اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ اللَّیْلَ وَالنَّهَارَ بِقُوَّتِهٖ
1
سب تعریف اس اللہ کیلئے ہے جس نے اپنی قوت و توانائی سے شب و روز کو خلق فرمایا
1
وَمَیَّزَ بَیْنَهُمَا بِقُدْرَتِهٖ
2
اور اپنی قدرت کی کار فرمائی سے ان دونوں میں امتیاز قائم کیا
2
وَجَعَلَ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا حَدًّا مَّحْدُوْدًا وَاَمَدًا مَّمْدُوْدًا
3
اور ان میں سے ہر ایک کو معینہ حدود و مقررہ اوقات کا پابند بنایا
3
یُوْلِجُ كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا فِیْ صَاحِبِهٖ
4
اور ان کے کم و بیش ہونے کا جو اندازہ مقرر کیا اس کے مطابق رات کی جگہ پر دن کو لاتا ہے
4
وَیُوْلِجُ صَاحِبَهٗ فِیْهِ
5
بِتَقْدِیْرٍ مِّنْهُ لِلْعِبَادِ فِیْمَا یَغْذُوْهُمْ بِهٖ وَیُنْشِئُهُمْ عَلَیْهِ۔
6
تاکہ اس ذریعہ سے بندوں کی روزی اور ان کی پرورش کا سرو سامان کرے۔
6
فَخَلَقَ لَهُمُ اللَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ
7
چنانچہ اس نے ان کیلئے رات بنائی تاکہ وہ اس میں آرام کریں،
7
مِنْ حَرَكَاتِ التَّعَبِ وَنَهَضَاتِ النَّصَبِ
8
تھکا دینے والے کاموں اور خستہ کر دینے والی کلفتوں کے بعد
8
وَجَعَلَهٗ لِبَاسًا لِّیَلْبَسُوْا مِنْ رَّاحَتِهٖ وَمَنَامِهٖ
9
اور اسے پردہ قرار دیا تاکہ سکون کی چادر تان کر آرام سے سوئیں۔
9
فَیَكُوْنَ ذٰلِكَ لَهُمْ جَمَامًا وَّقُوَّةً
10
اور یہ ان کیلئے راحت و نشاط اور طبعی قوتوں کے بحال ہونے
10
وَلِیَنَالُوْا بِهٖ لَذَّةً وَّشَهْوَةً۔
11
اور لذت و کیف اندوزی کا ذریعہ ہو۔
11
وَخَلَقَ لَهُمُ النَّهَارَ مُبْصِرًا
12
اور دن کو ان کیلئے روشن و درخشاں پیدا کیا
12
لِّیَبْتَغُوْا فِیْهِ مِنْ فَضْلِهٖ
13
تاکہ اس میں (کار و کسب میں سرگرم عمل ہو کر) اس کے فضل کی جستجو کریں
13
وَلِیَتَسَبَّبُوْاۤ اِلٰى رِزْقِهٖ
14
اور روزی کا وسیلہ ڈھونڈیں
14
وَیَسْرَحُوْا فِیْۤ اَرْضِهٖ
15
اور اس کی زمین میں چلیں پھریں،
15
طَلَبًا لِّمَا فِیْهِ نَیْلُ الْعَاجِلِ مِنْ دُنْیَاهُمْ۔
16
دنیاوی منافع اور اُخروی فوائد کے وسائل تلاش کرنے کیلئے۔
16
وَدَرَكُ الْاٰجِلِ فِیْۤ اُخْرَاهُمْ بِكُلِّ ذٰلِكَ
17
ان تمام کارفرمائیوں سے وہ ان کے حالات سنوارتا
17
یُصْلِحُ شَاْنَهُمْ وَیَبْلُوْ اَخْبَارَهُمْ
18
اور ان کے اعمال کی جانچ کرتا ہے
18
وَیَنْظُرُ كَیْفَ هُمْ فِیْۤ اَوْقَاتِ طَاعَتِهٖ
19
اور یہ دیکھتا ہے کہ وہ لوگ کیسے ثابت ہوتے ہیں اطاعت کی گھڑیوں میں
19
وَمَنَازِلِ فُرُوْضِهٖ وَمَوَاقِعِ اَحْكَامِهٖ
20
فرائض کی منزلوں اور تعمیل احکام کے موقعوں پر
20
﴿لِیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا
21
تاکہ بروں کو ان کی بداعمالیوں کی سزا
21
وَیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا بِالْحُسْنٰی﴾۔
22
اور نیکوکاروں کو اچھا بدلہ دے۔
22
اَللّٰهُمَّ فَلَكَ الْحَمْدُ عَلٰى مَا فَلَقْتَ لَنا مِنَ الْاِصْبَاحِ
