یَا اللّٰهُ الَّذِیْ لَا یَخْفٰى عَلَیْهِ شَیْءٌ
1
اے وہ معبود! جس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے
1
فِی الْاَرْضِ وَلَا فِی السَّمآءِ
2
چاہے زمین میں ہو چاہے آسمان میں
2
وَكَیْفَ یَخْفٰى عَلَیْكَ یَاۤ اِلٰهِیْ مَاۤ اَنْتَ خَلَقْتَهٗ
3
اور اے میرے معبود! وہ چیزیں جنہیں تو نے پیدا کیا ہے وہ تجھ سے کیونکر پوشیدہ رہ سکتی ہیں؟
3
وَكَیْفَ لَا تُحْصِیْ مَاۤ اَنْتَ صَنَعْتَهٗ
4
اور جن چیزوں کو تو نے بنایا ہے ان پر کس طرح تیرا علم محیط نہ ہو گا؟
4
اَوْ كَیْفَ یَغِیْبُ عَنْكَ مَاۤ اَنْتَ تُدَبِّرُهٗ
5
اور جن چیزوں کی تو تدبیر و کارسازی کرتا ہے وہ تیری نظروں سے کس طرح اوجھل رہ سکتی ہیں؟
5
اَوْ كَیْفَ یَسْتَطِیْعُ اَنْ یَّهْرُبَ مِنْكَ
6
اور وہ تجھ سے کیونکر راہ گریز اختیار کر سکتا ہے
6
مَنْ لَّا حَیٰوةَ لَهٗ اِلَّا بِرِزْقِكَ
7
جس کی زندگی تیرے رزق سے وابستہ ہو؟
7
اَوْ كَیْفَ یَنْجُوْ مِنْكَ
8
یا وہ کس طرح تجھ سے آزاد ہو سکتا ہے
8
مَنْ لَّا مَذْهَبَ لَهٗ فِیْ غیْرِ مُلْكِكَ۔
9
جسے تیرے ملک کے علاوہ کہیں راستہ نہ ملے؟
9
سُبْحَانَكَ! اَخْشٰى خَلْقِكَ لَكَ اَعْلَمُهُمْ بِكَ
10
پاک ہے تو! جو تجھے زیادہ جاننے والا ہے وہی سب مخلوقات سے زیادہ تجھ سے ڈرنے والا ہے
10
وَاَخْضَعُهُمْ لَكَ اَعْمَلُهُمْ بِطَاعَتِكَ
11
اور جو تیرے سامنے سرافگندہ ہے وہی سب سے زیادہ تیرے فرمان پر کاربند ہے
11
وَاَهْوَنُهُمْ عَلَیْكَ مَنْ اَنْتَ تَرْزُقُهٗ وَهُوَ یَعْبُدُ غَیْرَكَ۔
12
اور تیری نظروں میں سب سے زیادہ ذلیل و خوار وہ ہے جسے تو روزی دیتا ہے اور وہ تیرے علاوہ دوسرے کی پرستش کرتا ہے۔
12
سُبْحَانَكَ! لَا یَنْقُصُ سُلْطَانَكَ
13
پاک ہے تو! وہ تیری سلطنت میں کمی نہیں کر سکتا
13
مَنْ اَشْرَكَ بِكَ وَكَذَّبَ رُسُلَكَ
14
جو تیرا شریک ٹھہرائے اور تیرے رسولوں کو جھٹلائے۔
14
وَلَیْسَ یَسْتَطِیْعُ مَنْ كَرِهَ قَضَآءَكَ اَنْ یَّرُدَّ اَمْرَكَ
15
اور جو تیرے حکم قضا و قدر کو ناپسند کرے وہ تو تیرے فرمان کو پلٹا نہیں سکتا
15
وَلَا یَمْتَنِعُ مِنْكَ مَنْ كَذَّبَ بِقُدْرَتِكَ
16
اور جو تیری قدرت کا انکار کرے وہ تجھ سے اپنا بچاؤ نہیں کر سکتا
16
وَلَا یَفُوْتُكَ مَنْ عَبَدَ غَیْرَكَ
17
اور جو تیرے علاوہ کسی اور کی عبادت کرے وہ تجھ سے بچ نہیں سکتا
17
وَلَا یُعَمَّرُ فِی الدُّنْیَا مَنْ كَرِهَ لِقَآءَكَ۔
18
اور جو تیری ملاقات کو ناگوار سمجھے وہ دنیا میں زندگئ جاوید حاصل نہیں کر لیتا۔
18
سُبْحَانَكَ، مَاۤ اَعْظَمَ شَاْنَكَ
19
