۶۔ دُعَآءُ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ دعائے روز جمعہ

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الْاَوَّلِ قَبْلَ الْاِنْشَآءِ وَالْاِحْیَآءِ
1
تمام تعریف اس اللہ تعالی کیلئے ہے جو پیدا کرنے اور زندگی بخشنے سے پہلے موجود تھا
1
وَالٰاٰخِرِ بَعْدَ فَنَآءِ الْاَشْیَآءِ
2
اور تمام چیزوں کے فنا ہونے کے بعد باقی رہے گا
2
الْعَلِیْمِ الَّذِیْ لَا یَنْسٰى مَنْ ذَكَرَهٗ
3
وہ ایسا علم والا ہے کہ جو اسے یاد رکھے اسے بھولتا نہیں
3
وَلَا یَنْقُصُ مَنْ شَكَرَهٗ
4
جو اس کا شکر ادا کرے اس کے ہاں کمی نہیں ہونے دیتا
4
وَلَا یُخَیِّبُ مَنْ دَعَاهُ
5
جو اسے پکارے اسے محروم نہیں کرتا
5
وَلَا یَقْطَعُ رَجَآءَ مَنْ رَّجَاهُ۔
6
جو اس سے امید رکھے اس کی امید نہیں توڑتا۔
6
اَللّٰهُمَّ اِنِّیْۤ اُشْهِدُكَ وَكَفٰى بِكَ شَهِیْدًا
7
بار الٰہا! میں تجھے گواہ کرتا ہوں اور تو گواہ ہونے کے لحاظ سے بہت کافی ہے
7
وَاُشْهِدُ جَمِیْعَ مَلٰٓئِكَتِكَ
8
اور گواہ کرتا ہوں تیرے تمام فرشتوں کو
8
وَسُكَّانَ سَمٰواتِكَ
9
اور تیرے آسمانوں میں بسنے والوں کو
9
وَحَمَلَةَ عَرْشِكَ
10
اور تیرے عرش کے اٹھانے والوں کو
10
وَمَن بَعَثْتَ مِنْ اَنبِیَآئِكَ وَرُسُلِكَ
11
اور تیرے فرستاده نبیوں اور رسولوں کو
11
وَاَنْشَاْتَ مِنْ اَصْنَافِ خَلْقِكَ
12
اور تیری پیدا کی ہوئی قسم قسم کی مخلوقات کو
12
اَنِّیْۤ اَشْهَدُ اَنَّكَ اَنْتَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ
13
اپنی اس گواہی پر کہ تو ہی معبود ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں
13
وَحْدَكَ لَا شَرِیْكَ لَكَ، وَلَا عَدِیْلَ
14
تو وحدہٗ لا شریک ہے، تیرا کوئی ہمسر نہیں ہے
14
وَلَا خُلْفَ لِقَوْلِكَ وَلَا تَبْدِیْلَ۔
15
تیرے قول میں نہ وعدہ خلافی ہوتی ہے اور نہ کوئی تبدیلی۔
15
وَاَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللّٰهُ عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ عَبْدُكَ وَرَسُوْلُكَ
16
اور یہ کہ محمدؐ تیرے خاص بندے اور رسول ہیں
16
اَدّٰى مَا حَمَّلْتَهٗ اِلَى الْعِبَادِ
17
جن چیزوں کی ذمہ داری تو نے ان پر عائد کی وہ (انہوں نے) بندوں تک پہنچا دیں
17
وَجَاهَدَ فِی اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ حَقَّ الْجِهَادِ
18
انہوں نے خدائے بزرگ و برترکی راہ میں جہاد کر کے حق جہاد ادا کیا
18
وَاَنَّهٗ بَشَّرَ بِمَا هُوَ حَقٌّ مِّنَ الثَّوَابِ
19
اور صحیح صحیح ثواب کی خوشخبری دی
19
وَاَنْذَرَ بِمَا هُوَصِدْقٌ مِّنَ الْعِقَابِ۔
20
اور واقعی عذاب سے ڈرایا۔
20
اَللّٰهُمَّ ثَبِّتْنِیْ عَلٰى دِیْنِكَ مَاۤ اَحْیَیْتَنِیْ
21
بار الٰہا! جب تک تو مجھے زندہ رکھے اپنے دین پر ثابت قدم رکھ
21
وَلَا تُزِغْ قَلْبِیْ بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنِیْ
22
اور جبکہ تو نے مجھے ہدایت کر دی تو میرے دل کو بے راہ نہ ہونے دے
22
وَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً
23
اور مجھے اپنے پاس سے رحمت عطا کر
23
اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ۔
24
بےشک تو ہی (نعمتوں کا) بخشنے والا ہے۔
24
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّد وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ
25
محمدؐ اور ان کی آلؑ پر رحمت نازل فرما
25
وَاجْعَلْنِیْ مِنْ اَتْباعِهٖ وَشِیْعَتِهٖ
26
اور ہمیں ان کے اتباع اور ان کی جماعت میں سے قرار دے
26
وَاحْشُرْنِیْ فِیْ زُمْرَتِهٖ
27
اور ان کے گروہ میں محشور فرما
27
وَوَفِّقْنِیْ لِاَدَآءِ فَرْضِ الْجُمُعَاتِ
28
اور توفیق مرحمت فرما نماز جمعہ کے فریضہ کی ادائیگی کی
28
وَمَاۤ اَوْجَبْتَ عَلَیَّ فِیْهَا مِنَ الطَّاعَاتِ
29
اور اس دن کی دوسری عبادتوں کے بجا لانے کی
29
وَقَسَمْتَ لِاَهْلِهَا مِنَ الْعَطَآءِ فِیْ یَوْمِ الْجَزَآءِ
30
اور ان فرائض پر عمل کرنے والوں پر قیامت کے دن جو عطائیں تو نے تقسیم کی ہیں انہیں حاصل کرنے کی
30
اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۔
31
بے شک تو صاحب اقتدار اور حکمت والا ہے۔
31