23
اے اللہ! تیرے ہی لئے تمام تعریف و توصیف ہے کہ تو نے ہمارے لئے (رات کا دامن چاک کر کے) صبح کا اجالا کیا
23
وَمَتَّعْتَنَا بِهٖ مِنْ ضَوْءِ النَّهَارِ
24
اور اس طرح دن کی روشنی سے ہمیں فائدہ پہنچایا
24
وَبَصَّرْتَنَا مِنْ مَطَالِبِ الْاَقْوَاتِ
25
اور طلب رزق کے مواقع ہمیں دکھائے
25
وَوَقَیْتَنَا فِیْهِ مِنْ طَوَارِقِ الْاٰفَاتِ۔
26
اور اس میں آفات و بلیات سے ہمیں بچایا۔
26
اَصْبَحْنَا وَاَصْبَحَتِ الْاَشْیَآءُ كُلُّهَا بِجُمْلَتِهَا لَكَ:
27
ہم اور ہمارے علاوہ سب چیزیں تیری ہیں
27
سَمَآؤُهَا وَاَرْضُهَا
28
آسمان بھی اور زمین بھی
28
وَمَا بَثَثْتَ فِیْ كُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا
29
اور وہ سب چیزیں جنہیں تو نے ان میں پھیلایا ہے
29
سَاكِنُهٗ وَمُتَحَرِّكُهٗ
30
وَمُقِیْمُهٗ وَشَاخِصُهٗ
31
وَمَا عَلَا فِی الْهَوَآءِ
32
وَمَا كَنَّ تَحْتَ الثَّرٰى۔
33
یا زمین کی تہوں میں پوشیدہ۔
33
اَصْبَحْنَا فِیْ قَبْضَتِكَ
34
ہم تیرے قبضۂ قدرت میں ہیں
34
یَحْوِیْنَا مُلْكُكَ وَسُلْطَانُكَ
35
اور تیرا اقتدار اور تیری بادشاہت ہم پر حاوی ہے
35
وَتَضُمُّنَا مَشِیَّتُكَ
36
اور تیری مشیت کا محیط ہمیں گھیرے ہوئے ہے
36
وَنَتَصَرَّفُ عَنْ اَمْرِكَ
37
تیرے حکم سے ہم تصرف کرتے
37
وَنَتَقَلَّبُ فِیْ تَدْبِیْرِكَ
38
اور تیری تدبیر و کار سازی کے تحت ہم ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹتے ہیں
38
لَیْسَ لَنا مِنَ الْاَمْرِ اِلَّا مَا قَضَیْتَ
39
ہمارے اختیار میں کچھ نہیں ہے علاوہ اس امر کے جو تو نے ہمارے لئے نافذ کیا
39
وَلَا مِنَ الْخَیْرِ اِلَّا مَاۤ اَعْطَیْتَ۔
40
اور علاوہ اس خیر اور بھلائی کے جو تو نے ہمیں بخشی۔
40
وَهٰذَا یَوْمٌ حَادِثٌ جَدِیْدٌ
41
اور یہ دن نیا اور تازہ وارد ہے
41
وَهُوَ عَلَیْنَا شَاهِدٌ عَتِیْدٌ
42
جو ہم پر ایسا گواہ ہے جو ہمہ وقت حاضر ہے۔
42
اِنْ اَحْسَنَّا وَدَّعَنَا بِحَمْدٍ
43
اگر ہم نے اچھے کام کئے تو وہ توصیف و ثنا کرتے ہوئے ہمیں رخصت کرے گا
43
وَاِنْ اَسَاْنَا فَارَقَنَا بِذَمٍّ۔
44
اور اگر برے کام کئے تو برائی کرتا ہوا ہم سے علیحدہ ہو گا۔
44
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
45
اے اللہ! تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
45
وَارْزُقْنَا حُسْنَ مُصَاحَبَتِهٖ
46
اور ہمیں اس دن کی اچھی رفاقت نصیب کرنا
46
وَاعْصِمْنَا مِنْ سُوْٓءِ مُفَارَقَتِهٖ
47
اور اس کے چیں بہ جبیں ہو کر رخصت ہونے سے ہمیں بچائے رکھنا
47
بِارْتِكَابِ جَرِیْرَةٍ اَوِ اقْتِرَافِ صَغِیْرَةٍ اَوْ كَبِیْرَةٍ
48
کسی خطا کے ارتکاب کرنے یا صغیرہ و کبیرہ گناہ میں مبتلا ہونے کی وجہ سے۔
48
وَاَجْزِلْ لَنا فِیْهِ مِنَ الْحَسَنَاتِ
49
اور اس دن میں ہماری نیکیوں کا حصہ زیادہ کر
49
وَاَخْلِنَا فِیْهِ مِنَ السَّیِّئَاتِ
50
اور برائیوں سے ہمارا دامن خالی رکھ
50
