(۹) وَكَانَ مِنْ دُعَآئِهٖ عَلَیْهِ السَّلَامُ فِی الْاِشْتِیَاقِ اِلٰى طَلَبِ الْمَغْفِرَةِ مِنَ اللّٰهِ جَلَّ جَلَالُهٗ دُعا (۹) طلب مغفرت کے اشتیاق میں حضرتؑ کی دعا:
یہ دعا اللہ تعالیٰ سے توبہ و استغفار، حسن عمل کی توفیق اور مغفرت و خوشنودی کی طلب پر مشتمل ہے۔ اگرچہ امام علیہ السلام معصوم اور آغوشِ عصمت کے پروردہ تھے اور عصمت، فکری و عملی و اعتقادی ہر قسم کے گناہ سے حفاظت کی ذمہ دار ہوتی ہے، مگر پھر بھی گناہ کا اعتراف کرتے اور توبہ و استغفار کا دامن پھیلاتے ہیں۔ کیونکہ توبہ خود ایک عبادت اور احساسِ عبودیت کا جوہر ہے۔ اور عصمت، عبودیت و نیازمندی سے بے نیاز نہیں کر دیتی کہ توبہ و انابت کا ہاتھ نہ اٹھے جبکہ عبودیت کے تقاضوں کی تکمیل ہی کا نام عصمت ہے۔ اس لئے آپؑ گناہوں کی آلودگیوں سے محفوظ ہونے کے باوجود توبہ و استغفار میں مصروف رہتے تاکہ توبہ کا ثواب بھی حاصل ہو اور دُوسرے گنہگار توبہ کی تعلیم بھی پا سکیں۔
”توبہ“، زبان سے گناہ کے اقرار اور اس کے ترک کے اظہار کا نام نہیں ہے، بلکہ اپنے گناہوں پر صدقِ دل سے ندامت اور آئندہ ترکِ گناہ کے عزم اور قابلِ تلافی امور کے تدارک کا نام ہے۔ اور جب اس طرح سے توبہ ہوتی ہے تو خداوندعالم نہ صرف گناہوں سے درگزر کرتا ہے، بلکہ توبہ پر مزید اجر وثواب عطا کرتا اور توبہ کرنے والے کو پسندیدگی و قبولیت کی سند دیتا ہے۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: اِنَّ اللہَ يُحِبُّ التَّـوَّابِيْنَ (اللہ توبہ کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے ۱)۔ اسی بنا پر امام علیہ السلام نے توبہ کو اللہ کی ایک محبوب و پسندیدہ چیز قرار دینے کے ساتھ اصرارِ گناہ کو مکروہ و ناپسندیدہ چیز قرار دیا ہے۔ کیونکہ گناہ پر اصرار کے معنی ہی یہ ہیں کہ توبہ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اور جبکہ توبہ مطلوب و مرغوب ہے تو جو چیز ترکِ توبہ کا نتیجہ ہو گی وہ بہرحال مبغوض و ناپسند ہو گی۔
گناہ اور خصوصاً گناہ پر اصرار انسان کے اردگرد ایک ایسی مسموم فضا پیدا کر دیتا ہے جہاں اخلاقی روح مردہ ہو جاتی ہے اور بہت سی ہلاکت آفرین چیزوں کا اسے سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کی ذمہ داری خود اسی پر عائد ہوتی ہے۔ کیونکہ جو چیزیں ظہور میں آتی ہیں وہ گناہ کے طبعی نتائج کی حیثیت رکھتی ہیں۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: وَمَآ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَۃٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ (جو مصیبت بھی تم پر وارد ہوتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں ہی کی کمائی ہوتی ہے ۲)۔
صورت اعمال ماست هر چه به ما می رسد
یہ گناہ کے نتائج و اثرات کبھی دینی نقصان کی صورت میں رونما ہوتے ہیں، جیسے سلبِ توفیق، عبادت سے بے رخی، علم کی فراموشی وغیرہ۔ جیسا کہ پیغمبر اکرمؐ کا ارشاد ہے:\n اِنَّ الْعَبْدَ لَيُذْنِبُ الذَّنْبَ فَيَنْسٰى بِهِ الْعِلْمَ الَّذِیْ كَانَ قَدْ عَلِمَهٗ، وَاِنَّ الْعَبْدَ لَيُذْنِبُ الذَّنْبَ فَيَمْتَنِعُ بِهٖ مِنْ قِيَامِ اللَّيْلِ۔