پاک ہے تو! تیری شان کتنی عظیم
19
وَاَقْهَرَ سُلْطَانَكَ
20
اور تیرا فرمان کتنا نافذ ہے۔
22
سُبْحَانَكَ، قَضَیْتَ عَلٰى جَمِیْعِ خَلْقِكَ الْمَوْتَ
23
تو پاک و منزہ ہے! تو نے تمام خلق کیلئے موت کا فیصلہ کیا ہے
23
مَنْ وَّحَّدَكَ وَمَنْ كَفَرَ بِكَ
24
کیا کوئی تجھے یکتا جانے اور کیا کوئی تیرا انکار کرے
24
وَكُلٌّ ذَآئِقُ الْمَوْتِ
25
سب ہی موت کی تلخی چکھنے والے
25
وَكُلٌّ صَآئِرٌ اِلَیْكَ
26
اور سب ہی تیری طرف پلٹنے والے ہیں
26
فَتَبَارَكْتَ وَتَعَالَیْتَ
27
تو بابرکت اور بلند و برتر ہے
27
لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
28
کوئی معبود نہیں مگر تو
28
وَحْدَكَ لَا شَرِیْكَ لَكَ
29
تو ایک اکیلا ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں ہے
29
میں تجھ پر ایمان لایا ہوں
30
تیرے رسولوں کی تصدیق کی ہے
31
وَكَفَرْتُ بِكُلِّ مَعْبُوْدٍ غَیْرِكَ
33
تیرے علاوہ ہر معبود کا انکار کیا ہے
33
وَبَرِئْتُ مِمَّنْ عَبَدَ سِوَاكَ۔
34
اور جو تیرے علاوہ دوسرے کی پرستش کرے اس سے بیزاری اختیار کی ہے۔
34
اَللّٰهُمَّ اِنِّیْۤ اُصْبِحُ وَاُمْسِیْ
35
بار الٰہا! میں اس عالم میں صبح و شام کرتا ہوں
35
مُسْتَقِلًّا لِّعَمَلِیْ
36
کہ اپنے اعمال کو کم تصور کرتا
36
اور اپنی خطاؤں کا اقرار کرتا ہوں
38
اَنَا بِاِسْرَافِیْ عَلٰى نَفْسِیْ ذَلِیْلٌ
39
میں اپنے نفس پر ظلم و زیادتی کے باعث ذلیل و خوار ہوں
39
عَمَلِیْۤ اَهْلَكَنِیْ
40
میرے کردار نے مجھے ہلاک
40
اور ہوائے نفس نے تباہ کر دیا ہے
41
وَشَهَوَاتِیْ حَرَمَتْنِیْ۔
42
اور خواہشات نے (نیکی و سعادت سے) بے بہرہ کر دیا ہے۔
42
فَاَسْئَلُكَ یَا مَوْلَایَ
43
اے میرے مالک !میں تجھ سے ایسے شخص کی طرح سوال کرتا ہوں
43
سُؤَالَ مَنْ نَّفْسُهٗ لَاهِیَةٌ لِّطُوْلِ اَمَلِهٖ
44
جس کا نفس طولانی امیدوں کے باعث غافل
44
وَبَدَنُهٗ غَافِلٌ لِّسُكُوْنِ عُرُوْقِهٖ
45
جسم صحت و تن آسانی کی وجہ سے بے خبر
45
وَقَلْبُهٗ مَفْتُوْنٌ بِكَثْرَةِ النِّعَمِ عَلَیْهِ
46
دل نعمت کی فراوانی کے سبب خواہشوں پر وارفتہ
46
وَفِكْرُهٗ قَلِیْلٌ لِّمَا هُوَ صَآئِرٌ اِلَیْهِ
47
اور فکر انجام کار کی نسبت کم ہو
47
سُؤَالَ مَنْ قَدْ غَلَبَ عَلَیْهِ الْاَمَلُ
48
میرا سوال اس شخص کے مانند ہے جس پر آرزوؤں نے غلبہ پا لیا ہو
48
جسے خواہشات نفس نے ورغلایا ہو
49
وَاسْتَمْكَنَتْ مِنْهُ الدُّنْیَا
50
جس پر دنیا مسلط ہو چکی ہو
50
اور جس کے سر پر موت نے سایہ ڈال دیا ہو
51
سُؤَالَ مَنِ اسْتَكْثَرَ ذُنُوْبَهٗ
52