وَامْلَاْ لَنا مَا بَیْنَ طَرَفَیْهِ حَمْدًا وَّشُكْرًا
51
اور ہمارے لئے اس کے آغاز و انجام کو بھر دے حمد و سپاس سے،
51
وَاَجْرًا وَّذُخْرًا وَفَضْلًا وَّاِحْسَانًا۔
52
ثواب و ذخیرۂ آخرت اور بخشش و احسان سے۔
52
اَللّٰهُمَّ یَسِّرْ عَلَى الْكِرَامِ الْكَاتِبِیْنَ مَئُوْنَتَنَا
53
اے اللہ! کراماً کاتبین پر (ہمارے گناہ قلمبند کرنے کی) زحمت کم کر دے
53
وَامْلَاْ لَنا مِنْ حَسَنَاتِنَا صَحَآئِفَنَا
54
اور ہمارا نامۂ اعمال نیکیوں سے بھر دے
54
وَلَا تُخْزِنَا عِنْدَهُمْ بِسُوْٓءِ اَعْمَالِنَا۔
55
اور بداعمالیوں کی وجہ سے ہمیں ان کے سامنے رسوا نہ کر۔
55
اَللّٰهُمَّ اجْعَلْ لَنَا فِیْ كُلِّ سَاعَةٍ مِّنْ سَاعَاتِهٖ
56
بار الٰہا! تو ہمارے لئے قرار دے اس دن کے لمحوں میں سے ہر لمحہ و ساعت میں
56
حَظًّا مِّنْ عِبَادِكَ
57
اپنے خاص بندوں کا حظ و نصیب
57
وَنَصِیْبًا مِّنْ شُكْرِكَ
58
اور اپنے شکر کا ایک حصہ
58
وَشَاهِدَ صِدْقٍ مِّنْ مَّلٰٓئِكَتِكَ۔
59
اور فرشتوں میں سے ایک سچا گواہ۔
59
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
60
اے اللہ! تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
60
وَاحْفَظْنَا مِن بَیْنِ اَیْدِیْنَا وَمِنْ خَلْفِنَا
61
اور ہماری حفاظت کر آگے پیچھے سے
61
وَعَنْ اَیْمَانِنَا وَعَنْ شَمَآئِلِنَا
62
اور داہنے اور بائیں سے
62
وَمِنْ جَمِیْعِ نَوَاحِیْنَا
63
اور تمام اطراف و جوانب سے
63
حِفْظًا عَاصِمًا مِّنْ مَّعْصِیَتِكَ
64
ایسی حفاظت جو ہمارے لئے گناہ و معصیت سے سد راہ ہو،
64
هَادِیًاۤ اِلٰى طَاعَتِكَ
65
تیری اطاعت کی طرف رہنمائی کرے،
65
مُسْتَعْمِلًا لِّمَحَبَّتِكَ۔
66
اور تیری محبت میں صرف ہو۔
66
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
67
اے اللہ! تو محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
67
وَوَفِّقْنَا فِیْ یَوْمِنَا هٰذَا وَلَیْلَتِنَا هَذِهٖ
68
اور ہمیں توفیق عطا فرما آج کے دن اور آج کی رات میں
68
وَفِیْ جَمِیْعِ اَیَّامِنَا
69
اور زندگی کے تمام دنوں میں
69
لِاسْتِعْمَالِ الْخَیْرِ
70
کہ ہم نیکیوں پر عمل کریں
70
وَمُجَانَبَةِ الْبِدَعِ
74
بدعتوں سے الگ تھلگ رہیں
74
وَالْاَمْرِ بِالْمَعْرُوْفِ
75
اور نیک کاموں کا حکم دیں
75
وَالنَّهْیِ عَنِ الْمُنْكَرِ
76
اور برے کاموں سے روکیں
76
وَحِیَاطَةِ الْاِسْلَامِ
77
اسلام کی حمایت و طرفداری کریں
77
وَانْتِقَاصِ الْبَاطِلِ وَاِذْلَالِهٖ
78
باطل کو کچلیں اور اسے ذلیل کریں
78
وَنُصْرَةِ الْحَقِّ وَاِعْزَازِهٖ
79
حق کی نصرت کریں اور اسے سر بلند کریں
79
گمراہوں کی رہنمائی کریں
80
وَمُعَاوَنَةِ الضَّعِیْفِ
81
وَاِدْرَاكِ اللَّهِیْفِ۔
82
اور درد مندوں کی چارہ جوئی کریں۔
82
اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
83
بار الٰہا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
83
وَاجْعَلْهُ اَیْمَنَ یَوْمٍ عَهِدْنَاهُ
