اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ اَذْهَبَ اللَّیْلَ مُظْلِمًا بِقُدْرَتِهٖ
1
سب تعریف اس اللہ کیلئے ہے جس نے اپنی قدرت سے اندھیری رات کو رخصت کیا
1
وَجآءَ بِالنَّهَارِ مُبْصِرًا بِرَحْمَتِهٖ
2
اور اپنی رحمت سے روشن دن نکالا
2
اور اس کی روشنی کا زر تار جامہ مجھے پہنایا
3
وَاَنَا فِیْ نِعْمَتِهٖ۔
4
اور اس کی نعمت سے بہرہ مند کیا۔
4
اَللّٰهُمَّ فَكَمَاۤ اَبْقَیْتَنِیْ لَهٗ
5
بار الٰہا! جس طرح تو نے اس دن کیلئے مجھے باقی رکھا
5
فَاَبْقِنِیْ لِاَمْثَالِهٖ
6
اسی طرح اس جیسے دوسرے دنوں کیلئے زندہ رکھ
6
وَصَلِّ عَلَى النَّبِیِّ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
7
اور اپنے پیغمبر محمدؐ اور اُن کی آلؐ پر رحمت نازل فرما
7
وَلَا تَفْجَعْنِیْ فِیْهِ
8
اور مجھے رنجیدہ خاطر نہ کر اس دن میں
8
وَفِیْ غَیْرِهٖ مِنَ اللَّیَالِیْ وَالْاَیَّامِ
9
اور اس کے علاوہ اور راتوں اور دنوں میں
9
بِارْتِكَابِ الْمَحَارِمِ
10
حرام امور کے بجا لانے سے
10
وَاكْتِسَابِ الْمَاٰثِمِ
11
اور گناہ و معاصی کے ارتکاب کرنے سے
11
وَارْزُقْنِیْ خَیْرَهٗ وَخَیْرَ مَا فِیْهِ وَخَیْرَ مَا بَعْدَهٗ
12
اور مجھے اس دن کی بھلائی اور جو اس کے بعد ہے اس کی بھلائی عطا کر
12
وَاصْرِفْ عَنِّیْ شَرَّهٗ
13
اور مجھ سے دور کر دے اس دن کی برائی
13
وَشَرَّ مَا فِیْهِ وَشَرَّ مَا بَعْدَهٗ۔
14
اور جو کچھ اس دن میں ہے اس کی برائی اور جو اس کے بعد ہے اس کی برائی۔
14
اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ بِذِمَّةِ الْاِسْلَامِ اَتَوَسَّلُ اِلَیْكَ
15
اے اللہ! میں اسلام کے عہد و پیمان کے ذریعہ تجھ سے توسل چاہتا ہوں
15
وَبِحُرْمَةِ الْقُرْاٰنِ اَعْتَمِدُ عَلَیْكَ
16
اور قرآن کی عزت و حرمت کے واسطہ سے تجھ پر بھروسا کرتا ہوں
16
وَبِمُحَمَّدٍ الْمُصْطَفٰى صَلَّى اللّٰهُ عَلَیْهِ وَاٰلِهٖ اَسْتَشْفِعُ لَدَیْكَ
17
اور محمد مصطفٰیؐ کے وسیلہ سے تیری بارگاہ میں شفاعت کا طلبگار ہوں
17
فَاعْرِفِ اللّٰهُمَّ ذِمَّتِیَ الَّتِیْ رَجَوْتُ بِهَا قَضَآءَ حَاجَتِیْ
18
تو اے میرے معبود! میرے اس عہد و پیمان پر نظر کر جس کے وسیلہ سے حاجت بر آوری کا امیدوار ہوں
18
یَآ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔
19
اے رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والے۔
19
اَللّٰهُمَّ اقْضِ لِیْ فِی الْخَمِیْسِ خَمْسًا
20
بار الٰہا! اس روز پنجشنبہ میں میری پانچ حاجتیں بر لا
20
لَّا یَتَّسِعُ لَهَاۤ اِلَّا كَرَمُكَ
21
جن کی سمائی تیرے ہی دامن کرم میں ہے
21
وَلَا یُطِیْقُهَاۤ اِلَّا نِعَمُكَ
22
اور تیری ہی نعمتوں کی فراوانی ان کی متحمل ہو سکتی ہے
22
سَلَامَةً اَقْوٰى بِهَا عَلٰى طَاعَتِكَ
23
ایسی سلامتی دے جس سے تیری فرمانبرداری کی قوت حاصل کر سکوں
23
وَعِبَادَةً اَسْتَحِقُّ بِهَا جَزِیْلَ مَثُوْبَتِكَ
24
ایسی توفیق عبادت دے جس سے تیرے ثوابِ عظیم کا مستحق قرار پاؤں
24
وَسَعَةً فِی الْحَالِ مِنَ الرِّزْقِ الْحَلَالِ
25
اور سر دست رزق حلال کی فراوانی
25
وَاَنْ تُؤْمِنَنِیْ فِیْ مَوَاقِفِ الْخَوْفِ بِاَمْنِكَ
26
اور خوف و خطر کے مواقع پر اپنے امن کے ذریعہ مطمئن کر دے
26
