۶۔ دُعَآءُ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ [۶] دُعائے روز جمعہ
یہ دُعا جمعہ کے دن پڑھی جاتی ہے۔ ”جمعہ“ سیّد الایّام اور نزول برکات کا دن ہے اور اس کی آخری ساعت قبولیتِ دُعا کیلئے مخصوص ہے۔ سیّد نعمت اللہ جزائری رحمہ اللہ نے جمعہ کی وجہ تسمیہ کے سلسلہ میں تحریر کیا ہے کہ: خداوند عالم نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا۔ جن میں پہلا دن یک شنبہ اور چھٹا دن جمعہ اور اس دن تمام مخلوقات کو ایک مقام پر جمع کیا اس لئے اسے ”جمعہ“ کہا جاتا ہے۔
اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ ½”لِمَا سُمِّیَتِ الْجُمُعَۃُ جُمُعَۃً“¼؟ ”جمعہ“ کو جمعہ کیوں کہتے ہیں؟ تو آپؑ نے فرمایا: لِاَنَّ اللّٰهَ جَمَعَ فِيْهَا خَلْقَهٗ لِوَلَايَةِ مُحَمَّدٍﷺ وَّ اَهْلِ بَيْتِهٖ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ.
خداوند عالم نے اس دن مخلوقات کو حضرت محمدﷺ اور ان کے اہل بیت علیہ السلام کی محبت و ولایت پر جمع کیا اس لئے اسے ”جمعہ“ کہا جاتا ہے۔۱
اس دُعا میں خداوند عالم کے چند اہم خصوصیات و صفات بیان فرمائے ہیں جو عقیدۂ توحید کے تحفظ کیلئے اساسی حیثیت رکھتے ہیں:
پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اول بھی ہے اور آخر بھی۔ یہ اولیت و آخریت زمان و مکان کے لحاظ سے نہیں ہے کہ دونوں کا ایک ذات میں اجتماع نہ ہو سکے، بلکہ یہ اولیت و آخریت زمان و مکان سے ماوراء ہے۔ اس کی اولیت کے معنی یہ ہیں کہ کسی چیز کو کسی لحاظ سے اس پر تقدم نہیں ہے اور آخریت کے معنی یہ ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی سرمدی و ابدی نہیں ہے۔ چنانچہ خود اسی کا ارشاد ہے: §﴿ھُوالْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ﴾¦: ”وہی سب سے پہلے اور سب سے آخر ہے“۔۲
دوسری صفت یہ کہ جو اسے یاد کرتا ہے وہ اسے فراموش نہیں کرتا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اس کے حافظہ و ذہن سے نہیں اترتا، کیونکہ اس کے ہاں بھول چوک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بلکہ مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے یاد رکھنے والے کو جزا دیتا ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے:
§﴿فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ﴾¦: ”تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا“۔۳
تیسری صفت یہ ہے کہ جو اس کا شکر ادا کرتا ہے اسے زیادہ سے زیادہ نعمتیں دیتا ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے: لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ
اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں اور زیادہ دوں گا۔۴
چوتھی صفت یہ کہ جو اسے پکارتا ہے اس کی سنتا ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے: ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ
تم مجھے پکارو میں تمہاری بات قبول کروں گا۔۵
پانچویں صفت یہ کہ وہ آس رکھنے والوں کی آس نہیں توڑتا۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے: اِنَّہٗ لَا يَایئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ۸۷
اللہ کی رحمت سے صرف کافر ہی مایوس ہوتے ہیں۔۶