84
اور آج کے دن کو زیادہ مبارک دن قرار دے ان تمام دنوں سے جو ہم نے گزارے
84
وَاَفْضَلَ صَاحِبٍ صَحِبْنَاهُ
85
اور اس کو بہترین رفیق قرار دے ان تمام ساتھیوں سے جن کا ہم نے ساتھ دیا
85
وَخَیْرَ وَقْتٍ ظَلِلْنَا فِیْهِ
86
اور ان تمام وقتوں سے جن کے زیر سایہ ہم نے زندگی بسر کی اس کو بہترین وقت قرار دے
86
وَاجْعَلْنَا مِنْ اَرْضٰى مَنْ مَّرَّ عَلَیْهِ اللَّیْلُ وَالنَّهَارُ
87
اور ہمیں زیادہ راضی و خوشنود رکھ جن پر شب و روز کے چکر چلتے رہے ہیں
87
مِنْ جُمْلَةِ خَلْقِكَ
88
ان تمام مخلوقات میں سے۔
88
اَشْكَرَهُمْ لِمَاۤ اَوْلَیْتَ مِنْ نِّعَمِكَ
89
اور ان سب سے زیادہ اپنی عطا کی ہوئی نعمتوں کا شکر گزار
89
وَاَقْوَمَهُمْ بِمَا شَرَعْتَ مِنْ شرَآئِعِكَ
90
اور ان سب سے زیادہ اپنے جاری کئے ہوئے احکام کا پابند
90
وَاَوْقَفَهُمْ عَمَّا حَذَّرْتَ مِنْ نَّهْیِكَ۔
91
اور ان سب سے زیادہ ان چیزوں سے کنارہ کشی کرنے والا قرار دے جن سے تو نے خوف دلا کر منع کیا ہے۔
91
اَللّٰهُمَّ اِنِّیْۤ اُشْهِدُكَ وَكَفٰى بِكَ شَهِیْدًا
92
اے خدا! میں تجھے گواہ کرتا ہوں اور تو گواہی کیلئے کافی ہے
92
وَاُشْهِدُ سَمَآءَكَ وَاَرْضَكَ
93
اور گواہ کرتا ہوں تیرے آسمان اور تیری زمین کو
93
وَمَنْ اَسْكَنْتَهُمَا مِنْ مَّلٰٓئِكَتِكَ وَسَآئِرِ خَلْقِكَ
94
اور ان میں جن جن فرشتوں اور جس جس مخلوق کو تو نے بسایا ہے
94
فِیْ یَوْمِیْ هٰذَا وَسَاعَتِیْ هٰذِهٖ
95
وَلَیْلَتِیْ هٰذِهٖ وَمُسْتَقَرِّیْ هٰذَا
96
اور اس رات میں اور اس مقام پر
96
اَنِّیْۤ اَشْهَدُ اَنَّكَ اَنْتَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
97
کہ میں اس بات کا معترف ہوں کہ صرف تو ہی وہ معبود ہے جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں
97
قَآئِمٌ بِالْقِسْطِ, عَدْلٌ فِی الْحُكْمِ
98
انصاف کا قائم کرنے والا، حکم میں عدل ملحوظ رکھنے والا
98
رَؤُوْفٌ بِالْعِبَادِ, مَالِكُ الْمُلْكِ
99
بندوں پر مہربان، اقتدار کا مالک
99
رَحِیْمٌ بِالْخَلْقِ۔
100
اور کائنات پر رحم کرنے والا ہے۔
100
وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُوْلُكَ
101
اور اس بات کی بھی شہادت دیتا ہوں کہ محمدؐ تیرے خاص بندے، رسول
101
وَخِیَرَتُكَ مِنْ خَلْقِكَ
102
اور برگزیدۂ کائنات ہیں۔
102
حَمَّلْتَهٗ رِسَالَـتَكَ فَاَدَّاهَا
103
ان پر تو نے رسالت کی ذمہ داریاں عائد کیں تو انہوں نے اسے پہنچایا
103
وَاَمَرْتَهٗ بِالنُّصْحِ لِاُمَّتِهٖ فَنَصَحَ لَهَا۔
104
اور اپنی اُمت کو پند و نصیحت کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے نصیحت فرمائی۔
104
اَللّٰهُمَّ فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
105
بار الٰہا! محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
105
اَكْثَرَ مَا صَلَّیْتَ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْ خَلْقِكَ
106
