(۵۰) وَكَانَ مِنْ دُعَآئِهٖ عَلَیْهِ السَّلَامُ فِی الرَّهْبَةِ۔ خوف خدا کے سلسلہ میں حضرتؑ کی دعا۔
یہ دعا خوف و خشیت الٰہی کے سلسلہ میں ہے۔ جب انسان کو اپنی عبودیت کا احساس ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی عظمت و جبروت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا اور اسی تاثر کا نام ”خوف“ ہے جو عبودیت کا جوہر، انسانی عزت کا سرمایہ اور دینی و اخلاقی زندگی کا محافظ ہے۔ کیونکہ انسان کے دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف بسا ہو تو پھر اس کی مطلق العنانی اسے خواہشات نفس کی پیروی سے روک دیتی ہے اور محاسبہ اور اپنے اعمال پر سزا کے مرتب ہونے کے اندیشہ سے گناہوں سے بچ کر رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور اگر خوف کا مظاہرہ کرے مگر خوف اس کی زندگی پر اثر انداز نہ ہو اور نہ اس میں فرض شناسی کا احساس پیدا کرے تو وہ در حقیقت خوف ہی نہیں ہے۔ کیونکہ خوف مشاہدہ میں آنے والی چیز تو ہے نہیں۔ اس کا اندازہ انسانی کردار کے تاثر ہی سے ہو سکتا ہے۔
بہرحال خوف خدا مختلف دواعی و اسباب کی بنا پر پیدا ہوتا ہے۔
٭ کبھی گناہ اور اس کے ہولناک نتائج کے تصور سے خوف طاری ہوتا ہے۔ کیونکہ جب انسان اللہ تعالیٰ کو اپنے اعمال پر حاضر ناظر سمجھے گا اور حشر و نشر پر ایمان رکھے گا تو سزا و محاسبہ کے ڈر سے اس سے خوف کھائے گا، لیکن یہ ڈر اپنی تکلیف و اذیت کے احساس کی بنا پر ہے۔ یہ اگرچہ اس سطح پر نہیں ہے جس سطح پر بلند نظر افراد کا خوف ہوتا ہے، تاہم یہ انسان کیلئے توبہ کا محرک اور اصلاح نفس اور اپنے حالات کی تبدیلی پر آمادہ کرنے کا باعث ہوتا ہے۔
٭ اور کبھی اس تصور کے پیش نظر خوف ہوتا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ توبہ کے بعد پھر خواہشات نفس غالب آ جائیں اور گناہ اس طرح گھیر لیں کہ توبہ کی توفیق ہی نہ ہو اور حشر و نشر اور حساب و کتاب کے موقع پر شرمندگی اٹھانا اور عذاب الٰہی سے دو چار ہونا پڑے۔
٭ اور کبھی خواہشات و جذبات پر پورا قابو ہونے کے باوجود صرف اس کی عظمت و ہیبت کے تصور سے خوف طاری ہوتا ہے۔ چنانچہ جب صلحاء و ابرار اس کی رفعت و کبریائی سے متاثر ہوتے ہیں تو ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں، جسم پر کپکپی اور بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ اس خوف کو ”خشیت و رہبت“ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور یہ نتیجہ ہے علم و معرفت کا۔ چنانچہ خداوند عالم کا ارشاد ہے: اِنَّمَا يَخْشَى اللہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمٰؤُا اللہ سے بس وہی لوگ ڈرتے ہیں جو علم و معرفت رکھتے ہیں ۱۔ اس علم و معرفت کی بنا پر پیغمبر اکرمؐ کا ارشاد ہے اَنَا اَخْشَاكُمْ لِلّٰهِ وَاَتْقَاكُمْ لِلّٰهِ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے خائف و ترساں ہوں ۲۔