میرا سوال اس شخص کے سوال کے مانند ہے جو اپنے گناہوں کو زیادہ سمجھتا
52
وَاعْتَرَفَ بِخَطِیْٓئَتِهٖ
53
اور اپنی خطاؤں کا اعتراف کرتا ہو
53
سُؤَالَ مَنْ لَّا رَبَّ لَهٗ غَیْرُكَ
54
میرا سوال اس شخص کا سا سوال ہے جس کا تیرے علاوہ کوئی پروردگار نہ ہو
54
وَلَا وَلِیَّ لَهٗ دُوْنَكَ
55
اور تیرے سوا کوئی ولی و سرپرست نہ ہو
55
وَلَا مُنْقِذَ لَهٗ مِنْكَ
56
اور نہ جس کا تجھ سے کوئی بچانے والا
56
وَلَا مَلْجَاَ لَهٗ مِنْكَ اِلَّاۤ اِلَیْكَ۔
57
اور نہ اس کیلئے تجھ سے سوا تیری طرف رجوع ہونے کے کوئی پناہ گاہ ہو۔
57
اِلٰهِیْۤ اَسْئَلُكَ بِحَقِّكَ
58
بار الٰہا! میں تیرے اس حق کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں
58
الْوَاجِبِ عَلٰى جَمِیْعِ خَلْقِكَ
59
جو تیرے مخلوقات پر لازم و واجب ہے
59
وَبِاسْمِكَ الْعَظِیْمِ
60
اور تیرے اس بزرگ نام کے واسطہ سے
60
الَّذِیْۤ اَمَرْتَ رَسُوْلَكَ اَنْ یُّسَبِّحَكَ بِهٖ
61
جس کے ساتھ تو نے اپنے رسول کو تسبیح کرنے کا حکم دیا
61
وَبِجَلَالِ وَجْهِكَ الْكَرِیْمِ
62
اور تیری ذات بزرگوار کی بزرگی و جلالت کے وسیلہ سے
62
الَّذِیْ لَا یَبْلٰى وَلَا یَتَغَیَّرُ
63
کہ جو نہ کہنہ ہوتی ہے نہ متغیر
63
وَلَا یَحُوْلُ وَلَا یَفْنٰى
64
نہ تبدیل ہوتی ہے نہ فنا
64
اَنْ تُصَلِّیَ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ
65
تجھ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
65
وَاَنْ تُغْنِیَنِیْ عَنْ كُلِّ شَیْءٍ بِعِبَادَتِكَ
66
اور مجھے اپنی عبادت کے ذریعہ ہر چیز سے بے نیاز کر دے
66
وَاَنْ تُسَلِّیَ نَفْسِیْ عَنِ الدُّنْیَا بِمَخَافَتِكَ
67
اور اپنے خوف کی وجہ سے دنیا سے دل برداشتہ بنا دے
67
وَاَنْ تُثْنِیَنِیْ بِالْكَثِیْرِ مِنْ كَرَامَتِكَ بِرَحْمَتِكَ
68
اور اپنی رحمت سے بخشش و کرامت کی فراوانی کے ساتھ مجھے واپس کر
68
اس لیے کہ میں تیری ہی طرف گریزاں
69
اور تجھ ہی سے ڈرتا ہوں
70
اور تجھ ہی سے فریاد رسی چاہتا ہوں
71
اور تجھ ہی سے امید رکھتا ہوں
72
اور تجھے ہی پکارتا ہوں
73
اور تجھ ہی سے پناہ چاہتا ہوں
74
اور تجھ ہی پر بھروسا کرتا ہوں
75
وَاِیَّاكَ اَسْتَعِیْنُ
76
اور تجھ ہی سے مدد چاہتا ہوں
76
اور تجھ ہی پر ایمان لایا ہوں
77
وَعَلَیْكَ اَتَوَكَّلُ
78
اور تجھ ہی پر توکل رکھتا ہوں
78
وَعَلٰى جُوْدِكَ وَكَرَمِكَ اَتَّكِلُ۔
79
اور تیرے ہی جود و کرم پر اعتماد کرتا ہوں۔
79