اس سے کہیں زیادہ جو تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی پر نازل فرمائی ہو
106
وَاٰتِهٖ عَنَّاۤ اَفْضَلَ مَا اٰتَیْتَ اَحَدًا مِّنْ عِبَادِكَ
107
ہماری طرف سے انہیں وہ بہترین تحفہ عطا کر جو تیرے ہر اس انعام سے بڑھا ہوا ہو جو اپنے بندوں میں سے تو نے کسی ایک کو دیا ہو
107
وَاجْزِهٖ عَنَّاۤ اَفْضَلَ وَاَكْرَمَ
108
اور ہماری طرف سے انہیں وہ جزا دے جو ہر اس جزا سے بہتر و برتر ہو
108
مَا جَزَیْتَ اَحَدًا مِّنْ اَنبِیَآئِكَ عَنْ اُمَّتِهٖ۔
109
جو انبیاء علیہم السلام میں سے کسی ایک کو تو نے اس کی اُمت کی طرف سے عطا فرمائی ہو۔
109
اِنَّكَ اَنْتَ الْمَنَّانُ بِالْجَسِیْمِ
110
بے شک تو بڑی نعمتوں کا بخشنے والا
110
الْغَافِرُ لِلْعَظِیْمِ
111
اور بڑے گناہوں سے درگزر کرنے والا
111
وَاَنْتَ اَرْحَمُ مِنْ كُلِّ رَحِیْمٍ
112
اور ہر رحیم سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
112
فَصَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهِ
113
لہٰذا تو رحمت نازل فرما محمدؐ اور ان کی اولاد پر
113
الطَّیِّبِیْنَ الطَّاهِرِیْنَ الْاَخْیَارِ الْاَنْجَبِیْنَ۔
114
جو پاک و پاکیزہ اور شریف و نجیب ہیں ۔
114
اس دُعا کا سرنامہ ”دُعائے صبح و شام“ ہے جس میں اختلاف شبِ و روز کی کرشمہ سازی، اوقات کی تبدیلی و تنوع کی حکمت اور قدرت کے ارادہ و مشیّت کی کارفرمائی کا ذکر فرمایا ہے اور حسنِ عمل، شکرِ نعمت، اتباعِ سنت، ترکِ بدعت، امربالمعروف و نہی عن المنکر، اسلام کی طرفداری و حفاظت، باطل کی تذلیل و سرکوبی، حق کی نصرت و حمایت، ارشاد و ہدایت میں سرگرمی اور کمزور و ناتواں کی خبرگیری کیلئے توفیقِ الٰہی کے شاملِ حال ہونے کی دعا فرمائی ہے، تا کہ دعا کے تاثرات، عملی استحکام کا پیش خیمہ ثابت ہوں اور زندگی کے لمحات مقصدِ حیات کی تکمیل میں صرف ہوں۔
یہ اوقات کا تبدل، طلوع و غروب کا تسلسل اور صبح کے بعد شام اور شام کے بعد سپیدۂ سحر کی نمود کار فرمائے فطرت کی وہ حسین کارفرمائی ہے جو نگاہوں کیلئے حظ و کیف اور قلب و روح کیلئے سرور و نشاط کا سامان ہونے کے علاوہ بے شمار مصالح و فوائد کی بھی حامل ہے۔ چنانچہ شب و روز کی تعیین، مہینوں اور سالوں کا انضباط اور کاروبار، معیشت اور آرام و استراحت کے اوقات کی حدبندی اسی سے وابستہ ہے اور پھر اس میں زندگی کی تسکین و راحت کا بھی سامان ہے۔ کیونکہ وقت اگر ہمیشہ ایک حالت پر رہتا اور لیل و نہار کے سیاہ و سفید ورق نگاہوں کے سامنے اُلٹے نہ جاتے تو طبیعتیں بے کیف، دل سیر اور زندگی کیلئے دل بستگی کے تمام ذرائع ختم ہو جاتے اور حُسنِ یک رنگ آنکھوں میں کھٹکنے لگتا اور نغمۂ بے زیر و بم وَبالِ گوش ہو جاتا۔ کیونکہ انسان کی تنوع پسند طبیعت یکسانی و یک رنگی کی حالت سے جلد اُکتا جاتی ہے۔اس لئے قدرت نے انسانی طبیعت کے خواص کے مطابق شب و روز کی تفریق قائم کر دی تا کہ شام کے بعد صبح اور صبح کے بعد شام کا انتظار زندگی کی خستگیوں اور اس کی مسلسل الجھنوں اور پریشانیوں سے سہارا دیتا رہے۔ چنانچہ قدرت نے اختلافِ شب و روز کی مصلحت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے: اِنْ جَعَلَ اللہُ عَلَيْكُمُ النَّہَارَ سَرْمَدًا اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ مَنْ اِلٰہٌ غَيْرُ اللہِ يَاْتِيْكُمْ بِلَيْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِيْہِ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ وَمِنْ رَّحْمَتِہٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ وَالنَّہَارَ لِتَسْكُنُوْا فِيْہِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ
اگر خدا تمہارے لئے قیامت کے دن تک دن ہی رکھتا تو اللہ کے علاوہ اور کون ہے جو تمہارے لئے رات لاتا کہ تم اس میں آرام کرو، کیا تم اتنا بھی نہیں دیکھتے۔ اور اس نے اپنی رحمت سے تمہارے لئے رات اور دن قرار دئیے ہیں تا کہ رات کو آرام کرو اور دن کو اس کا رزق تلاش کرو تاکہ اس کے نتیجہ میں تم شکر ادا کرو۔۱
اسی نظم اوقات کا نتیجہ ہے کہ جب صبح نمودار ہوتی ہے اور سورج کی تابناک کرنیں فضا میں پھیل کر کارگاہِ ہستی کے گوشہ گوشہ کو جگمگا دیتی ہیں تو خاموش و پرسکون فضا میں گہما گہمی شروع ہو جاتی ہے۔ پرندے آشیانوں سے، حیوان بھٹوں اور کھوؤں سے ، کیڑے مکوڑے بلوں اور سوراخوں سے اور انسان جھونپڑوں اور مکانوں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ حرکت و عمل کی دنیا آباد ہو جاتی ہے اور ہر صنف اپنے کار و کسب میں مصروف اور اپنے مشاغل میں سرگرمِ عمل نظر آنے لگتی ہے۔ پرندے فضا میں، حیوان زمین کے اوپر سے اور کیڑے مکوڑے زمین کے اندر سے اپنی روزی ڈھونڈنے لگتے ہیں اور چیونٹیاں بھی اپنی مختصر جسامت کے باوجود سعئ پیہم و جہد مسلسل کا وہ مظاہرہ کرتی ہیں کہ انسانی عقلیں دَنگ رہ جاتی ہیں۔ دھوپ ہو یا سایہ، نہ محنت سے جی چراتی ہیں، نہ مشقّت سے منہ موڑتی ہیں اور ہر وقت دوڑ و دھوپ کرتی اور طلب و تلاش میں مصروف نظر آتی ہیں۔ غرض کائنات کی ہر چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی مخلوق محنت و کاوش کو اپنا دستورِ حیات بنائے ہوئے پیٹ پالنے کیلئے بھاگ دوڑ کرتی ہے اور کمزور سے کمزور حیوان بھی یہ گوارا نہیں کرتا کہ جب تک اس کے ہاتھ پاؤں میں سکت ہے بیکار پڑا رہے اور اپنے ہم جنسوں سے بھیک مانگے اور ان کے آگے ہاتھ پھیلائے۔ یہ حیوانی سیرت، انسانی غیرت کیلئے ایک تازیانہ ہے اور انسان کیلئے ایک داعیۂ فکر ہے کہ جب حیوان اس کی سطح سے کہیں پست تر ہونے کے باوجود سوال میں عار محسوس کرتا ہے تو وہ اپنے ہم جنسوں کے آگے کس طرح ہاتھ پھیلانا گوارا کر لیتا ہے۔