یہ دعا جمعہ کے دن پڑھی جاتی ہے۔ ”جمعہ“ سیّد الایّام اور نزول برکات کا دن ہے اور اس کی آخری ساعت قبولیتِ دعا کیلئے مخصوص ہے۔ سیّد نعمت اللہ جزائری رحمہ اللہ نے جمعہ کی وجۂ تسمیہ کے سلسلہ میں تحریر کیا ہے کہ خداوند عالم نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا کیا۔ جن میں پہلا دن یک شنبہ اور چھٹا دن جمعہ اور اس دن تمام مخلوقات کو ایک مقام پر جمع کیا اس لیے اسے ”جمعہ“ کہا جاتا ہے۔ اور حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام سے پوچھا گیا کہ لِمَا سُمِّیَتِ الْجُمُعَۃُ جُمُعَۃً ”جمعہ کو جمعہ کیوں کہتے ہیں؟“ تو آپؑ نے فرمایا لِاَنَّ اللّٰهَ جَمَعَ فِيْهَا خَلْقَهٗ لِوَلَايَةِ مُحَمَّدٍ وَّاَهْلِ بَيْتِهٖ عَلَيْهِمُ السَّلَامُ۔ خداوند عالم نے اس دن مخلوقات کو حضرت محمدؐ اور ان کے اہل بیت علیہ السلام کی محبت و ولایت پر جمع کیا اس لیے اسے ”جمعہ“ کہا جاتا ہے۔ ۱

اس دعا میں خداوند عالم کے چند اہم خصوصیات و صفات بیان فرمائے ہیں جو عقیدۂ توحید کے تحفظ کیلئے اساسی حیثیت رکھتے ہیں:

٭ پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اول بھی ہے اور آخر بھی۔ یہ اولیت و آخریت زمان و مکان کے لحاظ سے نہیں ہے کہ دونوں کا ایک ذات میں اجتماع نہ ہو سکے، بلکہ یہ اولیت و آخریت زمان و مکان سے ماوراء ہے۔ اس کی اولیت کے معنی یہ ہیں کہ کسی چیز کو کسی لحاظ سے اس پر تقدم نہیں ہے اور آخریت کے معنی یہ ہیں کہ اس کے علاوہ کوئی سرمدی و ابدی نہیں ہے۔ چنانچہ خود اسی کا ارشاد ہے ھُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ ”وہی سب سے پہلے اور سب سے آخر ہے“۔۲

٭ دوسری صفت یہ کہ جو اسے یاد کرتا ہے وہ اسے فراموش نہیں کرتا۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ وہ اس کے حافظہ و ذہن سے نہیں اترتا، کیونکہ اس کے ہاں بھول چوک کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بلکہ مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے یاد رکھنے والے کو جزا دیتا ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے فَاذْكُرُوْنِيْٓ اَذْكُرْكُمْ ”تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا“۔۳

٭ تیسری صفت یہ ہے کہ جو اس کا شکر ادا کرتا ہے اسے زیادہ سے زیادہ نعمتیں دیتا ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِيْدَنَّكُمْ اگر تم شکر ادا کرو گے تو میں اور زیادہ دوں گا۔۴

٭ چوتھی صفت یہ کہ جو اسے پکارتا ہے اس کی سنتا ہے۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے ادْعُوْنِيْٓ اَسْتَجِبْ لَكُمْ تم مجھے پکارو میں تمہاری بات قبول کروں گا۔ ۵

