہ اس سلسلہ کی فرد اول حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو پیغمبر اکرمؐ نے مَنْ کُنْتُ مَوْلَاهُ فَھٰذَا عَلِیٌّ مَّوْلَاہُ کے اعلان سے اپنا جانشین مقرر کیا اور خلافت کیلئے نامزد فرمایا۔ مگر ہوا یہ کہ اس کے مقابلہ میں سقیفۂ بنی ساعدہ میں جمہوریت کے نام پر خلیفة المسلمین منتخب کر لیا گیا۔ لیکن جس جمہوریت پر خلافت کی بنیاد رکھی گئی تھی وہ عوام میں جمہوریت کا احساس پیدا نہ کر سکی اور آخر اسے ملوکیت کے سامنے جھکنا پڑا اور قیصری و کسروی طرز کی حکومت دنیائے اسلام پر چھا گئی جس نے اپنے استحکام کیلئے ظلم و تشدد کا سہارا لیا۔ اور اس دور استبدادیت میں آئمۂ اہل بیت علیہم السلام میں سے کچھ حق کی خاطر قتل کئے گئے، کچھ زہر سے مارے گئے، کچھ قید و بند میں ڈالے گئے اور ہر دور میں قہرمانی طاقتوں کا نشانہ بنتے رہے، مگر حق کی خاموش تبلیغ جو اِن کا فریضۂ منصبی تھا انجام دیتے رہے اور یہ اسی خاموش تبلیغ کا نتیجہ ہے کہ اسلام کے نقوش صفحۂ ہستی سے محو نہ ہو سکے، ورنہ کون سی کوشش تھی جو اسلام کے خد و خال کے بگاڑنے میں اٹھا نہ رکھی ہو۔
۳۔ پیغمبر اکرمؐ کے بعد شریعت کے نقش و نگار کو بگاڑ کر خود ساختہ شریعت کو کھڑا کر دیا گیا۔ خدا کی کتاب اور رسولؐ کی سنت پس پشت ڈال دی گئی اور فرائض و واجبات ناقابل عمل قرار پا گئے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں ہے
ام درداء کہتی ہیں کہ ابوالدرداء غصہ میں بھرے ہوئے میرے پاس آئے۔ میں نے کہا کہ یہ غصہ کس بنا پر ہے؟ کہا کہ خدا کی قسم! محمدؐ کی شریعت میں سے کوئی چیز باقی نہیں رہ گئی، سوا اس کے کہ لوگ ایک ساتھ نماز پڑھ لیتے ہیں۔ ۴
انس سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں زمانۂ رسالت کی ایک چیز کو بھی اس کی اصلی حالت پر نہیں پاتا۔ ان سے کہا گیا کہ نماز؟ کہا کہ نماز میں کیا تم نے وہ تصرفات نہیں کئے کہ جو تمہیں معلوم ہیں کہ کئے ہیں۔ ۵
یہ ہے اعیان صحابہ میں سے حضرت ابوالدرداء اور انس بن مالک کی گواہی کہ پیغمبر اکرمؐ کے بعد شریعت میں ترمیم و تنسیخ شروع ہو گئی اور کوئی چیز اپنی اصلی صورت پر باقی نہ رہی، یہاں تک کہ نماز بھی تصرفات سے محفوظ نہ رہ سکی اور اس میں بھی تغیر و تبدل پیدا کر دیا گیا۔ یہ اجمال بہت سے تفصیلات کا آئینہ دار ہے۔
۴۔ ان لوگوں پر جو مستحق لعنت ہیں لعنت کرنا نہ صرف جائز بلکہ مستحب ہے اور اس کا استحباب عید الاضحیٰ کے مبارک موقعہ پر عمل امام علیہ السلام سے ظاہر ہے اور اس کے جواز کیلئے قرآن و حدیث کو بھی پیش کیا جا سکتا ہے جس سے یہ بھی ظاہر ہو جائے گا کہ لعنت دشنام نہیں ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:
وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کو ایذا پہنچاتے ہیں ان پر خدا دنیا و آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کیلئے رسوا کرنے والا عذاب مہیا کیا ہے۔۶
اسی طرح احادیث نبویؐ میں صفات کے اعتبار سے بھی لعنت وارد ہوئی ہے جیسے رشوت خوار، سود خوار، شراب خوار وغیرہ پر اور نام کے ساتھ بھی لعنت وارد ہوئی ہے۔ چنانچہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں: وَلٰكِنْ رَّسُوْلُ اللّٰہِ لَعَنَ اَبَا مَرْوَانَ وَمَرْوَانُ فِیْ صُلْبِهٖ، فَمَرْوَانُ بَعْضُ مَنْ لَّعَنَهُ اللهُ۔ رسول اللہؐ نے مروان کے باپ (حَکَم) پر لعنت کی اور مروان اس کی صلب میں تھا اور وہ بھی اللہ کی لعنت میں سے حصہ پا رہا تھا۔ ۷
۵۔ آئمۂ اہل بیت علیہم السلام کی اطاعت واجب و لازم ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے: اَطِيْعُوا اللہَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ
”اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور جو تم میں سے صاحبان امر ہوں“ ۹۔ اولی الامر وہی ہو سکتے ہیں جو پیغمبرؐ کے نمائندے اور ان کے قائم مقام ہوں تاکہ ان کی اطاعت پیغمبرؐ کی اطاعت کے ہمدوش قرار پا سکے اور جن کا دامن قرآن کی طرح پاک اور ہر رجس سے منزہ ہو تاکہ ان کی اطاعت میں ان کے دامن کی آلودگی مانع نہ ہو۔ اور پیغمبر اسلامؐ نے حدیث ثقلین اِنِّیْ تَارِكٌ فِيْكُمُ الثَّقَلَيْنِ، كِتَابَ اللّٰهِ وَ عِتْرَتِیْۤ اَهْلَ بَيْتِیْ ”میں تم میں دو گراں قدر چیزیں چھوڑنے جاتا ہوں، ایک قرآن اور دوسرے میری عترت جو میرے اہل بیتؑ ہیں“ میں قرآن کی طرح اہل بیت علیہم السلام کو بھی واجب الاطاعت قرار دیا ہے اور اسی اطاعت سے ہدایت کو وابستہ کیا ہے اور جس اطاعت پر ہدایت منحصر ہو گی اس کے لزوم سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