انسانی بلندی کا تقاضا تو یہ ہے کہ اپنے قوتِ بازو سے کمائے اور سوال کی ذلت اور احتیاج کی نکبت سے عزت نفس پر حرف نہ آنے دے۔ وہ افراد جو تن آسانی کی وجہ سے بے کار پڑے رہتے ہیں وہ آرام و سکون کی حقیقی لذت سے یکسر محروم رہتے ہیں۔ سچی راحت اور اصلی سکون تو محنت و مشقّت کے بعد ہی حاصل ہوتا ہے۔ سایہ کی قدر و قیمت کو وہی جان سکتا ہے جو سورج کی تمازت اور دھوپ کی تپش میں مصروفِ کار ہو اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں سے وہی کیف اندوز ہو سکتا ہے جو گرمی و حدّت کی شعلہ باریوں میں پسینہ سے شرابور ہو اور رات کے پُرسکون لمحات اسی کیلئے سکون و راحت کا پیغام ثابت ہو سکتے ہیں جس کا دن محنت و جفا کشی کا حامل ہو۔ چنانچہ ایک ٹوکری ڈھونے والا مزدور اور چلچلاتی دھوپ میں ہل چلانے والا کسان جب دن کے کاموں سے فارغ ہوتا ہے تو فطرت پوری فراخ حوصلگی سے اس کیلئے سر و سامان راحت مہیّا کر دیتی ہے۔ سورج کا چراغ گُل ہو جاتا ہے، چاند کی ہلکی اور ٹھنڈی چھاؤں کا شامیانہ تن جاتا ہے، ستاروں کی قندیلیں ٹمٹمانے لگتی ہیں، شفق کے رنگین پردے آویزاں ہو جاتے ہیں، ہری بھری گھاس کا مخملی فرش بچھ جاتا ہے، شاخیں جھوم کر مروحہ جنبانی کرتی ہیں اور پتے ہوا کے جھونکوں سے ٹکرا کر فضا کے دامن کو خواب آور نغموں سے بھَر دیتے ہیں اور فرشِ زمین کے اوپر اور شامیانۂ فلک کے نیچے سونے والا رات کی سیاہ چادر اوڑھ کر آرام سے سو جاتا ہے۔
کیا اس کے مقابلے میں وہ کاہل و آرام طلب جس کے ہاں نرم و گداز گدے، آرام دہ مسہریاں، ہوا میں لہریں پیدا کرنے والے بجلی کے پنکھے اور آنکھوں کو خیرگی سے بچانے والے ہلکے سبز رنگ کے قمقمے اور دوسرے مصنوعی و خودساختہ سامانِ آسائش مہیا ہوں، زیادہ پر سکون و پرکیف رات بسر کر سکتا ہے؟ بہرحال کارخانۂ ہست و بود کی بو قلمونیاں اور فطرت کی متنوع رعنائیاں انسان کے حسیات کی تسکین اور زندگی کی دل بستگی و آسائش کا مکمل سر و سامان لئے ہوئے ہیں۔
لیکن یہ عالم کے دل آویز نقوش اور راحت و آسائش کے سامان کس لئے ہیں؟ کیا اس لئے ہیں کہ انسان چند دن کھائے پئے، گھومے پھرے اور پھر قبر میں جا سوئے۔ اگر ایسا ہو تو زندگی کا کوئی مآل و مقصد ہی نہیں رہتا۔ حالانکہ دنیائے کائنات کی ہر چیز کا ایک مقصد اور ایک مدعا ہے تو پھر زندگی اور زندگی کے سر و سامان بغیر مقصد کے کیونکر ہو سکتے ہیں؟ اس کا بھی کوئی مقصد ہونا چاہیے اور وہ مقصد صرف آخرت کی زندگی ہے۔ جس کی سعادتوں اور کامرانیوں کو حاصل کرنے کیلئے دنیا کو ایک ذریعہ اور امتحان گاہ قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: وَلٰكِنْ لِّيَبْلُوَكُمْ فِيْ مَآ اٰتٰىكُمْ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرٰتِ
لیکن جو اُس نے تمہیں دیا ہے اُس میں تمہیں آزمانا چاہتا ہے، لہٰذا نیکیوں کی طرف بڑھنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔۲
یہ آزمائش اسی صورت میں آزمائش رہ سکتی ہے جب ان نیکیوں پر عمل پیرا ہونے اور ان میں سبقت لے جانے میں انسانی اختیار کا عمل دخل ہو۔ اور اگر وہ ایمان و عمل صالح پر مجبور ہو تو آزمائش کے معنی ہی کیا، بلکہ ایسی صورت میں تو ہر ایک کو ایمان لانا پڑتا اور اعمال بجا لانے پڑتے، کیونکہ قدرت اپنی بات کے منوانے میں مجبور و قاصر نہیں ہے۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَاٰمَنَ مَنْ فِي الْاَرْضِ كُلُّھُمْ جَمِيْعًا