بندہ کبھی ایسے گناہ کا مرتکب ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں سیکھے ہوئے علم پر نسیان طاری ہو جاتا ہے اور کبھی ایسا گناہ کرتا ہے جس کے نتیجہ میں عبادتِ شب کی سعادت سے محروم ہو جاتا ہے۔۳
اور کبھی دنیوی نقصان کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں، جیسے حوادث و آلام، تنگیٔ معاش، زوالِ نعمت وغیرہ۔ جیسا کہ امیر المومنین علیہ السلام کا ارشاد ہے:\n وَایْمُ اللهِ! مَا كَانَ قَوْمٌ قَطُّ فِیْ غَضِّ نِعْمَةٍ مِّنْ عَیْشٍ فَزَالَ عَنْهُمْ اِلَّا بِذُنُوْبٍ اجْتَرَحُوْهَا۔
خدا کی قسم! وہ لوگ جو عیش و آرام میں زندگی بسر کرتے تھے اور پھر اُن کی نعمتیں ان سے چھن گئیں، تو یہ اُن گناہوں کا نتیجہ تھا جن کا وہ ارتکاب کرتے تھے۔۴
امام علیہ السلام نے اس دعا میں دینی و دنیوی دونوں نقصانوں کا ذکر کیا ہے اور پھر دین کے دائمی نتائج اور دنیا کے عارضی نقصانات پر نظر کرتے ہوئے بارگاہِ الٰہی میں عرض کرتے ہیں کہ اگر ہمارے گناہ کے نتیجہ میں دین کا زیان ہوتا ہو یا دنیا کا نقصان تو تمام نقصانات کا بوجھ دنیا پر ڈال دے اور ہمارے دین کو ہر قسم کے خطرات سے محفوظ کر دے، کیونکہ دنیا کے نقصانات عارضی اور چند روزہ ہیں اور دین کا نقصان اس زندگی پر اثر انداز ہوتا ہے جو ہمیشہ رہنے والی ہے اور دائمی فائدہ کی خاطر عارضی نقصان کو برداشت کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ سے حسن عمل کی توفیق کا سوال کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ہمیں بس اس عمل کی توفیق دے جو تیری خوشنودی و رضامندی کا باعث ہو، اور ایسے کاموں سے بچائے رکھ جو تیری ناراضی کا سبب ہوں۔
یہ ارشاد حضرتؑ کی بلند نظری کا آئینہ دار ہے کہ اُن کی نظریں اٹھتی ہیں تو اللہ کی رضامندی پر اور یہ خاصانِ خدا کا تقاضائے وارفتگی ہے کہ ان کی نظر نہ جنت پر ہوتی ہے اور نہ نعیم جنت پر، ان کی منزل صرف رضائے الٰہی کی منزل ہوتی ہے جس کی طلب انہیں ہر کیف و لذت سے بیگانہ اور ہر رنج و تکلیف سے بے نیاز بنا دیتی ہے۔ وہ دکھ جھیلتے، تکلیفیں اٹھاتے اور پوری لگن کے ساتھ برسر عمل رہ کر اس منزلِ رضا کا کھوج لگاتے ہیں اور یہی اُن کی عبادت کا مقصد اور یہی اُن کی زندگی کا مآل ہوتا ہے اور یہی کامرانی کی آخری منزل ہے۔ رہی جنت! تو وہ اللہ کے تفضّل کا ایک کرشمہ ہے، اصل فلاح و نجاح اس کی رضامندی ہی سے وابستہ ہے اور یہی سب سے بڑی سعادت ہے۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: وَرِضْوَانٌ مِّنَ اللہِ اَكْبَرُ اللہ کی رضامندی سب سے بڑی چیز ہے۔۵