٭ پانچویں صفت یہ کہ وہ آس رکھنے والوں کی آس نہیں توڑتا۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے اِنَّہٗ لَا يَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ۝ اللہ کی رحمت سے صرف کافر ہی مایوس ہوتے ہیں۔ ۶

٭ چھٹی صفت یہ کہ وہ ایک اکیلا ہے۔ چنانچہ اس عقیدۂ توحید کی اہمیت کے پیش نظر تمام کائنات کو گواہ کر کے اللہ تعالیٰ کی وحدت و یکتائی کی گواہی دی ہے اور قرآن مجید میں اس گواہی کا اس طرح تذکرہ ہے شَہِدَ اللہُ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ، وَالْمَلٰۗىِٕكَۃُ وَاُولُوا الْعِلْمِ اللہ تعالیٰ اور فرشتے اور تمام صاحبانِ علم گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ ۷

٭ ساتویں صفت یہ کہ اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ چنانچہ ارشاد باری ہے لَا شَرِيْكَ لَہٗ، وَبِذٰلِكَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِـمِيْنَ۝ اس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے اور میں پہلا مسلم ہوں۔ ۸

٭ آٹھویں صفت یہ ہے کہ اس کا کوئی مثل و نظیر نہیں ہے، چنانچہ ارشاد الٰہی ہے وَلَمْ يَكُنْ لَّہٗ كُفُوًا اَحَدٌ۝ ”اس کا کوئی ہمسر نہیں“۔ ۹

٭ نویں صفت یہ کہ وہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے اِنَّ اللہَ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادَ۝ بے شک خدا اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔ ۱۰

٭ دسویں صفت یہ کہ اس کی بات میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ کیونکہ بات میں تبدیلی کی ضرورت اسے پڑتی ہے جو عاجز یا نتائج سے بے خبر ہو اور اللہ تعالیٰ کیلئے یہ دونوں باتیں ناممکن ہیں۔ چنانچہ ارشاد باری ہے مَا يُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَيَّ ”میرے ہاں بات نہیں بدلا کرتی“۔ ۱۱

توحید کی گواہی کے بعد رسالت کی گواہی دی ہے اور آنحضرتؐ کی عبدیت و رسالت کا ذکر فرمایا ہے۔ یہاں عبدیت کا ذکر پہلے اور رسالت کا ذکر بعد میں ہے۔ کیونکہ عبدیت عبد و معبود کے درمیان اور رسالت خدا اور مخلوق کے درمیان ایک واسطہ ہے۔ تو جو چیز جنبۂ اُلوہیت سے متعلق ہے اسے پہلے اور جو جنبۂ مخلوق سے متعلق ہے اسے بعد میں بیان کیا ہے۔ شہادتین کے بعد راہ ہدایت پر ثبات قدم کی دعا کی ہے کہ وہ ہدایت کرنے کے بعد ضلالت و کجروی سے محفوظ رکھے۔ چنانچہ قرآن مجید میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مخصوص بندوں کی دعا یہ ہے:

رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ ھَدَيْتَنَا وَھَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَۃً، اِنَّكَ اَنْتَ الْوَھَّابُ۝

اے ہمارے پروردگار! جب کہ تو نے ہمیں ہدایت کی تو ہمارے دلوں کو بے راہ نہ ہونے دے اور اپنی بارگاہ سے رحمت عطا فرما۔ بے شک تو بہت عطا کرنے والا ہے۔

خداوند عالم کی طرف ہدایت کے بعد جو دلوں کی بے راہروی کی نسبت دی گئی ہے اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ اپنے بندوں کو ہدایت سے منحرف اور بے راہ کرتا ہے، بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ گناہوں اور بے راہرویوں کے نتیجہ میں سلب توفیق کر لیتا ہے اور کوئی باختیار خود گمراہ ہوتا ہے تو وہ بجبر مانع نہیں ہوتا۔ چنانچہ قرآن مجید میں واضح طور سے ارشاد ہوا ہے فَلَمَّا زَاغُوْٓا اَزَاغَ اللہُ قُلُوْبَہُمْ جب وہ خود بے راہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو بے راہ ہونے دیا۔

امالی شیخ طوسیؒ، ص ۶۸۸

سورہ حدید، آیت ۳

سورہ بقرہ، آیت ۱۵۲

سورہ ابراہیم، آیت ۷

سورہ مؤمن (غافر), آیت ۶۰

سورہ یوسف، آیت ۸۷

سورہ آل عمران، آیت ۱۸

سورہ انعام، آیت ۱۶۳

سورہ اخلاص, آیت ۴

سورہ آل عمران، آیت ۹

سورہ ق، آیت ۲۹

سورۂ آل عمران، آیت۸

سورۂ صف، آیت ۵