اور اگر تمہارا پروردگار چاہتا تو زمین میں بسنے والے سب کے سب اس پر ایمان لے آتے۔۳
بے شک کائنات کا ہر ذرہ اس کی مشیّت کے تابع ہے۔ اس طرح کہ کوئی اس کے محیط اقتدار سے باہر نہیں ہے۔ وہ زمین ہو یا اس پر چلنے پھرنے والی مخلوق، پہاڑ ہوں یا اُن کے دامن میں معدنیات، دریا ہوں یا ان میں رہنے والی مچھلیاں، سمندر ہوں یا اُن میں عنبر مونگے اور موتیوں کے خزانے، فضا ہو یا اُس میں پرواز کرنے والے پرندے، بادلوں کے لکّے ہوں یا اُن میں امڈتے ہوئے پانی کے ذخیرے، چاند سورج ہوں یا اُن کی جوہری شعاعیں، ستارے ہوں یا اُن کی مخصوص تاثیریں، فرشتے ہوں یا اُن کی سرگرمیاں، سب ہی تو اُس کی مشیّت کے اندر جکڑی بندھی ہوئی ہیں۔ اگر انسان بھی اعتقاد و اعمال میں اسی طرح بے بس ہوتا اور مشیّت ہر ایک کو ایک مخصوص طریق کار کا پابند بنا دیتی تو جزا و سزا بےکار ہو جاتی۔ حالانکہ قانونِ مکافات کی رُو سے جزا و سزا سے دوچار ہونا ضروری ہے۔ جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے: لَہَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْہَا مَا اكْتَسَبَتْ
اگر اس نے اچھا کام کیا تو اپنے فائدے کیلئے اور بُرا کام کیا تو اس کا وبال اس کے سر پڑے گا۔۴
تو جب اپنے ہی اعمال سامنے آتے ہیں تو وہی اوقات و لمحات زندگی کا سرمایہ ہیں جن میں اعمالِ خیر کے ذریعہ آخرت کا سرمایہ بہم پہنچا لیا گیا ہو اور وہی شب و روز مبارک و مسعود ہیں جن میں اُخروی ہلاکت و تباہی سے بچنے کا سامان کر لیا گیا ہو۔ یہ دن اور یہ راتیں ہمارے اچھے اور بُرے اعمال کی نگران ہیں۔ اگر ان کے سامنے ہماری نیکیاں آتی ہیں تو اُن کی پیشانی کی گرہیں کُھل جاتی ہیں اور اُن کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے اور وہ ہم سے خوش خوش رُخصت ہوتے ہیں اور اگر برائیوں کو دیکھتے ہیں تو ان کی جبین پر شکنیں پڑ جاتی ہیں اور بُرائی کرتے ہوئے رخصت ہوتے ہیں۔ چنانچہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کا ارشاد ہے: مَا مِنْ يَّوْمٍ يَمُرُّ عَلَى ابْنِ اٰدَمَ اِلَّا قَالَ لَهٗ ذٰلِكَ الْيَوْمُ: اَنَا يَوْمٌ جَدِيْدٌ وَّاَنَا عَلَيْكَ شَهِيْدٌ، فَقُلْ فِیَّ خَيْرًا وَّاعْمَلْ فِیَّ خَيْرًا اَشْهَدْ لَكَ بِهٖ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ.
انسان کی زندگی کا جو دن گزرتا ہے وہ (زبانِ حال سے) خطاب کرتے ہوئے اُس سے کہتا ہے کہ: میں تیرے لئے نیا دن اور تیرے اعمال کا گواہ ہوں۔ لہٰذا زبان اور اعضاء سے نیک عمل کرو، میں اُس کی قیامت کے دن گواہی دوں گا۔۵
لہٰذا صبح کی پرسکون فضا اور ستاروں کی ٹھنڈی چھاؤں میں آنے والے دن کا استقبال اس دُعا سے کیا جائے، تا کہ کم از کم اس دن تو اس کے تاثرات ہماری زندگی پر چھائے رہیں اور فکر و عمل کی پاکیزگی ہمارے تصورات پر محیط رہے اور یہی اس دُعا کا مرکزی نقطۂ نگاہ ہے۔