یہ دعا اللہ تعالیٰ سے طلب و الحاح کے سلسلہ میں ہے۔ ”الحاح“ کے معنی طلب و سوال میں اصرار اور مسلسل و پیہم مانگنے کے ہیں۔ اگر یہ الحاح اللہ تعالیٰ سے ہو تو ممدوح اور قابل ستائش ہے اور بندوں سے ہو تو نہایت مذموم ہے۔ اول تو سوال ہی بری چیز ہے چہ جائیکہ اس میں الحاح کا بھی پہلو ہو۔ یہ دنائت نفس اور پستئ ضمیر کی علامت ہے۔ اس سے انسان کی عزت داغدار اور حمیت و غیرت پامال ہو جاتی ہے۔ اس لیے اللہ سبحانہ اسے ناپسندیدہ نظروں سے دیکھتا ہے اور یہ گوارا نہیں کرتا کہ اس کے بندے اپنے ایسوں کے آگے ہاتھ پھیلائیں اور ان کے سامنے گڑگڑائیں۔ بلکہ وہ یہ چاہتا ہے کہ اس کے بندے مانگیں تو اسی سے مانگیں اور الحاح و عاجزی کا ہاتھ پھیلائیں تو اسی کے آگے پھیلائیں۔ چنانچہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا ارشاد ہے:
خداوند عالم آپس میں ایک دوسرے سے طلب و سوال میں الحاح و اصرار کو ناپسند کرتا ہے اور اپنے لیے اسے دوست رکھتا ہے۔ خدائے بزرگ و برتر یہ چاہتا ہے کہ اس سے سوال کیا جائے اور اس کے ہاں کی چیزوں کو طلب کیا جائے۔ ۱
بندہ جب اپنے معبود کے در پر دستک دیتا اسے پکارتا اور عجز و الحاح سے سوال کرتا ہے تو یہ اس کی دلیل ہے کہ اس کا احساس عبودیت زندہ ہے اور اللہ تعالیٰ سے حسن ظن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اور شیوۂ عبودیت یہی ہے کہ وہ پیہم اس کے سامنے ہاتھ پھیلائے اور اپنی حاجتیں اس کے سامنے پیش کرے اور کسی حالت میں مایوس نہ ہو، خواہ قبولیتِ دعا میں کتنی دیر ہو جائے۔ کیونکہ امید و رجاء کے جلو میں اس سے بار بار طلب کرنا خود ایک عبادت اور پسندیدہ عمل ہے جس سے غفلت کرنا اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت سے محروم ہونا ہے۔ چنانچہ پیغمبر اکرمؐ کا ارشاد ہے:
خدا اس بندے پر رحم کرے جو خدائے بزرگ و برتر سے کوئی حاجت طلب کرتا ہے تو بار بار دعا کرتا ہے۔ چاہے اس کی دعا قبول ہو یا نہ ہو۔ ۲
دعا کا اصل مقصد ہی یہ ہے کہ اس کے پردہ میں اللہ تعالیٰ سے لو لگی رہے۔ اور بعض چیزوں کو دعا سے وابستہ کرنے کی وجہ یہی ہے کہ انسان ان کے حصول کیلئے دعا و الحاح کرتا رہے اور گڑگڑانے اور لپٹنے سے اس کے خزانہ پر تو کوئی اثر پڑتا نہیں کہ اسے ناگوار گزرے اور نہ داد و دہش سے اس کے ہاں کمی ہوتی ہے کہ کسی کے بار بار مانگنے سے وہ رنجیدہ و کبیدہ خاطر ہو۔ کیونکہ کمی بیشی کا سوال وہاں ہوتا ہے جہاں سرمایہ محدود ہو اور جس کے مقدورات کی کوئی حد و نہایت ہی نہ ہو اس کیلئے کمی بیشی کے معنی ہی کیا۔ اور پھر یہ کہ کمی بیشی احتیاج کی علامت ہے اور وہ غنئ مطلق ہے جس کے ہاں نہ عطا کرنے سے کمی اور نہ روک لینے سے اضافہ ہوتا ہے۔