چھٹی صفت یہ کہ وہ ایک اکیلا ہے۔ چنانچہ اس عقیدۂ توحید کی اہمیت کے پیش نظر تمام کائنات کو گواہ کرکے اللہ تعالیٰ کی وحدت و یکتائی کی گواہی دی ہے اور قرآن مجید میں اس گواہی کا اس طرح تذکرہ ہے: شَہِدَ اللہُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ۰ۙ وَالْمَلٰۗىِٕكَۃُ وَاُولُوا الْعِلْمِ
اللہ تعالیٰ اور فرشتے اور تمام صاحبانِ علم گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔۷
ساتویں صفت یہ کہ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ چنانچہ ارشاد باری ہے: لَا شَرِيْكَ لَہٗ۰ۚ وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِـمِيْنَ۱۶۳
اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا مسلم ہوں۔۸
آٹھویں صفت یہ ہے کہ اس کا کوئی مثل و نظیر نہیں ہے، چنانچہ ارشاد الٰہی ہے: §﴿وَلَمْ يَكُنْ لَّہٗ كُفُوًا اَحَدٌ۴ۧ﴾¦: ”اس کا کوئی ہمسر نہیں“۔۹
نویں صفت یہ کہ وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے: اِنَّ اللہَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ۹ۧ
بے شک خدا اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔۱۰
دسویں صفت یہ کہ اس کی بات میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ کیونکہ بات میں تبدیلی کی ضرورت اسے پڑتی ہے جو عاجز یا نتائج سے بے خبر ہو اور اللہ تعالیٰ کیلئے یہ دونوں باتیں ناممکن ہیں۔ چنانچہ ارشاد باری ہے: §﴿مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ﴾¦: ”میرے ہاں بات نہیں بدلا کرتی“۔۱۱
توحید کی گواہی کے بعد رسالت کی گواہی دی ہے اور آنحضرت ﷺ کی عبدیت و رسالت کا ذکر فرمایا ہے۔ یہاں عبدیت کا ذکر پہلے اور رسالت کا ذکر بعد میں ہے۔ کیونکہ عبدیت عبد و معبود کے درمیان اور رسالت خدا اور مخلوق کے درمیان ایک واسطہ ہے۔ تو جو چیز جنبہ اُلوہیت سے متعلق ہے اسے پہلے اور جو جنبہ مخلوق سے متعلق ہے اسے بعد میں بیان کیا ہے۔ شہادتین کے بعد راہ ہدایت پر ثبات قدم کی دُعا کی ہے کہ وہ ہدایت کرنے کے بعد ضلالت و کجروی سے محفوظ رکھے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مخصوص بندوں کی دُعا یہ ہے: رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَۃً۰ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ۸
اے ہمارے پروردگار! جب کہ تو نے ہمیں ہدایت کی تو ہمارے دلوں کو بے راہ نہ ہونے دے اور اپنی بارگاہ سے رحمت عطا فرما۔ بے شک تو بہت عطا کرنے والا ہے۔(سورۂ آل عمران، آیت۸)
خداوند عالم کی طرف ہدایت کے بعد جو دلوں کی بے راہروی کی نسبت دی گئی ہے اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ اپنے بندوں کو ہدایت سے منحرف اور بے راہ کرتا ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ گناہوں اور بے راہرویوں کے نتیجہ میں سلب توفیق کر لیتا ہے اور کوئی باختیار خود گمراہ ہوتا ہے تو وہ بجبر مانع نہیں ہوتا۔ چنانچہ قرآن مجید میں واضح طور سے ارشاد ہوا ہے: فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللہُ قُلُوْبَہُمْ
جب وہ خود بے راہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو بے راہ ہونے دیا۔(سورۂ صف، آیت۸۵
امالی شیخ طوسیؒ، ص ۶۸۸
سورہ حدید، آیت ۳
سورہ بقرہ، آیت ۱۵۲
سورہ ابراہیم، آیت ۷
سورہ مومن (غافر), آیت ۶۰
سورہ یوسف، آیت ۸۷
سورہ آل عمران، آیت ۱۸
سورہ انعام، آیت ۱۶۳
سورہ اخلاص, آیت ۴
سورہ آل عمران، آیت ۹
سورہ ق، آیت ۲۹