٭ کبھی خوف گناہ اور احساس عظمت دونوں قسم کے ملے جلے جذبات کے نتیجہ میں ہوتا ہے اور کبھی صرف قرب خداوندی و لقائے ربانی سے محرومی کے تصور سے ہوتا ہے۔ اس میں نہ سزا کی دہشت کار فرما ہوتی ہے اور نہ حشر و نشر کے خوف کی آمیزش، بلکہ بندہ کسی جزا کی امید اور کسی سزا کے اندیشہ سے بلند تر ہو کر صرف بارگاہ ایزدی سے دوری کے تصور سے گھبراتا اور اس کی نظر التفات کی محرومی سے ہراساں ہوتا ہے۔ چنانچہ امیر المومنین علیہ السلام کا ارشاد ہے
فَهَبْنِیْ يَاۤ اِلٰهِی وَسَيِّدِیْ وَمَوْلَایَ وَرَبِّیْ، صَبَرْتُ عَلٰى عَذَابِكَ، فَكَيْفَ اَصْبِرُ عَلٰى فِرَاقِكَ؟
اے میرے معبود! میرے مالک! میرے مولا! میرے پروردگار! یہ مانا کہ میں نے تیرے عذاب پر صبر کر لیا، مگر تیری دوری و فراق پر کیونکر صبر کروں گا؟ ۳
یہ خوف کا مرتبہ تمام مراتب خوف سے بلند تر اور صدیقین و مقربین بارگاہ سے مخصوص ہے۔
حضرتؑ کی یہ دعا خوف الٰہی کے سلسلہ میں ایک جامع اور تمام اقسام خوف کو شامل ہے جس میں ابتداءً اس کے احسانات اور ہمہ گیر رحمت و غفران کا ذکر کیا ہے۔ پھر اپنے گناہوں کا اقرار، عفو و درگزر کی توقع، سزا و عقوبت کو اس کے عدل کا تقاضا قرار دیتے ہوئے عذاب کے مقابلہ میں اپنی عاجزی و ناطاقتی کا اظہار کیا ہے۔ اس طرح کہ جو دھوپ کی حدت کو برداشت نہ کر سکے وہ دوزخ کے بھڑکتے ہوئے شعلوں کی تپش کو کیسے برداشت کر لے گا اور جو بجلی کی کڑک کی آواز پر دہل جاتا ہو وہ اس کے غیظ و غضب کی دہشت اور اس کی رحمت سے دوری کا کس طرح متحمل ہو سکتا ہے اور آخر میں اس کی شاہی و فرمانروائی کا ذکر کیا ہے کہ اس کی سلطنت و شاہی کو دنیوی حکومتوں پر قیاس نہ کرنا چاہیے۔ کیونکہ دوسرے حکمرانوں کو اپنی حکومت کی بقا کیلئے رعیت کے تعاون اور لشکر و سپاہ کی اعانت کی حاجت ہوتی ہے اور اسے مخالفوں کی مخالفت کی پروا اور ہمنواؤں کی ہمنوائی کی احتیاج نہیں ہے۔ نہ فرمانبرداروں کی فرمانبرداری سے اس کے ملک و سلطنت میں اضافہ ہوتا ہے اور نہ خطاکاروں کی نافرمانی اس پر اثر انداز ہو سکتی ہے کہ وہ فرمانبرداروں کو ساتھ ملائے رکھنے کی کوشش کرے اور نافرمانوں اور مجرموں کو سزا دے کر اپنی حکومت کا استحکام چاہے، کیونکہ اس کی سلطنت غیر مختتم، ملک لازوال اور بادشاہی ہمہ گیر ہے۔ اور یہ اقتدار و غلبہ اسے اپنی قدرت سے حاصل ہے جس میں احتیاج کا شائبہ بھی نہیں ہے۔ اور نہ کوئی اس کا مد مقابل ہے اور نہ کوئی اس سے متصادم ہو سکتا ہے اور ہر متنفس وہ فرمانبردار ہو یا نافرمان اس کے زیر تسلط و اقتدار ہے۔ لہٰذا وہ گنہگاروں سے عفو و درگزر کرکے اپنی رحمت کو کار فرما کرے تو اس کی شان کریمی سے بعید نہیں ہے۔
سورۂ فاطر، آیت ۲۸
ریاض السالکین، ج ۷ ص ۳۷۵
مصباح المتہجد، ج ۲ ص ۸۴۷