۳۔ دُعَآءُ یَوْمِ الْثُلُثآءِ [۳] دُعائے روز سہ شنبہ
سرنامۂ دُعا میں اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کے مستحق حمد ہونے کا تذکرہ ہے اور اس کا استحقاق اس سے ظاہر ہے کہ وہ تمام خوبیوں اور اچھی صفتوں کا مالک ہے۔ اور ”حمد“ کے معنی اچھی صفتوں کے بیان ہوتے ہیں، لہٰذا ہر مدحت و ثنا اسی کیلئے ہو گی اور ہر حمد و ستائش کا وہی سزاوار ہو گا۔ اس استحقاق کے تذکرہ کے بعد نفس امارہ اور اس کی باطل کوشیوں سے پناہ مانگی ہے، کیونکہ انسان کا سب سے بڑا دشمن خود اسی کا نفس ہے جو شیطانی وسوسوں سے متاثر ہو کر اچھی باتوں کو چھوڑ دیتا اور برے منصوبوں میں لگ جاتا ہے۔ ایسے موقعوں پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہی شریکِ حال ہو تو اس کے مہلکوں سے نجات حاصل ہو سکتی ہے۔ چنانچہ قرآن عزیز میں زنِ عزیز مصر یا حضرت یوسف علیہ السلام کی زبانی ارشاد ہوا ہے: وَمَآاُبَرِّئُ نَفْسِيْ۰ۚ اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌ بِالسُّوْءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّيْ
میں اپنے نفس کی پاکیزگی کا دعوی نہیں کرتا۔ یہ نفس تو بہت زیادہ برائی پر ابھارنے والا ہے۔ مگر اس صورت میں کہ میرا پروردگار رحم کرے۔۱
پھر شیطان کی فتنہ سامانی، بد کرداروں کی شوریدہ سری، فرمانرواؤں کی ستم کوشی اور دشمنوں کی چیرہ دستی سے بچاؤ کیلئے اللہ تعالیٰ کو پناہ گاہ قرار دیا ہے۔ کیونکہ وہی شیطان کے حربوں کو کند کرنے والا اور بد کرداروں، ظالم حکمرانوں اور فتنہ انگیز دشمنوں سے حفظ و نگہداشت کرنے والا ہے۔ نفس امارہ اور شیطان سے پناہ مانگنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی فوج اور اس کے گروہ اور اس کے دوستوں کی جماعت میں محسوب ہونے کی دُعا فرمائی ہے۔ کیونکہ اللہ کی فوج نے کبھی شکست نہیں کھائی اور روزِ ازل سے غلبہ اس کے پائے نام ہو چکا ہے۔ اس غلبہ سے مراد ظاہری غلبہ نہیں ہے جو مادی فتوحات کی صورت میں حاصل ہوتا ہے۔ کیونکہ فوج کے بل بوتے اور قوت و طاقت کے سہارے سے حریفوں کو زیر کر لینا غلبہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ کے مخصوص و برگزیدہ بندے کبھی دشمنوں سے زیر نہ ہوتے۔ اور پھر جو غلبہ طاقت کے ذریعہ حاصل ہوتا ہے وہ طاقت کے ذریعہ ختم بھی ہو جاتا ہے۔ فوج خداوندی کی ہار جیت کو دنیوی فتح و شکست پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے کہ وہ بظاہر ناکام ہو کر بھی کامیاب اور شکست کھا کر بھی فاتح و کامران ہوتی ہے۔ کبھی اس کی فتح ظاہری فتح کے لحاظ سے ہوتی ہے اور کبھی اس کی فتح اس میں مضمر ہوتی ہے کہ وہ بظاہر شکست کھا کر دلوں کو تسخیر کرے۔ اور حق و صداقت کی صورت میں اپنی دائمی فتح کے آثار چھوڑ جائے اور یہی فتح حقیقی فتح ہے۔ جو نصب العین کی کامیابی سے وابستہ ہے اور اللہ جل جلالہ کا گروہ وہ ہے جو حق و صداقت کی راہ پر استوار، صلاح و ہدایت کا روشن منار اور احیائے دین و اعلائے کلمۃ اللہ کیلئے ہمہ تن وقف ہے۔ اس کی زندگی کا مقصد ہی دنیا کو خدا پرستی کی راہ دکھانا اور جان جوکھوں میں ڈال کر منزل صدق و صفا کی طرف لے چلنا ہے۔ اسی کے نتیجہ میں §﴿اُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۵﴾¦۲ کی آواز نے ہر طرح کی بہتری اس کیلئے مخصوص کر دی ہے اور دوستانِ خدا وہ ہیں جو اس کی رضا و خوشنودی کے حصول کیلئے دلوں کو اس کی یاد، زبانوں کو اس کے ذکر اور محراب عبادت کو تسبیح و تہلیل سے آباد رکھتے ہیں اور خوف خدا کے گھر کر لینے کی وجہ سے انہیں کوئی خوف ہراساں نہیں کرتا اور نہ رنج و اندوہ سے انہیں دو چار ہونا پڑتا ہے چنانچہ ارشاد الٰہی ہے: اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَآءَ اللہِ لَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ۶۲ۚۖ
خدا کے دوستوں کیلئے نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ انہیں کوئی رنج و غم ہو گا۔۳
علامہ طبرسی نے مجمع البیان میں تحریر کیا ہے کہ: ”خوف“ کا تعلق مستقبل سے ہوتا ہے اور ”حزن“ کا تعلق زمانہ گزشتہ سے۔ مقصد یہ ہے کہ انہیں نہ آخرت میں کوئی خوف و خطرہ ہو گا اور نہ انہیں دنیا اور دنیا کے ساز و سامان کے چھوڑنے کا غم ہوتا ہے۔ وہ دنیا میں ہر قسم کے خدشوں اور اندیشوں سے پاک اور آخرت میں امن و سکون کی چھاؤں میں منزل گزیں ہوں گے۔
پھر دین کی اصلاح و آراستگی کی دُعا ہے۔ اس لئے کہ دین ہی انسان کو فرائض و حقوق کی طرف توجہ دلاتا اور ان پر کاربند رہنے کی تلقین کرتا اور ایذا رسانیوں، فتنہ انگیزیوں، برائیوں اور حق تلفیوں سے روکتا ہے اور معاشرہ کے نظم و انضباط کا کفیل، مدنیت و اجتماعیت کے حدود کا پاسبان اور اخلاق و اعمال کا نگران ہے۔
پھر ایسی زندگی کا سوال کیا ہے جو عبادت و اطاعت میں صرف ہو۔ اس لئے کہ دنیوی زندگی کا مقصد یہ ہے کہ اُخروی زندگی کو سنوارا جائے۔ کیونکہ دنیا کی زندگی چند روزہ اور وہاں کی زندگی دائمی و سرمدی ہے اور اسے عبودیت کے تقاضوں پر عمل کرنے ہی سے سنوارا جا سکتا ہے۔ اور ایسی موت کی خواہش کی ہے جو سکون و راحت کا پیغام لے کر آئے۔ کیونکہ دنیا میں لاکھ سر و سامان راحت موجود ہوں، اہل ایمان و ایقان کو حقیقی راحت موت کے بعد ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ چنانچہ پیغمبر اکرم ﷺ کا ارشاد ہے: لَيْسَ لِلْمُؤْمِنِ رَاحَةٌ دُوْنَ لِقَآءِ اللّٰهِ.
لقائے الٰہی کے علاوہ مومن کیلئے اور کہیں راحت نہیں۔۴
آخر دُعا میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تین خواہشیں پیش کی ہیں: ایک گناہوں کی بخشش، دوسرے غم و اندوہ کا تدارک اور تیسرے دشمنوں سے تحفظ۔ لہٰذا ان مقاصد کیلئے اس دُعا کو ہر سہ شنبہ کے روز پڑھنا چاہیے تا کہ خداوند عالم دنیا میں غم و فکر سے نجات اور آخرت میں مغفرت و خوشنودی سے سرفراز کرے۔
سورہ یوسف، آیت ۵۳
سورہ بقرہ، آیت ۵
سورہ یونس، آیت ۶۲
عوالی اللئالی، ج ۱، ص ۲۶۷