وَتَجْعَلَنِیْ مِنْ طَوَارِقِ الْهُمُوْمِ وَالْغُمُوْمِ فِیْ حِصْنِكَ۔
27
اور غموں اور فکروں کے ہجوم سے اپنی پناہ میں رکھ۔
27
صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّاٰلِهٖ
28
محمدؐ اور اُن کی آل پر رحمت نازل فرما
28
وَاجْعَلْ تَوَسُّلِیْ بِهٖ شافِعًا یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ نَافِعًا
29
اور ان سے میرے توسل کو قیامت کے دن سفارش کرنے والا، نفع بخشنے والا قرار دے
29
اِنَّكَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ۔
30
بے شک تو رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
30
اس دعا کے شروع میں رات کے رخصت ہونے کو اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظاہرہ اور دن کی آمد کو اس کی رحمت کا کرشمہ قرار دیا ہے۔
قدرت کا مظاہرہ اس طرح ہے کہ زمین ایسا عظیم ترین کرہ اس کے ادنیٰ اشارے سے پرِ کاہ کی طرح اڑتا اور ہر وقت گردش میں رہتا ہے اور اسی گردش کے نتیجہ میں موسموں کی تبدیلی، سورج کے طلوع و غروب کی نمود اور شب و روز کی تخلیق ہوتی ہے۔ اس طرح کہ جو حصہ سورج کے سامنے آتا ہے وہاں دن اور جو حصہ اس کے سامنے نہیں آتا وہاں رات ہوتی ہے جس سے ہماری آنکھوں کے سامنے کبھی اندھیرا اور کبھی اجالا ہو جاتا ہے اور یہ بالکل ایسا ہے جیسے کسی کمرہ میں روشنی کے بعد اندھیرا اور اندھیرے کے بعد روشنی کر دی جائے۔
اور رحمت کا کرشمہ اس طرح ہے کہ دن کے وجود سے بے شمار فوائد و منافع وابستہ ہیں۔ اس سے کرۂ ارضی کی حیات اور اس پر بسنے والوں کی زندگی وابستہ ہے۔چنانچہ سورج کی کرنیں جب سمندر سے بخارات اٹھاتی ہیں تو وہ ابر بن کر برستے اور پیاسی زمین کو سیراب کرتے ہیں جس سے زمین کی قوت نشو و نما ابھرتی اور اس میں روئیدگی آتی ہے۔ اور اسی دن کی حرارت سے کھیتیاں پکتی اور پھل پختہ ہوتے ہیں جو انسان و حیوان کی زندگی و بقا کا سامان کرتے ہیں۔ اسی کی روشنی سے سبزہ و نبات کا رنگ نکھرتا اور پتھروں میں رنگ آمیزی ہوتی ہے جو لعل و یاقوت و زمرد کی صورت میں چمکتے، جگمگاتے اور نگاہوں کو خیرہ کرتے ہیں۔
دن رات کے ادلنے بدلنے سے اللہ تعالیٰ کی قدرت و رحمت پر دلیل لانے کے بعد زندگی و بقا کا سوال کیا ہے۔ یہ خواہش زندگی کی چاہت اور حظ اندوزی کیلئے نہیں ہے، بلکہ اس لیے ہے کہ آخرت کیلئے زیادہ سے زیادہ سر و سامان کریں اور اپنے خالق کی رضا و خوشنودی کا سرمایہ فراہم کریں۔ چنانچہ اس دعا میں جو چیزیں طلب کی ہیں ان میں پہلی چیز یہ ہے کہ میں صحت و سلامتی چاہتا ہوں تو اس لیے کہ زندگی کے لمحات کو مقصد حیات کی تکمیل میں صرف کروں اور اپنے معبود کی اطاعت و فرمانبرداری کی قوت حاصل کر سکوں۔ اور عبادت کے ذریعہ ثواب اخروی کا مستحق قرار پاؤں اور خوف و خطر کے مقامات پر اس کے عذاب و عتاب سے محفوظ رہوں۔ اور غم و اندوہ سے نجات اور رزقِ حلال کا سوال کیا ہے تو اس لیے کہ رزق و معیشت کی تنگی اور غم و اندوہ کی فراوانی خیالات کو پراگندہ اور ذہن کو منتشر کر دیتی ہے اور ذہن میں یکسوئی نہ ہو تو طبیعت پوری توجہ کے ساتھ عبادات و اعمال کی طرف مائل نہیں ہوتی۔ غرض آپؑ کی زندگی کا مقصد اولین اللہ تعالیٰ سے وابستگی اور اس کی رضا جوئی تھا اور آپؑ کی پوری زندگی اسی محبوب ترین مشغلہ میں بسر ہوئی۔