۷۔ دُعَآءُ یَوْمِ السَّبْتِ [۷] دُعائے روز شنبہ
اس دُعا کا عنوان ½«دُعَآءُ یَوْمِ السَّبْتِ»¼ ہے۔ ”سبت“ ہفتہ کے دن کو کہتے ہیں۔ اس دن یہود کو دنیا کے جھمیلوں سے الگ رہ کر عبادت و ذکر الٰہی میں مصروف رہنے کا حکم تھا۔ اور ”سبت“ کے لغوی معنی کار و کسب کے چھوڑنے اور آرام و استراحت کرنے کے ہیں۔ اس لئے اس دن کا نام ”یوم السبت“ یعنی ”روز تعطیل“ قرار پا گیا۔
حضرتؑ نے سرنامہ دُعا میں اسم جلالت کو حفاظت و نگہداشت چاہنے والوں کی زبانوں کا کلمہ و وِرد قرار دیا ہے۔ چنانچہ اس کے اسماء حسنیٰ میں سے سب سے زیادہ یہی نام زبانوں پر آتا ہے۔ اور کیا دُعا و مناجات ہو اور کیا فریاد و استغاثہ زیادہ تر وہ اسی نام سے پکارا جاتا ہے۔ اور حفظ و امان طلبی کے موقع پر یہی نام سب سے زیادہ موزوں بھی ہے۔ کیونکہ اسے ”اللہ“ کہا ہی اس لئے جاتا ہے کہ ½«یَنَالُہٗ اِلَیْہِ کُلُّ مَخْلُوْقٍ»¼: ”ہر مخلوق اس کی طرف رجوع ہوتی اور اس سے پناہ چاہتی ہے“ اور یہ ”اللہ“ کا لفظ چونکہ اسم ذات ہے جو معنوی لحاظ سے اس کی تمام صفتوں کو حاوی ہے اس لئے جب ہم اسے ”اللہ“ کہہ کر پکارتے ہیں تو گویا اس کی ایک ایک صفت کے ساتھ اسے پکارا ہے۔ اب ایک فقیر فقر و احتیاج کے ازالہ کیلئے اسے ”اللہ“ کہہ کر پکارتا ہے تو گویا اسے ”غنی“ کہہ کر پکار رہا ہے۔ کیونکہ یہ نام اس کے غنی و بے نیاز ہونے کا آئینہ دار ہے۔ اور ایک مریض شفا کیلئے اسے اس نام سے پکارتا ہے تو گویا اسی ”شافی“ کہہ کر مخاطب کر رہا ہے، کیونکہ یہ نام اس صفت پر بھی حاوی ہے۔ اور کوئی مظلوم اسے اس نام سے پکارتا ہے تو گویا اسے ”عادل“ و ”منتقم“ کہہ کر پکار رہا ہے، کیونکہ یہ نام اس کے عادل ہونے کا بھی پتہ دیتا ہے۔
اسی جامعیت کے لحاظ سے حضرتؑ نے ستمگاروں کے ستم، حاسدوں کے عناد اور ظالموں کے ظلم و جور سے اس نام کے ذریعہ پناہ چاہی ہے۔ کیونکہ اس ایک نام سے اس کی تمام صفتوں کی طرف ذہن منتقل ہو جاتا ہے۔ اور اس کی ان صفتوں کا تقاضا یہ ہے کہ دل سے اس کی عظمت کا اعتراف اور زبان سے اس کی تحمید و ستائش کی جائے۔ چنانچہ دشمنوں کے مقابلہ میں طلب اعانت و امداد کے بعد اس کی حمد سرائی کی ہے جس میں اس کی وحدت و یکتائی اور بلا شرکتِ غیرے سلطنت و فرمانروائی کا ذکر کیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ وہ اقتدارِ اعلیٰ کا مالک ہے اور کوئی چیز اس کے محیط اقتدار سے باہر نہیں ہے۔ لہٰذا ہر حاجت و خواہش اور تمنا و آرزو کو اسی کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ پیغمبر اکرم ﷺ پر درود بھیجنے کے بعد کہ جو دُعا کا زیور اور قبولیت کا ضامن ہے اس کی بارگاہ میں شکرِ نعمت، اطاعت، دوامِ عبادت اور اجتناب معاصی کی توفیق اور شرح صدر، عفوِ گناہ، دین کی سلامتی اور جان کی عافیت کا سوال کیاہے اور خاتمہ دُعا پر یہ التجا کی ہے کہ: اے معبود! جس طرح تو نے زندگی کے ان لمحوں میں جو گزر گئے مجھ پر پیہم احسانات کئے ہیں، اسی طرح زندگی کے بقیہ لمحوں میں مجھ سے اپنے احسانات و انعامات کا سلسلہ قطع نہ کرنا، بلکہ انہیں اِتمام تک پہنچانا اس لئے کہ: ½”اَلْاِحْسَانُ بِالْاِتْمَامِ“¼۔
بتائید خدائے توانا ترجمہ و حواشی صحیفۂ کاملہ روز جمعہ، دوازدھم ماہِ ربیع الثانی، سال ہزار و سہ صد و ھفتاد و نو ۱۳۷۹ھ با تمام رسید. وَ اللّٰہُ ھَوَ الْمَسْؤٗلُ اَنْ یَّجْعَلَہٗ خَالِصًا لِوَجْھِہِ الْکَرِیْمِ وَ یُتِمَّ عَلٰۤی اِحْسَانِہِ الْعَمِیْمِ، وَ یَحْشُرَنِیْ وَ یَحُشُرَ وَالِدَیَّ فِیْ زُمْرَۃِ اَصْحَابِ الْیَمِیْنِ بِحُرْمَۃِ مُحَمَّدٍ وَّ اٰلِہِ الْمُنْتَجَبِیْنَ.