اس منزلِ رضامندی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ”نفس امارہ“ کی کارفرمائی ہے جو لذت و عیش کے پردے میں جرم و معصیت کی دعوت دیتا اور اپنی فسوں کاریوں سے برائیوں کی طرف کھینچ لے جاتا ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کی زبانی ارشاد ہے: اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ بِالسُّوْءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّيْ بے شک نفس برائیوں پر اُبھارنے والا ہے مگر یہ کہ میرا پروردگار رحم کرے۔۶
لیکن جب انسان اس نفس کی فریب کاریوں پر متنبّہ ہوتا اور غفلت کی اندھیاریوں سے نکلتا ہے تو اُسے ندامت و شرمساری گھیر لیتی ہے، وہ اپنے کئے پر پچھتاتا ہے اور ضمیر و وجدان اُسے ملامت کرتا ہے۔ یہ ”نفس لوامہ“ کی کارفرمائی ہے جس سے نفس امارہ کی فتنہ سامانیاں دَب جاتی ہیں۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: وَلَآ اُقْسِمُ بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَۃِ برائیوں پر سرزنش کرنے والے نفس کی میں قسم کھاتا ہوں۔۷
اس ضمیر کی ملامت اور شرمساری کے تاثرات سے نفس نیکی کی راہوں کو دیکھ لیتا ہے اور نیکی کو نیکی سمجھ کر اختیار کرتا اور برائی کو برائی سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے۔ یہ ”نفس ملہمہ“ کا کرشمہ ہے۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: فَاَلْہَمَہَا فُجُوْرَہَا وَتَقْوٰىہَا اس نے بد کرداری اور پرہیزگاری نفس کو سمجھا دی۔۸
اور جب انسان ہمہ تن نیک اعمال میں مصروف اور برائیوں سے کنارہ کش ہو جاتا ہے اور تمام علائق سے قطع نظر کر لیتا ہے تو صبر و یقین کی روح اس کے اندر دوڑ جاتی ہے، جس کے بعد نہ کوئی مصیبت اُسے متزلزل کرتی ہے اور نہ اس کا یقین ڈانواں ڈول ہوتا ہے۔ یہ ”نفس مطمئنہ“ کی منزل ہے جہاں اللہ کی رضا و خوشنودی اس کے دامن میں سمٹ آتی ہے۔ چنانچہ ارشادِ الٰہی ہے: يٰٓاَيَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّۃُ ارْجِعِيْٓ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَۃً مَّرْضِيَّۃً اے نفس مطمئنہ! اپنے پروردگار کی طرف پلٹ آ۔ اس حالت میں کہ تُو اس سے خوش، وہ تجھ سے راضی۔۹
بہرحال اس نفس امارہ کی چیرہ دستیوں سے بچ کر وہی آگے بڑھ سکتا ہے جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تائید حاصل ہو اور توفیق الٰہی اس کے شامل حال ہو۔ اسی لئے حضرتؑ نے نفس امارہ کی ستیزہ کاریوں سے بچنے کیلئے اللہ تعالیٰ کی توفیق و تائید کا سہارا ڈھونڈا ہے۔ کیونکہ انسان ہر بری تحریک کے آگے سرخم کر دیتا اور ہر نفسانی خواہش کے ادنیٰ اشارے پر ہتھیار ڈال دیتا ہے۔ اسی بنا پر قدرت نے انسان کو کمزور و ضعیف قرار دیا ہے۔ جیسا کہ ارشادِ الٰہی ہے: اَللہُ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ مِّنْ ضُؔعْفٍ اللہ وہ ہے جس نے تمہیں کمزور و ضعیف پیدا کیا۔۱۰
سورۂ بقرہ، آیت ۲۲۲
سورۂ شوریٰ، آیت ۳۰
عدۃ الداعی، ص ۲۱۱
نہج البلاغہ، خطبہ نمبر ۱۷۶
سورۂ توبہ، آیت ۷۲
سورۂ یوسف، آیت ۵۳
سورۂ قیامۃ، آیت ۲
سورۂ شمس، آیت ۸
سورۂ فجر، آیت ۲۷ - ۲۸
سورۂ روم، آیت ۵۴